جنگل اور جنگلی حیات

آج کی یہ تحریر عمومی طور پر تمام قارئین کے لئے اور خاص طور پر ان لوگوں کے لئے ہے جو تاریخ کے ساتھ ساتھ جغرافیہ سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس مضمون میں ضلع اٹک کے جنگلات میں پائے جانے والے درخت اور جڑی بوٹیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات (جانور اور پرندے) پر بھی گہری تحقیق پیش کی گئی ہے۔

بیر: بیر کا عام درخت ہر جگہ ملتا ہے۔ پتے اور ٹہنیاں چارے کے طور پر استعمال ہوتے ہے جبکہ لکڑی گھر بنانے اور جلانے کے کام آتی ہے۔ اسکا پھل بھی کھانے کے لئے مفید ہے۔ اسکی ایک چھوٹی قسم کو بیری کہتے ہیں۔ اسکے خشک پتے اور ٹہنیاں زخیرہ کر کے جانوروں کا چارہ بنایا جاتا ہے۔ اس کی بقایا ٹہنیاں باڑ کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ پھل اگرچہ چھوٹا ہوتا ہے لیکن شوق سے کھایا جاتا ہے۔

دھریک: یہ درخت عام طور پر خود بخود نہیں اُگتا بلکہ اسے خاص طور پر اُگایا جاتا ہے۔ یہ تیزی سے بڑھتا ہے اور سایہ دار درخت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اسکی لکڑی کم اہمیت کی حامل ہے لیکن حلقے شہتیر اور دوسرے کاموں میں استعمال ہوتی ہے خاص طور پر ہل کے لئے” پنجالی” بنانے کے کام آتی ہے۔ بوہڑ پیپل کے درخت بھی کم مقدار میں ملتے ہیں۔ سڑکوں کے کنارے اور اٹک تحصیل کے کچھ علاقے میں توت کا درخت بھی پایا جاتا ہے جو باقی علاقوں میں کم ہے۔

لانہ: دریائے سندھ کے نذدیک اگنے والا کلری زمین کا ایک درخت ہے جہاں اور کوئی دوسری چیز پیدا نہیں ہوتی۔ جہاں یہ درخت ہوگا ظاہر کرے گا یہ کلر والی اور نمکین زمین ہے۔ مویشیوں کے چارے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

گھنیرا: خوبصورت گلابی اور سفید پھولوں والی یہ جھاڑی اکثر ندی نالوں کے اندر زیادہ مقدار میں ملتی ہے۔ اس کے پتے زہریلے ہوتے ہیں اور ضلع میں پائے جانے والے تمام جانور اسکو نہیں کھاتے۔ اس کی ٹہنیوں اور تنوں کو تمباکو پینے والے پائپ میں استعمال کیا جاتا ہے۔

آک: یہ بنجر اور ناہموار زمین پر اگنے والی چوڑے پتوں کی ایسی جھاڑی ہے جس کا تنا لکڑی جیسا ہوتا ہے۔ عام طور پر غیر مفید بوٹی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن اس سے کچھ فائدے اور مقاصد بھی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اس کی ٹہنیاں جلانے کے کام آتی ہیں۔ بکریاں کڑوے پتے کھاتی ہیں۔ اس سے دھاگا یا ریشہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے جو روئی جیسا نرم ریشہ ہوتا ہے جو گٹھڑیوں میں بند ہوتا ہے۔ نرم و گداز گدے اور تکئے بنانے کے کام آتا ہے۔

پوہلی: ایک کانٹے دار پودا جو کسی بھی کانٹے دار پودے سے مماثلت نہیں رکھتا۔ اپنے خوبصورت پیلے پھولوں کے ساتھ ربیع کی فصل کے دوران ضلع کے تقریبا” ہر علاقے میں پیدا ہوتا ہے۔ جانوروں کا چارہ بھی بنتا ہے۔ اسکے بیج خوراک کے طور پر اکثر خشک سالی میں استعمال ہوتے ہیں۔

بھوکاٹ: یہ پیاز جیسی بن بلائی جڑی بوٹی ہے جو گندم کے کھییتوں میں تمام خالی جگہوں کو بھر لیتی ہے۔ اسکے کالے بیج پیس کر کھانے میں بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں۔

