ایمانداری کا صلہ
تحریر: مہرو تنویر
عرفہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں اپنی والدہ کے ساتھ رہتی تھی۔ وہ گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول میں پانچویں کلاس کی ذہین طالبہ تھی۔
ایک دن سکول میں اسے اپنے کلاس روم کے باہر 500 روپے پڑے ملے۔ اس نے سوچا: "شاید یہ کسی بچی کے ہوں گے”۔ لیکن پھر خیال آیا کہ چھوٹے بچوں کے پاس اتنی بڑی رقم نہیں ہو سکتی۔ "یہ ضرور کسی ٹیچر کے پیسے ہیں” اس نے دل میں فیصلہ کیا۔
عرفہ نے فوراً وہ رقم اٹھا لی اور کچھ دیر انتظار کیا کہ شاید کوئی ٹیچر انہیں ڈھونڈتی ہوئی آئے۔
لیکن جب کوئی نہ آیا تو اس نے سمجھداری سے فیصلہ کیا کہ اگر وہ خود جا کر ہر ٹیچر سے پوچھے گی تو کوئی بھی کہہ سکتا ہے "ہاں میرے ہیں”۔
پھر اصلی مالک تک کیسے پہنچیں گے؟
اس لیے عرفہ نے دو گھنٹے بعد پرنسپل آفس جانے کا فیصلہ کیا۔ باادب ہو کر اس نے پرنسپل میم سے کہا:
"میم! آج مجھے کلاس کے باہر 500 روپے ملے تھے۔ شاید یہ ہماری کلاس ٹیچر کے ہوں، یا آج مس صوبیہ سے ملنے جو دو ٹیچرز آئی تھیں ان کے ہوں۔ آپ برائے مہربانی تمام ٹیچرز سے پوچھ لیں۔ جس کی امانت ہو، اسے دے دیں۔”
پرنسپل میم نے عرفہ کی بات سنی تو بہت خوش ہوئیں اور اس کی تعریف کی۔ انہوں نے فوراً تمام ٹیچرز کو بلایا اور پوچھا۔
مس مومنہ نے کہا: "جی میم! آج جب میں مس صوبیہ سے ملنے گئی تھی تو میرے 500 روپے کہیں گر گئے تھے۔ میں نے کسی سے پوچھا بھی نہیں کیونکہ مجھے شرمندگی ہو رہی تھی۔”
پرنسپل میم نے وہ رقم مس مومنہ کے حوالے کی اور پوری اسمبلی میں عرفہ کی ایمانداری کی تعریف کی۔ تمام بچوں اور ٹیچرز نے عرفہ کے لیے تالیاں بجائیں اور اس کی حوصلہ افزائی کی۔
سبق:
ایماندار انسان کبھی شرمندہ نہیں ہوتا۔ سچائی اور امانت داری انسان کو ہمیشہ عزت دلاتی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں