Tag: کشمیر

  • برمنگھم میں یومِ معرکہ حق کی تقریبات 

    برمنگھم میں یومِ معرکہ حق کی تقریبات 

    برمنگھم میں یومِ معرکہ حق کی تقریبات 

    تحریر: عبدالوحید خان، برمنگھم (یوکے) 

    10 مئی ”یومِ معرکہ حق“ کی مناسبت سے پاکستان اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کیطرف سے منعقد ہونے والی معرکہ حق کی تقریبات کے سلسلے میں برطانیہ کے دوسرے نمبر پر بڑے شہر اور پاکستان سے باہر بسنے والے سب سے زیادہ پاکستانیوں کے مسکن شہرِ برمنگھم میں بھی یوم معرکہ حق کی مختلف تقریبات منعقد کی گئیں اور آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی کو شاندار طور پر منایا گیا- 

    قونصلیٹ آف پاکستان کی طرف سے مقامی ریستوران ”ٹیپو سلطان“ میں منگل کی شام معرکہ حق کے حوالے سے ایک باوقار اور شاندار تقریبِ عشائیہ کا اہتمام کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں پاکستانی کمیونٹی کی نمایاں اور سرکردہ شخصیات نے شرکت کی- 

    نظامت کے فرائض وائس قونصل جنرل بختاور میر نے سرانجام دئیے جبکہ امام محمد اسد نے تلاوت کلامِ پاک سے تقریب کا باقاعدہ آغاز کیا جسکے بعد قومی ترانہ پڑھا گیا جس کے احترام میں تمام شرکإ اپنی نشستوں کیساتھ کھڑے رہے- 

    تقریب کے میزبان قونصل جنرل فہد امجد نے استقبالیہ تقریر میں آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی کو ایک سال مکمل ہونے پر یوم معرکہ حق کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوۓ یاد دلایا کہ کس طرح پڑوسی ملک نے پہلگام واقعے کا الزام بغیر کسی تحقیق، تفتیش اور ثبوت کے پاکستان پر لگایا اور سندھ طاس معاہدہ کو جس کا گارنٹر اقوام متحدہ ہے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا اور پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر غیرجانبدارانہ تحقيقات کی پیش کش کے باوجود پاکستان پر حملہ کیا- انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے اوپر حملے کے جواب میں نہ صرف اپنا بھرپور دفاع کیا بلکہ باقاعدہ انہیں شکست سے دوچار کیا جس کے بعد بین الاقوامی برادری میں پاکستان کا وقار بلند ہوا اور مختلف ممالک بالخصوص  کنگڈم آف سعودی عریبیہ کے ساتھ مختلف سطح پر تعاون اور دو طرفہ تعلقات میں زبردست کامیابیاں ملی ہیں انہوں نے بیرون ممالک آباد پاکستانیوں بالخصوص برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کے کردار کی تعریف کی اور حالیہ عرصے میں امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستانی کردار کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوۓ حکومت پاکستان اور افواجِ پاکستان کی تعریف کی-  

    برمنگھم میں یومِ معرکہ حق کی تقریبات 

    برٹش پارلیمنٹ کے آزاد رکن بیرسٹر ایوب خان نے کہا کہ پڑوسی ملک کا بغیر کسی ثبوت اور تحقیق کے پہلگام واقعہ کا پاکستان پر الزام اور حملہ مروجہ بنیادی اصولوں کے خلاف تھا جبکہ اس دوران پاکستانی وزراء اور پارلیمانی وفد نے دنیا بھر کا دورہ کرکے نہ صرف اپنا موقف بہترین طور پر پیش کیا بلکہ دستاویزات و ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ تمام الزامات کا جواب دیا انہوں نے حالیہ ایران کے بحران میں پاکستان کے کردار کو بہت اچھا قرار دیتے ہوۓ کہا کہ اس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے- 

    کونسلر ماجد محمود نے تقریب کے انعقاد پر قونصلیٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوۓ حالیہ عرصے میں آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی کے بعد بدلتے ہوۓ پاکستان میں پی آئی اے کی براہ راست فلائٹس کی بحالی اور دیگر مثبت اقدامات کو سراہا- محمد ناصر اعوان ایم بی ای نے تمام پاکستانیوں کو یوم معرکہ حق کی مبارکباد دی اور پاکستان اور برطانیہ کے مابین تجارتی سطح پر تعلقات میں بہتری کے حوالے سے گفتگو کی-  نامزد لارڈ میئر نو منتخب کونسلر ذاکر اللہ چوہدری نے حالیہ الیکشن جیتنے والوں کو مبارکباد دی، تقریب کے انعقاد کو سراہا، معرکہ حق کی مبارکباد کے ساتھ حالیہ ایران پر حملے میں شامل نہ ہونے پر برطانوی حکومت کے فیصلے کو سراہا- 

    خالد محمود سابق ایم پی نے معرکہ حق کی کامیابیوں کو سراہتے ہوۓ 1948 میں کشمیر کی آزادی کے لۓ پاکستان کی کوششوں کو یاد کرتے ہوۓ کہا کہ اس وقت اگر ایسا نہ کیا جاتا تو آج آزادکشمیر بھی نہ ہوتا- انہوں نے پاکستان کے کردار کا حالیہ ایران جنگ بندی میں کی جانے والی کوششوں کے حوالے سے ذکر کرتے ہوۓ اسے پاکستان کی کامیابی قرار دیا اور برطانیہ کے جنگ میں شامل نہ ہونے کے فیصلے کو سراہا- 

    طاہر علی ایم پی نے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ اور امریکہ پاکستان کی صلاحیتوں کے معترف ہیں اور عالمی سطح پر پاکستان کا کردار بڑھ گیا ہے اور پاکستان مزید مضبوط ہو گا۔ 

    کونسلر شفیق شاہ سابق لارڈ میئر نے مبارکباد دیتے ہوۓ کہا کہ پاکستان کے لۓ ساری کمیونٹی اکٹھی ہے یہاں ہم ایک دوسرے کے خلاف مختلف پارٹیوں کی طرف سے الیکشن بھی لڑتے ہیں اور اپنا اپنا کرار ادا کرتے ہیں لیکن پاکستان کے لۓ سب کو اکٹھے ہونا چاہئے-

    مسٹر شوکت علی کونسلر لبرل ڈیموکریٹ نے کہا کہ گزشتہ سال بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ ہوئی،  1947 سے کشمیر ایشو حل نہیں کیا گیا، مقبوضہ کشمیری انڈیا کی حکمرانی کو تسلیم نہہں کرتے ہم کشمیری ہیں اور پاکستان کو مضبوط فوج کی ضرورت ہے، پاکستان میں جو بھی حکومت ہو متحد رہیں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عراق اور شام میں کیا ہوا۔ 

    راجہ محمد اشتیاق چئیرمین قائداعظم ٹرسٹ نے پاکستانی حکومت بالخصوص وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف، وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا نام لے کر حالیہ ایران جنگ بندی میں انکے کردار کی تعریف کی اور معرکہ حق کی کامیابی میں پاکستانی افواج کی تعریف کی- انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستانی کوششوں کے معترف ہیں اور میں جو چالیس سال سے کہہ رہا تھا کہ پاکستان کو کسی کی نہیں دنیا کو پاکستان کی ضرورت ہے وہ بات سچ ثابت ہو رہی ہے- اس موقع پر انہوں نے پاکستان زندہ باد اور افواجِ پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لگواۓ- 

    پیر طیب الرحمان چئیرمین قادریہ ٹرسٹ اسلامک سنٹر آف بریٹن نے وطن عزیز پاکستان کے استحکام، ترقی، خوشحالی اور مضبوطی کے لۓ خصوصی دعا کروائی- 

    قائداعظم ٹرسٹ یوکے کے زیرِاہتمام والسل کی معروف کاروباری شخصیت صوفی گل نواز کی میزبانی میں مقامی ریستوران ”رائل پنجاب“ میں آپریشن “بنیان مرصوص” کی تاریخی کامیابی کو ایک سال مکمل ہونے پر ”یومِ معرکہ حق“ کی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک جاوید اعوان ایڈیشنل اٹارنی جنرل آف پاکستان، ممتاز روحانی شخصیات پیر خالد سلطان القادری مرکزی ناظمِ اعلیٰ جماعت اہلسنت پاکستان (اوستہ محمد) بلوچستان، پیر عثمان غنی آف بہاولپور اور راجہ محمد اشتیاق چئیرمین قائداعظم ٹرسٹ یوکے نے بطورِ مہمان خصوصی جبکہ چوہدری لیاقت علی، محمد یونس بھٹی، چوہدری صغیر حسین، ماسٹر محمد لطیف، خلیفہ آفتاب سرمد، عبدالوحید خان، رب نواز چغتائی ، ابرار مغل، محمد جنید امجد، راجہ حقنواز جانباز، چوہدری شیراز، چیف انجینئر اعجاز احمد، ابراہیم گل نواز اور ملک ممتاز سمیت دیگر مختلف شعبہ ہاۓ زندگی کی نمایاں شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی-

    تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جسکی سعادت ماسٹر محمد لطیف نے حاصل کی اور تلاوت کے بعد تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے علاوه ملی شاعری سے پاکستانی قوم اور افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا- خلیفہ آفتاب سرمد نے پنجابی میں اپنے نعتیہ اشعار سناۓ اور آقاۓ دوجہاں خاتم الانبیإ حضرت محمدﷺ سے اپنی والہانہ محبت اور عشق کا اظہار کیا- 

    مہمانان خصوصی اور دیگر مقررین نے افواجِ پاکستان کی بے مثال قربانیوں، بہادری، دلیری اور ملکی دفاع میں کردار، بالخصوص آپریشن بنیان مرصوص میں شاندار کارکردگی پر پاک فوج کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔  مقررین نے کہا کہ پہلے بھی پوری قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑی تھی اور آئندہ بھی اگر کسی نے وطن عزیز کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا اور کوئی ناپاک جسارت کی تو پوری قوم اپنی بہار افواج کیساتھ شانہ بشانہ ہوگی۔ 

    اس موقع پر شرکاء نے پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے بھی لگائے اور  حکومت کی خارجہ پالیسی اور ملکی وقار میں بین الاقوامی سطح پر اضافے پر حکومتی پالیسیوں کو سراہا گیا- تقریب کے اختتام پر پیر خالد سلطان القادری نے تمام شرکإ، اور وطنِ عزیز پاکستان اور افواجِ پاکستان کیلئے خصوصی دعا کروائی-

    کشمیر رابطہ کمیٹی کے زیر اہتمام صدر فہیم کیانی کی صدارت میں یومِ معرکہ حق کے حوالے سے “بنیان مرصوص” کی کامیابی کی یاد میں ایک تقریب “کشمیر گلوبلائزیشن“ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں کمیونٹی کی مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔

    اس موقع پر کشمیر رابطہ کمیٹی کے صدر فہیم کیانی، قائداعظم ٹرسٹ کے چئیرمین راجہ محمد اشتیاق، پیپلزپارٹی برطانیہ کے رہنما واجد علی برکی، نومنتخب کونسلر شہریار کیانی، مسلم لیگ نون برطانیہ کے رہنما فاروق القادری، تحریک کشمیر برطانیہ کے سینئر رہنما حاجی محمد غالب، راجہ اظہر کیانی اور دیگر مقررین نے “بنیان مرصوص” کی کامیابی پر افواج پاکستان کی جدوجہد اور قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور حکومت پاکستان کے اقدامات کو سراہا-

