کل شب تڑپ تڑپ کر، میں نے گزار ڈالی

کل شب تڑپ تڑپ کر، میں نے گزار ڈالی

سِینے کی ہر تمناّ ، سِینے میں مار ڈالی

اُس بے وفا کو کب تک ، دیتا خراج کوئی

آفت گلے سے اک دن ، یہ بھی اُتار ڈالی

کرنے کو کچُھ اُجالا ، آنکھوں میں سُرمہ ڈالا

اور پھر بطرزِ جوگی ، کانوں میں تار ڈالی

آتے ہی جیسے میرے ، شانتی میں آ گیا ہو

ہر بے سُکون پتاٗ، ہر بے قرار ڈالی

ہوں دور سب بلائیں ، تا کہ ٹلیں خزائیں

میں نے نئی چمن میں رسمِ بہِار ڈالی

کلام: عمران اسد

عمران اسد

عمران اسؔد

Next Post

جنگل اور جنگلی حیات

ہفتہ دسمبر 12 , 2020
اس مضمون میں ضلع اٹک کے جنگلات میں پائے جانے والے درخت اور جڑی بوٹیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات (جانور اور پرندے) پر بھی گہری تحقیق پیش کی گئی ہے۔
اٹک کے جنگل