علی شاہ (مرحوم) منکیرہ بھکر کی غزل گوئی کا تجزیہ
تحریر : مقبول ذکی مقبول منکیرہ بھکر
علی شاہ ( مرحوم ) کا تعلق منکیرہ ، ضلع بھکر کے اس خطے سے تھا ۔ دینی و علمی خانوادہ ، خاندانِ سادات کے چشم و چراغ تھے ۔ راقم الحروف کا اُن کے ساتھ عقیدت ادب اور احترام کا رشتہ تھا ۔ تبھی تو ان پر قلم کشائی کرتے وقت مجھے پھونک پھونک کر چلنا ہے ۔ علی شاہ صاحب جہاں زندگی کے تلخ تجربات ، صحرائی فضا اور سادہ معاشرت کے شاعر تھے ۔ احساس و ادراک گہرا تھا ۔ وہ بیک وقت معلم ، مدرس ، شاعر ، ادیب اور صحافی تھے ، اس لیے ان کی شاعری میں علم ، مشاہدے اور معاشرتی شعور کا امتزاج دکھائی دیتا ہے ۔ ان کی غزلوں میں اپنے عہد کے مسائل کو شعری پیکر عطا کرنے کی بھرپور کوشش ملتی ہے ۔
ان کی شاعری میں سماجی شعور ، عصری حسیت ، علامتی اظہار ، رومانوی کیفیت ، صوفیانہ رنگ اور اصلاحی فکر نمایاں طور پر موجود ہیں ۔ ان کے ہاں غزل محض جذباتِ محبّت کے اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ اپنے عہد کی سماجی ، اخلاقی اور تہذیبی صورتِ حال پر گہری نظر رکھنے والی صنف بن جاتی ہے ۔
پہلی غزل میں مرشد علی شاہ نے سماجی اور اخلاقی زوال کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا ہے
شعر ملاحظہ ہو ۔
کتنے گناہ ہوئے ہیں ثوابوں کے شہر میں
کانٹے اگ گئے ہوئے ہیں گلابوں کے شہر میں
یہاں گناہ ، ثواب ، کانٹے اور گلاب محض الفاظ نہیں بلکہ معاشرے کی بدلتی ہوئی اقدار کی علامتیں ہیں ۔ ٫٫ ثوابوں کے شہر ،، میں گناہوں کا بڑھ جانا اور ٫٫ گلابوں کے شہر ،، میں کانٹوں کا اگ آنا ایک خوب صورت تضاد پیدا کرتا ہے ۔ علی شاہ صاحب اپنی نظر میں صحرائی وسعت رکھتے تھے ۔ انھوں نے مختصر الفاظ میں معاشرتی بے حسی اور اخلاقی انتشار کی پوری تصویر پیش کر دی ہے ۔
ایک اور شعر میں طنز کا انداز ملاحظہ ہو ۔
اَن پڑھ کی ہے حکومت کتابوں کے شہر میں
ایک گہرا طنزیہ اور اصلاحی پہلو سامنے آتا ہے۔ ٫٫ کتابوں کا شہر ،، علم و دانش کی علامت ہے ، مگر وہاں اَن پڑھ کی حکمرانی شاعر کے نزدیک علمی اور فکری زوال کی طرف اشارہ ہے ۔ یوں علی شاہ کی غزل میں صحافتی اور سماجی شعور بھی شامل ہو جاتا ہے ۔
ایک تقابلی شعر
امن و سکوں کا سپنا پورا ہو یوں خدایا
چڑیاں چہک رہی ہوں عقابوں کے شہر میں
شاہ جی کے اس شعر میں ایک دُعائیہ اور امید افزا کیفیت پیدا ہوتی ہے ۔ ٫٫ چڑیاں ،، امن ، معصومیت اور زندگی کی علامت ہیں جب کہ ٫٫ عقاب ،، طاقت اور غلبے کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے ۔ شاعر طاقت کے ماحول میں بھی امن کی خواہش رکھتا ہے ۔ یہی امید ان کی شاعری کو محض احتجاج نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے انسانی خیر اور امن کی دُعا بنا دیتی ہے ۔
٫٫ بانسری ،، والی غزل کی اگر بات کی جائے تو اس میں علی شاہ مرحوم کا رومانوی ، لوک اور صوفیانہ مزاج نمایاں ہوتا ہے ۔ پوری غزل میں ٫٫ بانسری ،، مرکزی علامت ہے ۔ بانسری کبھی محبوب کی یاد جگاتی ہے ، کبھی رانجھے کی داستان سے جڑتی ہے اور کبھی وجد و سرمستی کی کیفیت پیدا کرتی ہے ۔