    مقررین نے آزادی کشمیر کی جدوجہد اور تحریک کے حوالے سے خدمات سرانجام دینے والوں کو قومی محسن قرار دیتے ہوۓ کہا کہ قومیں اپنے محسنوں کو یاد رکھ کر ہی ترقی کی راہ پر گامزن رہتی ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو بزرگوں کی مثبت تعلیمات، اتحاد، یگانگت اور خدمتِ خلق کے جذبے سے روشناس کرایا جاۓ تاکہ معاشرے میں باہمی احترام اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ تقریب کے اختتام پر “بنیان مرصوص” کے شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا کی گئی- (ختم شد)

  • عاصم بخاری کی شاعری کا ایک عنوان گاؤں نورنگا

    عاصم بخاری کی شاعری کا ایک عنوان گاؤں نورنگا

    عاصم بخاری کی شاعری کا ایک عنوان گاؤں نورنگا

    ۔۔۔۔۔۔۔
    تجزیہ
    (راحت امیر نیازی میانوالی)

    سادات اور نورنگا سے قلبی لگاؤ ، محبت اور احترام ہمارے اجداد سے ہمیں ورثے میں ملا ہے۔اس موضوع پر لکھنا فرض تھا سو الحمد للہ اس فرض کی تکمیل کی توفیق ہوئی۔میں نے اپنے دادا اور والد ِ گرامی مہر خان بلچ سے نورنگا اور سادات ِ نورنگا کے بارے بہت سے محبت و عقیدت بھرے واقعات سنے۔ ہمارے بزرگ ہیڈ ماسٹر عطا محمد شاہ کی بے لوث تعلمی خدمات سے بہت متاثر تھے۔جن کا ذکر و اعتراف محافل میں برملا کرتے تھے۔ عاصم بخاری سے رابطہ اور دہائیوں پر مشتمل تعلق ، اچھی رفاقت بھی سادات ِ نورنگا کی نسبت ایک کڑی ہے۔
    اگر عاصم بخاری کی شاعری کے حوالے سے بات کروں تو میں نے عاصم بخاری کی شخصیت کا بہت ہی قریب سے مطالعہ کیا ہے ۔انہیں نیچر فطرت اور قدرت کے ساتھ ساتھ اپنی مٹی علاقہ اور دیس کے ساتھ پیار اور محبت ورغبت ملتی ہے۔آپ اسے مقامیت کانام دیں یا کوئی اور آپ پر چھوڑتے ہیں۔
    گاؤں نورنگا شیر دریا ، دریائے سندھ کے مشرقی کنارے موچھ کے قریب واقع ہے یا تھا یہ بھی فیصلہ قاری اور ناظر نے کرنا ہے۔ منظوم توجیہہ کچھ ایسے دو اشعار کی صورت میں دیتے ہیں

    دِل میں آباد آج بھی اس کے
    چِھن گیا کب کا گر چہ "نورنگا
    ایک اور شعر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ("اپنا نورنگا ” کے نام)

    مَیں وہ ہوں جس نے ” اپنا نورنگا "
    اپنی آنکھوں سے ڈوبتے دیکھا

    عاصم بخاری کی شاعری کا ایک عنوان گاؤں نورنگا

    اس گاوں سے تعلق اور عاصم کا کیا رشتہ ہے وہ ایک شعر کی صورت یوں بیان کرتے ہیں
    ایک شعر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (نورنگا کے نام)

    گاؤں”ماں جی” کا ، ہے یہ آبائی
    کیوں نہ بھائے ہمیں یہ "نورنگا”
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عاصم بخاری کی شاعری میں رومانویت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔وہ روایت پرست بھی دکھائی دیتے ہیں۔اقدار کی پاس داری اور اس گاوں کی شرافت اور لیاقت و محنت کا پرچار و اعتراف بھی لازمی جانتے ہیں تاکہ ان اقدار پر زمانہ بھی عمل پیرا ہونے کی کوشش کرے۔
    گاؤں نورنگا ۔۔۔۔میانوالی کے نام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    (معرّیٰ نظم)

    میری پہچان ہے لیاقت میں
    میری پہچان ہے شرافت میں
    میری پہچان ہے زمانے میں
    لب ِ دریا یہ گاؤں نورنگا

    ایک شعر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بخاری کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ عمیق ہے۔اس شعر میں صنعت ِتلمیح کا استعمال کرتے ہوئے واقعاتی مماثلت کے ساتھ ساتھ ذو معنوی پیرائے میں بات کرنے کی خوب صورت انداز میں سعی کی ہے۔ چوں کہ موسم ِ گرما میں سیلاب کی زد میں اکثر و بیشتر یہ گاوں برباد ہوتا رہا۔اس کے نام نورنگا کی وجہء تسمیہ بھی یہی بتائی جاتی ہے کہ یہ نویں بار دریا کی بربادی کے بعد آباد ہونے پر نورنگا کہلایا۔
    شعر
    (دریا بُرد گاؤں نورنگا میانوالی کے نام)
    ۔۔۔۔۔۔۔
    "نورنگا” کا دل ذکر کرے ذہن ہے کہتا
    "سادات” کو راس آتے نہیں، "دریا کنارے”
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسی مزاج کی ترجمانی کرتا ایک شعر جس میں حُب الوطنی ، جدائی کے اور دِلی کے جیسے بربادی کا ذکر کچھ اس انداز میں کرتے ہیں۔
    شعر
    دِلی کے جیسے وسیب کے اُجڑنے کے دُکھ کا اظہار یوں کرتے ہیں۔
    شعر
    دِل میں آباد آج بھی اس کے
    چِھن گیا کب کا گر چہ "نورنگا”

    ایک شعر اسی مزاج کا غماز
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ("اپنا نورنگا ” کے نام)

    مَیں وہ ہوں جس نے ” اپنا نورنگا "
    اپنی آنکھوں سے ڈوبتے دیکھا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ناسٹلجیا اور ماضی پرستی بھی عاصم بخاری کی شاعری میں پائی جاتی ہے۔اور یاد ِ ماضی انہیں پل پل ستاتی دکھائی دیتی ہے۔
    "نورنگا "…. گاؤ ں کے نام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (ایک نظم)
    لے جاتے ہیں ماضی میں ہمیں دریا کنارے
    اشعار بخاری ترے ، ” نورنگا ” کے بارے
    ۔۔۔۔۔
    عاصم بخاری ایک حساس اور دھڑکنے والا دل رکھتے ہیں۔کسی کے دکھ درد پر ان کا دل کُڑھتا ہے۔ہر سال وطن ِ عزیز کی بربادی اور سیلابی صورت ِ حال بالعموم اور گاؤں نورنگا کی ہر سال سیلاب کے سبب بربادی بالخصوص انہیں بے چین کرتی ہے۔
    ایک شعر دیکھیں۔

    برسات کا موسم وہ ستمبر کا مہینہ
    دریا کے کٹاؤ کے وہ دلدوز نظارے
    ۔۔۔۔۔
    اگرچہ ناوسائلی کا دور دورہ تھا۔کوئی سہولت نہ تھی۔مگر اس گاؤں سے وابستہ اک ایک یاد انہیں تڑپاتی ہے۔
    شعر
    بجلی تھی نہ رستےتھے سکوں چین بڑا تھا
    یاد آ تے ہیں رہ رہ کے وہی لمحے گزارے
    ۔۔۔۔
    اہالیان ِ نورنگا کو دنیا گھومنے کا موقع ملا۔مگر میانوالی اور یہ گاوں کہیں نہیں بھولا۔یہ مٹی کی محبت اور حُب الوطنی کی دلیل ہے۔ایک اور شعر دیکھیں

    دنیا کے کئی دیکھے ممالک میں رہے ہم
    ہیں نقش مگر دل پہ ابھی تیرے نظارے
    ۔۔۔
    دیس کے بھی ہرچھوٹے بڑے شہر میں ایک عرصہ رہنے کا اتفاق ہوا مگر گاؤں کی یادیں ہمراہ ہیں۔
    شعر ملاحظہ ہو۔

    لاہور کراچی میں ہے اک عمر گزاری
    اترے نہیں منظر ترے اس دل سے پیارے
    ۔۔۔
    شہروں میں رہنے کے باوجود اپنے گاؤں کی سی محبت سادگی اور خلوص نہیں ملا۔اپنے گاوں کا اخلاص اپنا تھا۔
    شعر دیکھیں۔
    ہم جولی وہ یاد آ تے ہیں ہم سائے بھی اکثر
    کیا سادہ و مخلص وہ سبھی یار ہمارے
    گاؤں نورنگا میں اگرچہ بجلی نہ تھی رستے کچے تھے گھر عارضی تھی۔گویا ضروریات زندگی بھی فراوانی سے میسر نہ تھیں مگر دل ہے کہ ان ہی یادوں کے سہارے جی رہا ہے۔وطن کے ساتھ یہی تو وطن کشمیر والی بات ہے۔کمال منظر کشی شعر میں ملاحظہ ہو۔
    ۔۔۔۔۔۔
    چمنی بھی نہیں بھولی ابھی کچے مکاں بھی
    اب جینا ہے عاصم جی انہی یادوں سہارے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسی مزاج کا حامل ایک اور شعر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دریائے سندھ کنارے آ باد گاؤں۔۔۔”نورنگہ”کے نام

    وہ جہاں بھی ، کہیں چلا جائے
    دل میں بستا ہے، اس کے نور نگہ
    عاصم بخاری نفسیات کا گہرا شعور بھی رکھتے ہیں ۔یہی وجہ کہ خود کلامی کے انداز میں نورنگا سے وابستگی کا اظہار ایک قطعہ کی صورت میں کرتے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سندھ کنارے واقع گاؤ ں۔۔۔ "نورنگا” کے نام

    ملتا ہے نفسیات ، میں یہ ہی
    خاص کا نام ، لب پہ آ تا ہے
    پیار "نورنگا” سے اسے عاصم
    تذکرہ ہر گھڑی ، بتاتا ہے

    عاصم بخاری میانوالی

    "نورنگا "…. گاؤ ں کے نام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اہالیان ِ نورنگا کے دلوں میں بھولی بسری یادوں کے تاروں کو کس خوب صورتی سے جھیڑ کر آج سے بہت سال پیچھے ماضی میں لے جاتے ہیں۔شعور کی رو کا کمال برتاؤ
    ایک شعر میں

    لے جاتے ہیں ماضی میں ہمیں دریا کنارے
    اشعار بخاری ترے ، ” نورنگا ” کے بارے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    آخر میں ایک محاکاتی اور مجموعی تاثر قائم کرتی عاصم بخاری کی ایک خوب صورت نظم
    اہالیان ِ نورنگا کے نام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    فخر ہے میرا مان ، نورنگا
    میرا دل میری جان، نورنگا
    ۔۔۔۔۔
    اہل ِدنیا کو کیسے سمجھاؤں
    گاؤں کب اک جہان ، نورنگا
    ۔۔۔۔
    ہرطرف جس کے پانی ہی پانی
    دریا کے در میان ، نورنگا
    ۔۔۔۔۔
    تیرے باسی کہاں ، کہاں پہنچے
    تجھ کو دی رب نے شان نورنگا
    ۔۔۔
    لائق ِ داد محنتی سچ تو
    تیرا اک اک جوان نورنگا
    ۔۔۔۔۔
    تیری شہرت کے چار سُو چرچے
    تجھ پہ رب مہربان ، نورنگا
    ۔۔۔۔۔۔
    تُو سبب ہے مرے تعارف کا
    تُو ہی ہے میرا مان ، نورنگا
    ۔۔۔۔۔۔
    دُھن کے عاصم بخاری پکے تھے
    گو تھے کچے مکان ، نورنگا
    ۔۔۔۔۔
    دُھن کے عاصم بخاری پکے تھے
    گو تھے کچے مکان ، نورنگا
    ***

  • پہاڑی زبان: تاریخ اور بقا

    پہاڑی زبان: تاریخ اور بقا

    پہاڑی زبان: تاریخ اور بقا


    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار،مظفرآباد
    پہاڑی زبان ایک قدیم لسانی گروہ ہے جو ہمالیہ کے پہاڑی علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ اس زبان کا تعلق ہند آریائی خاندان سے ہے۔ پہاڑی زبان کی بنیاد سنسکرت اور پراکرت جیسی قدیم زبانوں سے ملتی ہےمگر وقت کے ساتھ جغرافیائی دوری، مقامی رسم و رواج اور ثقافتی اثرات نے اسے مختلف بولیوں میں تقسیم کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف علاقوں میں اس کے الفاظ، تلفظ اور اندازِ بیان میں فرق پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر “میں جا رہا ہوں” کو پہاڑی میں میں جانا آں ، میں جلیاں آں یا میں جلدا آں کہا جاتا ہے، جب کہ “تم کہاں جا رہے ہو؟” کو تُسی کتھے جاندے او؟، تسی کدھر جلدے او؟ تسی کُہر جلدے او؟ یا تو کتھے جانا اے؟ کہا جاتا ہے۔ بعض علاقوں میں الفاظ کے آخر میں نرم آوازیں شامل کی جاتی ہیں جو اس زبان کو ایک مخصوص موسیقیت عطا کرتی ہیں۔ جیسے مظفرآباد کے پہاڑی لہجے میں س کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ نہ کرو کو نہ کرس وغیرہ ۔
    آزاد کشمیر میں بولی جانے والی پہاڑی زبان اپنی ایک منفرد پہچان رکھتی ہے۔ اس میں اردو، پنجابی اور کشمیری زبانوں کے اثرات شامل ہیں لیکن اس کے باوجود اس کا لہجہ نرم، میٹھا اور دل کش ہوتا ہے۔ روزمرہ گفتگو میں اس کی سادگی اور فطری پن نمایاں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر “مجھے پانی دو” کو مُگو پانڑی دے، وہ آیا تھا کو او آیا آسا اور “ہم کھانا کھا رہے ہیں” کو "اسیں رُٹی کھاندے آں” کہا جاتا ہے۔ اسی طرح محبت اور اپنائیت کے اظہار کے لیے “پُتّر” (بیٹا) اور “تیہ” (بیٹی) جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ مزید برآں پہاڑی زبان میں محاورات اور کہاوتوں کا بھی خاصا ذخیرہ موجود ہے جیسے جمدی دا انگور دسدا آ، ہووا کھوتی پہار نہ چاوا وغیرہ جو مقامی دانش اور تجربے کی عکاسی کرتے ہیں۔ میرپورہ نیلم میں راجا علی اکبر صاحب (سابق مدرس) کے پاس پہاڑی کہاوتوں کا ایک ذخیرہ موجود ہے میں اکثر ان سے کہتا کہ انھیں لکھیں تا کہ آئندہ نسلوں کے لیے یہ محفوظ ہو سکیں۔
    پہاڑی زبان کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ ہے کہ یہ صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ثقافتی ورثہ ہے۔ اس کے ذریعے سے لوک گیت، کہانیاں، کہاوتیں اور رسم و رواج نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔ پہاڑی لوک گیتوں میں محبت، جدائی، فطرت اور انسانی جذبات کی خوب صورت عکاسی کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر قینچی ایک مکمل تہذیب کی عکاسی نظم ہے جو پہاڑی ادب کا اثاثہ ہے۔”قینچی” نہ صرف زبان کی مٹھاس کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس کے جذباتی پہلو کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ یہ زبان لوگوں کی پہچان کو مضبوط کرتی ہے اور انھیں اپنی ثقافت اور روایات سے جوڑے رکھتی ہے۔
    تاہم موجودہ دور میں پہاڑی زبان کو کئی خطرات لاحق ہیں۔ سب سے بڑا خطرہ اردو اور انگریزی کے بڑھتے ہوئے اثرات ہیں جن کی وجہ سے نئی نسل اپنی مادری زبان سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں اس زبان کو مناسب مقام نہ ملنا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ شہری زندگی، میڈیا اور جدید طرزِ زندگی نے بھی اس کے استعمال کو محدود کر دیا ہے۔ اکثر(زیادہ تر) گھرانوں میں والدین خود بچوں سے پہاڑی کی بہ جائے اردو میں گفتگو کرتے ہیں جس سے زبان کی منتقلی کا عمل متاثر ہوتا ہے اور نئی نسل اس سے ناآشنا رہ جاتی ہے۔

    پہاڑی زبان: تاریخ اور بقا


    ان خطرات کے باوجود پہاڑی زبان کی بقا ممکن ہے بشرطےکہ اس کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ سب سے پہلے گھریلو سطح پر اس زبان کے استعمال کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ بچے اپنی مادری زبان سے واقف ہوں۔ تعلیمی اداروں میں اسے بہ طور مضمون شامل کیا جا سکتا ہے جب کہ ادبی سرگرمیوں، لوک میلوں اور ثقافتی تقریبات کے ذریعے سےبھی اس کی ترویج کی جا سکتی ہے۔ جدید دور میں سوشل میڈیا، یوٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نہایت مؤثر ذرائع ہیں جن سے پہاڑی زبان میں مواد تخلیق کر کے اسے نئی نسل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
    پہاڑی زبان کا مستقبل اسی صورت میں روشن ہو سکتا ہے جب ہم اس کی قدر کو پہچانیں اور اسے اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ اس تناظر میں ذاتی سطح پر بھی رویوں کی تبدیلی نہایت ضروری ہے۔ آزاد کشمیر میں راولاکوٹ سے ڈاکٹر صغیر خان، محمد حمید کامران اور حافظ ممتاز غزنی اس زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پہاڑی میری مادری زبان ہے اور یہ آزاد کشمیر میں مختلف لہجوں کے ساتھ بولی جانے والی ایک بڑی زبان ہے۔ میں اردو کی اہمیت سے نہ انکار کرتا ہوں اور نہ ہی اس سے انحراف ممکن ہے کیوں کہ اردو ہماری قومی اور ابلاغ کی زبان ہے۔ تاہم مادری اور مقامی زبان ہونے کی حیثیت سے پہاڑی سے ایک فطری محبت وابستہ ہے۔ میں خود اردو کا طالب علم اور استاذ ہونے کے باوجود اپنے بچوں سے پہاڑی زبان میں گفتگو کرتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ مادری زبان گھر سے ہی سیکھائی جا سکتی ہے۔
    یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ اردو سیکھنا نسبتاً آسان ہے ہمارے تعلیمی ادارے، اخبارات اور کتب اس زبان میں موجود ہیں لیکن پہاڑی زبان سکھانے کا کوئی باقاعدہ نظام نہیں۔ یہ صرف گھر کے ماحول میں ہی منتقل ہو سکتی ہے۔ ماضی میں ہمارے بزرگ، دادا دادی اور والدین بچوں سے پہاڑی میں گفتگو کرتے تھے جس سے زبان فطری انداز میں نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔ مگر آج حالات بدل چکے ہیں ہم پہاڑی بولنے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات اسے کم تر سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ ہم غلط اردو بولنے میں تو شرمندگی محسوس نہیں کرتے مگر اپنی مادری زبان بولنے والے کو ہریجن اورکم تر سمجھنے لگتے ہیں۔
    مجھے ذاتی طور پر اس بات پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ایک اردو کے استاذ ہونے کے باوجود میں پہاڑی کیوں بولتا ہوں حال آں کہ حقیقت یہ ہے کہ زبانیں ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ مجھے اپنے زمانۂ طالب علمی کا ایک واقعہ بھی یاد آتا ہے جب ہمارے دوست زرید اعوان جو انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی، اسلام آباد میں انگریزی ادب کے طالب علم تھے اپنے غیر ملکی دوستوں سے بھی پہاڑی زبان میں بات کرتے اور فخر سے کہتے تھے کہ اگر ہم سے تعلق رکھنا ہے تو ہماری زبان بھی سیکھنی ہو گی۔ یہ طرزِ فکر دراصل اپنی شناخت پر فخر کی علامت ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ پہاڑی صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب، ثقافت اور طرزِ زندگی ہے۔ اس کی حفاظت دراصل اپنی شناخت کی حفاظت ہے۔ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم اردو اور انگریزی ضرور سیکھیں گےلیکن اپنی ماں بولی کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ اگر ہم نے آج اس زبان کو نظر انداز کیا تو آنے والی نسلیں نہ صرف ایک زبان بلکہ اپنی تاریخ، ثقافت اور پہچان سے بھی محروم ہو جائیں گی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اپنی مادری زبان کو اپنائیں، اس پر فخر کریں اور اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کریں تاکہ یہ خوب صورت ورثہ ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے۔

