ٹرک کی چھت سے اسٹیج تک کا سفر
عطاء اللہ نے ثابت کیا کہ اگر آپ کو اپنی صلاحیت پر یقین ہو تو وسائل خود راستہ بنا لیتے ہیں۔
ٹرک کی چھت سے اسٹیج تک کا سفر
قسمت بھی عجیب کھیل ہے۔ زندگی ایک ہی انسان کو کبھی در بدر ٹھوکریں کھلاتی ہے اور کبھی اسی کے دروازے پر لوگوں کی لائنیں لگوا دیتی ہے۔ فرق صرف شوق، ہمت اور جدوجہد کا ہے۔
پاکستان کی موسیقی کی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جنہوں نے بغیر کسی سہارے، بغیر کسی سفارش کے صرف اپنی آواز اور جنون سے کروڑوں دل جیتے۔ ان میں ایک نام عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی صاحب کا بھی ہے۔
ایک بار انہوں نے ریمبو اور صاحبہ کے ایک ٹی وی شو میں اپنی جدوجہد کا ذکر کیا تو ان کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ شروع کے دنوں میں گانا گانا ان کے لیے کسی بڑے امتحان سے کم نہیں تھا۔ میانوالی سے ملتان ریڈیو آڈیشن دینے جانا ہوتا تھا، لیکن جیب میں کرایہ نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ٹرک کی چھت پر بیٹھ کر سفر کرتے تھے۔ وہ دھول، گرمی، تھکاوٹ سب برداشت کرتے، بس اس امید پر کہ شاید انہیں آج موقع مل جائے۔
وہ بار بار ریڈیو ملتان جاتے، آڈیشن دیتے۔ پروڈیوسر سن کر کہہ دیتا: "پہلے کسی استاد سے گانا سیکھ کر آؤ”۔ انہیں واپس بھیج دیا جاتا۔ اس دور میں ریڈیو پر گانے کے لیے باقاعدہ کلاسیکی تربیت کو بہت اہم سمجھا جاتا تھا۔ عطاء اللہ کے پاس نہ کوئی استاد تھا، نہ کوئی بڑا سہارا۔ لیکن ان کے پاس ایک چیز تھی جو سب سے بڑی ڈگری ہے: "سچا درد اور جنون کی حد تک شوق”۔
ان کی زندگی میں یہیں سے انقلاب آیا۔ عام لوگ دو تین انکار کے بعد ہار مان لیتے ہیں۔ لیکن جو لوگ تاریخ بناتے ہیں وہ انکار کو ایندھن بنا لیتے ہیں۔ عطاء اللہ نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ دن رات گانے بجانے میں مگن رہے۔ انہوں نے ریڈیو یا فلم کا انتظار نہیں کیا۔ عطاء اللہ نے اپنا راستہ خود بنایا۔ اور وہ آڈیو کیسٹ کے ذریعے سیدھا لوگوں کے گھروں میں پہنچ گئے۔
پھر وہی ہوا جو شوق، ہمت اور جدوجہد سے ہوتا ہے۔ ان کی آواز میں مٹی کی خوشبو تھی، محرومی کا درد تھا، سچائی تھی۔ لوگوں نے اسے سینے سے لگا لیا۔ گھر گھر، گلی گلی، ڈیرے ڈیرے عطاء اللہ کی آواز گونجنے لگی۔ جن ٹرکوں پر بیٹھ کر وہ ملتان جاتے تھے ایک دن انہوں ٹرکوں میں ان کی آواز گونجنے لگی۔ وہ اتنے مشہور ہوئے کہ وہی ریڈیو جس نے کبھی دروازے پر روک دیا تھا، خود انہیں بلانے لگا۔ مگر اب وقت پلٹ چکا تھا۔ عطاء اللہ اتنے مصروف ہو گئے کہ ریڈیو پر گانے کے لیے انہیں وقت نکالنا مشکل ہو جاتا تھا۔
یہی زندگی کا حسن اور خوبصورتی ہے۔ حوصلہ و ہمت نہ ہارنے والے کے در پر بلآخر لائن لگ جاتی ہے۔ کل جو کسی کے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے، ایک دن اسی کے دروازے پر دنیا کھڑی ہو جاتی ہے۔
عطاء اللہ عیسی خیلوی کی کہانی کا ایک سبق ہے، اور وہ بہت بڑا ہے کہ: "اپنے شوق کو اپنا پروفیشن بنا لو”۔ اللہ تعالی نے ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی بڑی صلاحیت رکھی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود شناسی نہیں کرتے۔ ہم دوسروں کی نقل کرتے ہیں، دوسروں کا پیشہ اپناتے ہیں، اور پھر ناکامی کا شکوہ کرتے ہیں۔
عطاء اللہ نے ثابت کیا کہ اگر آپ کو اپنی صلاحیت پر یقین ہو تو وسائل خود راستہ بنا لیتے ہیں۔ نہ استاد تھا، نہ اسٹوڈیو، نہ پروڈیوسر۔ تھا تو صرف یقین اور محنت۔ وہ صرف گلوکار نہیں، ایک ادارہ بن گئے۔ ان کے گیت نصیحت ہیں، ان کے گیت احتجاج ہیں، ان کے گیت عام آدمی کی آواز ہیں۔
نوجوانوں کے لیے یہ پیغام ہے۔ ڈگری ضروری ہے، لیکن ڈگری سے بڑی چیز "جنون” ہے۔ نوکری نہ ملے تو مایوس نہ ہوں۔ سوچیں کہ اللہ نے آپ کو کیا "خاص” دیا ہے، لکھنا، بولنا، گانا، کاروبار، ہنر یا ٹیکنالوجی؟ اس شوق کو پکڑیں اور اسے پیشہ بنا لیں۔ شروع میں ٹرک کی چھت بھی ملے گی، انکار بھی ملیں گے۔ لیکن اگر آپ رکے نہیں اور آگے بڑھتے رہے ہیں تو ایک دن وہی لوگ آپ سے وقت مانگیں گے، جنہوں نے کبھی آپ کو وقت نہیں دیا تھا۔
یاد رکھیں، بڑی کامیابی ہمیشہ اسی کے حصے میں آتی ہے جو اپنے شوق کو عبادت بنا لیتا ہے۔ جو راتوں کو جاگتا ہے، جو تنقید سنتا ہے، جو گرتا ہے اور پھر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ لیکن وہ آگے بڑھنے کے لیئے اپنے شوق اور فن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا ہے۔
عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کی زندگی ہمارے لیے آئینہ ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ حالات جتنے مرضی سخت ہوں، اگر نیت صاف ہو اور شوق سچا ہو تو مٹی سے اٹھ کر بھی آسمان چھوا جا سکتا ہے۔ اللہ ہمیں بھی اپنے "”شوق اور "صلاحیت” کو پہچاننے اور اسے قوم کی خدمت بنانے کی توفیق دے۔ آمین۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں