اگست 21, 2026

اہرام مصر: ناممکن تعمیرات

0

اہرام ہائے مصر کا اصل راز تعمیر نہیں، بلکہ یہ انسان کے لیئے کوئی خفیہ پیغام ہیں۔

اہرام مصر: ناممکن تعمیرات

تحریر: جوسف علی 

گیزہ کے صحرا میں کھڑے اہرام مصر کو دیکھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اسے انسانی ہاتھوں نے بنایا ہے اور نہ ہی یہ پتھر کی تعمیرات ہیں۔ 4500 سال گزر گئے، حکومتیں آئیں اور گئیں، تہذیبیں مٹ گئیں، مگر یہ دیوہیکل اہرام خاموشی سے آج بھی ہمیں گھور رہے ہیں، اور ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں: "ہمیں کس نے اور کیسے بنایا؟”

دنیا کے 7 عجائبات میں سے 6 مٹ چکے ہیں۔ بابل کے معلق باغات کا نشان نہیں ملتا۔ ارٹیمس کا مندر اور زیوس کا مجسمہ آگ کی نذر ہوئے۔ روڈس کا مجسمہ، موسولس کا مزار اور اسکندریہ کا روشن مینار زلزلوں میں گر گئے۔ آج صرف اہرام مصر باقی ہیں۔ اسی لیے انہیں "عجوبہ” کہا جاتا ہے۔ قدیم یونانیوں نے 300 قبل مسیح کے آس پاس ان 7 مقامات کی فہرست بنائی تھی جنہیں "ضرور دیکھنا چاہیے”۔ قرون وسطیٰ میں جب باقی کے 6 عجوبے تباہ ہو گئے تو اہرام مصر کو ہی "عجائبات عالم” کا درجہ مل گیا۔

ان کی تعمیر کا سوال  سائنس کو آج بھی چکرا دیتا ہے۔ سب سے بڑا اہرام "شی اوپس” کا ہے۔ اسے "خوفو کا اہرام” بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں 2 لاکھ 30 ہزار پتھر استعمال ہوئے ہیں۔ ہر پتھر کا وزن 2.5 سے 15 ٹن ہے۔ سب سے اوپر والا پتھر 70 میٹر کی بلندی پر نصب کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ  لوہے کی اونچی کرین کے اور پہیے کے بغیر، یہ پتھر وہاں کیسے پہنچے؟

جدید سائنس دانوں کی کئی ٹیمیں آئیں۔ ان میں پاکستان کے نامور سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی شامل تھے۔ لیزر، ریڈار، کمپیوٹر اسکین، سب کچھ آزمایا گیا۔ "یورپین اوکلٹ ریسرچ سوسائٹی” کے سابق صدر گنتھر روزن برگ نے کمپیوٹر اسٹڈی کے بعد کہا: "ہم ابھی بھی قطعی تاریکی میں ہیں کہ یہ کس نے بنائے، کیوں بنائے، اور انہیں بنانے میں کونسی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی؟” 

کچھ محققین کہتے ہیں کہ ہزاروں غلاموں نے رسیوں سے کھینچ کر ان پتھروں کو اونچائی پر پہچایا۔ کچھ کہتے ہیں ان پتھروں کو حرکت دینے کے لیئے پانی کی نہریں بنائی گئیں۔ مگر ان میں سے کوئی بھی تھیوری مکمل نہیں ہے، کیونکہ اہرام کی درستگی ان سے زیادہ سے زیادہ حیران کن ہے۔ تمام اہراموں کے چاروں کونے چاروں سمتوں کا بالکل صحیح تعین کرتے ہیں۔ اس میں 0.05 ڈگری کی غلطی کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ آج کے جدید ترین "جی پی ایس” کے بغیر یہ کیسے ممکن ہوا؟

اہرام مصر: ناممکن تعمیرات

کیا یہ اہرام صرف مقبرے تھے؟ روایتی تاریخ کہتی ہے کہ یہ فراعنہ کے مقبرے تھے۔ مگر ان اہراموں کے اندر آج تک کوئی لاش نہیں ملی۔ ہوا کی نالیاں ستاروں کی طرف کھلتی ہیں۔ اہرام کا محلِ وقوع نائل کے کنارے ایسا ہے جیسے وہ زمین کے مرکز سے ایک خاص نسبت رکھتا ہو۔ 

نئی تحقیق نے کئی پرانے نظریات زمین بوس کر دیئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اہرام بنانے والے ریاضی، فلکیات اور جغرافیہ کے ماہر تھے۔ انہیں زمین کے سائز، قطبوں اور ستاروں کی حرکت کا علم تھا۔ یہ علم حضرت عیسیٰؑ سے ہزاروں سال پہلے کا ہے۔ 

کچھ محققین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ شاید ان اہراموں کی تعمیر میں "کشش ثقل” کو توڑنے والی کوئی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی تھی یا ان کی تعمیر میں کسی اور دنیا کی "مخلوق” نے مدد کی تھی۔ یہ باتیں افسانہ لگتی ہیں، مگر جب سائنس جواب نہ دے سکے تو انسان کے پاس قیاس کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا ہے۔

یہ معمہ حل نہ ہوا تو انسانی تاریخ کو ازسرنو لکھنا پڑے گا۔ یہ اہرام صرف پتھر کے ڈھیر نہیں۔ یہ ایک مکمل پیغام ہیں۔ یہ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ہماری تاریخ جتنی ہم سمجھتے ہیں اتنی سادہ نہیں ہے۔ 

خلائی سائنس دان آج جو کچھ ثابت کر رہے ہیں، اہرام کے معمار وہ پہلے ہی جانتے تھے۔ اگر یہ سچ ہے تو ہمیں اپنی نصابی کتب، اپنی تاریخ، اور اپنی سائنس کو ازسرنو لکھنا پڑے گا۔

ایک ہزار سال سے علما، صوفیا، سائنس دان اور تاریخ دان ایک ہی بحث کر رہے ہیں کہ یہ اہرام آج کی سائنس کے بغیر کیسے تعمیر ہو گئے جبکہ آج کی جدید ترین ٹیکنالوجی بھی ایسے اہرام بنانے سے قاصر ہے۔

انسان چاند پر پہنچ گیا، مریخ پر گاڑی اتار دی، ایٹم توڑ دیا۔ مگر گیزہ میں ایستادہ پتھر کے یہ اہرام آج بھی انسان کی عقل کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

اہرام ہائے مصر کا اصل راز تعمیر نہیں، بلکہ یہ انسان کے لیئے کوئی خفیہ پیغام ہیں۔ ایک یہ پیغام بھی ہو سکتا ہے کہ انسان کوشش کرے تو ناممکن کو بھی ممکن بنا سکتا ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ اس کے پاس یقین، علم اور وقت ہونا چایئے۔ ان کو تعمیر کرنے والوں کے پاس کیا ٹیکنالوجی تھی جو آج کے ماہرین تعمیرات کے پاس بھی نہیں ہے یا قدیم انسان آج کے جدید انسان سے سائنسی لحاظ سے زیادہ ترقی یافتہ تھا۔ آخر ان کے پاس کوئی تو ایسی ٹیکنالوجی ہو گی جو آج کے انسان کے پاس نہیں ہے۔ جب تک یہ راز نہیں کھلتا، اہرام مصر اسی طرح دنیا کا سب سے بڑا مگر خوبصورت عجوبہ کہلاتے رہیں گے۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

کیا      آپ      بھی      لکھاری      ہیں؟

اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

iattockmag@gmail.com