  • تحقیق کی دنیا کا روشن نام

    تحقیق کی دنیا کا روشن نام

    تحقیق کی دنیا کا روشن نام


    از: ڈاکٹر صائمہ خان
    موجودہ معاشرہ جہاں ادب و کتاب سے بہ تدریج دور ہوتا جا رہا ہے وہیں کچھ ایسے باصلاحیت اور علم دوست انسان بھی موجود ہیں جن کی وابستگی اس زوال پذیر روایت کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔ یہ امید کی کرن ہیں کہ مستقبل میں یہی افراد علم و ادب کی شمع کو روشن رکھنے کا فریضہ خلوص اور ذمہ داری کے ساتھ سرانجام دیتے رہیں گے۔ انہی روشن ناموں میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا ہے جو اب تحقیق و ادب کی دنیا میں ایک معتبر حوالہ بن چکے ہیں۔
    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار آزاد کشمیر شعبۂ تعلیمِ کالجز میں بہ طور لیکچرر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی اعلا تعلیم نیشنل یونی ورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد سے حاصل کی، جہاں سے ایم۔اے اور ایم۔فل کے بعد انھوں نے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ ان کا تحقیقی موضوع “اردو میں املا اور تلفظ کے مباحث: لسانی محققین کا تنقیدی و تقابلی مطالعہ” تھا۔یہ مقالہ اردو لسانیات کے ایک نہایت اہم اور بنیادی پہلو پر ایک وقیع اضافہ ہے۔
    علمی و ادبی خدمات کے میدان میں ڈاکٹر فگار نہایت متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ گورنمنٹ کالج میرپورہ ، نیلم کے ادبی مجلے “بساط” کے مدیرِ اعلا اور گرین ایرا ہائی اسکول مظفرآباد کے مجلے “کاوش” کے اعزازی مدیرِ اعلا کی ذمہ داریاں بھی احسن طریقے سے نبھا چکے ہیں۔ علاوہ ازیں گورنمنٹ بوائز انٹر کالج ٹھیریاں مظفرآباد کے رسالے فن تراش کی ادارت بھی انہی کی ذمے داری ہے۔ضلع نیلم کی تاریخ کا پہلا کالج میگزین”بساط” ان ہی کی محنت اور کاوشوں کا نتیجہ ہے جو ان کی ادبی بصیرت کا روشن ثبوت ہے۔
    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق ادب کے اس قبیلے سے ہے جس کے لیے اردو زبان محض ایک ذریعۂ اظہار نہیں بلکہ ایک طرزِ حیات ہے۔ انھوں نے اردو زبان و ادب کے فروغ کو اپنا نصب العین بنا رکھا ہےاور یہی وجہ ہے کہ ملک کے نام ور ادیب اور شعرا بھی ان کی کاوشوں کے معترف ہیں۔ اگر انھیں اردو کا سچا عاشق کہا جائے تو یہ ہرگز مبالغہ نہ ہوگا۔ وہ علم و ادب کا ایسا دریا ہیں جو تشنگانِ علم کو سیراب کر رہا ہے۔
    اگرچہ ڈاکٹر فگار بہ یک وقت شاعر، ادیب، کالم نگار، نقاد اور محقق ہیں مگر ان کی اصل پہچان ایک محقق کی حیثیت سے قائم ہوئی ہے۔ وہ تحقیق میں غیر معمولی احتیاط اور دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کسی بھی لفظ یا شعر کی تصدیق کے لیے مختلف مآخذ تک رسائی حاصل کرنا، ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لینا اور مستند نتائج تک پہنچنا ان کا خاصہ ہے۔ اگر کوئی مشتبہ شعر یا متن ان کی نظر سے گزر جائے تو وہ اس وقت تک مطمئن نہیں ہوتے جب تک اس کی حقیقت تک نہ پہنچ جائیں خواہ اس کے لیے انھیں طویل مسافت ہی کیوں نہ طے کرنی پڑے۔

    تحقیق کی دنیا کا روشن نام


    ان کی یہی تحقیق پسندی اور ادب دوستی انھیں اہلِ علم کے حلقوں میں ممتاز بناتی ہے۔سن کی تحقیقی خدمات پر پشاور یونی ورسٹی سے تحقیقی مقالہ "فرہاد احمد فگار بہ طور محقق” کے عنوان سے لکھا جا چکا ہے۔ انھوں نے بڑے نام ور ادبا اور شعرا سے فیض حاصل کیا اور اپنی علمی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو زبان کی اصلاح اور دفاع کا جذبہ بھی ہےجو ان کے تحقیقی موضوع سے بہ خوبی ظاہر ہوتا ہے۔
    تحقیق کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر فگار ایک عمدہ شاعر بھی ہیں۔ ان کی شاعری میں فکری گہرائی، سماجی شعور اور جذباتی سچائی نمایاں ہے۔ وہ ہر حال میں شعر کہنے کا ذوق رکھتے ہیں۔ شہدائے اسلام کے حوالے سے ان کا یہ شعر خاص طور پر مقبول ہے:
    شمعِ اسلام جس سے فروزاں ہوئی
    وہ لہو مصطفیٰ کے گھرانے کا ہے
    اسی طرح معاشرتی ناہمواریوں پر ان کی تنقیدی نظر بھی قابلِ داد ہے:
    مزدوروں کے نام پہ اب کے بھی
    کچھ لوگوں نے صرف سیاست کی
    اگرچہ ان کا شعری سفر ابھی جاری ہے، تاہم اس میں روشن امکانات واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کا اعتراف علمی و ادبی حلقوں میں کیا جا رہا ہے۔
    تحقیق ایک بحرِ بے کراں ہے، جس میں اتر کر اس کی گہرائی تک پہنچنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ایک سچا محقق وہی ہے جو اس سمندر کی تِہ تک جا کر نایاب موتیوں کو تلاش کرے اور انھیں اہلِ ادب کے سامنے پیش کرے۔ ڈاکٹر فرہاد احمد فگار اس کٹھن سفر کو جس عزم، محنت اور خلوص سے طے کر رہے ہیں وہ قابلِ تحسین ہے۔
    ان کی شائع شدہ تصانیف “احمد عطا اللہ کی غزل گوئی” اور “بزمِ فگار” ان کی تحقیقی کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جب کہ ڈاکٹر افتخار مغل کی کتاب “آزاد کشمیر میں اردو شاعری” کو مرتب اور شائع کروانا بھی ان کا اہم کارنامہ ہے۔ ان کی شاعری میں تحقیق کا رنگ ملاحظہ ہو:
    تحقیق کس جگہ ہوئی اور کس جگہ نہیں
    اس باب میں بھی تھوڑی تحقیق ہو نہ جائے
    اسی طرح بیٹیوں سے محبت اور گھریلو فضا کی خوب صورت ترجمانی ان کے اس شعر میں جھلکتی ہے:
    اداسیوں سے اٹے ہوں گے سب در و دیوار
    جو آنگنوں میں ہمارے نہ بیٹیاں بولیں
    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار ایک ایسے تخلیق کار ہیں جو اپنی دھن میں مگن رہتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں عجز، انکساری اور سادگی نمایاں ہے، جو ان کے علمی وقار کو مزید جِلا بخشتی ہے۔
    بلاشبہ ڈاکٹر فرہاد احمد فگار تحقیق کی دنیا کا ایک روشن نام ہیں اور اردو زبان کی بقا و ترقی کی ایک مضبوط امید بھی۔

  • مبارک ہو ذوالفقار بھائی

    مبارک ہو ذوالفقار بھائی

    مبارک ہو ذوالفقار بھائی

    کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو بنا مانگے مل جاتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ زندگی کا لازمی حصہ بن جاتے ہیں۔ میرے ہم زلف جناب ذوالفقار احمد قریشی بھی میرے لیے کچھ ایسے ہی ثابت ہوئے۔ سچ پوچھیں تو میں انھیں تب سے جانتا ہوں جب سے اپنی اہلیہ کو جانتا ہوں۔گویا یوں سمجھیے کہ شادی کے ساتھ جو “بونس پیکج” نصیب ہوا اس میں ایک نہایت اچھا انسان بھی شامل تھا۔ وقت کے ساتھ اندازہ ہوا کہ یہ بونس کسی معمولی درجے کا نہیں بلکہ انسانی اوصاف کا ایک پورا خزانہ ہے۔
    ذوالفقار بھائی کی شخصیت میں سادگی، اخلاقیات اور ہم دردی اس طرح رچی بسی ہیں جیسے کسی قدیم صندوق میں رکھی خوشبو برسوں تک مہکتی رہتی ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے لیے کسی کی مدد کرنا محض ایک عمل نہیں بلکہ فطرت ہے۔ جاننے والا ہو یا اجنبی جہاں تک ممکن ہو اس کی اعانت کر کے دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں۔
    مجھے آج بھی پانچ چھے سال پرانا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ ایک دن ذوالفقار بھائی کی کال آئی کہ “گھر آؤ، ذرا ضروری کام ہے۔” میں سمجھا شاید کوئی سنجیدہ معاملہ درپیش ہوگا مگر جب گھر پہنچا تو منظر کچھ اور ہی تھا۔ سامنے پرست میں سول اور بام جیسی نایاب اور لذیذ مچھلیاں رکھی ہوئی تھیں۔ تازہ مچھلی بھی اور وہ بھی ایسی کہ دیکھتے ہی منھ میں پانی آ جائے۔ میں نے حیرت سے پوچھا کہ یہ کہاں سے آ گئی؟
    معلوم ہوا کہ شیخوپورہ سے کوئی شخص لایا ہے۔ قصہ یہ تھا کہ گزشتہ برس وہ آدمی مظفرآباد آ رہا تھا کہ برار کوٹ چوکی پر اسے بلاوجہ روک لیا گیا اور اس سے بلاوجہ تنگ کیا جانے لگا۔ وہ پریشانی کے عالم میں کھڑا تھا کہ کسی مقامی بھلے مانس نے اس کی حالت دیکھ کر اسے ذوالفقار بھائی کا نمبر دے دیا۔
    رات کا وقت تھا اس وقت جب اکثر لوگ اپنے کسی قریبی عزیز کے لیے بھی گھر سے نکلنے میں تامل کرتے ہیں مگر ذوالفقار بھائی فوراً وہاں پہنچ گئے۔ انھوں نے نہ صرف اس اجنبی شخص کی دل جوئی کی بلکہ معاملہ سلجھا کر اسے اس پریشانی سے نجات دلائی۔ شاید اسی احسان کے اظہار کے طور پر وہ شخص یہ نایاب مچھلیاں لے کر آیا تھا۔
    ذوالفقار بھائی کی سرشت میں ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ مصلحتوں کے اس دور میں یہ وصف کم کم دیکھنے کو ملتا ہے۔

    مبارک ہو ذوالفقار بھائی


    مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب پبلک سروس کمیشن میں کامیابی کے بعد میرا پہلا تقرر گورنمنٹ کالج میرپورہ میں کر دیا گیا تو ذوالفقار بھائی کو جیسے چین نہ آیا۔ ان کے علم میں یہ بات تھی کہ میری تجویز دراصل انوار شریف کالج کے لیے ارسال ہوئی تھی۔ انھوں نے اسے ناانصافی سمجھا اور اپنے طور پر بہت مساعی کیں۔ کبھی سیکرٹریٹ کے چکر لگائے اور کبھی نظامت کے دفتر کے دروازے کھٹکھٹائے۔ میں اس وقت سرکاری ملازمت میں بالکل نیا تھا اور دفتری پیچیدگیوں سے قطعی ناواقف مگر ذوالفقار بھائی میرے ساتھ کھڑے رہے۔
    انھوں نے اپنی بساط کے مطابق بہت کوشش کی لیکن منافقت اور چاپلوسی کے اس عجیب نظام میں کالج تبدیل نہ ہو سکا اور مجھے میرپورہ جانا پڑا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ وہاں کا زمانہ میرے لیے نہایت خوش گوار ثابت ہوا۔
    ذوالفقار بھائی کی عادات میں ایک نہایت قابلِ تحسین عادت بیمار پرسی اور غم گساری ہے۔ کسی بیمار کی عیادت ہو یا کسی جنازے میں شرکت وہ کبھی سستی نہیں برتتے۔ اگر مہمان نوازی کی بات ہو تو میں کئی مرتبہ دل ہی دل میں حیران ہوتا ہوں کہ آخر کوئی شخص اس قدر مہمان نواز کیسے ہو سکتا ہے۔کشمیر کی مہمان نوازی انہی جیسے کرداروں کی وجہ سے مشہور ہے۔ جو ایک بار ان کے گھر آ جائے، وہ بنا تواضع کے واپس جانے کی اجازت نہیں پاتا۔
    مجھے یاد ہے جب ان کے بھتیجے کا انتقال ہوا تو لوگ تعزیت کے لیے ٹولیوں کی صورت میں آ رہے تھے۔ غم کے اس عالم میں بھی گھر میں لنگر کا سا ماحول تھا۔ طرح طرح کے کھانوں اور پکوانوں سے آنے والوں کی میزبانی کی جا رہی تھی۔ اس منظر نے مجھے سکھایا کہ مہمان نوازی محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیب ہے۔
    دسمبر 2025ء میں جب محکمے کے ایک فیصلے کے باعث میری جگہ ایڈہاک لیکچرر بھیج کر مجھے نظامت کے ساتھ منسلک کر دیا گیا اور تین ماہ تک میری تنخواہ جاری نہ ہو سکی تو ذوالفقار بھائی نےکئی مرتبہ کہا کہ اگر پیسوں کی ضرورت ہو تو بلا تکلف لے لینا۔ ایک دن ان کے اکاؤنٹ میں اکتیس ہزار روپے تھے۔ بڑی سنجیدگی سے کہنے لگے کہ میں تمھیں ٹرانسفر کر دیتا ہوں تمھیں ضرورت ہوگی۔ میں نے بڑی مشکل سے انھیں قائل کیا کہ میرا گزارا ہو رہا ہے۔ان کی اس پیش کش نے ایک بار پھر مجھے یہ احساس دلایا کہ خلوص پر مبنی رشتے کتنے قیمتی ہوتے ہیں۔
    3 مارچ 2026ء کو جب میں ان کے گھر کچھ سامان دینے گیا تو باجی نے مسکراتے ہوئے خوش خبری سنائی کہ ذوالفقار بھائی کو بہ طور ایکسیئن (XEN) ترقی مل گئی ہے۔ یہ خبر سن کر دل میں خوشی کے ساتھ ایک عجیب سا اطمینان بھی پیدا ہوا گویا کسی حق دار کو اس کا حق مل گیا ہو۔