جب بھی ساجن کی یادیں ستائیں اُسے
اُس کے من میں جگائے اُمنگ بانسری
یہاں بانسری یاد ، محبّت اور جذبۂ شوق کی نمائندہ بن جاتی ہے ۔ رانجھا اور بانسری کا حوالہ پنجاب کی لوک روایت سے شاعر کی وابستگی کو ظاہر کرتا ہے :
ہو گئی دفن رانجھے کے سنگ بانسری
اس شعر میں لوک داستان کا حوالہ غزل کے جذباتی دائرے کو وسیع کرتا ہے ۔
ایک شعر
ساری دھرتی پہ وجدان طاری ہے
وجد میں جب بجائے ملنگ بانسری
غزل کو ایک روحانی اور صوفیانہ فضا عطا کرتا ہے ۔ ٫٫ ملنگ ،، ، ٫٫ وجد ،، اور ٫٫ بانسری ،، مل کر ایسی کیفیت پیدا کرتے ہیں جس میں موسیقی محض آواز نہیں رہتی بلکہ روحانی سرشاری کا استعارہ بن جاتی ہے ۔
٫٫ رت جگوں کے عذاب ،، والی غزل
آخری غزل میں علی شاہ مرحوم کی سیاسی و سماجی بصیرت اور طنزیہ لہجے کی عمدہ مثال ہے :
حق و باطل کا فرق کون کرے
شہر میں جب خطاب بک جائیں
یہ شعر معاشرے میں مفاد پرستی اور اصولوں کی پامالی پر سخت طنز ہے ۔ جب تقریریں اور خطابات بھی مفاد کے تابع ہو جائیں تو حق اور باطل کے درمیان امتیاز مشکل ہو جاتا ہے ۔
شاعر نے ایک بڑے سماجی مسئلے کو نہایت مختصر پیرائے میں بیان کیا ہے ۔
اسی طرح ایک اور شعر دیکھیں
قید خوشبو کبھی نہیں ہوگی
چاہے جتنے گلاب بک جائیں
اس شعر میں ٫٫ خوشبو ،، کو حق ، سچائی ، محبّت یا انسانی اقدار کی علامت سمجھا جا سکتا ہے ۔ گلابوں کا بک جانا مادی دُنیا کی شکست و ریخت ہے ، مگر خوشبو کا آزاد رہنا اس بات کی علامت ہے کہ اصل اقدار کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا ۔
غزل کا آخری شعر
ساری دھرتی پہ قہر ٹوٹے گا
جب سرِ راہ حجاب بک جائیں
اس شعر میں شاعر علی شاہ ، منکیرہ نے تہذیبی اور اخلاقی اقدار کے زوال کو ایک بڑے اجتماعی المیے سے جوڑا ہے ۔ یہاں ٫٫ حجاب ،، کو صرف ظاہری پردے کے معنی میں محدود کرنے کے بجائے حیا ، عزت ، تہذیبی اقدار اور اخلاقی تحفظ کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔
علی شاہ ، منکیرہ مجموعی منظرنامے پر بالعموم اور بھکر کی شعری تاریخ میں اپنی شاعری کی وجہ سے ایک خاص مقام ۔ رکھتے ہیں ۔ اُن کی شاعری وسعتِ نظر کی حامل ہے ۔ حالاتِ حاضرہ کی منہ بولتی تصویر ہے ۔
سماجی اور عصری شعور
اصلاحی اور مقصدی فکر
طنز و احتجاج کا مؤثر انداز
علامت نگاری ، تضاد اور تقابل کا خوب صورت استعمال ، لوک روایت سے وابستگی ، صوفیانہ اور روحانی کیفیات ، سادہ ، رواں اور قابلِ فہم زبان
امید ، امن اور انسانی اقدار کی پاس داری خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں ۔ ان کی شاعری میں صحافی کی حقیقت پسندی ، معلم کی اصلاحی فکر ، ادیب کی حسّاس نظر اور شاعر کا تخیل ایک ساتھ دکھائی دیتا ہے ۔ یہی امتزاج ان کی غزل کو محض ذاتی جذبات کی ترجمانی کے بجائے معاشرے کی ترجمان اور کلاسیکی شاعری کا ٹچ رکھتی ہے ۔ علی شاہ صاحب ، بھکر میں فروغ شعر کے علبرداروں میں سے ہیں ۔ جن کے شعر اور ادبی خدمات کو زمانہ کبھی نہیں بھلا پائے گا ۔
***

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں