ایک چڑیا اور بچہ
کہانی کار: محمد قطب الدین،
بنگو (فتح جنگ )
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بچہ اپنے گھر میں کھیل رہا تھا ۔اچانک اس نے ایک ننھی سی چڑیا کو دیوار پر بیٹھے چوں چوں کرتے دیکھا ۔ بچہ اپنی ماں کے پاس گیا اور ماں کو ساری بات بتائی ۔ اس کی ماں نے اسے روٹی کا ایک ٹکڑا دیا ۔ بچہ اس روٹی کے ٹکڑے کو چڑیا کے پاس لے گیا اور چڑیا سے کہنے لگا "لو یہ روٹی کھا لو ” مگر چڑیا اس کے قریب نہ آئی ۔ بچے نے بہت انتظار کیا کہ چڑیا یہ روٹی کھا لے مگر چڑیا نے روٹی نہ کھائی تو بچہ اداس ہو کر بیٹھ گیا ۔
اس کی ماں نے اسے اداس بیٹھے دیکھا تو اس کے پاس آئیں اور اس کے کان میں ایک بات بتائی ۔ پھر وہ بچہ اس چڑیا کو روٹی کا ٹکڑا ڈال کر خود چھپ کر بیٹھ گیا ۔ کچھ دیر بعد چڑیا نیچے آئی اور روٹی کا ٹکڑا منہ میں لے کر چلی گئی ۔ اس سے اگلے روز بچے نے دوبارہ اسی طرح کیا اور چڑیا نے روٹی کھا لی ۔ اس کے بعد تو وہ چڑیا اس بچے کی دوست بن گئی ۔ کچھ دن گزرے تو اس چڑیا کے ساتھ کچھ مزید چڑیاں بھی آ گئیں اور بچے نے ان سب کو روٹی کھلائی اور وہ سب اس کی دوست بن گئیں ۔
اخلاقی سبق : جانور اور پرندے بھی محبت کی زبان سمجھتے ہیں ۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |