قُرآن آئینِ زندگی ہے؛ منشورِ حیات ہے(قسط اوّل)

قُرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر نبیِ مکرم محمد مصطفیٰ صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہونے والی آخری آسمانی کتاب ہے، قُرآن ایک دائمی معجزہ ہے سرکارِ رسالت مآب صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت کا ، کیونکہ اسلام دائمی و جاودانی دین ہے تو قُرآن کو بھی  قیامت تک کے لیے ہر دور اور زمانے میں سند اور دلیل کا حامل ہونا چاہیے، اور قُرآن کا دعویٰ بھی یہی ہے ،  وَلَا رَطبٍ وَّلَا یَابِسٍ اِلَّا فِی کِتَابٍ مُّبِینٍ * کوئی خُشک و تَر ایسا نہیں جس کا ذکر قُرآن مجید میں موجود نہ ہو، قُرآن کہتا ہے کہ وہ ھُدًی لِّلنَّاس ہے ؛ قُرآن جامِ صفاء و نُورِ خُدا ہے ، گنجِ سعادت فی الدُّنْيَا اور سامانِ عُقبیٰ ہے، قُرآن فلاحِ نَوعِ انسانی کا نُسخہءِ کیمیا ہے ، لہٰذا سُورۃ الجاثیہ کی آیت نمبر 20 میں فرمایا جا رہا ہے کہ

ھٰذَا بَصَأ ئِرُ لِلنَّاسِ وَھُدًی وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّوقِنُوْنَ *

یہ (قُرآن) لوگوں کی ہدایت کے لیے دلیلوں کا مجموعہ اور یقین کرنے والوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے،

تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس قُرآن سے مکمل استفادہ کرنے میں ناکام کیوں ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ قُرآن کو سمجھنے کا فریضہ ہم نے مولویوں کے لیے رکھ چھوڑا ہے، اور اب مولوی بھی عام آدمی کو اس طرف جانے سے مانع ہے کیونکہ یہ اس کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے حالانکہ سُورۃ القمر کی 17 ویں آیت میں قُرآن سب کو پکارتے ہوئے گویا ہے کہ

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْأنَ لِلذِّكْرِ فَھَلْ مَنْ مُّدَّكِرٍ *

اور ہم نے تو قُرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے واسطے آسان کر دیا ہے تو کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے

اب اس مُختصر سی تمہید(جو کہ بذات خود مکمل مضمون کی متقاضی ہے) کے بعد آئیے ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں اور اس کے لیے  بہت زیادہ آیات کا حوالہ دینے کی بجائے آج کی اس گفتگو میں ہم سُورۃُ الانعام کی آیت نمبر 151 اور 152 کا سہارا لیتے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے منشورِ حیات کے دس 10 اہم ترین نکات واضح اور صریح انداز میں بیان فرمائے ہیں، اور یاد رہے کہ معمولی رد و بدل کے ساتھ تورات میں بھی یہی 10 نکات موجود ہیں، اور انہی دس نکات کی بنیاد پر یہودی معاشرہ فخر بھی کرتا ہے اور اپنی مذہبی حیثیت برقرار بھی رکھے ہوئے ہے، چونکہ یہ تفصیلی آیات ہیں اس لیے ایک ایک نکتے کو لے کر مختصر تشریح کے ساتھ آگے بڑھیں گے،

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُم عَلَيْكُم اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْئاً وَّ بِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَاناً

اے رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ جو چیزیں اللہ نے تُم پر حرام کر دی ہیں وہ تمہیں پڑھ کر سنا دوں وہ یہ کہ کسی بھی شے کو اللہ کا شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو؛

قُرآن کے ہی بیان کے مطابق ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت کی بنیاد یہ رہی ہے کہ تمام انسان ایک واحد اللہ کی عبادت کریں ، ایک حاکم کی حاکمیت کو تسلیم کر لینے میں حکمت یہ ہے کہ انسان کو غیر اللہ کی غلامی سے نجات دلائی جائے ، اور قُرآن مجید بھی توحید و یکتا پرستی کو ساری آسمانی شریعتوں کے درمیان مشترکہ بنیاد کے طور پر متعارف کرواتے ہوئے سُورۃ آلِ عمران کی 64 ویں آیۃ میں فرما رہا ہے کہ

قُلْ يَا اَھْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا اِلیٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهٖ شَيْعاً وَّ لَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً اَرْبَاباً مِّنْ دُوْنِ اللهِ ط

اے میرے رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم ان سے کہہ دیجئے کہ اے اہلِ کتاب ! اُس بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے وہ یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اور اُس کے لیے کسی کو بھی شریک و مثیل نہ بنائیں، اور اللہ کے سوا ہم میں سے کسی کو پروردگار نہ مانیں ،

مختصراً عقیدہءِ توحید قُرآن کی رُو سے پہلا اور بنیادی ترین منشور ہے

والدین کے مقام کو قُرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی توحید و یکتائی اور ربوبیت کے فوراً بعد بیان کرنا ان کے مقام و مرتبہ کی بلندی کا عکاس ہے اور یہ بات یعنی توحید کے فوراً بعد والدین کے ساتھ بھلائی کو قُرآن میں مزید تین بار دہرایا ہے سُورۃ النساء آیت 36؛ سُورۃ بنی اسرائیل آیت 23 اور سُورۃ لَقمان آیت 14 میں ؛ والدین کی خدمت ، ایثار و جانثاری کو قُرآن نے کائنات کی سب سے بڑی قُربانی و نیکی فرمایا ہے، یہ اپنی جگہ ایک مکمل موضوع ہے جس پر بے شمار کتابیں لکھی جا چکی ہیں، اور جتنا میں نے دیکھا ہے اور کمزور ترین جانکاری کے اقرار کے ساتھ قُرآن مجید میں کم از کم 14 آیات میں اولاد کے لیے والدین کی خدمت؛ عزت؛ فرمانبرداری کے واضح احکامات موجود ہیں؛

وَلَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ ط نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِيَّاھُمْ ط

اور مُفلسی کے خوف سے اپنی اولادوں کو نہ مار ڈالنا، ہم ہیں جو اُنہیں بھی اور تمہیں بھی رزق دیتے ہیں،

اولاد کو والدین کے ساتھ بھلائی کا حکم دینے کے بعد والدین کو مخاطب کرتے ہوئے حکمِ ربّی ہو رہا ہے کہ دیکھو رزق کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو ، تمہارا بھی اور تمہاری اولاد کا بھی رازق اللہ ہی ہے، اسلام سے قبل زمانہءِ جاہلیت میں لوگ اپنی اولادوں خصوصاً بیٹیوں کو قتل کر دیا کرتے تھے، وہ زمانہ سائنسی وسائل نہیں رکھتا تھا اس لیے پیدائش کے بعد قتل کیا جاتا تھا اور آج کا جدید انسان سائنسی ترقی کے ذریعے پہلے سے جان لیتا ہے اور اسقاط کے ذریعے ایسے کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے، قُرآن اولاد کے ساتھ مہر و محبت، شفقت اور حُسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے،

وَلَا تَقْرَبُواالْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ ج

اور بدکاریوں کے قریب بھی مت جاؤ خواہ وہ ظاہر ہوں یا چھپ کر؛

لفظِ فواحش اپنے اندر وسیع تر معانی رکھتا ہے مثلاً جھوٹ، عہد شکنی، وغیرہ ، لیکن اگر وسیع تر معانی کو سمیٹنا ہو تو ہم (جنسی اعمال میں بے راہ روی) کہہ سکتے ہیں جنسی میلانات انسانی جَبِلَّت میں موجود ہیں، اور انسان بہرصُورت ایک معاشرتی حیوان ہے  لہٰذا معاشرے کے تحفظ کے لئے لازم ہے کہ جنسی فواحش کو قابو میں رکھا جائے قُرآنِ مجید میں عورت اور مرد کے خلافِ شرع جنسی اختلاط کو فاحشہ کہا گیا ؛ قومِ لوط کے عمل کو فاحشہ کہا گیا؛ پاک دامن عورتوں پر الزام کو فاحشہ کہا گیا، مختصر یہ کہ لفظِ فاحشہ قُرآن میں 13 مرتبہ اور فواحش 4 مرتبہ استعمال ہوا ہے اور چونکہ اس سے بے شمار مفاسد پیدا ہوتے ہیں، معاشرہ عدم تحفظ کا شکار ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر عفت و حیاء اور پاکدامنی کے خاتمے کا سبب بنتا ہے،

وَلَا تَقْتُلُواالْنَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللهُ بِالْحَقِّ ط ذٰلِكُمْ وَصّٰكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ *

جس انسان کو اللہ نے محترم قرار دیا ہے اُسے ناحق قتل نہ کرو  یہ وہ باتیں ہیں جن پر عمل کا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تا کہ تم سمجھو  !

قُرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو سب مخلوقات سے جُدا، اعلیٰ و ارفع مقام سے نوازا ہے، قُرآن نے انسان کو اللہ کا خلیفہ و جانشین قرار دیا  جو امامت کا بار اُٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، انسان اللہ تعالیٰ کا متعلم اور فرشتوں کا معلم قرار پایا، خُشکی اور دریاؤں کو مسخر کرنے والا اور سب سے بڑھ کر احسنِ تقویم  پیدا کیا گیا ، یہی وجہ ہے کہ اس قدر مثبت مقام و اقدار کی بنیاد پر اس کا خون، جان و مال اور عزت و آبرو یہاں تک کہ میت کو بھی محترم قرار دیا گیا ہے، قُرآن نفسِ انسانی کے احترام کو ذہنوں میں راسخ کرنے کے لیے اس ذکر کو مختلف انداز اور الفاظ سے بار بار دہراتا ہے، مختلف سزاؤں کے تعین اور آخرت کی جزاء و سزا کے بیان سے انسانی معاشرے کا امن اور قتل و خون ریزی سے روکنا مقصود ہے،

یہاں سُورۃُ الانعام کی آیت 151 کا اختتام ہو رہا ہے اور اللہ رَبُّ العِزَّت اس آیت میں بیان شدہ پانچ 5 نکات کو اپنی وصیت/حکم قرار دے کر انسان کو عمومی طور پر غور و فکر کی دعوت دے رہا ہے ، اگلی نشست میں ان شآء اللہ قُرآنی منشور کےاگلے پانچ نکات پر گفتگو ہو گی

جاری …

مونس رضا

ریٹائرڈ او رینٹل ٹیچر گورنمنٹ پائیلیٹ ہائر سیکنڈری اسکول اٹک شہر

Next Post

کل شب تڑپ تڑپ کر، میں نے گزار ڈالی

جمعہ دسمبر 11 , 2020
کل شب تڑپ تڑپ کر، میں نے گزار ڈالی
عمران اسد