    Congratulations Zulfiqar brother


    یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ جناب دیوان علی خان چغتائی، وزیر تعلیم (اسکولز) آزاد جموں و کشمیر کی سرپرستی اور جناب قاضی عنایت علی، سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی متحرک اور وژنری قیادت میں محکمہ تعلیم تعمیر و ترقی کی نئی منزلیں طے کر رہا ہے۔ اسی تسلسل میں محکمہ تعلیم کے انجینئرنگ سیل کے لیے گراں قدر خدمات انجام دینے والے نہایت قابل، فرض شناس اور مخلص افسر جناب ذوالفقار احمد قریشی کا بہ طور مہتمم (XEN) ترقی پانا یقیناً ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
    یہ ترقی دراصل ان کی برسوں کی ان تھک محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور شعبہ تعلیم کی بہتری کے لیے ان کے غیر متزلزل خلوص کا اعتراف ہے۔ بلاشبہ ایسے دیانت دار اور فنی بصیرت رکھنے والے افسران ہی کسی ادارے کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔
    میں دل کی گہرائیوں سے انھیں اس اہم کامیابی پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت ان کے اس نئے سفر کو مزید کامیابیوں، عزت اور برکتوں سے نوازے اور انھیں اسی جذبۂ خدمت کے ساتھ ریاست اور
    قوم کی خدمت جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

  • تقریبِ پذیرائی:تین دن محبت کے

    تقریبِ پذیرائی:تین دن محبت کے

    13 فروری کی دوپہر قریب پونے بارہ بجے میرے موبائل کی گھنٹی نے خاموشی کا پردہ چاک کیا۔ دوسری جانب پروفیسر ڈاکٹر عبدالکریم کی باوقار آواز تھی۔ انھوں نے مژدہ سنایا کہ 18 فروری 2025ء کو آزاد کشمیر کی جواں سال افسانہ نگار رابعہ حسن کے افسانوی مجموعے “تین دن محبت کے” کی تقریبِ پذیرائی گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجویٹ کالج گڑھی دوپٹہ کے ہال میں منعقد ہوگی۔ انھوں نے مجھے کتاب پر مضمون پیش کرنے کا حکم دیا

    رابعہ حسن(مصنفہ) اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے
    رابعہ حسن(مصنفہ) اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے


    یہ حکم میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔ میں نے تقریب میں شریک ہونے اور مضمون پڑھنے کی حامی بھر لی۔ ڈاکٹر عبدالکریم اس ادارے(گورنمنٹ کالج گڑھی دوپٹہ)کے سربراہ ہیں اور رابعہ حسن ان کے زیرِ سایہ گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد میں تدریسی خدمات انجام دے چکی ہیں۔
    کال ختم ہوتے ہی میں نے رابعہ حسن سے رابطہ کیا اور کتاب کی دستیابی کے بارے میں پوچھا۔ معلوم ہوا کہ وہ اس روز رخصت پر ہیں اگلے دن کالج آئیں گی تو ڈاکٹر عبدالقیوم قریشی( جو میرے پڑوسی ہیں) کے ہاتھ بھجوا دیں گی۔ حسبِ وعدہ 14 فروری کو مجموعہ موصول ہوا۔ میں نے اسی روز اس کا بہ غور مطالعہ کیا اہم نِکات نوٹ کیے اور اگلے دن تقریب کے لیے ایک مختصر مگر جامع مضمون تیار کر لیا۔

    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار، کتاب پر اپنا مضمون پیش کر رہے ہیں۔
    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار، کتاب پر اپنا مضمون پیش کر رہے ہیں۔


    18 فروری کو تقریب کا وقت صبح گیارہ بجے مقرر تھا۔ میں کچھ دیر پہلے ہی پہنچ گیا۔ مرکزی دروازے پر ڈاکٹر عبدالکریم نے پرتپاک استقبال کیا اور مسکراتے ہوئے کہا:
    “آپ کو پہلی مرتبہ گاڑی چلاتے دیکھا ہے!”
    وہ خود تو وقت کے بے حد پابند انسان ہیں مگر مہمانوں کی آمد میں تاخیر ہوگئی۔ اس دوران میں ریاضی کے لیکچرر ڈاکٹر محمد رفیع جگوال نے چائے کی دعوت دی اور قریبی ہوٹل لے گئے جہاں چائے اور باقر خوانی سے لطف اندوز ہوئے۔ ڈاکٹر محمد رفیع سے چند روز قبل 8 فروری کو میرپور میں تعارف ہوا تھا۔ نہایت مجلسی اور خوش مزاج انسان ہیں۔
    واپسی پر بھی مہمانوں کی آمد جاری تھی۔ راجا محمد فیاض صاحب، پرنسپل گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج بلگراں، تشریف لا چکے تھے۔ ان سے ادب اور تعلیمی سرگرمیوں پر گفت گو ہوئی۔ دیرینہ دوست وقار میر سے ملاقات نے فضا کو مزید خوش گوار بنا دیا۔ کالج کے دیگر اساتذہ میں فائق نواز، ڈاکٹر ضمیر الحسن، محمد ارشاد اعوان اور چودھری الطاف حسین سے بھی ملاقات رہی۔
    قریب بارہ بجے جب تمام مہمان تشریف لے آئے تو ہال کی طرف روانگی ہوئی۔ ہال طلبہ اور مہمانوں سے بھرا ہوا تھا نظامت کے فرائض اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر راجا اکرم خان نے نہایت سلیقے سے انجام دیے۔ صدارت ڈاکٹر عبدالکریم نے کی جب کہ مہمانِ خصوصی رابعہ حسن تھیں۔

    پروفیسر ڈاکٹر عبدالکریم ، صدر تقریب اور میزبان کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے۔
    پروفیسر ڈاکٹر عبدالکریم ، صدر تقریب اور میزبان کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے۔


    دیگر معزز شرکا میں پروفیسر زاہد بخاری، ڈاکٹر مہوش چغتائی، پروفیسر ڈاکٹر واجد اعوان، پروفیسر شگفتہ بخاری، پروفیسر شاہین گیلانی، پروفیسر راجا رحمت خان، پروفیسر راجا فیاض، پروفیسر شیخ جمیل (پرنسپل ڈگری کالج چکار)، پروفیسر راحیلہ عباسی، اور پروفیسر ثمینہ سیمیں (پرنسپل گرلز کالج کومی کوٹ) شامل تھے۔ ہال طلبہ سے بھرا ہوا تھا اور فضا میں ادبی وقار نمایاں تھا۔
    تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ مجید سے ہوا جسے جماعت دوازدہم کے طالب علم محسن علی اعوان نے پیش کیا۔ بعد ازاں جماعت یازدہم کے ایک طالب علم عدیل احمد نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔
    مقررین میں جونئیر ہونے کی حیثیت سے سب سے پہلے مجھے اظہارِ خیال کا موقع ملا۔ میں نے عرض کیا کہ رابعہ حسن نے سادہ اور دل نشیں انداز میں عام فہم واقعات کو افسانے کی صورت دی ہے۔ ان کے اسلوب کی ایک نمایاں خصوصیت انگریزی الفاظ کا استعمال ہے جو جدید حسیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کی کہانیاں جیتی جاگتی محسوس ہوتی ہیں۔ حاضرین کی داد میرے لیے تقویت کا باعث بنی۔

    پروفیسر ڈاکٹر واجد حسین اعوان( پرنسپل پوسٹ گریجویٹ کالج برائے طلبہ مظفرآباد) تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ۔
    پروفیسر ڈاکٹر واجد حسین اعوان( پرنسپل پوسٹ گریجویٹ کالج برائے طلبہ مظفرآباد) تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ۔


    اس کے بعد پروفیسر راجا فیاض صاحب نے گفت گو کرتے ہوئے بتایا کہ رابعہ حسن کی پیدائش چکار ضلع ہٹیاں میں ہوئی جو ان کا اپنا آبائی علاقہ بھی ہے۔ وہ ان کی شاگردہ بھی رہ چکی ہیں اور دونوں ایک ساتھ تدریسی خدمات بھی انجام دے چکے ہیں۔ انھوں نے افسانہ “دوسری محبت” کو معاشرتی المیے کی مؤثر عکاسی قرار دیا۔
    پروفیسر راجا رحمت صاحب نے کتاب کے انتساب کو دل چسپ قرار دیا اور تاریخی و رومانوی تناظر میں گفت گو کی۔ پروفیسر شاہین گیلانی نے خواہش ظاہر کی کہ یہ کتاب آزاد کشمیر کے تمام کالجز کی لائبریریوں میں دستیاب ہونی چاہیے۔
    ڈاکٹر واجد اعوان نے مدلل انداز میں کتاب کا جائزہ پیش کیا اور اعلان کیا کہ جلد ہی مظفرآباد میں اس کتاب کی ایک بڑی تقریب منعقد کی جائے گی۔

    راجا محمد فیاض (پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج بلگراں) رابعہ حسن کے حوالے سے بات کر رہے ہیں۔
    راجا محمد فیاض (پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج بلگراں) رابعہ حسن کے حوالے سے بات کر رہے ہیں۔


    پروفیسر شگفتہ بخاری نے بتایا کہ وہ تہجد کے بعد قرآنِ کریم کی تلاوت کے ساتھ اس کتاب کا مطالعہ کرتی رہیں۔ انھوں نے افسانہ “دھند” پر خصوصی بات کی اور بعض انگریزی الفاظ کے استعمال پر تنقیدی رائے بھی دی۔
    اس کے بعد ناظم تقریب نے مصنفہ رابعہ حسن کو دعوت دی۔ مصنفہ نے اپنے ادبی سفر کا ذکر کیا کہ تیسری جماعت سے لکھنے کا آغاز کیا مختلف اعزازات حاصل کیے اور شاعرہ، صحافی، افسانہ نگار اور استاد کی حیثیت سے کام یابیاں سمیٹ رہی ہیں۔ اگست میں ایک حادثے میں ٹانگ زخمی ہونے کے باوجود بستر پر بے چینی محسوس کرتے ہوئے ایک ماہ کے قلیل عرصے میں یہ مجموعہ شائع کروایا۔ انھوں نے تقریب کے انعقاد پر ڈاکٹر عبدالکریم کا شکریہ ادا کیا۔

    تقریب کے ناظم ، راجا اکرم خان(اسسٹنٹ پروفیسر اردو)
    تقریب کے ناظم ، راجا اکرم خان(اسسٹنٹ پروفیسر اردو)


    اختتامی خطاب میں صدر تقریب اور آج کے میزبان پروفیسر ڈاکٹر عبدالکریم نے شرکا کا شکریہ ادا کیا اور اس امر پر افسوس ظاہر کیا کہ ہمارے معاشرے میں مطالعے اور اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کی روایت کم زور پڑتی جا رہی ہے۔
    تقریب کے بعد پُرتکلف چائے کا اہتمام تھا تاہم اس سے قبل ایک یادگار لمحہ یہ بھی تھا کہ پروفیسر شاہین گیلانی صاحب کے ہاتھ سے کالج میں یادگار پودا لگوایا گیا جس سے تقریب میں ایک معنوی اور یادگار عنصر شامل ہوگیا۔ چائے کے دوران میں ڈاکٹر واجد اعوان نے برجستہ کہا:
    “جب بازو ٹوٹا تو افسانہ چھپا، جب ٹانگ ٹوٹی تو مجموعہ آیا گویا جب انگ ٹوٹتا ہے تو نثر ہوتی ہے اور جب دل ٹوٹتا ہے تو شعر۔ لکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ ٹوٹنا لازم ہے۔”

    تقریبِ پذیرائی:تین دن محبت کے


    محفل قہقہوں سے گونج اٹھی۔ یادگاری تصاویر بنیں، مصافحے ہوئے اور یوں یہ ادبی نشست خوش گوار یادوں میں محفوظ ہوگئی۔ میں اور وقار میر واپسی کے سفر پر روانہ ہوئے تو دل میں یہی احساس تھا کہ محبت اور لفظ کا یہ سنگم دیر تک ذہن و دل کو منور رکھے گا۔

  • دو قومی رویّے

    دو قومی رویّے


    تحریر: محمد ذیشان بٹ

    قوموں پر مشکل وقت آتے رہتے ہیں، مگر زندہ قومیں ان کا سامنا صرف بیانات سے نہیں بلکہ اپنے اجتماعی رویّوں سے کرتی ہیں۔ آج پاکستان ایک بار پھر ایسے ہی کڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ دارالحکومت میں خودکش دھماکے نے نہ صرف شہر کی فضا کو سوگوار کیا بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ معصوم لوگ نماز کی حالت میں، سجدے میں جاتے ہوئے بزدلانہ کارروائی کا نشانہ بنے۔ کئی جانیں شہید ہوئیں، بہت سے زخمی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ زخمیوں کو جلد صحت عطا فرمائے اور شہداء کی مغفرت فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔ ایسے مواقع پر ہمارا پہلا ردِعمل طنز ہوتا ہے۔ ہم فوراً حکمرانوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں کہ وزراء کچھ نہیں کر رہے، سب دکھاوا ہے، ایمبولینس کم ہیں، وزیراعلیٰ کے دعوے صرف میڈیا تک محدود ہیں، وزیراعظم بے بس ہیں۔ یہ اعتراضات اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی خود کو بھی اسی کٹہرے میں کھڑا کیا ہے؟ اسی لیے اس تحریر کا عنوان “دو قومی رویّے” رکھا گیا ہے ۔ ایک طرف اسلام آباد لہولہان ہے، اور فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دینے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں کہ کہاں دھماکہ ہوا، کس مسلک کے لوگ نشانہ بنے۔ بھائی! دھماکہ پاکستان میں ہوا ہے۔ مرنے والے پاکستانی تھے۔ ان کا مسلک، رنگ، زبان یا نظریہ کچھ بھی ہو، وہ بے گناہ انسان تھے۔ کوئی بھی انسان کیوں کسی بے گناہ کو مارتا ہے؟ یہ سوال ہمیں انسان ہونے کے ناتے جھنجھوڑنا چاہیے۔ دوسری طرف لاہور ہے۔ زندہ دلانِ لاہور جو بسنت منانے میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ کہیں سے ویڈیو آئی ہے کہ “بسنت ختم کر کے واپس آ رہا ہوں ؟”، کہیں ڈور کٹی پڑی ہے کہ “پھر کبھی اُڑا لیں گے ؟”۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ بھائی، آج دل نہیں مانتا۔ آج چھت پر نہیں چڑھتے۔ آج خوشی مؤخر کر دیتے ہیں۔ ہمارے بھائی شہید ہوئے ہیں، مگر ہم “آئی بو ” اور “بو کاٹا” کی ویڈیوز ایک دوسرے کو بھیج رہے ہیں۔ پھر حکمرانوں پر تنقید کس منہ سے؟ کالم نگار بارہا اپنے قلم کے ذریعے یہ بات دہراتا آیا ہے کہ نواز شریف ہوں، عمران خان ہوں، مریم نواز ہوں یا کوئی اور یہ سب ہمارے ہی معاشرے کی پیداوار ہیں۔ یہ کسی اور سیارے سے نہیں آئے۔ منتخب ہوں یا غیر منتخب، حکمران ہم میں سے ہی نکلتے ہیں۔ جب عوام میں سے کوئی ایک فرد بھی اپنی تفریح مؤخر کرنے کو تیار نہیں، یہ کہہ کر کہ خرچہ ہو گیا ہے، مہمان آ گئے ہیں، پروگرام طے تھا تو پھر حکمران کیوں ملتوی کریں گے؟ حکمران ہمیشہ عوام کے موڈ کو دیکھتا ہے۔ اگر ایک بار عوام چھتوں سے نیچے اتر آتے، اگر ایک دن کے لیے بھی اجتماعی سوگ دکھایا جاتا، تو کون سی طاقت وزیراعلیٰ کو مجبور نہ کرتی کہ بسنت مؤخر ہو؟ ہم اپنے رویّوں سے خود یہ پیغام دیتے ہیں کہ “مرنے والے مر گئے، دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔” یہی پیغام وہ واٹس ایپ اسٹیٹس بھی دے رہے ہیں جن میں اسی وقت پتنگ بازی کی خوشیاں دکھائی جا رہی ہیں، جب اسلام آباد خون میں ڈوبا ہوا ہے۔ پھر ہم کیسے کہیں کہ ہم یکجہتی چاہتے ہیں؟ “پاکستان زندہ باد” اور “ہم سب ایک ہیں” جیسے نعرے تب کھوکھلے لگتے ہیں جب عملی رویّہ اس کے برعکس ہو۔ پنجابی، پٹھان، سندھی، بلوچ، سنی، شیعہ سب کچھ ہیں، مگر کیا ہم واقعی پاکستانی بھی ہیں؟ کیا ہم واقعی مسلمان بھی ہیں؟ اگر ہم اپنی سوچ اور اپنے رویّے نہیں بدلیں گے تو صرف حکمرانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا بے معنی ہے۔

    یہاں انڈا مہنگا ہو جائے تو ہم خریدنا نہیں چھوڑتے، اجتماعی بائیکاٹ نہیں کر پاتے، پھر یہ توقع کیسے رکھیں کہ بڑے فیصلے عوامی دباؤ کے بغیر بدل جائیں گے؟ قائداعظم کے مزار پر جا کر کبھی ہم خود سوال کریں کہ یہ ملک کن قربانیوں سے بنا تھا۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، جسم کے ایک حصے میں درد ہو تو دوسرا حصہ چین سے نہیں بیٹھتا۔ اگر آج ہم اپنے ہی ملک میں سوگ کے عالم میں خوشیاں منائیں گے تو کل فلسطین، کشمیر یا کہیں اور کے مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز اٹھانے کا اخلاقی جواز بھی کھو دیں گے۔ دنیا ہمیں اسی لیے سنجیدہ نہیں لیتی کہ اسے معلوم ہے، یہاں ظلم ہو بھی جائے تو لوگ تفریح میں مصروف رہیں گے—پتنگ اُڑتی رہے گی، میچ چلتا رہے گا۔ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ یہ تحریر تفریح کی مخالفت نہیں۔ کرکٹ دیکھنا، پی ایس ایل انجوائے کرنا، ثقافتی سرگرمیاں سب اپنی جگہ۔ مگر سوال وقت کا ہے، ترجیح کا ہے۔ جب گھر میں فوتگی ہو تو ڈھول نہیں بجائے جاتے۔ تب پتہ چلتا ہے کہ ہم واقعی ایک قوم ہیں یا محض افراد کا ہجوم ۔ آج ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔ وہ بچے جو چھتوں پر کھڑے ہو کر “بو کاٹا” سن رہے ہیں، وہ کل کیا سیکھیں گے؟ اگر خدانخواستہ ان کے اپنے کسی عزیز کے ساتھ ایسا سانحہ ہو جائے، تو کیا وہ بھی یہی چاہیں گے کہ باقی لوگ اپنی مصروفیات میں مگن رہیں؟ حکمران عوام کے آئینے ہوتے ہیں۔ اکثریت جیت جاتی ہے، فیصلہ وہیں ہوتا ہے۔ اگر آج پاکستانی اجتماعی طور پر یکجہتی دکھائیں، تو کسی کی جرات نہیں کہ قومی سوگ کو نظرانداز کرے۔ ہمیں دو قومی رویّوں سے نکل کر ایک قوم بننا ہوگا۔ اسلام کو صرف نعرہ نہیں، عمل بنانا ہوگا۔ کم از کم اتنا تو کر سکتے ہیں کہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیں، اپنی خوشی مؤخر کر دیں، اور جہاں ممکن ہو عملی مدد کریں۔ شاید یہی چھوٹے قدم ہمیں ایک بڑی قوم بننے کی طرف لے جائیں۔آخر میں بس یہی کہوں گا: تھوڑا نہیں، مکمل غور کیجیے۔ تجربہ شرط ہے

