قُرآن آئینِ زندگی ہے ؛ منشورِ حیات ہے (قسط دوم)

بِسْمِ اللهِ الْرَّحْمٰنِ الْرَّحِيْمِ*

وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ حَتیّٰ يَبْلُغَ اَشُدَّه، ج

اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ، سوائے اس طریقہ کے کہ اس کے لیے بہتر ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے ،

یتیم کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے قُرآن نے ہی ہمیں بتایا کہ گذشتہ تمام انبیاء اور شریعتوں میں بھی یہی قانونِ الٰہی تھا

منشورِ حیات کے اس چھٹے اصول سے یہ بات بالکل واضح اور عیاں ہے کہ بچہ انسانی معاشرے کی بنیاد کی خِشتِ اول ہے، بچے کی نگہداشت ، تربیت، درست بنیادوں پر پرورش بہترین اور توانا معاشرے کے لیے کس قدر اہم ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن میں یتیم کے حقوق اور کیفیات کے بیان میں لفظِ یتیم اپنے دیگر مُشتقات کے ساتھ 23 مرتبہ استعمال ہوا ہے

بچہ دراصل اپنی کمزوری اور ناتوانی کی وجہ سے کسی ایسے ہمدرد سرپرست کا محتاج ہوتا ہے جو اتنی بڑی اور اجنبی دنیا میں اُس کا ساتھ دے اس کے مادی و روحانی حقوق کا محافظ ہو، باپ اس فطری ذمہ داری کو جتنا بھی اپنے کندھوں سے ہٹانا چاہے وہ ایسا کر نہیں پاتا  اسی طرح یتیم بھی ایسی سرپرستی اور شفقت ، مادی حقوق کی حفاظت کا مکمل حق رکھتا ہے لہٰذا قرآن مجید اس اہم ترین حق کی طرف متوجہ کرتے ہوئے اس کے مادی و روحانی حقوق کے تحفظ کا حکم دے کر معاشرے کی اہم ترین ذمہ داری کا تعین فرما رہا ہے کہ جو بچہ کسی بھی وجہ سے اپنے قدرتی و حقیقی سرپرست سے محروم ہو گیا ہو اُس کے قریبی اعزاء و اقارب اس کی سرپرستی و تربیت فریضے کی طرح ادا کریں، تاکہ بلوغت کے بعد وہ تمہارے معاشرے کا مفید فرد بن کر سامنے آئے،

وَ اَوْفُواالْكَيْلَ وَ الْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ ج

ناپ تول کا حق انصاف کے ساتھ پُورا کرو ؛

عدل و قسط اپنے اندر بے شمار معانی و مفاہیم لیے ہوئے ہے، اس کی وضاحت اور سمجھنے کے لیے ایک الگ نشست اور مضمون کی ضرورت ہے، البتہ یہاں چونکہ موضوع ناپ تول میں عدل و قسط ہے لہٰذا اسی پر مختصر بات کرتے ہیں،

قُرآن میں معاشی و اقتصادی انصاف معاشرے کا بنیادی ترین اصول قرار دیا گیا ہے ناپ تول میں کمی سے مراد اجناس کے علاوہ ہر طرح کی ثروت و دولت؛ قدرتی وسائل اور نعمتوں کی تقسیم بھی ہے، ایک عام شہری سے حکمران تک اس آیت میں اور قُرآن میں مخاطب ہیں کہ دولت چند ہاتھوں میں جمع نہ ہو، ذخیرہ اندوزی نہ کی جائے، ناپ تول میں کمی نہ کی جائے، کسی کے حق پر بےجا تصرف نہ کیا جائے، فقر و فاقہ اور طبقاتی امتیازات کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے،

      لَا  نُکَلِّفُ  نَفساً  اِلَّا  وُسعَھَا ج

ہم کسی انسان کو اُس کی طاقت سے بڑھ کر ذمہ داری نہیں دیتے

یہاں پر تو بظاہر ان الفاظ کا تعلق پچھلی بات سے بنتا ہے یعنی اقتصادی عدل؛ ناپ تول میں عدل و قسط یہ اتنا مشکل کام نہیں کہ جسے تم کر نہ سکو لیکن یہی بات سُورۃ بقرۃ کی آیت 233؛ سُورۃ اعراف کی آیۃ 42 ؛ سُورۃ مومنون آیت 62 میں مختلف معانی میں کہی گئی ہے، جس کا لب لباب یہ بنتا ہے کہ اسلام بطورِ دین اپنے اندر انسانیت کے لیے آسانیاں سمیٹے ہوئے ہے، اس پر عمل کرنے میں کوئی تنگی نہیں ہے، اور اسلام کوئی ایسا حکم نہیں دیتا جس پر عمل  کرنے میں انسان کے لیے تنگی اور مشکل پیدا ہو،

وَ اِذَا  قُلْتُم  فَاعدِلُوا  وَلَو کَانَ ذَا قُربی  ج

اور جب بات کرو تو عدل کرو خواہ وہ قرابت دار کے بارے میں ہی ہو

عدل ایک ایسا بنیادی منبع و ستون ہے کہ جس پر انسانی معاشرے کی بنیاد پُختہ ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ یہاں اور قُرآن میں دیگر مقامات پر یہ واضح اصول دے رہا ہے کہ جب تم فیصلہ کرنے لگو تو کوئی رشتہ کوئی لالچ، کوئی خوف تمہیں حق پر فیصلہ کرنے سے نہ روک پائے اور قُرآن نے متعدد مقامات پر ہوا و ہوس اور نفسانی خواہشات کی پیروی کو عدل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے،

وَ بِعَھْدِ اللهِ اَوْفُوْا ط ذٰلِكُمْ وَصّٰكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ * 

اور اللہ سے کیا گیا وعدہ پورا کرو ؛ اللہ نے تمہیں اس کی تاکید کی ہے تاکہ تم ذکر کرتے رہو،

عہد و پیمان اور وعدہ وفائی ایک فطری خُوبصُورتی ہے، اخلاقی بلندی؛ اعتماد اور معاشرتی اعلیٰ ظرفی کا واضح ثبوت ہے، جبکہ وعدہ و پیمان شکنی اخلاقی پستی کی مظہر ہے، وعدہ وفائی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ قُرآن مجید میں اس کا ذکر 45 مرتبہ ہوا ہے، اور آیت کے آخری الفاظ تاکید کی گئی ہے کہ اس پر عمل کرو اور ان مندرجہ بالا امور کو دہراتے رہو، ذکر کرتے رہو،

اور اس سے اگلی آیت 153 میں ارشاد رَبُّ العِزَّت ہو رہا ہے کہ

وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِيْماً فَاتَّبِعُوْهُ ط وَلَا تَتَّبِعُوْاالسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبَيْلِهٖ ط ذٰلِكُمْ وَصّٰكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ  *

یہ ہے ہمارا سیدھا راستہ اسی پر چلتے جاؤ اور دوسرے راستوں پر نہ چلو

کہ وہ تم کو اللہ کے راستے سے بھٹکا کر متفرق کر دیں گے یہ ہیں وہ باتیں جن کا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے،

صراطِ مستقیم کے متلاشیو! دنیا و آخرت کی کامیابی چاہنے والو ! قُرآن میں تلاش کرو تمہیں دنیا میں جنت مل جائے گی، مگر لالچ، ہوس ، بہتات کی حرص ، شہوت جیسے شیطان بھی تو صراطِ مستقیم کے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں، جو انسانوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکا تے ہیں اور انسان اپنے کریم رب سے دوری اختیار کر لیتا ہے، حالانکہ وہ کریم رب قدم قدم پر انسانوں کی راہنمائی فرما رہا ہے،

اس کے علاوہ بھی قُرآن نے چار مقامات پر تسلسل کے ساتھ اپنے منشور کو واضح بیان فرمایا ہے، یہ سُورۃ بنی اسرائیل کی 22 ویں آیہ سے 39 ویں آیۃ تک 18 آیات ہیں اور پھر سُورۃ مومنون یہلی 10 آیات میں سات 7 بنیادی اصول بیان کیئے گئے

سُورۃ فُرقان کی آیت 63 تا 77 میں 14 اصول پیش ہوئے جبکہ سُورۃ لقمان آیات 13 تا 19 میں بھی 12 اخلاقی و معاشرتی اصول بیان کیئے گئے ہیں ؛ ان تمام مشترکہ نکات کو ایک جگہ جمع کر کے مطالعہ کیا جائے تو قُرآن مجید کی حقانیت و حکمت کے سارے راز کھلتے ہیں، وہ حکیمِ مطلق دراصل نوعِ بشر کو سعادت و خوش بختی کی کن منازلِ پر دیکھنا چاہتا ہے قُرآن کو بطورِ منشورِ حیات اگر پڑھا اور سمجھا جائے اور عمل کی کوشش کی جائے تو سب کچھ آشکار ہوتا چلا جاتا ہے،

سُورۃ بنی اسرائیل کی آیات 22 تا 39  میں بیان کردہ  منشورِ حیات کے 14 نکات یہ ہیں

1 – لَا تَجعَل مَعَ اللہِ اِلٰھاً  آخَرَ

اللہ کے ساتھ دوسرا شریک قرار نہ دیا جائے

2  –  وَقَضٰی رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اِيَّاهُ

تمہارے پروردگار کا فرمان ہے کہ عبادت فقط اسی کی کرو

3  – وَ بَالوَالِدَینِ اِحْسَاناً

اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو

4  – وَاٰتِ ذَاالْقُرْبیٰ حَقَّه، وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنِ الْسَبِيْلِ

اپنے قریبی رشتہ داروں؛ مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرو

5  – وَلَا تُبَذَِّر تَبذِیراً 

اسراف اور فضول خرچی نہ کرو

6 – وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اَلیٰ عُنُقِكَ  وَلَا تَبْسُطْھَا كُلَّ الْبَسْطِ

نہ اپنے ہاتھوں کو بالکل گردن سے باندھ لو اور نہ ہی بالکل کُھلا چھوڑ دو (نہ کنجوسی؛ نہ فضول خرچی بلکہ میانہ روی)

7 – وَلَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادَكُمْ خَشیَۃَ  اِمْلَاقٍ

اور نہ بھوک کے خوف سے اپنی اولادوں کو قتل کرو

8 –  وَلَا تَقْرَبُواالزِّنیٰ

زنا (بدکاری) کے قریب مت جاؤ

9  – وَلَا تَقْتُلُواالنَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللهُ اِلَّا بِالْحَقّ

اللہ نے ناحق خون بہانے (قتل) کو حرام قرار دیا ہے

10  – وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ

احسن صورت کے علاوہ یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ

11  – وَ اَوْفُوْا بِالعَھدِ

اور اپنے وعدے ایفاء کیا کرو

12  – وَ اَوْفُواالْكَيْلَ اِذَا کِلتُم وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ المُستَقِیمِ

پیمانہ صحیح رکھو اور بالکل درست ترازو سے وزن کیا کرو

13  – وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ط اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلَّ اُولٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسئُولاً

جس چیز کے بارے میں نہیں جانتے ہو اُس کی پیروی نہ کرو، کان؛ آنکھ ؛ اور دل جواب دہ ہوں گے

14  – وَلَا تَمْشِ فِی الاَرْضِ مَرَحاً

اور تکبر و غرور کے ساتھ زمین پر نہ چلو

مونس رضا

ریٹائرڈ او رینٹل ٹیچر گورنمنٹ پائیلیٹ ہائر سیکنڈری اسکول اٹک شہر

Next Post

سام سنگ گلیکسی - Galaxy A32 5G

جمعرات دسمبر 17 , 2020
سام سنگ کا گلیکسی کا آنے والا موبائل فون اے 32 5 جی (Galaxy A32 5G) اس کمپنی کا پہلا 5 جی سستا ترین سمارٹ فون کہا جا رہا ہے۔