شہزادی،تتلیاں اور اللہ کی مدد

بادشاہ کی ایک ہی بیٹی تھی جس کا نام رانی تھا۔رانی کو پھول اور تتلیاں بہت پسند تھیں اس لیے بادشاہ نے رانی کو محل کے قریب ایک خوبصورت باغ بنوا کر دیا تھا۔ جس میں پھولوں کی ہزاروں قسمیں تھیں۔اور اس میں رنگ برنگی تتلیاں تھیں۔ بادشاہ رانی کو خوش رکھنا چاہتا تھا اس لیے اس نے وزیروں کو حکم دیا تھا کہ اس کی بیٹی کی ہر خواہش کو پورا کیا جائے کیونکہ اس کی ایک ہی بیٹی تھی ۔رانی بھی اپنے باپ سے ہر روز نئی نئی فرمائشیں کیا کرتی تھی۔

ایک دن رانی نے بادشاہ سے کہا کہ ملک میں جتنی تتلیاں ہیں وہ اس کے باغ میں ہونی چاہئیں۔ بادشاہ نے بھی رانی کی بات مانی اور سلطنت میں یہ اعلان کرا دیا کہ جو بندہ بھی زندہ تتلیاں پکڑ کر محل میں شہزادی رانی کو دے گا اسے انعام و اکرام دیا جائے گا۔

کہتے ہیں اسی شہر میں  ایک غریب لکڑہارا بھی رہتا تھا جو کہ لکڑیاں کاٹا کرتا تھا اورلوگوں میں بیچ کر گھر کے اخراجات پورے کرتا تھا۔

ایک دن شدید بارش ہو رہی تھی اور لکڑہارا چونکہ پڑھا لکھا نہیں تھا اور اس کو لکڑیاں کاٹنا تھیں۔جن کو بیچ کر گھر کے لیے آٹا وغیرہ خریدنا تھا۔اس لیے اس نے بارش کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کلہاڑی کندھے پر رکھی،رسی اور گدھا لے کر جنگل کی طرف چل نکلا۔ گاوں سے دو کلو میٹر دور جنگل میں پہنچ کر اس نے درخت کاٹنے کے لیے چنا اور بڑی دلیری سے درخت کے اوپر چڑھ گیا اور لکڑیاں کاٹنا شروع کر دیں۔درخت کے تنے بارش سے مکمل گیلے ہو چکے تھے جن سے لکڑہارے کا پاوں بار بار پھسل رہا تھا۔لیکن وہ لکڑیاں کاٹنے میں لگا رہا۔ اچانک اس کا پاوں گیلے تنے سے پھسلا اور وہ درخت سے نیچے جا گرا اور بے ہوش ہوگیا۔ جنگل کا پہرےدار حفاظت کی غرض سے ادھر آ نکلا۔تو اس نے غریب لکڑہارے کو بےہوش دیکھ کر اس کے گھر والوں کی طرف اطلاع بھیجی۔تھوڑی ہی دیر کے بعد اس کے گھر والے گدھا گاڑی لے کر آ گئے اور اس کو ہسپتال لے گئے۔جہاں ڈاکٹر نے اس کو چیک کیا تو پتہ چلا کہ اس کی ٹانگ دو جگہ سے ٹوٹ گئی تھی۔اس کے علاج کے لیے گھر والوں نے گاوں کے چودھریوں سے پیسے ادھار لیے اور اس کے علاج پر خرچ کرنے گئے۔

لکڑہارے کا ایک ہی بیٹا تھا جس کا نام محمد اقبال تھا جس کو لوگ بالا بالا کہہ کر بلاتے تھے اور وہ گاوں کی مسجد میں قاری صاحب کے پاس قرآن پڑھنے جایا کرتا تھا۔ قرآن پڑھتے پڑھتے ایک دن وہ رو پڑا اور اپنے گھر کے حالات قاری صاحب کو بتا دیے۔ قاری صاحب نے کچھ رقم دے کر اس کی مدد کی اور اس کو بتایا کہ مسجد میں نماز پڑھنے کے بعد اکیلے بیٹھ کر اللہ پاک سے رو رو کر دعا مانگے تو اللہ پاک تمھاری مدد ضرور کرے گا اور کوئی سبب پیدا کرے گا۔

بالے نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ وہ آج ہی اللہ تعالی سے گڑگڑا کر دعا ضرور مانگے گا کیونکہ گھر میں کھانے کے لیے کوئی چیز بھی باقی نہیں بچی تھی۔

ظہر کی نماز بالے نے جماعت کے ساتھ پڑھی۔اور لوگوں کے وہاں سے جانے کا انتظار کرنے لگا کیونکہ آج اس کو رب سے گڑگڑا کر دعا مانگنی تھی۔تھوڑی ہی دیر کے بعد مسجد نمازیوں سے خالی ہو گئی تو بالے نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے اور زور زور سے رونا شروع کر دیا۔اور گھر کے سارے مسئلے اللہ تعالی کو بتانے لگا۔جب وہ اللہ پاک کی بارگاہ میں اونچا اونچا رو رہا تھا بالکل اسی وقت شیلا نامی پری بادشاہ کے محل سے واپس اپنے پرستان والے گھر کی طرف جا رہی تھی۔جب اسے مسجد میں ایک بچے کے رونے کی آواز آئی تو اس کے دل میں اللہ تعالی نے یہ خیال فورا ڈالا کہ یہ بچہ ضرور کسی پریشانی میں ہے اس کی مدد کرنی چاہیے۔

شیلا پری بالے کے پاس آ گئی اور رونے کی وجہ پوچھی تو بالے نے ساری بات بتا دی۔ پری نے بالے کو دلاسہ دیا اور کہا کہ بادشاہ کی بیٹی محل کے ساتھ والے باغ کے لیے تتلیاں اکھٹی کر رہی ہے اور خوبصورت تتلیوں کے عوض منہ بولی قیمت دیتی ہے۔ پری نے بالے کو بتایا کہ پرستان میں رنگ برنگی تتلیاں ہیں جو کہ پکڑ کر وہ بالے کی مدد کر سکتی ہے۔یہ سن کر بالا خوش ہو گیا۔ شیلا پری نے بالے سے کہا کہ تم یہاں مسجد میں ہی بیٹھو میں پرستان کی سب سے خوبصورت تتلیاں پکڑ کر لاتی ہوں ۔

پری پرستان کی طرف اڑ گئی اور بالا مسجد میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔

بالے کے دل میں طرح طرح کے خیالات آ رہے تھے اور وہ شہزادی رانی کے متعلق سوچ رہا تھا۔کہ بادشاہ کے گھر پیدا ہونا کتنے نصیبوں کی بات ہے لیکن یہ سب اللہ تعالی کے فیصلے تھے جن کو ماننا پڑتا ہے۔ اسی اثناء میں شیلا پری آ گئی جس کے ہاتھ میں شیشے کا ایک خوبصورت ڈبہ تھا جس کے اوپر چھوٹے چھوٹے سوراخ تھے اور ڈبے کے اندر رنگ برنگی تتلیاں اور پھولوں کی پتیاں تھیں۔ بالا تتلیاں دیکھ کر حیران رہ گیا کیونکہ ان کے رنگ بہت خوبصورت تھے اور ان کے ایک پر کے اوپر “اللہ”اور دوسرے پر کے اوپر “محمد” لکھا ہوا تھا۔ پری نے بالے کی حیرانگی دیکھی تو فورا بولی کہ اب چلو میں تجھے بادشاہ کے محل تک لے جاوں۔بالا پری کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گیا۔پری نے بالے کا ہاتھ پکڑا اور دونوں ہوا میں اڑنے لگے۔تھوڑی ہی دیر کے بعد وہ محل کے بڑے دروازے کے پاس جا اترے۔

پری نے بالے سے کہا کہ محل کے اندر جاو کیونکہ میں ساتھ گئی تو مجھے سب پہچان لیں گے۔ بڑے دروازے کے پہریدار جب پوچھیں تو کہنا کہ تجھے شہزادی رانی نے کسی کام کے سلسلے میں بلایا ہے۔اور کسی کو بھی تتلیاں دیکھنے کے لیے نہیں دینی۔ اور یہ بھی کہا کہ شہزادی تتلیاں دیکھ کر حیران ہو جائے گی۔اس لیے منہ مانگی قیمت طلب کرنا۔

بالے نے شیشے کا ڈبہ لیا اور محل کے اندر داخل ہونے کے لیے دروازے پر دستک دی ۔ محافظ تلواریں ہاتھوں میں لیے باہر نکلے تو بالے نے شہزادی رانی سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو اس کو دو محافظوں کے ساتھ اندر بھیج دیا گیا۔ وہ محل کے اندر پہلی دفعہ آیا تھا۔محل کی شان و شوکت دیکھ کرحیران رہ گیا۔

تھوڑی دیر کے بعد شہزادی کا کمرہ آ گیا جس میں شہزادی ایک سونے کے بنے ہوئے تخت پر بیٹھی تھی۔ بالا آداب بجا لایا اور شہزادی کے سامنے شیشے کا ڈبہ جس میں تتلیاں تھیں رکھ دیا۔ جسے دیکھ کر شہزادی حیران رہ گئی کیونکہ اس سے پہلے اس نے ایسی خوبصورت تتلیاں کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ شہزادی نے بالے سے کہا کہ تتلیوں کی قیمت بتائے۔تو بالے نے عاجزی سے کہا کہ جتنی قیمت آپ دیں گی وہ لے لے گا۔

بالے کی عاجزی دیکھ کر شہزادی نے اپنے وزیر کو بلایا اور کہا کہ بالے کے لیے خزانے کے دروازے کھول دو۔اور جتنی دولت لینا چاہے اس کو دے دو اور گھر تک دولت لے جانے کے لیے سواری بھی دے دو۔

بالا وزیر کے ساتھ خزانے میں گیا اور پانچ اونٹ اشرفیوں اور سونے کے لاد کر گھر لے آیا اور نہ صرف اپنے والد کا علاج کرایا بلکہ جنگل کے اس پہریدار کی مدد کی جس نے اس کے والد کی مدد کی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ بہت سارے غریبوں کی مدد بھی کی۔ اور اپنے لیے ایک عالیشان گھر بنوایااور گاوں کا امیر ترین آدمی بن گیا۔ سچ ہے کہ اللہ سے مدد مانگو تو اللہ اپنے بندے کو اکیلا نہیں چھوڑتا بلکہ اس کی فریاد سن کر اس کی مدد ضرور کرتا ہے۔

سید حبدار قائم آف اٹک

حبدار قائم
حبدار قائم

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

سفر کوفہ

اتوار جنوری 10 , 2021
یہ امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے ایام تھے اور جب ہم نجف اشرف پہنچے تو دنیا بھر کے کروڑوں زائرین نجف و کربلا دونوں شہروں کے بیچ محو سفر تھے
رضا نوشت

مزید دلچسپ تحریریں