گزشتہ سے پیوستہ ، کچھ مزید

کچھ مزید:

          یہ بات نہیں ہے کہ اگر بہت بڑی اکثریت اسی ڈگر پر چل رہی ہے اور ظلم زوروں پر ہے تو کوئی بھی اصلاح حال کے لیے کام نہیں کر رہا۔ نہیں بہت سی ایسی تنظیمیں، ادارے،NGOsاقوام متحدہ کے ذیلی ادارے، ایسوسی ایشنز اور ٹرسٹ وغیرہ ہیں جو مختلف ممالک میں بے شمار کام کر رہے ہیں۔ بیماریوں کے خلاف کوشش جاری ہیں۔ غریبوں، معزوروں، عورتوں اور بچوں کے تحفظ نیز کم ترقی یافتہ ممالک کی ترقی و خوشحالی اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ادارے کام کر رہے ہیں۔ جنگ و جدل کو روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے تنازعوں کو حل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ موسموں کی بے اعتدالی بوجہ(جدید صنعتی و ایٹمی ترقی) کے دور کرنے کی تجاویز دی جا رہی ہیں۔ اسی طرح ارضی حیات اور سمندری حیات کے تحفظ کے لیے ادارے کام کر رہے ہیں۔ مذہبی Negativeانتہا پسندی اور ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف کام ہو رہا ہے (یہ الگ بات کہ کہیں پہ قومی ہیروز دہشت گرد قرار دیئے جاتے ہیں اور کہیں پہ دہشت گرد قومی ہیروز قرار دیئے جاتے ہیں) زلزلوں، سمندری طوفانوں اور خلائی تباہ کاریوں کے سدباب کے لیے کام ہو رہا ہے مختلف طبقات اور اقسام کی انسانی حقوق کی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ متعدد اقسام کے رفاعی ادارے بے شمار کام کر رہے ہیں غرض درد دل رکھنے والے اور انسانیت سے محبت کرنے والے لوگ بہت سا اور  بے شمار کام دن رات کر رہے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ سب ادارے مل کر   بھی کام بگاڑنے والوں کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں بلکہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے قابل لحاظ تعداد میں ایسے نجی، قومی اور بین الاقوامی ادارے اورOrganizationsہیں جو ”ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور“ کے مترادف صرف دکھاوے کا کام کر رہے ہیں یا اس کی آڑ میں کچھ اور ہی کر رہے ہیں اور اپنے اپنے قومی، انفرادی یا گروہی مفادات سمیٹنے کے چکر میں ہیں۔ بات آ جا کے پھر وہیں آجاتی ہے کہ ”مشتری ہوشیار باش“۔ جب تک فرد، گروہ، طبقہ، نسل، قوم اور معاشرے کی سطح پر اپنے حقوق کی حفاظت کی اہلیت پیدا نہیں ہو جاتی کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔کیونکہ جن افراد و اقوام کو اپنے حقوق کی حفاظت کرنے کا علم و اہلیت حاصل ہے تاریخ شاہد ہے کہ انھیں کوئی بھی غصب نہیں کر سکا اور نہ ہی صفحہئ ہستی سے مٹا سکا ہے۔ جرمنی و جاپان نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد کہ جب ان کے ممالک کے بھی حصے بخرے کر دیئے گئے اور ان پر اتنا بھاری تاوان طویل مدت  کے لیے لاگو کر دیا گیا کہ جو وہ کبھی ادا نہ کر سکتے تھے۔ نیز سیاسی اور دفاعی پابندیاں اس کے علاوہ تھیں تو کیا ہوا؟ جرمن کوئی جاہل قوم نہ تھی، جاپانی نا اہل لوگ نہ تھے۔ زمین نے یہ عجب تماشہ دیکھا اور آسمان بھی یہ دیکھ کر جھوم جھوم گیا کہ ان دونوں اقوام نے محض چند سالوں یا دو تین دہائیوں میں نہ صرف تاوان کے بھاری بوجھ سے خود کو نکال لیا بلکہ اپنے ملکوں کے اندر تعمیر و ترقی اور خوشحالی کو بام عروج پر لے گئے ان ممالک کا جغرافیائی شیرازہ بھی سمٹ کر پھر ایک ہو گیا۔ بڑی طاقتوں کی بندر بانٹ سے نکل کر مغربی اور مشرقی جرمنی پھر ایک ہو گئے۔ جاپانیوں نے صنعت و حرفت میں وہ ترقی کی کہ انھیں سمجھ نہیں آتی تھی کہ مزید کیا کریں۔ مجموعی قومی پیداوار کے انبار لگ گئے۔ یہی مفتوحہ ممالک فاتح ممالک کو قرض دینے لگے۔ اسی طرح برطانیہ بھی ظاہراً جیتا تھا۔ لیکن اس کی معیشت تباہ ہو گئی تھی اس کے شہر برباد ہو گئے تھے حتیٰ کہ لندن بھی70%تباہ ہو گیا تھا اسے تعمیر و ترقی کے لیے قرض درکار تھا جو اس نے امریکہ سے مانگا لیکن امریکہ نے توہین آمیز شرائط کے تحت اپنے اتحادی کو قرض دینا قبول کیا۔ جسے انگریزوں کی غیرت نے گوارہ نہ کیا اور انہوں نے قرض لینے سے انکار کر دیا۔ پھر کیا تھا محض اپنے زور ِ بازو لیکن صلاحیت سے کام لیتے ہوئے وہ بھی خوشحالی کی طرف جلد لوٹ آیا اور اگر پہلے نمبر پر نہیں تو پہلی پانچ ایٹمی طاقتوں میں شمار کیا جانے لگا۔

