حشر کوئی اٹھاؤ سُولی پر

حشر کوئی اٹھاؤ سُولی پر
سامنے سچ کو لاؤ سُولی پر
خود سروں کا ہی بول بالا ہے
ان کواب اُٹھاؤ سولی پر
جو کوئی نام لے بغاوت کا
کھینچ کے اس کو لاؤ ُسولی پر
ہم ہوئے ہر زمانے میں مَصلوب
ہم کو پھر چڑھاؤ سُولی پر
لوگ رب کو بھلائے بیٹھے ہیں
ان کو خدا دکھاؤ ُسولی پر
پک چکی ہیں سَروں کی فَصلیں
اب ان کو چڑھاؤ سُولی پر
ہو رہا ہے جہان یہ سنسان
خوں سے شمع جَلاؤ سُولی پر
کر خبر تو مرے عدو کو اسؔد
فتّح کا جشن مناؤ سُولی پر

کلام: عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان

عمران اسؔد

Next Post

زُبانِ شِیریں مُلک گِیری

جمعہ دسمبر 4 , 2020
زندگی لفظوں کی شطرنج ہے ‘ ابنِ صفی نے زندگی کی عملی تفسیر پانچ لفظوں میں بیان کردی تھی سارا کھیل ہی لفظوں کا ہے پہلی بازی سے آخری چال تک نیکی بدی ، دِن رات ، روشنی تاریکی کی طرح لفظوں کے سفید و سیاہ مُہرے اپنی مثبت اور منفی چالوں کے ساتھ ہمارے اندر اور ہمارے باہر ہمیں مضبوط یا کم زور بنارہے ہیں ۔
شاندار بخاری