    دو قومی رویّے
  • ڈاکٹر شفیق انجم: ہمہ جہت شخصیت

    ڈاکٹر شفیق انجم: ہمہ جہت شخصیت

    اردو ادب میں ایسا کون شخص ہو گا جو ڈاکٹر شفیق انجم کے نام سے واقف نہ ہو۔ شفیق انجم صاحب ایک استاد کی حیثیت سے جہاں شناخت رکھتے ہیں وہیں آپ محقق، مدون، نقاد،لغت نویس ، رپورتاژ نگاراور افسانہ نگار کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ ناول نگاری میں بھی آپ کا "وجود ” اپنی پہچان رکھتا ہے۔ آپ کی تدوین کردہ کتب میں کلامِ طارق 2008ء میں نقش گر پبلشر راول پنڈی سے شائع ہوئی۔ کلامِ بشیر صرفی 2010ء میں پورب اکادمی کے زیر اہتمام چھپی۔ گلزارِ فقر اور سیرِ دریا الفتح پبلی کیشنز راول پنڈی نے 2011ء میں شائع کیں۔ انشائے اردو پورب اکادمی اسلام آباد نے 2015ء میں چھاپی ۔اسی طرح 2007ء میں اسلوب پبلشر اسلام آباد سے آپ کی تنقیدی کتاب جائزے منظرِ عام پر آئی۔ اردو افسانہ آپ کی تنقید کی دوسری کتاب تھی جو 2008ء میں پورب اکادمی کے زیرِ اہتمام سامنے آئی۔ یہ کتاب دراصل آپ کا پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لیے لکھا گیا مقالہ تھا۔ ڈاکٹر شفیق انجم کے افسانوی مجموعوں میں پہلا میں+میں 2008ء میں اسلوب پبلشر اسلام آباد سے شائع ہوا۔ دوسرا افسانوی مجموعہ لکھت لکھتی رہی کے نام سے 2011ء میں الفتح پبلی کیشنز نے شائع کیا۔ روشنی آواز دیتی ہے تیسرا افسانوی مجموعہ تھا جو 2019ء میں الفتح پبلی کیشنز اسلام آباد نے چھاپا۔ استاد محترم ڈاکٹر محمد شفیق انجم نے سوانحی کتب کے ضمن میں اپنے اساتذۂ کرام ڈاکٹر گوہر نوشاہی اور ڈاکٹر رشید امجد کے فن اور شخصیت پر دو کتب تصنیف کیں۔ ڈاکٹر گوہر نوشاہی: ایک مطالعہ نقش گر پبلشر راول پنڈی سے 2009ء میں منصۂ شہود پر آئی۔ ڈاکٹر رشید امجد اکادمی ادبیات آف پاکستان کے سلسلہ پاکستانی ادب کے معمار کے ڈاکٹر رشید امجد شخصیت اور فن کے نام سے 2010ء میں شائع ہوئی۔ ڈاکٹر مَہر عبد الحق (شخصیت وفن) 2020ء میں ادارہ فروغِ قومی زبان سے طباعت ہوئی۔ ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کی تحقیق کے حوالے سے کتب میں اردو رسمیاتِ مقالہ نگاری 2011ء میں الفتح پبلی کیشنز راول پنڈی سے شائع ہوئی۔ تحقیق کے موضوع پر دوسری کتاب حاشیائی مقالات نامی پورب اکادمی اسلام آباد سے 2015ء میں سامنے آئی۔ قواعدِ تحقیق و تدوین کے نام سے تصنیف پورب اکادمی اسلام آباد سے 2015ء میں شائع ہوئی۔ اردو سیکھیے طلبہ کے لیے لکھی جانے والی تصنیف 2020ء میں ادارہ فروغِ قومی زبان کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی۔ استاد محترم کچھ عرصہ چین کے تعلیمی اداروں میں بھی طلبہ کی علمی پیاس بجھاتے رہے ۔چین میں قیام کے عرصے کو آپ نے ایک رپورتاژ سنکیانگ نامہ کی صورت 2018ء میں کتابی صورت میں قارئین کی نذر کیا۔ چین کی یادگار کے طور پر ایک لغت بھی ڈاکٹر شفیق انجم صاحب نے اردو چینی لغت کے نام سے مرتب کی جسے 2019ء میں ادارہ فروغِ قومی زبان نے شائع کیا۔ شفیق انجم صاحب نے اپنی نظمیہ کہانیوں کے پانچ مجموعے شائع کیے جن میں پہلا میں نہیں ہوں کے نام سے 2016ء میں ، دوسرا جلا وطن میں خود کلامی 2017ء میں اور سنکیانگ میں محبت 2018ء میں پورب اکادمی اسلام آباد سے شائع ہوئے۔ چوتھا مجموعہ موتیوں کی مالا 2021ء میں کتابی دنیا ،لاہور سے شائع ہوا۔

    ڈاکٹر شفیق انجم: ہمہ جہت شخصیت


    ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کا آخری نظمیہ مجموعہ خود کلام فروری 2024ء کتابی دنیا ،لاہور سے شائع ہوا۔ یہ مجموعہ 150صفحات کو محیط ہے جس کا انتساب بے چہرگی میں اک چہرہ بناتے خود کلام کے نام کیا گیا۔ اس مجموعے میں دس نظمیں ہیں۔ یہ نظمیہ کہانیاں معاشرتی، نفسیاتی اور فلسفیانہ مسائل پر گہری روشنی ڈالتی ہیں۔ قاری ان کے مطالعے کے بعد خود کو ایک الگ دنیا میں محسوس کرتا ہے۔شفیق انجم صاحب کی تجریدیت اور علامت نگاری کا استعمال کہانیوں کو نیا زاویہ فراہم کرتا ہے۔ روایتی کہانیوں سے ہٹ کر یہ ایک کام یاب تجربے کی حامل ہیں۔ان نظمیہ کہانیوں میں سلیس اور بلیغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے جو تاثیر کو بڑھاتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں ان کہانیوں کا معیار تخلیق کار کی گہری فکری بصیرت ،نفسیاتی تجزیے اور ادبی مہارت کی غمازی کرتا ہے ۔

    farhad and shafiq
    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار  اور ڈاکٹر شفیق انجم


    30 نومبر 2024ء کو جب میں اپنے کنبے کے ہم راہ استادِ گرامی کے دولت کدے پر علی بیگ آرائیاں ضلع بھمبر حاضر ہوا تو میرے شفیق استادِ محترم نے نہایت محبت سے یہ مجموعہ عنایت کیا۔ اس مجموعے پر انھوں نے کمال شفقت کا اظہار کرتے ہوئے مجھے میرے دفاع سے قبل ڈاکٹر لکھا جسے دیکھ کر یوں اطمینان ہوا کہ اب آخری معرکہ بھی سر ہو جائے گا کہ میرے استاد محترم نے تیقن سے لکھ دیا ہے۔ شفیق انجم صاحب کے حوالے سے بہت کچھ لکھنے کا سوچتا ہوں لیکن ان کی شخصیت اتنی وسیع ہے کہ میرا قلم اس حد کو چھو نہیں سکتا۔ گزشتہ دنوں ایک صاحب نے دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر میں ڈاکٹر افتخار مغل مرحوم کے بعد کوئی محقق نہیں۔ میں نے انھیں بتایا کہ ڈاکٹر افتخار مغل کے بنا آزاد کشمیر کا ادب مکمل نہیں ہو سکتا تاہم ان کی تحقیق سندی تھی جو ایم فل اور پی ایچ ڈی کی اسناد کے لیے تھی۔ اگر آزاد کشمیر میں کوئی محقق ہے تو وہ ڈاکٹر شفیق انجم ہیں۔ تدوین ، تحقیق اور تنقید کے حوالے سے ان کی تصانیف کا اوپر مختصر تعارف بھی ہو چکا۔ شفیق انجم صاحب کا کام مختلف حوالوں سے ہے۔ یہ فہرست ابھی نامکمل ہے استادِ گرامی کئی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جو عن قریب ادب کے طلبہ اور شائقین کے ہاتھوں میں ہو گا۔ میں اپنی خوش نصیبی سمجھتا ہوں کہ ایم اے اردو سے پی ایچ ڈی اردو تک کا سفر شفیق انجم صاحب کی زیرِ سرپرستی مکمل ہوا۔ اللہ کریم میرے سبھی اساتذۂ کرام پر اپنا کرم فرمائے جنھوں نے مجھے لفظوں کی حرمت سکھائی۔
    آخر میں ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کی ایک نظمیہ کہانی” چل بھئی شفیق انجم” ملاحظہ کریں۔

    چل بھئی شفیق انجم ،اٹھ جا
    ہمت کر
    رات بھر خراٹے بھرنے والے اٹھ چکے ہیں
    تو بھی اٹھ جا
    الارم تیسری بار بج چکا ہے
    یعنی آج بھی
    بہت پُھرتی دکھانا پڑے گی
    دوڑ بھاگ میں ناشتا کرنا پڑے گا
    جلدی جلدی نہانا
    بھاگم بھاگ شیو بنانا پڑے گی
    عجلت عجلت میں کپڑے بدل
    گاڑی میں کودنا پڑے گا
    اور حسبِ سابق
    آج بھی پہیوں کو پر لگانا پڑیں گے
    امید ہے
    مقررہ وقت پر
    تم اس دیوار تک پہنچ جاؤ گے
    جو کل آدھی سے زیادہ چاٹ آئے تھے
    ۔۔۔ اٹھ جا، شفیق انجم
    اس امید پر
    کہ کوئی تو دن ایسا آئے گا
    جب تم الارم لگائے بغیر سو جاؤ گے
    اور جب اٹھو گے
    تو وقت رکا ہوا
    سویا سویا سا ملے گا
    دھیرے سے تم اسے جگاؤ گے
    اور ناشتے کی میز پر
    چائے کی چسکیوں کے ساتھ
    کوئی رومانوی سا منظر خلق ہو گا
    اور کم و بیش
    ایک صدی ٹھہرا رہے گا
    ۔۔۔ اٹھ جا شفیق انجم
    پچھلے چالیس سال کی طرح
    ۔۔۔۔ پھرتی دکھا
    دیوار چاٹنے کو چل
    ۔۔۔ آج کا مشکل دن بھی بھگتا!

    books
    ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کا قلمی سرمایہ
  • آزاد کشمیر کا ادبی اثاثہ

    آزاد کشمیر کا ادبی اثاثہ


    کسی بھی معاشرے کی فکری اور تہذیبی شناخت اس کے اہلِ قلم اور اہلِ علم سے تشکیل پاتی ہے۔ یہ وہ شخصیات ہوتی ہیں جو خاموشی سے نسلوں کی تربیت کرتی ہیں،زبان کو وقار بخشتی ہیں اور ادب کو محض تفریح نہیں بلکہ شعور اور ذمہ داری کا عمل بناتی ہیں۔ استاذاور شاگرد کا رشتہ بھی اسی تہذیبی تسلسل کی ایک مضبوط کڑی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ محض تعلیمی تعلق نہیں رہتا بلکہ اخلاقی اور روحانی نسبت میں ڈھل جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کی ادبی روایت میں ایسی ہی نسبتوں نے ادب کو دوام اور گہرائی عطا کی ہے۔
    پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے علم و ادب کو پوری دیانت اور وقار کے ساتھ برتا۔ آزاد کشمیر کے شعری ادب میں ان کا مقام نمایاں اور مسلم ہے۔ ان کا تخلیقی اسلوب سادگی، معنویت اور داخلی کرب کا حسین امتزاج ہے۔ ان کا شعری مجموعہ "کہے بغیر” محض اشعار کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک حساس ذہن کی فکری واردات ہے جہاں خاموشیوں میں بھی معنی بولتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اردو کی تدریس کے میدان میں ان کی خدمات نہایت اہم اور دیرپا ہیں۔ انھوں نے درس و تدریس کو رسمی فریضہ نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ مشن کے طور پر انجام دیا۔
    میری ذاتی زندگی میں پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب کا کردار ایک استاذ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں انھیں اپنا محسن اور مربی مانتا ہوں۔ میں نے ان سے نصابی اسباق نہیں سیکھے مگر ادب سے محبت، لفظ کی حرمت، تحقیق کی دیانت اور شاگرد نوازی کا سلیقہ سیکھا۔ ایک اچھا استاذوہی ہوتا ہے جو شاگرد کے اندر چھپی صلاحیت کو پہچان لے اور اسے اعتماد عطا کرے پروفیسر صاحب اس وصف کا عملی نمونہ ہیں۔