          حاصل بحث یہ کہ جہاں ذہانت ہے، صلاحیت اور بقا کے لیے زرخیز دماغ ہیں وہاں نہ صرف یہ کہ حقوق کوئی غصب نہیں کر سکتا بلکہ اگر شومئی قسمت یا کسی غلط فیصلے یا حادثے کی وجہ سے عارضی تباہی بھی پیدا ہو جائے تو صورتِ حال کو بہت جلد سنبھال لیا جاتا ہے۔لیکن جہاں صلاحیت کا فقدان ہے، زرخیز ذہن نہیں ہیں، ذہانت محدود یا مفقود ہے وہاں کیا کیا جائے؟؟؟

  جینز کو کراس (X)ہونے دیں،ہاں وہاں جیز کو کراس کروایا جائے تا کہ ذہانت اور صلاحیت تقسیم در تقسیم ہو کر بڑھے، پھیلے اور پھلے پھولے۔  

 علم پامسٹری سے کیا پتہ چلتا ہے؟

          اتفاق سے مجھے پامسٹری کا بھی شغف رہا ہے اور میں نے نہ صرف اس پر کتابیں پڑھی ہیں بلکہ لوگوں کے ہاتھ بھی دیکھے ہیں خصوصاً چونکہ میرا تعلق شعبہئ تعلیم کے سکول سیکشن سے ہے اور وہاں ہر سال سینکڑوں طلبہ سے واسطہ پڑتا ہے اس لیے فارغ اوقات میں طلبہ کے ہاتھوں کی لکیریں دیکھنے کا اتفاق بھی ہوتا رہا ہے۔ یقین جانیے آپ یہ سن کر حیران ہونگے کہ مقدر بھی انسان وراثت میں لیتا ہے یعنی جینز میں جب صلاحیتیں ایک نسل سے دوسری میں منتقل ہوتی ہیں تو یہ نسل در نسل چلتی ہیں۔چونکہ غریب طبقات کی شادیاں باہم اپنے ہم پلہ گھرانوں ہی میں یا اپنے ہی خاندان میں ہوتی ہیں اس لیے ان کے مقدر بھی ہو بہو اپنے آباؤ اجداد ہی کی طرح کے ہوتے ہیں (ایک دفعہ پھر یاد رہے کہ مستشنیات ہر جگہ ہوتی ہیں لیکن حکم اکثریت پر لگتا ہے) میں نے اکثر مشاہدہ کیا ہے کہ غریب گھرانوں کے بچے اپنے ہاتھوں پہ وہی سادہ سی لکیریں رکھتے تھے یا تو قسمت کی لکیرLuck Lineسرے سے ہوتی ہی نہ تھی یا ٹوٹی پھوٹی محدود سی لائن دیکھنے کو ملتی تھی۔ یہی حال ان کی دماغی لکیروں کا ہوتا تھا۔ اکثر غریب بچوں کی دماغی لکیر چھوٹی اور ناقص دماغی صلاحیت کو ظاہر کرتی تھی۔ شہرت کی لائن کا تو خیر وہاں ذکر ہی کیا۔ دل کی لکیر بہت جلد ان کے بہک جانے کو ظاہر کرتی تھی (یعنی وہ جذبانی طور پر فضولیات کی طرف اپنی کم عمریTeenageہی میں مائل ہو جاتے تھے)۔ خیر یہ وصف تو امرا کے بچوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ نیز ان غریب طبقے اورمحروم معاشرتی گروہ کے بچوں کے ہاتھ ابتدائی ہاتھ ہوتے تھے۔ سخت، بھدے، مضبوط، انگوٹھے چھوٹے مگر مضبوط جو صاف اس طرف اشارہ کرتے تھے کہ یہ لوگ گو کہ ذہانت اور ذہنی صلاحیتوں سے تہی دامن ہیں لیکن ہاتھ سے کام کرنے، مزدوری کرنے اور مختلف پیشوں کی ہنر مندیاں سیکھ کر معاشرے کا حصہ بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہاتھ دیکھتے دیکھتے جب کوئی اچھا ہاتھ نظر سے گزرتا جس کی بناوٹ اچھی ہوتی اور جس کی قسمت کی لکیر اس کے Statusکو ظاہر کر رہی ہوتی تو دوران انٹرویو معلوم ہوتا کہ وہ کسی قدر امیر گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا باپ اچھا معاشرتی Statusرکھتا ہے اور یہ کہ وہ اچھے نامور خاندان کا فرد ہے۔

