کامل ترین ولی کا ظہور(جو عظیم روحانی طاقتیں رکھتا ہو)

ہم خواہش ہی کر سکتے ہیں اور دعائیں اور التجائیں رب ِ کائنات کے حضور کہ وہ ہمارے گناہ، ہماری کج عملیاں،گستاخیاں اور ناقابل ِ معافی بغاوتوں کو محض اپنے عفوّ و درگزر اور شان رحیمی و کریمی اور بے پناہ محبت کی صفاتِ بے حدوکنار کے طفیل معاف کرتے ہوئے اور ہم سب نبی نوع انسانی پر رحم کھاتے ہوئے ایک ایسے کامل ترین ولی اللہ کو اسی دور یا مستقبل قریب میں پیدا فرمائے کہ جس پر اس ذات پاک و اعلیٰ صفات کا بے حد کرم ہو جسے ربِ عظیم اپنے پاس سے علم خالص عطا کرے، براہِ راست اس کی رہنمائی فرمائے جو عین اس کی منشائے ایزدی کے مطابق حق کو باطل سے جدا کر کے ہمیشہ کے لیے مٹا دے۔ اس کے پاسGreat Powersہوں، جو بڑی بڑی، ناممکن کرامات رب کے حکم سے دکھا سکے، جو اپنی روحانی طاقتوں سے دریاؤں کے رخ موڑ سکتا ہو، جدید ترین اسلحہ جات کی ہیتِ ترکیبی اور ہیتِ کیمیائی تبدیل کر سکتا ہو، جو ایٹمی میزائل جام اور ناکارہ کر سکتا ہو، جسے خدا عناصر پر اختیار محدو دے دے، جسے ہواؤں اور فضاؤں پر دسترس دے دے، جو      خلاؤں کو عبور کر جائے اور جو ایک ایسا روحانی سائنس دان ہو کہ کسی کو جرأت نہ ہواس کا سامنا کرنے کی (سوائے شیطان کے کیونکہ اسے خدا نے قیامت تک مہلت دے رکھی ہے) تو تب ہی یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ سب بنی نوع انسان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو جائے سوائے شیطانوں کے کیونکہ روحانی دنیا میں بھی شیطانوں کو محدود دسترس حاصل ہے۔ لیکن یوں کم از کم حز ب ُ اللہ اور حزبُ الشیطان دو گروہوں کی شکل میں تو سامنے آ جائیں گے۔ پھر ان کے درمیان جو بھی جنگ و جدل اور کش مکش ہو وہ بلا ٓخر حق کی فتح پر منتج ہو گی۔ کیوں کہ اللہ کافرمان ہے کہ حق جب آ جاتا ہے باطل فنا ہو جاتا ہے۔ نیز یہ کہ شیطانوں کو محدود کر دیا گیا ہے اب ان کی دسترس ان آسمانوں (یعنی ان وسائل یا Powersتک) نہیں ہو سکتی جن تک عاشقانِ حق پہنچ سکتے ہیں تو اس طرح سے بھی دنیا اپنے انجام ِ بد سے بچ سکتی ہے۔ بہر حال یہ تو محض میری دعائیں اور التجائیں ہیں۔ ربِ کائنات قادر ِ مطلق اور حکیم لا شریک ہے وہ اپنے کاموں کی حکمتوں کو خود بہتر جانتا ہے ہمارے ذہن محدود، ہماری عقلیں خام، ہماری طاقتیں برائے نام اور ہماری تجاویز بے شک بچگانہ ہیں۔ لیکن دعا کا حق خدا نے ہمیں دیا ہے کوشش ِ،حق کی تلاش اور جستجو سے عشق ہمیں ودیعت کیا گیا ہے اسی متاع بے بہا کے سہارے ہم بڑھتے جائیں گے۔کراس شادیاں ایک خاندان کی دوسرے خاندان کے ساتھ، ایک قوم کی دوسری اقوام کے ساتھ، ایک صلاحیت کیدوسری صلاحیت کے ساتھ۔ کراس در کراس در کراس حتیٰ کی انسانی صلاحیتیں مکمل طور پر تقسیم ہو جائیں

