فکر غوثیہؒ کنونشن 2020ء

اہلسنت والجماعت کی قدیمی عظیم الشان درسگاہ جامعہ قادریہ حقانیہ،امین آباد،اٹک میں بروز اتوار 13 ربیع الآخربمطابق 29 نومبر 2020ء،عمدۃ الواصلین پیر طریقت رہبر شریعت غوث زماں پیر بادشاہ صاحب ؒ کے مزار پر انوار کے سایہ میں ، عمدۃالمدرسین حضرت علامہ صاحبزادہ پیر عبدالعادل بادشاہ صاحب مد ظلہ العالی کی سرپرستی میں ، جامعہ کے نگران اعلی واعظ شیریں بیاں استاذ الاساتذہ حضرت مولانا علامہ محمد یوسف حقانی مدظلہ العالی اور تنظیم علمائے قادریہ اٹک کے زیر اہتمام سالانہ فکر غوثیہ کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔

تقریب ٹھیک نو بجے تلاوت قرآن پاک اور بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں ہدیہ عقیدت پیش کر کے شروع کی گئی۔ جید علمائے کرام، مشائخ عظام نے محفل کو رونق بخشی۔ اس شدید سردی میں پشاور سے خصوصی طور پر پرفیسر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی علامہ پرفیسر ڈاکٹر صدیق علی چشتی صاحب تشریف لائے اور اپنے وعظ سے قلوب و اذہان کو منور فرمایا۔ڈسٹرکٹ خطیب اٹک مقرر شعلہ بیاں حضرت علامہ مولانا غلام محمد صدیقی صاحب، علامہ صاحبزادہ ڈاکٹر قاضی امجد سیفی صاحب،علامہ حافظ شیر احمد قادری صاحب،علامہ محمد سعید قادری صاحب،علامہ د نیاز حسین اعوان صاحب،علامہ امتیاز حقانی صاحب،علامہ حافظ حامد رضا صاحب،محمد حنیف رضوی صاحب،علامہ فدا حسین فاروقی صاحب،علامہ مفتی حسن خان نعیمی صاحب،علامہ پروفیسر نصر محمود الرفاعی صاحب ،حضرت مولانا علامہ محمد یوسف حقانی صاحب ودیگر مقررین نے خطاب کیا۔

علمائے کرام نے سیرت غوثیہؒ پر روشنی ڈالی اور عالم اسلام بالخصوص پاکستان کو دینی و فکری لحاظ سے درپیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے حل پر زور دیا اور اس سلسلے میں اپنے تجاویز و آراء پیش کیں۔ علمائے کرام نے کہا کہ پیران پیر محی الدین، محبوبِ سبحانی، غوث الثقلین غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ساری زندگی اللہ کی اطاعت اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں گزری اور انہوں نے علم کی شمعیں روشن کرتے ہوئے سارے عالم اسلام کو بھائی چارے اور امن و آشتی کا درس دیا۔ آج اس پر فتن دور میں سیرت غوثیہؒ کو اپنانے اور فکر غوثیہؒ پر عمل کرنے میں ہی کامیابی و کامرانی ہے۔ آخر میں عالم اسلام کو درپیش مسائل بالخصوص کشمیر و فلسطین کے مسلمانوں کی نجات ، پاکستان اور عوام پاکستان کی خیر و برکت کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔

در بارہ آغا جی

بانی مدیر

یہ بھی دیکھیں

nusrat bukhari

کیمبل پوری ادبی سنیہا کا قیام

ایک ایسی فعال تنظیم بنانے پر اتفاق ہوا جو کیمبل پوری بولی کی ترویج و اشاعت کے لیے کام کرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے