اگست 21, 2026

سائے ، سرکار اور سناٹا

0

ذمہ دار ایک نہیں۔ ذمہ دار وہ سب ہیں جو اس کے پیچھے سائے بن کر چل رہے تھے۔

سائے ، سرکار اور سناٹا

ہم دونوں چوک فوارہ سے شمال کی طرف کچھ فاصلے پر لگے ایک بینچ پر بیٹھے تھے، میں اور نصرت بخاری صاحب۔ یہ بنچ اس جگہ کے سامنے لگا ہے جہاں کبھی اباسین ہوٹل ہوا کرتا تھا۔
چوک فوارہ کی طرف سے ہوا آ رہی تھی، شام کا وقت۔ اتنے میں ایک لڑکا، موٹر سائیکل پر شفیع ہسپتال کی طرف اس تیزی سے گزرا کہ میرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
نہ ہیلمٹ، نہ احتیاط، بس ایک شور اور ایک لکیر۔ وہ لڑکا لمحے میں آنکھوں سے اوجھل ہو گیا، مگر اس کی رفتار کا خوف بینچ پر رہ گیا۔
میں خوفزدہ ہو گیا۔ میں نے نصرت بخاری صاحب سے کہا، سرکار کو اس کی روک تھام کا بھی کوئی بندوبست کرنا چاہیے۔ یہ بچے یوں ہی خدانخواستہ کسی حادثے کا شکار ہو جائیں گے۔
میں اسی بینچ پر بیٹھا سوچتا رہا۔ وہ ایک لڑکا شفیع ہسپتال کی طرف تو چلا گیا، اللہ خیر کرے وہ پہنچ بھی گیا ہو، لیکن کل کوئی دوسرا اسی رفتار سے اسی چوک سے گزرے گا۔
لیکن وہ ایک لڑکا اکیلا نہیں تھا۔ اس کے ساتھ اس کے گھر کی نرمی تھی جس نے بائیک دے دی، اس کے دوستوں کی تالی تھی جو اسے اور بھگاتے ہیں، اس مستری کی چالاکی تھی جس نے شور کو بہادری بنا کر بیچا، اور اس چوک کی خاموشی تھی جہاں کوئی روکتا نہیں۔
میں نے دیکھا، اس لڑکے کے پیچھے پانچ سائے چل رہے تھے۔

سائے ، سرکار اور سناٹا


پہلا سایہ اس کا باپ تھا۔اس نے محبت میں چابی دے دی تھی۔ کہا بیٹا اسکول دور ہے، آسانی ہو جائے گی۔ اس نے ہیلمٹ نہیں دیا، نصیحت نہیں دی، بس چابی دے دی۔
دوسرا سایہ اس کا دوست تھا۔جو ہر موڑ پر کہتا تھا، اور بھگا، اور تیز، تو ڈرتا ہے کیا؟ جو تالی بجاتا تھا جب وہ ایک ٹائر پر موٹر سائیکل اٹھاتا تھا۔
تیسرا سایہ گلی کا مستری تھا۔جس نے کہا لا سائلنسر نکال دیتے ہیں، آواز بھاری ہو جائے گی، سب دیکھیں گے۔ جس نے سپیڈ بڑھانے کے لیے تار چھیڑ دی۔
چوتھا سایہ وہ سڑک تھی۔جو خاموش تھی۔ نہ کوئی روکنے والا، نہ کوئی ٹوکنے والا، نہ لائسنس چیک کرنے والا۔
اور پانچواں سایہ خود وہ لڑکا تھا۔جو سمجھتا تھا کہ حادثہ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ ہوتا ہے، اس کے ساتھ نہیں۔
یہی سائے کسی لڑکے کو ہمت دلاتے ہیں کہ آج میں ہوا سے آگے نکلوں گا۔ اس نے ریس دی۔ ہوا تو پیچھے رہ گئی، لیکن آگے ایک موڑ تھا۔ موڑ نے انتظار نہیں کیا۔
موٹر سائیکل گری نہیں، کہانی گر گئی۔
لوگ جمع ہو گئے۔ کسی نے کہا لڑکا پاگل تھا۔ کسی نے کہا باپ نے بگاڑا۔ کسی نے کہا پولیس کچھ نہیں کرتی۔ مستری نے اپنی دکان کا شٹر آدھا گرا دیا۔
میں وہیں کھڑا رہا، چار صدیوں کا گواہ۔ میں نے بادشاہوں کو گرتے دیکھا ہے، شاعروں کو سڑک پر دیکھا ہے، مگر یہ پہلی بار دیکھا کہ ایک پوری بستی مل کر ایک بچے کے ہاتھ میں موت دے دیتی ہے اور پھر پوچھتی ہے ذمہ دار کون؟
ذمہ دار ایک نہیں۔ ذمہ دار وہ سب ہیں جو اس کے پیچھے سائے بن کر چل رہے تھے۔
سرکار سے پہلے ہم سب کو سوچنا ہے۔ اس ایک لڑکے کو الزام دینا آسان ہے، مگر ان سائیوں کو روکنا اصل کام ہے۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

کیا      آپ      بھی      لکھاری      ہیں؟

اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

iattockmag@gmail.com