          میں اکثر سوچتا ہوں کہ دنیا میں یہ جو صلاحیتوں کا عدم توازن ہے۔بے شک اس عدم توازن اور تنوع ہی کی وجہ سے دنیا میں بے شمار قسم کے پیشے ہیں، کاروبار ہیں، ہنر مندیاں ہیں، ذہنی رجحانات ہیں، رنگارنگی ہے اور بے شمار قسم کی ترجیحات ہیں، جن کی وجہ سے مزدور سے لے کر بادشاہ تک لوگ اپنا اپنا کام انجام دے رہے ہیں اور یہ کاروانِ حیات ایک دوسرے کے باہمی تعاون اور Give and Take سے چلتا جا رہا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ اتنا آسان اور سہل نہیں ہے۔ اس بے پناہ خوبصورتی کی تہوں میں بے شمار بدصورتیاں اور کرب، دکھ، درد، حسرتیں، آرزوئیں، سسکیاں، ظلم و ستم، محرومیاں، جگر پاش داستانیں، بوجھل سانسیں، خود کشیاں، حقوق غصبیاں، چشم پوشیاں، بے انصافیاں، بے مہاریاں اور انسانیت کی دبی چیخیں ہمارا منہ چڑا رہی ہیں۔ مزدور ہمیں پوچھتا ہے کہ میرا قصور کیا ہے کہ میں کام سب سے زیادہ سخت اور مشقت کا کرتا ہوں لیکن مجھے مشاہرہ اور سہولیات سب سے کم ملتے ہیں۔میرے بچے محرومیوں اور حسرتوں کی تصویر ہیں میں ہڈیوں کا ڈھانچہ ہوں، سوکھی روٹی میرا نصیب ہے، بیماریاں میرا مقدر ہیں، عزت سے میں نا آشنا ہوں اور مستقبل میرا سوائے اندھیرے کے اور کچھ نہیں (یاد رہے کہ تمام جسمانی محنت مشقت کے کام اور چھوٹے چھوٹے کاروبار اور پیشے اسی مد میں آتے ہیں) کم ذہین لوگ پڑھ لکھ      کر بڑے افسر نہیں بن سکتے، سادہ ذہن کے لوگ مکاریاں نہیں کر سکتے، ملازمت پیشہ لوگ کاروباری ہیرا پھیری اور مہارت سے نوٹ نہیں چھاپ سکتے۔ غریبوں میں اگر کوئی اتفاق سے ذہین بچہ پیدا ہو جائے تو یا تو والدین اسے پڑھاتے نہیں اور بوجہ وسائل کی عدم دستیابی اس کی صلاحیت خاک میں مل جاتی ہے اور اگر کوئی غریب اپنا لہو کوڑیوں کے مول بیچ بیچ کر اپنے ذہین بچے کو اعلیٰ تعلیم دلوانے میں کامیاب ہو ہی جائے تو وسائل پر قابض مختلف  بے حد مضبوط گروہ اسے اپنے طبقے میں شامل نہیں ہونے دیتے۔ اس کے پاس نہ تو سفارش ہوتی ہے نہ رشوت لہٰذا وہ بلا ٓخر ایک پڑھا لکھا مزدور بن کر نفسیاتی مریض بن جاتا ہے اور اگر دیگر معاشرے کے سخت بے انصافی کا شکار اور باصلاحیت لوگوں کے ایک خاص گروہ کی طرح سوچے تو جرائم کی دنیا میں داخل ہو کر معاشرے سے اپنا حق زبردستی چھیننے کی خواہش میں یا تو جیلوں کی رونق بڑھاتا ہے یا گولی کی خوراک بن جاتا ہے۔

          دوسری طرف اعلیٰ تعلیم یافتہ اشخاص اگرچہ سفید پوشی کے ساتھ زندگی تو گزار لیتے ہیں لیکن ان کی قابلیت سے در حقیقت فائدہ کون اٹھاتا ہے؟ اعلیٰ مہارتوں کے مالک کاریگروں کے ہنر کو کیش کون کرتا ہے؟ اساتذہ اور دانشوروں کی خدمات اور دانش کو خریدتا کون ہے؟ حسن بکتا ہے تو دام کون لگاتا ہے؟ ڈاکٹر، انجینئر، فنکار، ملازم کس کے ہیں؟ صرف اور صرف سرمایہ دارکے ہیں، چھوٹی سطح سے لے کر نہایت اعلیٰ سطح کی مہارتیں، فنکاریاں، ہنر مندیاں اور پیشہ ورانہ خدمات کو سرمایہ دار نہایت آسانی سے خرید کر انھیں اپنی آمدن کا عشر عشیر دیتا اور باقی سب خود ہڑپ کر جاتا ہے۔ اس کا سرمایہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے اس کی کوئی حد نہیں ہے یہ جمع اور ضرب ہوتے ہوتے اربوں کھربوں تک پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ سے کہ بیوروکریسی پر سرمایہ دار کا قبضہ، پریس، پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، یعنی تمام پبلک و سرکاری میڈیا پر اس کا قبضہ عدلیہ پر اس کا قبضہ (کیونکہ وکیل اور جج دونوں بک جاتے ہیں) انتظامیہ پر اس کا قبضہ کیونکہ یا تو وہاں سارے اس کے رشتہ دار ہیں، تعلق دار ہیں یا پھر سرمایہ کے غلام اور حاجت مند ہیں اور اسی طرح سے پارلیمنٹ پر اس کا قبضہ، کیونکہ الیکشن تو کھیل ہی خالص بڑے بڑے سرمایہ داروں اور مگر مچھوں کا ہے۔ حتیٰ کہ عزت بھی برائے فروخت ہے، حُسن بھی برائے فروخت ہے، اللہ معاف فرمائے90%علمائےِ دین بھی برائے فروخت ہیں (چاہے مذہب کوئی بھی ہو مرضی کے فتوے اور مذہبی سپورٹ برائے فروخت ہے) چونکہ تمام وسائلِ حیات پر، باعزت مراکز پر، اہم پوسٹوں پر بلکہ خاندان کے بنیادی یونٹ سے سیاست کے ایوانوں اور بادشاہوں کے محلوں تک ہر جگہ سرمایہ دار کا قبضہ ہے اس لیے ہر کوئی سرمایہ دار کے ہاتھ میں ناچنے والی پتلی ہے جو پتلی سرمائے کے دھاگے سے ہلنے کی بجائے اپنی مرضی سے ہلنا اور کام کرنا چاہے اسے کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا جاتا ہے کیونکہ جرائم کے بے تاج بادشاہ بھی تو آخر سرمایہ دار کے ہی تنخواہ دار ہیں سرمایہ دار ہی ان کے بھی باس ہیں۔

مذہب کی انسانیت کو سدھارنے کی کوشش

          اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسان کے ابتدائی تہذیبی ادوار ہی سے اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لیے اپنے برگزیدہ پیغمبر   علیہ السلام مبعوث فرمائے جنہوں نے اپنے اپنے ادوار میں انسانوں کو خیر اور شر کے محاسن و نقصانات سے آگاہ کیا، سزا و جزا کے الٰہی فیصلے اور حسابِ آخرت سے ڈرایا۔ توحید و تقویٰ کے شاندار اور اعلیٰ مدارج اور مقامات سے آگاہ کیا۔ قربِ خداوندی کی لذّتِ بے مثل سے روشناس کروایا اور دوزخ کی اندوھناکیوں سے آگاہ کیا۔ نیز اِس دنیا اور اُس دنیا دونوں میں جنت و دوزخ کے معیارات اور طریقے و سلیقے سمجھائے۔ یہی وجہ سے کہ یہ دنیا اب تک مکمل تباہی سے بچی ہوئی ہے۔ جہاں شر اتنا بے مُہار ہے اور سر چڑھ کر بول رہا ہے وہاں خیر کے پیروکاراور ان کے مراکز بھی کام کر رہے ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بڑی تیزی سے تباہی کی طرف جا رہی ہے شیطان اپنے جھنڈے گاڑ رہا ہے خیر کو شکست پہ شکست دی جا رہی ہے (کیونکہ اللہ نے تو خیر و شر دونوں کے راستے انسان کے سامنے رکھ دیئے ہیں اور شریروں سے دوزخ کو بھرنے کا عندیہ دے رکھا ہے جبکہ اپنے بندوں کے لیے جنت کو آراستہ کر کے اختیار انسان کے حوالے کر دیا ہے چاہے تو ڈوبو چاہے تو منزل ِ مراد پر پہنچو)۔اب اگر اللہ تعالیٰ اس موقعہ پر اپنے کسی ولی کامل کو بھیجنے پر راضی نہیں ہو تا کہ جو ہمیں کان سے پکڑ کر سیدھا کر دے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ہمیں ہمارے مندرجہ بالا اختیار اور سابقہ تعلیماتِ آسمانی ہی میں آزمانا چاہتا ہے کہ ہم خود اپنی اصلاح کرتے ہیں یا نہیں۔

          ظاہر ہے کہ انسان کو خود اس صورت حال کے کئی حلوں (Solutions)پر غور کرنا پڑے گا۔ جس میں کافی غور وخوض کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ چونکہ صلاحیتوں کے عدم توازن کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے۔ اس لیے انسانی صلاحیتوں کو سب لوگوں میں کافی حد تک تقسیم ہو جانا چاہیے۔

جینز اور پامسٹری

(کیا جینز کو کراس ہونا چاہیے)

          جینز یا جینیٹک انجینئرنگ کے علم پر مجھے گو کہ نہ تو مکمل عبور حاصل ہے اور نہ میں سائنس دان ہوں لیکن ایک عام  فرد کی حیثیت سے اس پر جو کچھ پڑھنے سننے کا موقع ملا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ہماری زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ انسانی تاریخ جاننے  کے لیے اس کی صلاحیتیں معلوم کرنے کے لیے، اس کو درپیش بیماریاں دور کرنے کے لیے اور جدید ذہین ترین انسان پیدا کرنے کے لیے آج کل دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں جینیٹک انجینئرنگ کے لیے باقاعدہ ریسرچ سینٹرز قائم کر دیئے گئے ہیں جہاں اس کی تعلیم پہ یونیورسٹیاں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں وہاں اس شعبے میں جدید ترین اور تیز ترین تحقیقاتی عمل بھی جاری ہے۔

          سائنس دانوں کے نظریات ِ ثابتہ کے مطابق جب کوئی نیا انسان پیدا ہوتا ہے بلکہ حمل قرار پانے ہی سے اس کے اندر اپنے آباؤ اجداد کے جینز محفوظ ہو جاتے ہیں، کچھ جینز ایکٹیو یٹ ہوتے چلے جاتے ہیں اور بقیہ بے شمار جینز غیر فعال شکل میں اس انسان کے اندر موجود رہتے ہیں جو اگلی نسلوں میں منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ ماں اور باپ کی نسلوں سے آنے والے جینز میں تاحیات کشمکش کا عمل جاری رہتا ہے جو جینز غالب آتے رہتے ہیں وہ اپنی صلاحیتیں فردِ متعلقہ میں ظاہر بھی کرتے   رہتے ہیں تاہم چونکہ ان کی کشمکش تاحیات جاری رہتی ہے اس لیے ان کا غالب و مغلوب ہونے کا عمل بھی تاحیات جاری رہتا ہے یعنی جو صلاحیت کسی فرد میں اتنی فعال نہ رہے بلکہ کوئی دیگر صلاحیت یا صلاحیتیں اس کی جگہ زیادہ فعال ہو جائیں اور اس کے کردار میں تبدیلی پیدا کر دیں۔ یہ عمل جہاں پر حیاتیاتی (بائیولاجیکل)طریق سے جاری و ساری رہتا ہے وہاں فرد کی کوششیں و کاوشیں بھی کسی صلاحیت کو نکھارنے،سنوارنے اور بڑھانے میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دراصل یہ ہی انسانی صلاحیتوں کی تاریخ ہے جو جینز میں رقم ہوتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عظیم و حکیم نے انسان میں متعدد، متنوع،بے شمار(Countless)،بے حد حیران کن، لمحہ بہ لمحہ بدلتی، بڑھتی اور پھلتی پھولتی، پست و بلند بلکہ بے حد بلند اور انتہائی کرشماتی بلکہ میں کہوں کہ موجودہ عقل و دانش سے بے حد ماوراء صلاحیتوں کو انہی جینز میں روز اول سے خام حالت میں اکٹھاFeedکر دیا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ اور انسانی محنت و کوشش اور عرق ریزی سے نیز Practiceسے وجود میں آتی، بڑھتی اور لمحہ بہ لمحہ بدلتی عروج یا زوال کی طرف رواں دواں رہتی ہیں۔

          تاہم! جدید تحقیق کی روشنی میں دیکھا جائے تو انسان نے اپنے ذہن کا ابھی صرف10سے 30فیصد حصہ استعمال کیا ہے اور اس عجیب و غریب دماغی مشینری کا70سے 90فیصد حصہ ابھی غیر فعال ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ ان دماغی آثار کا کیا کام ہے۔ نیز جن دماغی حصوں کو ہم جان پائے ہیں کہ وہ کیا کیا کام کرتے ہیں ہم قطعی یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ صرف یہی کام کرتے ہیں یا اس کے علاوہ بھی متعدد کام ان کے ذمہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ انسان کے اندرنئے نئے کمالات ظہور پذیر ہو رہے ہیں۔ عام ذہنی صلاحیتوں کی بڑھوتری کے نتیجے میں ذہانت جو کارنامے اور ایجادات کر رہی ہے اس کے علاوہ عجیب و غریب فنون اور علوم پیدا ہو رہے ہیں، مثلاً ہندو یوگیوں کا سانس بند کر کے کئی دنوں تک قبر میں اتر جانا اور پھر دل کا دھڑکنا دوبارہ شروع ہو جانا (یقینا دماغ تب تک زندہ رہتا ہو گا)۔ اسی طرح سانس کی بیماریوں کا علاج وغیرہ۔ اسی طرح خیال کی طاقت سے نئی نئی گل کاریاں، ہیپناٹزم، ٹیلی پیٹھی، مسمریزم، سحر، جادو (خالص روحانی علوم اس کے علاوہ ہیں)۔ اسی طرح جسمانی و روحانی یعنی سانس کی مشقوں سے جوڈو کراٹے کا فن جو اپنی تہہ میں بڑی محیّر العقول حقیقتیں رکھتا ہے یا ارتقازِتوجہ سے دیگر ذہنی فنون مگر حیرت ناک، نگاہ کی طاقت سے شے کو پاش پاش کر دینا یا ایسا یقین پیدا کر لینا کہ نا موجود آموجود ہو، ناممکن بالآخر ممکن ہو جائے وغیرہ یہ سب و ہ علوم و فنون ہیں جو ہمارے جینز کے اندر Feedہیں بلکہ ان سے لاکھوں گناہ زیادہ، مختلف اور متنوع قسم کی حیرت میں غرق کر دینے والی صلاحیتیں خدا نے انہی جینز کے ذریعے ہمیں ودیعت کی ہیں۔ (یاد رہے مذہب اور نور حق اس کے علاوہ ایک شے ہے اور اللہ کی ذات تو ہے ہی سب سے الگ، بے مثل، ممتاز اور وحدہٗ لاشریک

میں کہنا کیا چاہتا ہوں

(کچھ چالوں اور جالوں کا ذکرعام افراد اور اقوام پر ظلم و بربریت سے متعلق) 

دراصل اس ساری تمہید اور بنیاد مہیا کرنے سے میری غرض یہ ہے کہ جب صلاحیتوں کا آپس میں مقابلہ ہوتا ہے تو یقینا بہتر صلاحیتوں کے مالک افراد بازی لے جاتے ہیں اور دوسرے مغلوب ہو جاتے ہیں، غالب لوگ درجہ بہ درجہ اور نسل در نسل ان پر حکومت کرتے ہیں۔ ان کا حق غصب کرتے ہیں، ان پر ظلم کر تے ہیں اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے (آخر جانور بھی تو اسی ذہنی صلاحیت کی کمی کی وجہ سے ہمارے بوجھ اٹھاتے پھرتے ہیں جنہیں ہم صرف چارہ دیتے ہیں اور ان کے مالک بن جاتے ہیں حتیٰ کہ انھیں مارتے پیٹتے اور ان پر ظلم کرتے ہیں)۔ یہی معاملہ زیادہ ذہین اقوام کم ذہین اقوام یا جدید تعلیم سے آراستہ اقوام کم تعلیم یافتہ اقوام سے روا رکھتی ہیں۔ کم ذہانت والے معاشروں میں جو جوہر قابل گنے چنے افراد کا ہوتا ہے (کیونکہ مستشنیات تو ہر جگہ ہوتی ہیں) وہ خود بھی اپنے عوام کو غلام بنا کر وسائل پر قبضہ کر لیتا ہے اور بیرونی ذہین اقوام چونکہ طاقتور ہوتی ہیں اس لیے یہ غریبوں اور کم ذہین اقوام کے جوہر قابل پر مبنی افراد کی اشرافیہ اُن طاقتور آقاؤں کی پروردہ غلام بن جاتی ہے جیسا کہ آج کل ترقی یافتہ ممالک، ترقی پذیر یا کم ترقی یافتہ ممالک یا تھرڈ ورلڈ کے ساتھ کر رہے ہیں۔ تیسری دنیا (Third World) سے متعلق  دو یا تین فیصد آبادی پر مبنی طبقہ اپنی تمام قومی پیداوار اور ملکی وسائل پر قابض ہو جاتا ہے یہ اپنے اپنے ممالک میں طاقت ور، ترقی یافتہ اور ذہین اقوام کے مفادات کا محافظ ہوتا ہے ان کے اور اُن آقاؤں کے درمیان میں غیر تحریری معاہدہ ہوتا ہے کہ یہ اپنے عوام کا استحصال کریں، ان کا خون چوسیں، جتنی مرضی دولت اکٹھی کریں اور عیاشی کریں لیکن فاضل سرمایہ کسی نہ کسی شکل اور بہانے سے ترقی یافتہ اقوام میں منتقل ہوتا رہے جس سے وہ اور بھی خوشحال اور ناقابل تسخیر ہو جائیں۔ اس اشرافیہ کے اپنے بھی بینک اکاؤنٹس اور اثاثے چونکہ بیرون ملک حفاظت کی غٖرض سے منتقل کر دیے جاتے ہیں اس لیے عملاً 90% سرمایہ اور وسائل وہ قومیں لے جاتی ہیں اور مقامی لوگوں کے پاس رہ جاتی ہے، بھوک، افلاس، محرومیاں، بیماریاں، آنسو اور آہیں۔ یہ لوگ ہمیشہ کسی نجا ت دہندہ کی تلاش میں رہتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں لیکن ہوتا یہ ہے ہر آنے والا جس پر یہ بیچارے امید کرتے ہیں کہ ہمارانجات دہندہ ہے۔ اپنی فطرت کے مطابق انھیں دھوکا دے جاتا ہے اور اسی اشرافیہ میں شامل ہو کر اپنی اگلی کئی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے چکر میں لگا رہتا ہے۔ کیونکہ ان کی فطرت ہے کہ اگر کوئی Checkاوپر موجود نہ ہو تو وہ شتر بے مہار بن کر اپنی مرضی سے فیصلے کرتا ہے اور اپنی ہوس کو بروئے کار لاتا ہے۔ یہ کم ذہین نسل در نسل غبی اور غریب، مفلوک الحال لوگ بھلا ان پر کیا Checkرکھیں گے کہ معاملات Balanceیا متوازن رہیں۔ لہٰذا وہ ظلم کی چکی میں نسل در نسل پستے رہتے ہیں۔ ذہین طبقہ اور سرمایہ پر قابض عناصر ان کی روحانی تسلی اور تشفی کے لیے مذہبی ٹھیکیداروں، لالچی علماء، مولویوں، پادریوں، گروؤں، پنڈتوں اور دیگر دینی پیشواؤں کو خرید لیتے ہیں جو ان کی مرضی کے مطابق نہایت ہوشیاری، چالاقی، مکاری، ذہانت اور تحریفِ مجرمانہ بشکل اجتہاد و تشریحِ ادیان، اصل دین کی شکل بگاڑ دیتے ہیں اور عوام کو یہ درس دیتے ہیں کہ یہ دنیا تو دنیاداروں کے لیے ہے، کتوں کے لیے، اسے خداپسند نہیں کرتا بلکہ انھیں چاہیے کہ اس کی دوڑ     میں شریک نہ ہوں اور رضائے خداوندی کے لیے غربت میں زندگی گزاریں اور آخرت میں شاندار گھر جنت میں بنائیں۔ اللہ اللہ اور خیر سلا۔ نیز یہ کہ ہر اچھے مذہبی فرد کے لیے ضروری ہے کہ اپنی گورنمنٹ اور سربراہ مملکت کا وفادار رہے۔ کیونکہ اسے خدا نے مقرر کیا ہے اور جس طرح کوئی چیز حکم خداوندی کے بغیر ناممکن ہے اسی طرح اگر خدا نہ چاہتا تو ہمارے یہ آقا ہمارے اوپر مقرر نہ کرتا۔ علاوہ ازیں ہر ہر معاملہ میں حکومت کو سہولتیں پہنچانا اور اشرافیہ کے عیش و آرام میں عوام کوخلل انداز نہ ہونے دینا ان مذہبی پیشواؤں کا فرض اولین ہوتا ہے۔ اس کے عوض انھیں اشرافیہ کی طرف سے حسب استطاعت وسائل، زر، مفادات، نوکریاں اور رعایتیں دی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان مذہبی ٹھیکیداروں میں بھی درجے ہیں۔ غریب، متوسط اور امیر بلکہ اشرافیہ کے درجے کو پہنچے ہوئے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ جو بڑے بڑے مذہبی گروہوں کے سربراہ اور لیڈران کہلاتے ہیں۔ (یا درہے کہ حکم ہمیشہ اکثریت پرہے ورنہ انہی علما میں اصل متقی، عبادت گزار اور عوام کو حق سے آگاہ کرنے والے خدا خوفی رکھنے والے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں لیکن طاقت کے مراکز انھیں اوپر نہیں آنے دیتے اور اگر یہ عملی کوشش کریں تو پھر یہ باغی کہلاتے ہیں اور زیر عتاب رہتے ہیں۔) اسی طرح سے عوام بغاوت بھی نہیں کر سکتے اور ظلم کا کھیل ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ اگر حسن اتفاق سے کوئی اصل ہیرو پیدا ہو جائے تو اسے راستے سے ہٹانے کے لیے قتل کروا دینا، پھانسی چڑھا دینا یا طاقت کے زور سے اس پاور گروپ یا ملک پر چڑھ دوڑنا کیا مشکل ہے۔ آج کل یہ مناظر بھی آسمان بڑی خاموشی سے دیکھ رہا ہے۔

(جاری ہے)

ترتیب و پیشکش: محمد رفیع صابر

میاں فاروق عنایت

Next Post

خوشبو آ نہیں سکتی کاغذ کے پھولوں سے

جمعہ فروری 12 , 2021
میں ان ہزاروں لوگوں میں سے ایک ہوں جنہوں نے اپنے بچپن میں عمران خان کو آئیڈیل لائز کیا
Shahzad Hussain Bhatti