انسانی سوچ کیا ہے؟

ظلم و فساد کا خاتمہ اور دنیا میں امن، انصاف، خوشحالی، بین الاقوامی تعمیر و ترقی اور بین المذاہب اشتراک کیسے ممکن ہے؟

Haqeeqat ki Talash
حقیقت کی تلاش میاں فاروق عنایت اٹک

          انسان کی غلط سوچ نے اور انسان کے نفس کی بیماریوں نے انسان کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اور کسی آفت نے شاید نہ پہنچایا ہو۔ آپ دیکھتے ہیں انسان نے اپنا مطمحِ نگاہ اچھا کھانا، پینا، پہننا اور اوڑھنا بچھونا، نیذ، عیش و عشرت کو قرار دے رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ افراد کی سطح پر جنگل کا قانون ہے مار دھاڑ، آپا دھاپی ہے، دوسروں کو روند کر چھین لینا طرہئ امتیاز ِ انسانیت ہے۔ یہی کچھ اقوام کی سطح پر ہے ہر قوم اپنی قومی پیداوار کا سب سے بڑا حصہ ملکی و قومی دفاع کے نام پراربوں کھربوں ڈالر کی شکل میں مہلک ترین ہتھیاروں پر صرف کر رہی ہے۔ ایٹم بموں کی بھرمار ہے، نیوٹران بموں کا شمار نہیں، کیمیائی ہتھیاروں نے انت مچا رکھی ہے۔ جراثیمی ہتھیاروں کے ذریعے بھی آناً فاناً دنیا کی آبادی کو چٹ کر جانے کا پروگرام موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں اس وقت جتنا مہلک کثیر الجہتی اور جتنی مقدار میں اسلحہ موجود ہے یہ دنیا کو سینکڑوں مرتبہ صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے لیے کافی ہے اور اگر کوئی متنفس زندہ بچ جائے گا تو وہ جسمانی، ذہنی اور جینیاتی طور پر معذور ہو گا تا کہ آئندہ انسانی نسل میں کوئی جوہر قابل موجود نہ رہے اور اس قسم کی جنگ دنیا میں کسی بھی وقت کسی اچانک شدید غلط فہمی کی وجہ سے چھڑ سکتی ہے کہ ایک دم دنیا نیست و نابود ہو جائے۔ زمین پر کوئی ذی روح نہ بچے، پہاڑ اڑ جائیں، جنگل جل جائیں، سمندر زہریلے ہو جائیں، دریا خشک ہو جائیں اور فضائیں زندگی   کے لیے اجنبی ہو جائیں۔ واہ رے انسان تو کتنا ذہین ہے تجھے کس لیے اس دنیا میں بھیجا گیا کیا چیلنج دیا گیا کہ ذہن کو ماؤف کر دینے والی وسعت کائنات کو بسیط ہو جا، تسخیر کر لے، خود کو اشرف المخلوقات ثابت کر (گوکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اکثر مخلوقات سے بہتر پیدا کیا ہے اس سے Superiorمخلوقات بھی کائنات میں موجود ہیں) لیکن تو نے عیش و عشرت کو زندگی بنا لیا اورہوس پرستی کی وجہ سے افراد نے معاشروں کو تباہ کر دیا اور معاشروں نے باہم ہاتھا پائی میں زمین سے زندگی ہی کو مفقود کرنے کا پروگرام بنا رکھا ہے۔ (یاد رہے کہ میں ابھی تک صرف مادی دنیا اور زندگی پر بحث کر رہا ہوں جو صرف حواس خمسہ کے ذریعے محسوس کی جا سکتی ہے دوسرے حواس یا دوسری دنیائیں اس کے علاوہ ہیں، اس پر آگے چل کر بحث ہو گی)۔

          اس جنگ و جدل کی بنیادی وجوہات میں مختلف مذاہب، مکتبہئ فکر اور تہذیبوں کا ٹکراؤ ہی نہیں ہے بلکہ نفس اور قوم پرستی بھی ہے جس طرح سے کوئی فردِ واحد، اشرافیہ یا تنظیم دنیا کے تمام وسائل کو صرف اپنے قبضہ اور تصرف میں لے آنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح آگے بڑھیئے تو ہر جغرافیائی وحدت اور زبان و تہذیب و تمدن پہ مبنی قوم دوسری سب جغرافیائی وحدتوں اور اقوام کوغلام بنا لینا چاہتی ہے۔ اس چھینا جھپٹی اور خوشی کا نکتہئ ماسکہ کیا ہے؟ تعیش حیات کا لا متناہی سلسلہ اپنے لیے بھی اور اپنی آئندہ نسلوں کے لیے بھی! اس سوچ اور اندازِ فکر نے انسان کو اس کے اصل مقصد ِ حیات سے بہکا دیا ہے۔ زمین تو زمین اب خلاؤں پر بھی قبضہ اور تصرف کی جنگ جاری ہے تاکہ وہاں سے بھی زمین بے چاری سے منسلک حیات کو کیسے بھسم کیا جا سکتا ہے۔ مجھے تو یوں نظر آتا ہے کہ انسانی ذہانت اگر اسی طرح اپنی بقا کے پیچھے پڑی رہی تو کہیں زمین (سیارہ) ہی بالا ٓخر بھک سے نہ اڑا دی جائے، کیا اسے ترقی کہتے ہیں؟ اسے بقاءِ حیات کا نام دیا جا سکتا ہے؟ یا یہ انسان کی بدترین تنزلی کی طرف تیز ترین سفر ہے۔ پھر سائنسی ترقی کی وجہ سے ایسی گیسیں پیدا ہو رہی ہیں، ایسے کیمیائی ری ایکشن ہو رہے ہیں کہ زمین پر سورج کی مہلک شعائیں اوزون کی تہہ کو چیر کر پہنچنے ہی والی ہیں بلکہ ان کا پہنچنا شروع ہو چکا ہے۔

آئیے اس کا حل تلاش کریں

          جب صورت حال اس قدر گھمبیر ہے اور ہماری بقا ہی کو سخت خطرات لاحق ہیں تو ان کے حل کی طرف جلد از جلد پیش رفت ازحد ضروری ہے ہمیں سوچنا ہو گا کہ کس طرح ہم اس صورت حال سے نکل سکتے ہیں۔ کون سی چیز ہو کہ جو ہمیں باہم ایک نوع کے طور پر اکٹھا کر دے۔ قوم نہیں بلکہ نوع انسانی کی بقا، امن، خوشحالی، ترقی اور صحت حسن کس طرح ممکن ہے۔

          ہم جب مندرجہ بالا مسائل پر غور کرتے ہیں تو عقل گم ہو جاتی ہے کوئی خیال یا تجویز یاKeyاس عقدے کو کھولنے یا حل کرنے کے لیے قریب قریب نظر نہیں آتی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم مایوس ہو جائیں۔بلکہ Try Try Again کے مقولے کے تحت بار بار اور مسلسل سوچ بچار ہمیں کسی حل کے قریب ضرور لے آئے گی۔ ہر چیز کے دو رخ ہوتے ہیں Negative اور Positive۔ جب Negativeہمیں اس نہج پر لے آیا ہے تو اسی کا Positiveبھی اللہ تعالیٰ نے انسانی ذہن میں ضرور Feed کر رکھا ہو گا۔

شفافیت مذاہب کے ذریعے حل

          جب اصل اور حقیقی حل کے لیے ہم مذہب کی طرف نگا ہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ دیکھ کر بہت حیرانی ہوتی ہے کہ دنیا میں 90%افراد کے ایک خدا یا واحد کارساز طاقت پر ایمان و یقین رکھنے یا اسے تسلیم کرنے کے باوجود درجنوں مذاہب اور ان پر عمل کرنے والے شاید سینکڑوں یا ہزاروں فرقہ جات تھوڑے تھوڑے فرق کے ساتھ موجود ہیں۔ کچھ میں بُعد المشرقین ہے تو کچھ ایک جیسے دکھنے کے باوجود باہم متضاد ہیں اور ہر کوئی اپنے ایمان عقیدے یا فلسفہئ مذہب پر نہ صرف پورے اعتماد کے ساتھ قائم ہے بلکہ دوسروں کو غلط سمجھتے ہوئے انھیں صفحہئ ہستی سے مٹا دینا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتا ہے یا پھر انھیں صرف اپنا ہم خیال دیکھنا چاہتا ہے۔ جب صورتحال یہ ہے تو اس کا آخر حل کیا ہے؟

قرآن مجید

اسے آپ میرا مذہبی عقیدہ کہیے یا ہر مذہب کے پیروکاروں کی طرح ایمان کہیے میرا الحمدللہ اس کتاب اللہ پر بہت راسخ ایمان ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسری آسمانی کتابوں پر میرا ایمان نہیں ہے بلکہ ہر مسلمان کی طرح تمام آسمانی کتابوں پر اور تمام نبیوں پر، فرشتوں پر، رو ز آخرت پر اور اللہ تعالیٰ کی مکمل وحدانیت پر میرا ایمانِ کامل ہے۔ لیکن قرآن ایک ایسی مکمل کتاب ہے جس کے اندر تمام سابقہ ادیان مع دین ابراہیمی کامل اور لاریب شکل میں بیان کر دیے گئے ہیں۔ یہ کتاب اپنے اصل عربی متن کے ساتھ موجود ہے ہو بہو وہی اللہ تعالیٰ کا تمام کلام ہر زِیر زَبر، پیش کے ساتھ آج بھی سینکڑوں سالوں بعد (یہاں  زِیر، زَبر، پیش سے مراد الفاظ، معنی و مفہوم بھی ہے)موجود ہے۔ جبکہ دوسری کتب تراجم کی وجہ سے اصلی الفاظ کو شاید ہو بہو برقرار نہ رکھ سکی ہوں۔ گو کہ یہ دعویٰ نہیں ہے، مختلف مکتبہئ فکر کا خیال ہے جو غلط بھی ہو سکتا ہے۔کیونکہ جہاں اہل ِ اسلام نے اپنی تحقیقات کے ذریعہ بائیبل کو ترجمہ شدہ اور تحریف شدہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے وہاں اہل یسوع مسیح عیسائی اور یہودی حضرات نے (بنی اسرائیل نے) اسے اصلی متن اور تحریف سے پاک قرار دیا ہے۔ بہر کیف ہم یہاں صرف قرآن مجید پر چونکہ بحث کر رہے ہیں اس لیے لمحات موجودہ میں بحث کو یہیں تک محدود رکھتے ہیں۔

          قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرما تا ہے کہ میں نے تمام انسانوں کو ایک نفس سے پیدا کیا ہے پھر اس کا جوڑا بنا (آدم ؑ اور حواؑ) اور اس کے بعد ان ہی کی نسل سے تمام نوع انسانی کو بڑھایا اور پھیلایا ہے۔ کسی کو کسی پر کوئی بڑائی اور فوقیت حاصل نہیں ہے۔ماسوائے تقویٰ (پرہیزگاری) کے۔           تقویٰ کا مفہوم نیکی اور پرہیزگاری ہے اور قرآنی اصول و قوانین کے مطابق زندگی گزارنے کا نام ہے۔ اس میں ابدی بنیادی اصول بیان کر دیئے گئے ہیں اور جن جزیات میں قرآن پاک نہیں گیا ان کو زمانہ کے تقاضوں کے مطابق علما کے اجماع سے اجتہاد کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ میں اس تفصیل میں نہیں جاؤں گا کہ یہ قوانین کیا ہیں کیونکہ کوئی بھی قرآن مجید کا نسخہئ کیمیا اٹھا کر انھیں پڑھا اور معلوم کیا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)

ترتیب و پیشکش :محمد رفیع صابر

در بارہ میاں فاروق عنایت