سفر کوفہ

مجھے پہلی دفعہ عراق زیارات پر جانے کا شرف 2016 میں حاصل ہوا۔میں ایک قافلہ میں شریک تھا جس میں بیشتر افراد پہلی دفعہ زیارات پر جارہے تھے سب کے چہروں پر ایک خوشی اور تشکر کے آثار نمایاں تھے ۔ ہمارا جہاز سیالکوٹ سے اڑا اور دوبئی اترا اور پھر وہاں سے نجف اشرف عراق پہنچے ۔ یہ امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے ایام تھے اور جب ہم نجف اشرف پہنچے تو دنیا بھر کے کروڑوں زائرین نجف و کربلا دونوں شہروں کے بیچ محو سفر تھے۔ماشی یعنی پیادہ روی ایک سفر عشق ہے جس کی ایک الگ طویل تاریخ ہے اس پر پھر کسی وقت بات کریں گے تاہم میں چہلم کرنے کربلا معلی پیدل روانہ ہوگیا اور پھر یہ روحانی سفر مکمل کرنے کے بعد واپس نجف اشرف روضہ علی مرتضیؑ پر واپس آگیا ایک عجیب ہیبت اور روحانیت باب العلم کے در پر محسوس کی دنیا کی ہر قوم کا باشندہ قبر علی ؑپر پرسہ دیتے دیکھا ۔

رضا سیّد

ایک دن صبح مجھے سالار قافلہ نے کہا کہ آج کوفہ کی جانب جانا ہے جیسے ہی اس نے کوفہ کانام لیا تو مرے ذہن میں کوفہ کے وہ درودیوار گھوم گئے جو میں نے مختلف کتب میں پڑھے اور کچھ تصاویر دیکھ رکھی تھیں ہم نجف اشرف سے نکلے تو کوفہ جڑواں شہر ہی ہے کوئی پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر تاہم کوفہ جو کبھی عروس البلاد تھااب قصبہ نما رہ گیا ہے ہم سب سے پہلے جناب میثم تمار ؓ  کے روضہ اقدس پر پہنچے تو میثم تمار جیسی عظیم ہستی کے سامنے خود کو بہت ہیچ پایا یہ وہ شخصیت ہے جس نے عشق علیؑ  میں جان دی ایک درخت کے ساتھ بنو امیہ نے انکو پھانسی دی اور وہ تمام عمر اسی کھجور کے درخت کی آب بیاری کرتے رہے۔کیونکہ مولائے کائنات ؑنے انکو بشارت دے دی تھی کہ اے میثم ؓ   تو مری محبت میں کھجور کے اس درخت پر لٹکا دیا جائے گا۔

سیدھا کچھ آگے چلے تو بیت امیر المومنین علیہ السلام موجود ہے یہ وہ گھر ہے جہاں امیر المومنینؑ  اپنے دور خلافت میں رہائش پزیر تھے اس گھر میں علی ؑکی عصمت کی سرچشمہ بیٹیوں کے حجرے ہیں وہ جگہ ہے جہاں علی مرتضیؑ کی میت رکھی گئی غسل و کفن دیا گیا ۔اسی گھر کے صحن میں سرکار امیر ؑکے ہاتھ سے کھودا ہوا میٹھے پانی کا کنواں ہے جو ایک روایت کے مطابق ہر مریض کے لیے باعث شفا ہے اس کنواں سے پانی پیا تو یہ ذہن میں یہ سوچ گھوم گئی کہ کربلا میں مولا ؑتری اولاد پیاسی ماری گئی جس پر آنکھوں سے اشک رواں ہوگئے ۔

بیت امیر ؑسے بوجھل قدموں سے نکلے اور سامنے ایک طرف کھلا خالی میدان ہے جس پر گری ہوئی عمارت کا کچھ ملبہ اور اس کے آثار ہیں ۔یہ وہ کوفہ کا دار الامارہ یعنی مرکز حکومت تھا جس کے مرکزی دروازے سے سفیر حسین علیہ السلام جناب مسلم بن عقیل ؑکو نیچے گرا کرابن مرجانہ ملعون نے شہید کیا یہ دار الامارہ صدر صدام سیاسی نے پرخاش پر گرا دیا تھا ۔

اسی کے ساتھ ملحقہ عالم اسلام کی چوتھی بڑی متبرک ترین مسجدکوفہ کی پرشکوہ عمارت ہے جو چودہ صدیوں کے بعد بھی روحانیت کا مرکز ہے ۔

اس روحانی مسجد کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ اس میں وہ مقام موجود ہے جہاں سے تیسری مرتبہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ معراج کے لیے آسمان کی جانب بلند ہوئے ۔۔اس میں وہ جگہ ہے جہاں سے طوفان نوح ؑپھوٹا وہ چشمہ نما جگہ ابھی بھی موجود ہے جو کہ بلکل وسط مسجد میں واقع ہے اس میں جناب ابرہیم علیہ اسلام سمیت کئی انبیاء نے نماز ادا کی ان کے مصلے موجود ہیں ۔مسجد کا صحن کراس کریں تو آخر میں ایک الگ صحن میں حضرت مسلم بن عقیل ؑکی قبر اطہر ہے اور ان کے ساتھ امیر مختار ثقفی ؓ  کی قبرہے جبکہ بلکہ سامنے ہانی بن عروہ ؓ   کی قبر ہے جو کہ سفیر امام ؑکے میزبان تھے اور انکی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔

مسجد کوفہ کے عین محراب میں مقام شہادت امیر المومنین امام المتقین فاتح خیبر نفس رسول ؐباب العلم مولود کعبہ شہید مسجد موجود ہے ۔

میں اس مصلے کے قریب کھڑا کافی دیر سوچتا رہا ہے کہ یہ امت علی ؑو اولاد علیؑ کی اس قدر دشمن کیونکر ہوگئی ؟تو جواب فقط یہ ملا کہ عدل علی ؑ!

مسجد کوفہ سے بھاری قدموں سے نکلے تو کوفہ والوں کی بے مروتی اور بے وفائی کی داستانیں دماغ میں گھوم گئیں ۔

کوفہ ایک شہر نہیں اسلامی تاریخ کا بہت پر اسرار باب ہے جس کا آغاز قتل علی ؑسے ہوتا ہوا کربلا تک جاپہنچا ۔

راقم

سیدرضابخاری

در بارہ رضا سیّد

لکھاری،تجزیہ نگار،کالم نویس،اصلاح پسند، سماجی نقاد