اسلام میں فرقہ بندی اور تفرقہ بازی

اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم میں فرقہ بازی اور تفرقہ پسندی سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ صرف دو طرح کے انسان ہو سکتے ہیں ایک تو وہ جو اللہ کے احکام کو دل سے مانتے اور عملی زندگی پر ہر صورت لاگو کرتے ہیں انھیں حزب ُ اللہ کہا جائے گا اور ان کا دین اسلام ہو گا کیونکہ شروع سے ایک ہی دین چلا آرہا ہے اور وہ ہے ’اسلام‘ اس کے مختلف زبانوں اور زمانوں میں نام مختلف ہو سکتے ہیں لیکن معنی و مفہوم اللہ کے پیغام کو ماننا اور اس پر دل و جان سے عمل کرنا ہے۔ دوسری جماعت حز بُ الشیطان ہے جو اللہ کے پیغام کو نہیں مانتے، چاہے اس نہ ماننے کی کوئی بھی شکل ہو، اور نہ ہی اس پر عمل کرتے ہیں۔ اہل اسلام (جس میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں بشرطیکہ مذہب اپنی اصلی حالت پر ہو) دنیا کی تسخیر کرنے کے لیے اور اسے جنت بنانے کے لیے ہیں اور اللہ کو سجدہ کرتے، اس کی عبادت قولی اور فعلی کرنے والے ہیں۔ دوسرے حزب ُ الشیطان دنیا میں تخریب پیدا کرنے والے، اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والے اور اپنے مالک کے قطعی باغی ہیں۔ان دو گروہوں کے درمیان کوئی تیسرا فرقہ یا گروہ سرے سے ہے ہی نہیں (یہ الگ بات کہ ایمان اور کفر کے کئی درجات ہیں جو ہماری جاریہ بحث سے خارج ہیں)۔

Haqeeqat ki Talash
حقیقت کی تلاش میاں فاروق عنایت اٹک

غور کیجئے اور سوچیے

          کہ جب حقیقت یہ ہے تو پھر یہ درجنوں مذاہب اور ہر مذہب کے متعدد فرقے کہاں سے وجود میں آگئے؟ ہوا یہ ہے کہ جو بھی مذہب اپنے زمانہ کے لوگوں کے لیے کوئی رسولؑ خدا لے کر آیا وہ برگزیدہ ہستی اپنی تعلیمات تفویض کر کے اور ایک قابل لحاظ گروہ کو ’مسلم‘ بنا کر چلی گئی لیکن اس کے پیرو کاروں نے اس کے بعد آنے والی ہستی یعنی اگلے نبی ؑ کی نبوت کا انکار کر دیا۔ اللہ کا قانون یہ ہے کہ جب ایک نبی ؑ کی تعلیمات سے لوگ برگشتہ ہو جاتے اور اسے گزرے ہوئے ایک مخصوص وقت گزر جاتا تو (گو کہ ایک ہی زمانہ میں مختلف علاقوں میں مختلف انبیا  ؑکے مبعوث ہونے کو بھی تاریخ ثابت کرتی ہے اور قرآن اس کی تائید کرتا ہے تاہم عام کلیہ کے تحت) کوئی دوسرا نبی ؑ اصلاح کار کے لیے رب تعالیٰ مبعوث فرما دیتے۔ کیونکہ دوسرے نبی ؑ اور پہلے نبیؑ کے درمیان بعض اوقات کئی سو سال کا وقفہ ہوتا اسلیے سابقہ نبی ؑ کی تعلیمات کا حلیہ اس وقت تک اتنا بگڑ چکا ہوتا کہ نئے آنے والے نبی ؑ کی تعلیمات گو کہ تقریباً وہی ہوتیں جو سابقہ نبی ؑ کی تھیں لیکن لوگ انھیں اپنے دین سے مختلف دیکھتے ہوئے ماننے سے صاف انکار کر دیتے۔ یہاں سے جنگ و جدل اور حق و باطل کے درمیان لامتناہی کش مکش شروع جا تی جو بعد میں آنے والے نبیوں ؑ کے ادوار میں پھر سے Rechargeہوتی رہتی۔ اس طرح سے مذاہب بھی وجود میں آئے اور لامتناہی کش مکش بھی وجود میں آئی۔ ہر مذہب کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ ہی سچا ہے کیوں سچا ہے؟ اس پر کوئی بھی غور و فکر کرنے کے لیے تیار نہیں جو بات اسلاف کے ذریعے ان کے ذہنوں تک پیدائشی طور پر پہنچ گئی وہ لاشعور کی حدوں تک جذب ہو گئی۔

کسی مذہب سے فرقے کیسے بنتے ہیں

          نیا آنے والا پیغمبر جب دین لے کر آتا تو نہ صرف اس کی زندگی میں بلکہ اس کے بعد بھی کچھ عرصے تک یہ دین اپنی تعلیمات میں یک سو رہتا لیکن جب وقت گزر جاتا اور دین کی تشریح علمائے وقت پر آتی تو فرق آنا شروع ہو جاتا۔ کبھی آسمانی کتب میں معنوی یا تشریحی تحریف کر دی جاتی (کیونکہ عوام الناس تو دین کو گہرائی سے نہیں جانتے نہ ان کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے) کبھی اقوال نبی ؑ کے مجموعے بعد از نبی ؑ وجود میں آجاتے جن میں اختلافات مختلف گروہ پیدا کر دیتے اور کبھی تاریخی روایات کو مذہب میں گڈ مڈ کر کے دین کا حصہ بنا نے پر فرقے بنتے چلے جاتے۔ بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ المیہ یہ کہ جوں جوں زمانہ گزرتا اگر کوئی عالم دین تخصیص کے ساتھ اپنے دین کا مطالعہ کرتا تو ظاہر ہے اس کے سامنے کوئی ایک ماڈل (دین کے لیے مخصوص) تو ہوتا نہ تھا اس کی اپنی تحقیق و کاوش ساری زندگی کی تگ و دو کے بعد جب کسی نتیجہ پر پہنچتی وہ اپنے نظریات دین کی چھان بین کے بعد قلم بند کرتا یا ان کی تبلیغ کرتا تو ظاہر ہے یہ دوسرے سے کچھ نہ کچھ یا بہت کچھ مختلف ہوتی اس طرح سے یہ ایک نیا فرقہ وجود میں آجاتا ہے۔ اس وقت تمام مذاہب کا یوں ہی بھرکس نکالا گیا ہے۔

اس کا حل کیا ہے؟

          تمام دنیا کے مذاہب اٹھا کر دیکھ لیں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ الہامی کتب کی حفاظت اقوال نبی ؑ یا تاریخ مذہب سے زیادہ کی گئی ہو گی۔ اب کرنے کا کام یہ ہے کہ پہلے تو سب مذاہب کے لوگ اپنی الہامی کتب (جن پر ان کا اجماع ہو کہ الہامی کتب ہیں صرف وہ) کو چھان بین کر دوسرے لٹریچر سے الگ کریں انھیں ان کی شفاف اور اصلی حالت پر لانے کی بڑی دقتِ نظر سے جاں گداز کوشش کریں اس کے بعد جب انھیں یقین ہو جائے کہ اب اس کتاب کے اندر خالص وحی الٰہی موجود ہے (وحی الٰہی کی ایک الگ شان ہے اللہ کے عاشقوں کو یہ موتی خدا کی قسم دل کی آنکھوں سے دیکھنے سے صاف کہیں کہیں بکھرے نظر آجاتے ہیں) تو اس کی روشنی میں باقی تمام دینی لٹریچر بشمول اقوال نبی ؑ کا جائزہ لیں جو اس کے مطابق پائیں اسے اجتماعی طور پر بحیثیت قوم (اُمت) قبول کر لیں باقی سب کو ہمیشہ کے لیے رد کر دیں بلکہ اسے ہر طرح کے ریکارڈ سے پوری تگ و دو اور کاوش سے محوْ کر دیں وہ پھر کبھی ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے اور دنیا سے مفقود ہو جائے تا کہ دوبارہ فرقہ بندی نہ ہو سکے اور تمام لوگ اس کتاب پر من و عن عمل کریں۔

بین الاقوامی سطح پر مذاہب عالم کے درمیان ٹکراؤ کا خاتمہ

          یہ تو تھا قومی یا انفرادی مذہبی سطح کی چھان بین اور تحقیق سے حق کو باطل سے چھانٹنا۔ لیکن یہ تو ابتدائی اور اہم کامیابی ہو گی۔ اس کے بعد اس سے اہم مرحلہ آئے گا۔ جان جوکھوں میں ڈالنے کا مرحلہ۔ جب ہم جانتے ہیں کہ ایک ہی خدا ہے جس نے یہ سب دنیا بنائی اور اسے چلا رہا ہے (میرے مخاطب رواں بحث میں مذہبی معاشرے ہیں دہرئیے نہیں) اور تمام ادیان اس کی ہی طرف سے اس کے نبی علیہ السلام اپنے اپنے ادوار اور علاقوں میں لے کر آتے رہے تو پھر لمحہ بھر کے لیے سوچئے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس نے مختلف علاقوں کے لیے مختلف دین یا قوانین ربانی یا احکامات آسمانی بھیج دیئے ہوں تا کہ لوگ باہم کشت و خون کرتے رہیں اور یوں ہی ابدلآباد تک لڑتے بھڑتے، مرتے اور مارتے، خون کی ندیاں اور دریا بہاتے رہیں کیا ہمارے عظیم اللہ،God، خدا، بھگوان، یا اس کا کوئی بھی نام کسی مذہب میں ہو (بشرطیکہ اس کی شان کے قابل ہو) کی ایسی مرضی ہو سکتی ہے۔ کیا وہ ہمیں تباہ و برباد کر دینا چاہتا ہے؟ یقینا ایسا نہیں ہو سکتا اور قطعی طور پر ایسا نہیں ہے۔ تو پھر یقینا وہ رحیم و  کریم، قادر مطلق، رب العالمین اور وحدہٗ لا شریک ہستی بے مثل ہمارا بھلا چاہتا ہے، اس جہاں میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔ جہاں ہم نے اپنے بال برابر عمل و ایمان کا اچھا یا برا صلہ پانا ہے۔

          جب صورتحال یہ ہے تو پھر تمام مذاہب ِ عالم کے جیّد، تسلیم شدہ اور محقق نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر بیٹھنا پڑے گا۔ تمام آسمانی کتب کو اصلاح احوال کے بعد اپنے سامنے رکھنا پڑے گا، یہ تکرار چھوڑ کر کہ ہم سچے ہیں دوسرے گمراہ ہیں اور خدائی تعلیمات پر بہت عمیق، غیر جانب دارانہ اور مسلسل غورخوض کرنا پڑے گا ہر قسم کے تعصب سے پاک ہو کر جب یہ اپنے پیدا کرنے والے کے عاشق لوگ اس بات پر اجتماعی غور و فکر فرمائیں گے کہ اللہ کی ہستی اپنی ذات و صفات اور اختیارات میں کیا حیثیت رکھتی ہے وہ شروع سے کس بات کی تعلیم دیتا آرہا ہے اور اس کی منشاء و مرضی کیا ہے؟ تو یقین جانیے کہ آپ کو 90%تعلیمات میں یکسانیت صاف نظر آئے گی اور جو 10% رہ جائیں فہم ربانی سے منسوب تعلیمات کی روشنی میں ان کا باہمی حل تلاش کر لیا جائے۔ تا کہ کُل جہان میں ایک ہی دین الٰہی کی تعلیمات کا نفاذ ممکن بنایا جا سکے۔ (میرا ایمان ہے کہ یہ دین انتہائی خالص، اکمل اور مکمل ترین شکل میں قرآنِ حکیم میں موجود ہے جو دوسرے ادیان پر پڑی ہوئی گرد کو بھی صاف کر تا ہے)۔

لیکن کاش یہ سب ممکن ہوتا

          یہ سب کہنا آسان لیکن کرنا اور ہونا انتہائی مشکل ہے بلکہ مجھے تو آج کے انسان میں یہ جو ہر ناپید نظر آتا ہے کہ وہ مندرجہ بالا سعی خالص کرتے ہوئے حق تک پہنچ جائے اوربنی نوع انسان اس جاری ظلم و بربریت سے، کشت و خون سے،ہوس بے حد و کنار سے اور شیطانی راگ و راگنیوں کے سحر انگیز منتروں سے کبھی از خود باہر نکل سکے۔ بلکہ ’نور جہاں‘ کے پنجابی گیت کہ (ایہ تے گنڈاں اونیاں ہون گیاں پکیاں،  وے جناں توں زور لائیں گا) کے مصداق معاملات اور بھی الجھتے جائیں گے۔ جب معاملہ یوں ہے تو پھر اور کیا طریقہ ممکن ہے۔

(جاری ہے)

ترتیب و پیشکش :محمد رفیع صابر

در بارہ میاں فاروق عنایت

یہ بھی دیکھیں

Haqeeqat ki Talash

آغاز بحث (اپنی بات سے)

عرصہ ہوا سوچ رہا تھا کہ اپنے خیالات جو رہ رہ کر ذہن میں اٹھتے ہیں انھیں تحریر میں لاؤں اب جب کہ زندگی کے چوالیس (44) سالوں کے طلوع و غروب دیکھ چکا ہوں۔