جو بنی اس کو نبھایا آپؐ کومعلوم ہے

جو بنی اس کو نبھایا آپؐ کومعلوم ہے

کیا سے کیا صدمہ اٹھایا آپؐ  کو معلوم ہے

آپؐ  کا دامن کبھی چھوڑا نہ اپنےہاتھ سے

وقت نے کتنا رلایا  آپؐ  کومعلوم ہے

زندگی کی تلخیوں نے راستہ روکا بہت 

دل نہ ہرگز ڈگمگایا  آپؐ  کومعلوم ہے

آپؐ  کے ارشاد کو رکھا مقدم جان سے

خود کو بھی خود سے چھپایا آپؐ  کومعلوم ہے

آپؐ  کی مدحت  سرائی اپنے بس میں تھی کہاں

کیا لکھا کس نے لکھایا  آپؐ  کومعلوم ہے

نفرتوں ہی نفرتوں کی بانجھ مٹی میں حضوؐر

پیار کا پودا لگایا  آپؐ  کومعلوم ہے

جبر سہتے سہتے اب تو جسم شل ہونے لگا

اس قدر جگ نے ستایا آپؐ  کومعلوم ہے

کیسی کیسی صورتیں بے جرم جھولیں دار پر

ساری دنیا کو بتایا  آپؐ  کومعلوم ہے

کیسے کیسے آس غنچے آگ میں جلتے رہے

درد سینے پر سجایا  آپؐ  کومعلوم ہے

سعادت حسن آسؔ آف اٹک

روبالہ تخلیق

Next Post

حشر کوئی اٹھاؤ سُولی پر

جمعہ دسمبر 4 , 2020
حشر کوئی اٹھاؤ سُولی پر
عمران اسد