نوٹ

          اب غور کیجیے کہ ایسا کیوں ہے؟ ظاہر ہے جو امیر خاندا ن سے ہے پڑھے لکھے گھرانے سے ہے اس کے باپ دادا نے بہتر جینز اسے ورثے میں دیے ہیں انہوں نے اپنی اولاد کو Establishکرنے کے لیے نہ صرف پڑھانا لکھانا ہے بلکہ انھیں اچھے بزنس میں بھی لگانا ہے یا اچھی پوسٹ پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے پہنچا دینا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ اپنے طبقے میں عملاً شامل ہو جائے گا اور یہ سلسلہ یوں ہی اس لیے چلتا رہے گا کیونکہ کل وہ شادی بھی کسی Well Established اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان میں کرے گا۔ جس سے اس کی آنے والی نسل بھی ایسی ہی آنے کی امید ہے گو کہ شاہ سے گدا اور گدا سے شاہ بھی رب ِ کائنات بناتا رہتا ہے۔ لیکن یہ مستشنیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ صحیح سمت میں سفر اور محنت و کوشش  کا صلہ دیتا ہے اگر کوئی غریب محنت و کوشش کرے اور ہار نہ مانے تو اسے بھی ربِ عظیم ضرور کامیاب کرتا ہے لیکن ایسے لوگ بہت کم ہو تے ہیں۔ کیونکہ ماحول، وسائل اور حالات بھی بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔

          آپ نے دیکھا ہو گا کہ کیوں امیر گھرانے امیر گھرانوں ہی میں شادیاں کرتے ہیں۔ تعلیم یافتہ لوگ تعلیم یافتہ اور خوشحال خاندانوں ہی میں شادیاں کرتے ہیں۔ سرمایہ دار اپنے سرمائے کو بڑھانے کے لیے سرمایہ داروں ہی میں شادیاں کرتے ہیں اور بادشاہ، بادشاہوں ہی میں رشتے کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اپنے طبقے سے نیچے نہیں جانا چاہتے گو کہ یہ لوگ کوئی سائنسی اور جینیاتی نقطہئ نظر سے تو نہیں سوچتے لیکن Status کے نقطہئ نظر سے سوچ کر جب وہ ایسا کرتے یں تو نتائج جینز کے ایک طبقے تک محدود رہنے ہی کو ظاہر کرتے ہیں۔بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اپنے سے بہتر Statusکی طرف جانے کی کوشش میں یہ لوگ بسا اوقات اپنے سے بہتر جینز میں داخل ہو جاتے ہیں تو یہ غلط نہ ہو گا۔ لیکن Low Statusاور بے صلاحیت، غبی اور کم ذہانت والے طبقات یوں ہی محروم رہتے ہیں اور ان کے بچوں کا مقدر کبھی نہیں بدلتا۔ چونکہ اس طبقے سے بھی معدودے چند لوگ ترقی کر جاتے ہیں اس لیے یہ سمجھتے ہیں کہ ترقی کے راستے کھلے ہیں لیکن وہ اپنی کوتاہی کی وجہ سے ترقی نہیں کر سکتے اور مطمئن ہو جاتے ہیں۔ جب ان میں ذہانت ہی نہیں تو وہ اتنا بڑا فلسفیانہ یا دانش ورانہ و مدبرانہ تجزیہ کر کے آگے بڑھنے کی کیا کوشش کر سکتے ہیں۔

ذہن میں ایک سوال ابھرتا ہے!ایک آدم و حوّا میں صلاحیتوں کا تفاوت کہاں سے پیدا ہو گیا؟؟

          آپ کہہ سکتے ہیں کہ جب ہم سب ایک ہی جوڑے آدم (باپ) اور حوا (ماں) کی اولاد ہیں تو پھر یہ صلاحیتوں اور ذہانتوں کا تفاوت کہاں سے پیدا ہو گیا۔           بات کچھ یوں ہے کہ ٹھیک ہے شروع میں ایسا ہی تھا اور ابتدائی انسانوں کی صلاحیتیں اور ذہانتیں بہت ملتی جلتی تھیں۔ اسی لیے اس دور میں شاید امن بھی تھا۔ لیکن جوں جوں آبادیاں بڑھتی گئیں انسانی نسل پھیلتی گئی۔ ہر انسان نے اپنی اپنی محنت و کوشش جاری رکھی۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں خام حالت میں صلاحیتیں اور ذہانتیں Feedکر دی تھیں جو اب بھی ہیں کسی میں فعال اور کسی میں خوابیدہ۔ تو جس جس انسان نے دھیرے دھیرے رفتہ رفتہ اپنی ذہانتوں کو جتنا جتنا اور جس جس شعبہئ زندگی میں استعمال کیا وہ خام حالت سے اسی نسبت سے فعال ہو گئیں۔ جنہیں یہ اپنی اگلی نسل میں غیر شعوری طور پر منتقل کرتے رہے۔ یہ ایک دن کی بات نہیں صدیوں ہزاروں سال سے یا شاید اس سے بھی زیادہ عرصے سے یوں ہی ہوتا رہا ہے۔ پھر قطرہ قطرہ کر کے صلاحیت اور ذہانت خوابیدہ حالت سے فعال حالت میں آکر جینز میں محفوظ ہو کر آگے نسل در نسل بڑھتی گئی، کرتے کرتے صلاحیتوں اور ذہانتوں میں نکھار پیدا ہو تا چلا گیا کہ صورتِ حال آج کے دور تک پہنچ گئی۔ اب کچھ نسلیں اور قومیں دوسری قوموں سے محض اس لیے زیادہ ذہین ہیں کہ وہ دوسری اقوام کے ساتھ مکس (کراس) نہیں ہوئیں یہ ٹھیک ہے کہ ان کے آباؤ اجدا نے  زیادہ محنت و کاوش کی ہو گی جو بہتر جینز آگے منتقل ہو ئے۔ لیکن میرے خیال میں ہر انسانی صلاحیت اور ذہانت کی نمو تمام نوع انسانی کی ملکیت ہے کیوں کہ ہم اصل میں ایک نوع ہیں۔ ایک ہیں۔ ایک جسم ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس نظریہ کو عام کیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔

(جاری ہے)

ترتیب و پیشکش : محمد رفیع صابر

در بارہ میاں فاروق عنایت

یہ بھی دیکھیں

Haqeeqat ki Talash

آغاز بحث (اپنی بات سے)

عرصہ ہوا سوچ رہا تھا کہ اپنے خیالات جو رہ رہ کر ذہن میں اٹھتے ہیں انھیں تحریر میں لاؤں اب جب کہ زندگی کے چوالیس (44) سالوں کے طلوع و غروب دیکھ چکا ہوں۔