زراعت و آب رسانی

زمین کو ضلع کے تمام رقبے کی 1927 میں اس طرح درجہ بندی کی گئی،

1-مزروعہ 978, 1049 ایکڑ۔

2-قابل زراعت بنجر 947, 1625 ایکڑ۔

3-سرکاری جنگلات 958, 0٫201 ایکڑ۔

4-دوسرے ناقابلِ زراعت علاقے 1, 361, 517 ایکڑ۔

آخری علاقہ زیادہ تر ندی نالوں، دریا اور پہاڑوں پر مشتمل ہے۔

زمین کی مٹی:

عام طور پر ضلع کی تمام زمینوں کی اہمیت ان چٹانوں کی خاصیت کی حامل ہے جو اس زمین کے نیچے تہہ در تہہ موجود ہیں۔

اٹک کے زمیندار جناب سردار ساجد محمود خان آف پنڈ فضل خان

اس طرح یا تو چونے کے پتھر کی چٹانوں یا ریتلے پتھروں والی چٹانوں کی مٹی کہلاتی ہے لیکن اس اصول میں بھی کئی قسم کی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں لہذا ایک یا دو علاقوں کی زمینوں کا ذکر کرنا ضروری ہے۔چھچھ کا وہ حصہ جو چیل ندی کے شمال میں ہے وہ ضلع کے تمام دوسرے علاقوں سے مختلف ہے۔دریائے سندھ کی نزدیکی زمینیں اچھی خاصیت کی حامل نہیں، یہ بے حد ریتلی اور پتھریلی ہیں لیکن اس علاقے کا باقی ماندہ علاقہ چھچھ کا دل کہلاتا ہے۔یہ بہت زرخیز علاقہ ہے اس کی چکنی مٹی دریائی ہے جو دریائے سندھ اور مقامی پہاڑوں سے بہہ کر آتی ہے۔یہاں پانی سطحِ زمین کے نزدیک ہے۔ کنویں زیادہ ہیں عام کھیتی باڑی کے علاؤہ کنوؤں کی زمین پر بھی کھیتی باڑی اچھی ہے۔ کنوؤں کی زمینوں پر گنا, تمباکو، مکئی اور بارانی زمینوں میں گندم کی فصل ہمیشہ اچھی ہوتی ہے۔

ایک عام ضرب المثل مشہور ہے "چھچھ آباد تے ملک غیر آباد” جس کا مطلب ہے کہ چھچھ اس وقت بھی اچھی پیداوار دیتا ہے جب کم بارشوں کی وجہ سے باقی ملک میں اچھی فصل نہ ہو کیونکہ مٹی میں قدرتی نمی موجود ہے اور سخت بارشوں میں بھی اس کی پیداوار پر زیادہ خراب اثر نہیں پڑتا اگرچہ غلہ کی مقدار کچھ گھٹ جاتی ہے۔

آبپاشی کا منظر

چیل کی زمین چیل ندی کے اطراف میں واقعہ ہے جو خاکوانی سے شمس آباد تک پھیلی ہوئی ہے۔ان زمینوں میں پانی کی زیادتی درج ذیل وجہ سے ہے:

چھچھ کا میدان اس سطح زمین سے تقریباً تین سو فٹ نیچے ہے (جس پر وہ ندی جو لارنس پور سے اٹک کی پہاڑیوں کی سمت بہہ رہی ہے) کا پانی سطحِ زمین کے بہت قریب ہے اور نیچے ہر وقت موجود ہے جس کی وجہ دریائے سندھ والا پانی ہے۔وہ بارش جو اونچے "میرا” پر ہوتی ہے اس کا پانی بھی زمین میں جذب ہو کر اس نچلے میدان کی طرف آ جاتا ہے اور ان دو پانیوں کے ملاپ سے اس میدان میں پانی اُوپر کی طرف اور "میرا” کی نچلی سطح تک آ جاتا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ پانی پھر "میرا” کی بنیادوں سے کیوں نہیں رستا،

اول تو یہ وجہ ہے کی پانی "میرا” کی نچلی سطح سے چیل کی زمین کی طرف رخ کر لیتا ہے جس کے ایک طرف کامرہ پہاڑی ہے اور دوسری طرف گند گڑھ کی پہاڑی شاخ ہے اور دوئم یہ کہ شمس آباد سے پانی سطحِ زمین سے دور ہے اور یہاں چیل گہرائی میں چلتی ہے لہذا وہ زمینیں جو چیل ندی اور "میرا” کے درمیان ہیں دائیں کنارے کی نسبت زیادہ نمدار ہیں۔

زمین پانی کے باوجود بھی بہت اچھی ہے ایسی چکنی مٹی ہے جو سوائے چند جگہوں کے سخت مٹی سے نہیں ملتی۔سردیوں میں پانی سطحِ زمین کے برابر ہو گیا اور چیل ندی تک محدود ہو گیا تو حکومت بھی مدد کو پہنچی اور ایک مکمل نکاسی آب کا منصوبہ تیار کیا گیا جو حضرو، موسیٰ اور کولتھی سے شروع ہو کر شمس آباد تک بنایا گیا۔

