سعادت حسن آسؔ- اٹک کا درویش نعت گو

سعادت حسن آسؔ صاحب سے میری پہلی ملاقات کچھ سال قبل 13 رجب کی ایک محفل میں ہوئی۔ میں کچھ تاخیر سے اُس مجلس میں پہنچا تھا، اس لیے

سعادت حسن آس
سعادت حسن آسؔ

خاموشی سے جہاں جگہ ملی بیٹھ گیا۔شناساؤں میں کچھ نئے چہرے بھی تھے جن میں سے ایک آس صاحب بھی تھے۔ انہیں پہلی نظر دیکھ کر مجھے قطعا اندازہ نہ ہوا کہ یہ شاعر ہیں بلکہ میں انہیں کوئی درویش سمجھتا رہا تاوقتیکہ انہیں دعوت کلام دی گئی۔ لیکن جب تعارف ہوا اور اس کے بعد مزید ملاقاتیں ہوئیں تو مجھے یقین ہوگیا کہ میرا گمان درست تھا، آس صاحب واقعی درویش صفت اور صوفی منش انسان ہیں۔ میں نے اس دور میں ایسے نفیس اور عاجز طبع لوگ بہت ہی کم دیکھے ہیں ، ہاتھ کی انگلیوں سے بھی کم اور سعادت صاحب انہی میں سے ایک ہیں۔

سعادت حسن آسؔ 15 اکتوبر 1952ء کو اٹک شہر (کیمبل پور) کی ریلوے کالونی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد شیر محمد ریلوے میں گینگ میٹ تھے۔ آس صاحب کے اجداد کا تعلق گاؤں گگن تحصیل فتح جنگ سے ہے آپ کے دادا 1922ء میں اٹک آ کر آباد ہوگئے تھے۔
والدین کا سایہ انتہائی بچپن میں سر سے اُٹھ گیا تو آپ کی پرورش کی ذمہ داری بڑی بہن نے اُٹھا لی۔ اُن کے خاوند آرمی میڈیکل کور میں صوبیدار تھے، اور اس وقت بنوں خیبر پختونخواہ میں تعینات تھے۔ آس صاحب نے ابتدائی تعلیم بنوں کے پرائمری اسکول سے حاصل کی پھر چھٹی جماعت میں پائیلیٹ اسکول اٹک میں داخل ہوئے اور یہیں سے میٹرک کیا۔ 1973ء میں ریلوے کی ملازمت اختیار کی اور دوران ملازمت ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ 1979ء میں ریلوے کی نوکری چھوڑ کر واپڈا میں بھرتی ہوگئے اور واپڈا سے ہی ریٹائر ہوئے۔

سعادت حسن آس
سعادت حسن آس، مونس رضا صاحب کے پاس محو مطالعہ

آس صاحب پیدائشی شاعر ہیں انہوں نے انتہائی بچپن میں شعر کہنا شروع کردیا تھا اور 1968-1969ء سے باقاعدہ شعر کہنے اور کلام لکھنے لگے۔ انہیں اُس دور کے نامور اہل قلم کی صحبت حاصل رہی جن میں نذر صابری، رفیق بخاری، حافظ مسکین،حکیم حیدر واسطی اور دیگر ادبی شخصیات شامل تھیں۔ 1986ء میں آس صاحب کا تبادلہ راولپنڈی ہوگیا ، اس شہر کی ادبی محافل میں آپ کو رشید نثار، پروفیسر کرم حیدری، منور ہاشمی اور سیّد ضمیر جعفری جیسے بڑے ادیبوں کے ساتھ نشست کا موقع ملا۔

آسؔ صاحب کے فن کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو ان کے ابتک 9 مجموعہ ہائے کلام اشاعت آشنا ہوچکے ہیں جو بہر حال ان کے شاعرانہ وصف کا اظہار ہیں لیکن میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ مدحِ خیرالوریٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی شاعری کا پہلا، مکمل اور مستند حوالہ ہے۔ آس صاحب کی نعت گوئی سے ہی میں ان کی شاعرانہ صفت اور ادبی قد سے واقف ہوا۔ اور نصف صدی سے نعت کہتے ہوئے اس کا اقرار وہ ان الفاظ میں خود بھی کررہے ہیں۔

؀ سخنوروں میں اگر ہے شمار، آپؐ سے ہے

اس عہد کم ظرف میں جب کہ شعر کی تفہیم اور شاعر کی تکریم کے معانی ہی بدل چکے ہیں ؛ غیر معیاری اور بازاری ادب تخلیق ہورہا ہے۔ آسؔ صاحب نعت مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جس جذبے، عقیدت اور عشق سے فروغ دے رہے ہیں وہ لائق تحسین ہی نہیں قابل تقلید بھی ہے۔  وہ جذب و کیف میں نعت کہتے ہوئے عشق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اعلی منازل پر نظر آتے ہیں۔

آسؔ صاحب کے نو مجموعہ کلام اشاعت آشنا ہوچکے ہیں
1.آقا ہمارے 1982ء
2.آس کے پھول 1990ء
3.آدھا سورج 1996ء
4.آسمان 2006ء
5.آواز 2010ء
6.آس 2017ء
7.آپ بہت یاد آئے 2018ء
8.آیات عجائب 2019ء
9.آپؐ سا کون ہے 2020ء
ان میں سے چھ نعتیہ ہیں۔

اہل علم و صاحبان قلم نے بھی آپ کی پذیرائی خوب کی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ظہیر احمد صاحب نے “سعادت حسن آسؔ کی شاعری کا فنی اور فکری جائزہ” مقالہ لکھ کر ایم فل کیا جب کہ ایم فل کا ہی ایک اور مقالہ سعادت حسن آسؔ کا فن نادرن یونیورسٹی میں جمع کروایا گیا ہے۔

جب ان کا نعتیہ مجموعہ “ آپؐ سا کوئی نہیں “ زیر طبع تھا تو انہوں نے مجھ سے پس ورق لکھنے کی فرمائش کی جو میں نے بصد ادب پوری کی۔ میرے لیے اعزاز کا مقام ہے کہ مدحِ شاہِ اُمم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مجموعہ “ آپؐ سا کوئی نہیں” کے پس ورق پر ہمیشہ موجود رہوں۔

؀ خوشبوُ کی کہانی میں میرا نام تو آیا

آغا سیّد جہانگیر علی نقوی البخاری
14 ربیع الآخر 1442 ھ

در بارہ آغا جی

بانی مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے