حبدار قائم سے مکالمہ

انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات، اٹک
۔۔۔۔۔۔۔
حبدار حسین شاہ المعروف سید حبدار قائم صاحب

انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول، بھکر

سوال : آپ کا مختصر تعارف؟
جواب: میں نقوی سادات سے ہوں اور 38 ویں سلسلے کے بعد میرا سلسلہ شجرہء نسب جدالسادات امیر المومنین حضرت علیؑ کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔ ہماری جد پاک مدینہ سے سامرہ اور سامرہ سے بخارا ہجرت کر کے آئے تھے ۔بخارا سے ہندوستان موجودہ پاکستان کے اُچ شریف میں ہمارے جد پاک حضرت جلال الدین شیر شاہ سرخ پوش بخاری رح ہجرت کر کے آئے اور اب ہم پاکستان کے کونے کونے میں بس رہے ہیں۔
سوال : آپ بچپن کے بارے میں معلومات دیں ؟
جواب: میرا بچپن بہت خوب صورت گزرا ہے جس میں محرومیاں بھی تھیں اور خوشیاں بھی تھیں ۔زیادہ گاوں میں ہی شرارتیں کرتے اپنے دیہاتی کھیل کھیلتے جن میں گلی ڈنڈا ڈنڈ پاکی وغیرہ شامل تھے کھیلتے تھے اور یہی خوشیوں کا باعث ہوتا تھا
میرے والد صاحب چونکہ فوجی تھے اس لیے گاوں کے علاوہ میرا بچپن والد صاحب کے ساتھ مختلف شہروں میں بھی گزرا جن میں لاہور کینٹ، کھاریاں کینٹ ،راولپنڈی کینٹ اور ایبٹ آباد کینٹ شامل ہے۔
سوال : آپ کی تعلیم کیا ہے ؟
جواب: جی میں نے “ایف اے ” کیا ہوا ہے۔
سوال : ملازمت کا سلسلہ کہاں کہاں رہا؟
جواب: اٹک شہر ،گوجرانوالا ،گلگت سیاچین گلیشیئرز ، منگلا ، مری ہلز، اور لاہور میں اپنی عسکری خدمات سر انجام دے چکا ہوں اور ستمبر 2015 کو لاہور سے ہی ریٹائر ہوا ہوں۔
سوال : آپ دنیا ئے ادب میں کس طرح وارد ہوئے ؟
جواب: میں پنڈیگھیب کالج میں پڑھتا تھا میرے گاوں کا ایک لڑکا علی احمد تبسم مرحوم مختلف رسالوں میں کہانیاں لکھتا تھا۔
جس کو دیکھ کر مجھے بھی لکھنے کا شوق ہوا تو میں نے بھی 1987 میں ناقابل فراموش واقعات لکھنے شروع کر دیے۔ یوں دنیائے ادب میں داخل ہوا۔ ساتھ ہی پنڈی گھیب میں کرنل شیر محمد شاد مرحوم کے نام پر ایک ادبی “تنظیم حلقہ اربابِ شاد” بنی تو میں نے بھی اس کی رکنیت اختیار کی۔ اور شعر کہنا شروع کر دیا۔

