کوئی پورا دکھائی دیتا ہے

کوئی پورا دکھائی دیتا ہے
کوئی آدھا دکھائی دیتا ہے
کوئی دِکھتا ہے سروقامت اور
کوئی بونا دکھائی دیتا ہے
آدھے آدھے کے عادی لوگوں کو
آدھا آدھا دکھائی دیتا ہے
جس طرف بھی نگاہ دوڑائیں
ایک دھوکہ دکھائی دیتا ہے
اُتنا سیدھا وہ ہے نہیں، جتنا
سیدھا سادہ دکھائی دیتا ہے
آنکھ میں آنسوؤں کا دریا ہے
دل میں صحرا دکھائی دیتا ہے
ایسا بوڑھا ہوں جو کہ چہرے سے
ایک بچہ دکھائی دیتا ہے
کر کے اِتنے جتن بھی وہ مجھ سے
بدگماں سا دکھائی دیتا ہے
آئینہ رُو برو کروں تو مجھے
عکس تیرا دکھائی دیتا ہے
آج ہر فرد وقت کے ہاتھوں
پارہ پارہ دکھائی دیتا ہے


کلام عمران اسدؔ

عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان

عمران اسؔد

Next Post

شہزادی،تتلیاں اور اللہ کی مدد

ہفتہ جنوری 9 , 2021
ایک دن رانی نے بادشاہ سے کہا کہ ملک میں جتنی تتلیاں ہیں وہ اس کے باغ میں ہونی چاہئیں۔
iattock