1925 میں حریف کی فصل بلکل ناکام ہو گئی تھی لیکن ایک سال بعد یعنی 1926 میں نکاسیِ آب کے منصوبے کی وجہ سے مکئی اور چری کی بے شمار فصل ہوئی۔1904 میں "ہٹی جھیل” تقریباً 1607 ایکڑ پر پھیلی ہوئی تھی۔1924 میں یہ بڑھ کر 1767 ایکڑ ہو گئی تھی۔

سروالہ کی ناہموار زمین.

چیل کہ کنارے سے زمین ایک اونچے ٹیلے کی شکل اختیار کر لیتی ہے، یہ علاقہ چیل اور ہرو کے درمیان بہنے والے پانی کا نظام گند گڑھ پہاڑوں کے دامن سے قبلہ بانڈی کے جنوب مشرق تک مالا گاؤں سے رومیا گاؤں اور پھر اٹک کی پہاڑیوں کے دامن تک پھیلا ہوا ہے۔

مغربی کنارہ ایک پتھریلی چٹان بناتی ہے جو گند گڑھ پہاڑوں سے نیچے کی طرف آئی ہوئی فٹ کی بلندی تک پہنچی ہے اور تحصیل کی حدود تک ختم ہو جاتی ہے اس کے بعد چٹانی بناوٹ کا علاقہ ختم ہو جاتا ہے اور مٹی کی کٹی پھٹی چوٹیاں بن جاتی ہیں پھر ان کی جگہ ریتلی مٹی ڈھیریاں لے لیتی ہیں۔

اس وادی کی شمالی ڈھلان چیل کے کنارے تک زیادہ تر کمزور مٹی کی ہے اور آہستہ آہستہ نیچے کی سمت میں پھیل جاتی ہے۔ادھر ادھر کہیں کہیں چکنی مٹی کی زمین بھی نظر آتی ہے اور آہستہ آہستہ یہ ڈھلان ختم ہو جاتی ہے یہ سطح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے جس میں ندیاں اور نالے بن جاتے ہیں جن کے کنارے اونچے اور مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔

قبلہ بانڈی سے پرے اس ڈھلان کی خاصیت بلکل مختلف ہے۔میدانی علاقے کے نزدیک زمین سخت چکنی مٹی کی ہے لیکن جونہی گند گڑھ کی شاخ نظر آتی ہے تو زمین پتھریلی ہو جاتی ہے اور پھر پہاڑی شروع ہو جاتی ہے۔

گندم کی کٹائی

پانی کے نالے کٹے پھٹے اور اونچے کھڑے کناروں والے بے ترتیبی سے بہتے ہیں ان کی تہوں میں موٹی ریت اور گند گڑھ کے چٹانی پتھر ہوتے ہیں "میرا” ہرو اور چیل کے نالوں کے درمیان نزدیکی علاقہ اور سندھ سے چند میل مرزا گاؤں سے اوپر ایک گول مول ریتلی زمین پھیلی ہوئی ہے جو مقامی زبان میں "میرا” کہلاتی ہے۔ دریائے سندھ کے نزدیک کچھ علاقہ پہاڑی اور ندی نالوں والا ہے۔

لیکن باقی ہر جگہ زمین قدرے ہموار ہے۔اس کے پانی کے نالے کم گہرائی کے نالے ہیں۔خشک سالی میں یہ علاقہ زیادہ تر نقصان اٹھاتا ہے اور کئی فصلوں کی اس میں بیجائی نہیں ہو سکتی۔اچھی بارشوں کے سال میں ساری زمین کو ہل کے نیچے لانا مشکل نہیں ہوتا، یہاں کم قیمت فصلیں بوئی جاتی ہیں اور اکثر ناکام ہوتی ہیں۔

ہرو کے نزدیک مٹی کی ریتلی خاصیت کم ہو جاتی ہے اور کچھ پتھریلی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ یہ علاقہ اکثر ٹوٹا پھوٹا ہے کیونکہ یہاں بہنے والے نالے اچانک گہرے ہو جاتے ہیں اور ان میں ملنے والی چھوٹی ندیاں بھی ناقابلِ گزر ہو جاتی ہیں سوائے چند ایک مقامات کے۔ ہرو کے جنوب میں زمین بہتر ہوتی جاتی ہے اور زمین آہستہ آہستہ نرم مٹی سے چکنی مٹی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔اس کے اوپر برسنے والے پانی کے بند باندھ کر زیادہ استعمال میں لایا جاتا ہے۔

جاری ہے …..

تصاویر کے لئے ہم سردار ساجد محمود خان آف پند فضل خان کے شکر گزار ہیں

در بارہ ثمانہ زھراء