بھکڑا: یہ ایک عام قسم کی بوٹی ہے جو خزاں کے دنوں میں بہتات سے ہوتی ہے۔ اس کے بیج تکونی شکل کے کانٹے دار ہوتے ہیں۔ قحط اور خشک سالی کے دنوں میں یہ بیج پیس کر آٹے میں ملا کر پکائے جا سکتے ہیں۔

کھبل: گھوڑوں اور مویشیوں کی خوراک ہے۔ بہت کم مقدار میں کھیتوں کے گرد اگنے والا چھوٹا گھاس ہوتا ہے۔ بارش کے دنوں میں زیادہ بڑھتا ہے اور سارے سال میں بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

تھوہر: یہ بنجر علاقوں میں بہت عام ہے۔ فائدے کے نسبت زیادہ نقصان دہ ہے لیکن جب مویشیوں کے کھانے کو کچھ نہ ہو تو چارے کے طور ہر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جنگلی حیات:

اُڑیال / ہُڑیال: ضلع میں بہترین شکار ہے۔ کالاچٹا اور اسکی زیلی پہاڑیوں، نرڑا کے علاقے اور کوہستان نمک میں پانی کے نزدیک پہاڑوں پر ہوتا ہے۔ بعض اوقات ندی نالوں کے کناروں، جہاں چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں ہوں جیسے تحصیل پنڈی گھیپ کے جنوب مغرب میں بھی ملتا ہے۔

لومڑ: ضلع میں تیزی سے ہونے والی آبادکاری کی وجہ سے اب کافی کم مقدار میں موجود ہے لیکن ضلع کے تمام علاقوں میں کم و بیش پایا جاتا ہے۔ جبکہ گیدڑ پورے ضلع میں اکثر مقامات پر پایا جاتا ہے۔ بنیادی طورپر بزدل ہونے کی وجہ سے کم نظر آتا ہے لیکن اسکی آوازیں سنی جاتی ہیں۔

خرگوش: تمام چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں اور ڈھلانوں کے علاوہ بھی ہر جگہ ملتا ہے لیکن کم تعداد میں موجود ہے۔

کبوتر: پرندوں میں یہاں قابل زکر “جنگلی کبوتر” ہے۔ یہ ایک پہاڑی کبوتر ہے جسے عرف عام میں “جنگلی کبوتر” کہتے ہیں۔ کالا چٹا کے پہاڑوں میں زیادہ تعداد میں موجود ہے۔

تیتر / کالا تیتر اور چوکور: یہ کالا چٹا میں عام ہے۔ نرڑا کی پہاڑیوں کے علاوہ عام جگہ پر بھی تیتر ملتا ہے جبکہ چوکور صرف پہاڑوں میں ملتا ہے۔ بھورے رنگ کا تیتر پورے ضلع میں عام ہے لیکن کالا تیتر نہ ہونے کے برابر پایا جاتا ہے۔

بٹیر اور کھڑ مور : بہار اور خزاں کے موسم میں پورے ضلع میں بٹیر بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ انکا شکار سواں جھیل میں عام طور پر ہوتا ہے۔ اٹک تحصیل میں اٹک قلعہ کے آس پاس اور پنڈی گھیپ کے مغربی علاقوں میں کبھی کبھار ملتا ہے۔

اسکے ساتھ ہی ہمارا آجکا یہ مضمون مکمل ہوتا ہے۔ آپ لوگوں سے گزارش ہے کہ نیچے کمنٹس میں آپنی رائے کا اظہار ضرور کریں تاکہ آپکی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے دیگر موضوعات پر بھی لکھا جائے۔

ثمانہ زھراء

Next Post

ونگاں - پنجابی مجلہ

اتوار دسمبر 13 , 2020
یہ اس لحاظ سے تاریخی مجلہ ہے کہ ضلع اٹک میں اس سے پہلے پنجابی زبان میں کسی مجلے کی اشاعت نہیں ہوئی۔ثقلین انجم اس کے مدیراعلیٰ اور مشتاق عاجز سرپرست ہیں۔
ششماہی ونگاں