hubdar and zaki
مقبول ذکی مقبول اور حبدار قائم


سوال : آپ کا تخلیقی سفر ؟
جواب: دیکھیے تخلیقی سفر میں نے 1987 میں چھوٹے رسالوں سے شروع کیا جن میں ماہنامہ سلام عرض، ماہنامہ جواب عرض اور سچی کہانی شامل تھے اور اب تو میری اپنی تین کتابیں ہیں جن میں :۔
پہلی کتاب: نمازِ شب
دوسری کتاب : چھانگلا ولی موجِ دریا
تیسری کتاب : اکھیاں وچ زمانے (پنجابی)
اس کے علاوہ کئی مضامین اور کتابوں پر تبصرے مختلف اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں۔
سوال : اٹک کی ادبی فضا کے بارے میں آپ کیا کہنا پسند فرمائیں گے؟
جواب: اٹک کی ادبی فضا سنگِ پارس کی طرح ہے اور اسی کا اثر ہے کہ میں نے ادبی رسالوں اور اخبارات میں لکھنا شروع کر دیا ہے ان عظیم قلم کاروں کی راہنمائی نے مجھے نکھارا ہے جس کی وجہ سے ایک دنیا ہے جو مجھے جانتی ہے الحمد للہ۔
سوال : آپ نے ملازمت کے دوران افسران سے انعامات وصول کئے ہیں۔ ان کے بارے میں کچھ کہنا پسند کریں گے ؟
جواب: جی میں نے آرمی میں منعقد ہونے والے تقریری مقابلوں میں کئی انعامات جیتے ہیں ۔اور کئی مرتبہ بریگیڈ اور ڈویژن لیول پر پہلی پوزیشن حاصل کی ہے ایک مرتبہ کور لیول کے تقریری مقابلے میں بھی ٹاپ کرنے پر جنرل صلاح الدین سے تعریفی سند اور کتابوں کا تحفہ حاصل کر چکا ہوں۔
سوال : رثائی ادب پر تھوڑی سی روشنی ڈالیں ؟
جواب: مرثیہ گوئی کا آغاز 61ھ کربلا سے شروع ہوا۔عربی سے فارسی میں آیا ۔پھر بر صغیر پاک و ہند میں اِسے میر انیس اور مرزا دبیر جیسی شخصیات نے بامِ عروج تک پہنچا یا۔اس کے بعد مرثیہ جوش ملیح آبادی محسن نقوی ہلال نقوی سے ہوتا آج کے بہت سے نمائندہ نام لیے جاسکتے ہیں۔حب دار نقوی بھی اسی رثائی اور کربلائی ادب کی ایک کڑی ہیں۔ میں تو بس اتنا ہی کہوں گا کہ
دنیا میں اس کے ماننے والے تو کم نہیں۔
سوال : سوشل میڈیا نے کتاب بینی کو متاثر کیا ہے۔ آپ کیا کہیں گے ؟
جواب: جی یہ بات سچ ہے لیکن سوشل میڈیا بہت طاقت ور میڈیا ہے اس نے مجھ جیسے کئی غیر معروف نام دنیا کو متعارف کرائے ہیں میں بھی اگر سوشل میڈیا کا سہارا نہ لیتا تو مجھے کوئی بھی نہ جانتا۔ سوشل میڈیا پر سیکھنے کے بہت مواقع ہیں اگر کوئی سیکھنا پسند فرمائے۔
سوال : آج کل آپ کی
مصروفیت کیا ہے ؟
جواب: آج کل پی ٹی سی ایل ایکسچینجز پر سیکیورٹی سپروائیزر ہوں ڈیوٹی کے بعد صرف مطالعہ کرتا ہوں۔
سوال : آپ کی تحریریں کون کون سے اخبارات رسائل و جرائد میں شائع ہوتی ہیں ؟
جواب: پنجابی رسالہ لہراں، اردو رسالے “دھنک رنگ،جمالیات،الہام ،آئی اٹک اور اردو ڈائجسٹ سپین میں لکھ رہا ہوں۔
اخبارات روزنامہ نوائے وقت، روزنامہ اساس، روزنامہ پاکستان، روزنامہ جناح،ڈیلی گریٹ پاکستان اور ڈیلی کشمیر وغیرہ میں لکھ چکا ہوں
سوال : ادب میں آپ کس شاعر، ادیب سے زیادہ متاثر ہیں اور کیوں؟
جواب: ساغر صدیقی اور علامہ اقبال رح میرے پسندیدہ شاعر ہیں رہ گیا سوال ادیبوں کا تو ان میں احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد اور اٹک شہر کے سعادت حسن آس نمایاں ہیں۔ کسی بھی شخصیت سے متاثر اس کے اخلاق کردار یا اس کی تحاریر میں چھپے ہوئے خوب صورت پیغام کی وجہ سے ہوتا ہوں
سوال : جدید ادب کے بارے میں آپ کی رائے ؟
جواب: گلوبل ویلج نے ہر چیز بدل کے رکھ دی ہے شاعری سے لے کر نثر تک متاثر ہوئی ہے لیکن یہ بات خوش آئند ہے کہ نوجوان طبقہ اب بھی ادب سے وابستہ ہے اور کئی جوان ہم بوڑھوں سے آگے نکل گئے ہیں کیونکہ ان کو نیٹ پر پڑھنے کے سارے عوامل میسر ہیں۔ ہمارے پاس تو اتنی کتابیں ہی میسر نہیں تھیں
سوال: اپنی نعوت سے کوئی اشعار سنا دیں؟
جواب:

ربِ کعبہ کی پھیلی ثنا روشنی
کیسے کرتے گئے مصطفٰیؐ، روشنی

تیرگی سے ہوئی ہے خفا روشنی
ہر قدم پہ ہوئی جاں فزا روشنی

سوال: شاعری پر تبصرہ کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھتے ہیں؟
جواب: بہت خوب صورت سوال کیا ہے آپ نے !
شاعری پر تبصرہ کرنے کے لیے پہلے خود صاحبِ مطالعہ ہونا چاہیے اور پھر جو اشعار اوزان میں پورے ہوں اور اُن میں کوئِی سقم نہ ہو اُن پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہیے ہمیشہ مثبت رویہ اپنا کر تبصرہ کرتا ہوں تو اللہ تعالٰی مجھے عزت دیتا ہے۔
سوال: شاعری میں کوئی ایسا لمحہ جس میں بہت زیادہ خوشی ہوئی ہو؟
جواب: جب میری غزل معروف گلوکار نسیم علی صدیقی نے گائی تھی تو مجھے بہت خوشی ہوئی تھی۔
سوال: شاعری میں کس شاعر سے باقاعدہ اصلاح لیتے رہے ہیں؟
جواب: 1987 میں توکل سائل مرحوم سے اصلاح لیتا تھا اور اب فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد جب دوبارہ شعر کی طرف رجوع کیا تو معروف نعت گو شاعر سعادت حسن آس سے تبرکاً اصلاح لیتا ہوں۔

maqbool zaki

مقبول ذکی مقبول

بھکر

مقبول ذکی مقبول

Next Post

محمد یوسف وحید کی عمدہ تحقیقی کاوش .گلدستہ ٔ اَدب

پیر دسمبر 6 , 2021
’’گلدستہ ٔاَدب‘‘ ڈویژن بہاول پور کے معروف ادباء وشعراء کے تعارف و احوال پر مبنی تذکرہ ہے جس کومحمد یوسف وحید نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے ترتیب دیا ہے۔
Book (1)