    آزاد کشمیر کا ادبی اثاثہ


    مجھے آج بھی یکم اکتوبر 2019ء کا وہ دن پوری شدت سے یاد ہے جب پبلک سروس کمیشن میں لیکچرر منتخب ہونے پر سب سے پہلے پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب اپنی اہلیہ کے ہم راہ مٹھائی اور ایک خوب صورت تحفہ لے کر میرے غریب خانےپر تشریف لائے۔ اس موقعےپر ان کے کہے ہوئے الفاظ میرے لیے ہمیشہ کا سرمایہ بن گئے:
    "مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ آج میں نے ایک مرتبہ پھر پی ایس سی کا امتحان پاس کر لیا ہے۔”
    یہ جملہ دراصل ایک استاذ اور دوست کی اس بے لوث خوشی کا اظہار تھا جو دوستوں کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔
    ایسی ہی شخصیات کسی خطے کا اصل سرمایہ ہوتی ہیں۔ آزاد کشمیر کی ادبی شناخت، اس کی فکری روایت اور اس کی علمی آبرو ایسے ہی اساتذہ اور اہلِ قلم کے دم سے قائم ہے۔ پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب کی علمی، تدریسی اور تخلیقی خدمات اس حقیقت کی روشن دلیل ہیں کہ سنجیدہ ادب آج بھی زندہ ہے اور اثر رکھتا ہے۔
    آج مجھے یہ دیکھ کر بے حد خوشی اور سرشاری ہوئی کہ پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب کا ایم فل کی سندی تحقیق کے لیے تحریر کردہ مقالہ ایک معتبر اور بڑے ادارے مجلسِ ترقیٔ ادب کے زیرِ اہتمام شائع ہو چکا ہے۔ جس وقت یہ مقالہ علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی میں جمع کروایا گیا تھااسی وقت اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ موضوع اور معیار دونوں حوالوں سے ایک غیر معمولی اور جان دار علمی کام ہے۔ اس کتاب کی اشاعت نہ صرف پروفیسر صاحب کے علمی مقام کا اعتراف ہے بلکہ اردو کے ادبی اثاثے میں ایک قیمتی اضافہ بھی ہے۔
    اللہ کریم میرے اس محسن کو سلامت رکھے، ان کے علم و قلم کو دوام عطا فرمائے اور وہ اسی طرح ادب کی بے لوث خدمت کرتے رہیں۔ ہم جیسے شاگردوں کے لیے یہ موقع محض مبارک باد کا نہیں بلکہ فخر، شکر اور عقیدت کا لمحہ ہے۔

  • جاوید الحسن جاوید کی غزل اور عکسِ کشمیر

    جاوید الحسن جاوید کی غزل اور عکسِ کشمیر

    جاوید الحسن جاوید کی غزل اور عکسِ کشمیر

    جاوید الحسن جاوید صاحب آزاد کشمیر کے شعری ادب میں اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ان کی جنم بھومی تو پلندری ہے لیکن طویل عرصے سے مظفرآباد میں مقیم ہیں۔ انھوں نے عملی زندگی کا آزاد تو لیکچرر انگریزی کی حیثیت سے کیا لیکن جلد ہی آزاد کشمیر کی سول سروسز کے امتحان میں کام یاب ہو کر اس طرف آ گئے۔آج کل آزاد کشمیر حکومت میں سیکرٹری سیرا کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ شاعری کا آغاز کالج دور سے کیا پہلا مجموعہ 2004ء میں شائع ہوا۔ جاوید الحسن جاوید کی شاعری کا چھٹا مجموعہ اسی سال 2025ء میں خواہشیں، آئینے، انگلیاں،کرچیاں کے نام سے روہی بکس فیصل آباد سے شائع ہوا۔ اس مجموعے کی اشاعت پر جاوید صاحب کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ جاوید صاحب کے اس سے پہلے نعتیہ مجموعے "مہجورِ مدینہ”کا دیباچہ لکھنے کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ اب اس تازہ شعری مجموعے پر لکھنے کا شرف حاصل رہا۔ قارئین کے لیے وہ دیباچہ پیش کرتا ہوں جو مجموعے میں شامل ہے۔

                   جاوید الحسن جاوید کے غزلوں میں کشمیر ایک اہم موضوع رہا ہے۔ ان کی شاعری میں کشمیر کے استعارے، جذباتی تعلقات اور آزادی کی آرزو کا گہرا عکس ملتا ہے۔ جاوید الحسن جاوید کی غزلیں نہ صرف کشمیر کے جغرافیائی اور ثقافتی پہلوؤں کو اجاگرکرتی ہیں بل کہ وہ کشمیر کے درد،جدوجہد اور آزادی کی خواہش کو بھی اپنی غزلوں میں دل کی گہرائیوں سے بیان کرتے ہیں۔ان کی غزلوں میں کشمیر کا دکھ اور اس کی مظلومیت کو ایک جذباتی استعارے کے طور پر پیش کیاگیا ہے۔ وہ کشمیر میں نہ صرف ایک جغرافیائی مقام کے طور پر بل کہ ایک زخم خوردہ زمین کے طور پر دیکھتے ہیں، جہاں پر خون اور غم کی لکیریں موجود ہیں۔

           ان کے اشعار میں کشمیر کے دکھوں اور وہاں کی حالتِ زار  کو جس کرب اور مہارت سے بیان کیا گیا ہے وہ جاوید الحسن جاوید ہی کا خاصہ ہے۔ جاوید الحسن جاوید کشمیر کو ایک ایسی سرزمین کے طور پر پیش کرتے ہیں جہاں خواب اور امیدیں دھندلا گئی ہیں اور حقیقت میں کم یاب ہو گئی ہیں۔ شعر دیکھیے:

    آنکھیں بھی رہیں بند،رہے خاک میں سر بھی

     جلتا رہے  کشمیر  میں ایسا تو  نہیں  تھا

     آتا ہی نہیں حرفِ دعا میرے لبوں پر

     جس درجہ ہوں دل گیر، میں ایسا تو نہیں تھا 

    جاوید الحسن جاوید کی غزل اور عکسِ کشمیر

    کشمیر کے ساتھ جاوید الحسن جاوید کی محبت کا ایک خاص رشتہ ہے۔ ان کی غزلوں میں کشمیر ایک محبوب کی طرح نظر آتا ہے جس کی یادیں اور درد انسان کی روح میں گہرے ہیں۔ یہاں کشمیر کو ایک دل کی دھڑکن اور ایک جذباتی وابستگی کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

    درد اترا ہے یہاں آہ و فغاں ٹھہری ہے

     سات عشروں سے مرے گھر میں خزاں ٹھہری ہے

     کس طرح میرے مقابل پہ عدو ٹھہرے گا 

    میں تو ٹھہرا ہوں وہاں،موت جہاں ٹھہری ہے 

             یہاں کشمیر کی فضاؤں میں آزادی کی کمی اور درد کی گونج کو بیان کیا گیا ہے جو غم اور درد کے استعارہ بن کر دل میں گونجتی ہے۔ یہ اشعار کشمیر کی سرزمین سے جذباتی تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔

            جاوید الحسن جاوید کی غزلوں میں کشمیر کی آزادی  کی خواہش ایک مستقل تھیم رہی ہے۔ وہ کشمیر کو ایک ایسی سرزمین کے طور پر دیکھتے ہیں جسے آزادی کی ضرورت ہے اور جو کئی سال سے ظلم و جبر کا شکار رہی ہے۔

            ان کے اشعار کشمیر کی آزادی کے خواب کو پیش کرتے ہیں جو ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا لیکن ایک دن ضرور حقیقت بنے گا۔ یہ ایک امید کا استعارہ ہےجو کشمیر کی مظلومیت اور آزادی کی آرزو کی نمائندگی کرتا ہے۔

     جاوید الحسن جاوید نے کشمیر کے لوگوں کی جدوجہد کو بھی اپنی غزلوں کا حصہ بنایا  ہے۔وہ کشمیر کے عوام کے درد اور قربانیوں کو اجاگر کرتے ہیں جنھوں نے اپنے حقوق اور آزادی کے لیے قربانیاں دیں۔

              جاوید الحسن جاوید کے غزلیہ اشعار جا بہ جا کشمیر کے لوگوں کی قربانیوں اور جدوجہد کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے خواب اور امیدیں کشمیر کی آزادی کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں اور جاوید الحسن جاوید ان کی ہمت کو سراہتے ہیں۔اشعار دیکھیے:

     عجب کچھ بھی نہیں جہدِ مسلسل رنگ لے آئے 

    جہاں برفاب کی سِل تھی وہیں لشکر نکل آئے 

    سلام ان کی عزیمت پر،سلام ان کی شجاعت پر 

    وطن کی اک صدا پر گھر سے جو باہر نکل آئے 

    جاوید الحسن جاوید کی غزلوں میں کشمیر ایک استعارہ رہ بن کر سامنے آتا ہے جو نہ صرف دکھ اور درد کی علامت ہے بل کہ آزادی ،محبت اور قربانی کی خواہش کا بھی گہرا اظہار ہے۔ ان کی شاعری میں کشمیر ایک ایسا مقام بن چکا ہے جہاں انسانی جذبات، دکھ، جدوجہد اور آزادی کے خواب ایک دوسرے سے جڑ کر ایک نیا رنگ لیتے ہیں۔ جاوید الحسن جاوید کی شاعری میں کشمیر کے استعارہ مختلف حوالوں سے آیا ہے۔ان کے شاعری میں کشمیر کو دکھوں کا نشان اور آزادی کے آرزو کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

       جاوید الحسن جاوید  آزاد کشمیر میں تحریکِ آزادئ کشمیر  کے حوالے سے ایک معروف شاعر ہیں۔ قبل ازیں اپ کا مجموعہ "ابھی نظمیں ادھوری ہیں”  شہرت حاصل کر چکا ہے۔ تاہم زیرِ مطالعہ مجموعہ غزلیات پر مشتمل ہے لیکن ان غزلوں میں اپ کا محبوب اپ کا وطن کشمیر ہے۔ جاوید االحسن جاوید کی شاعری میں کشمیر کی فطری خوب صورتی، یہاں کے لوگوں کی تکالیف، ان کے خواب اور ان کی آزادی کی جدوجہد کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ان کی شاعری میں کشمیر کی تصویر کشی ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ کشمیر کی سرسبز وادیاں، بلند پہاڑ،نیلے آسمان،جھیلیں اور برف پوش مناظران کی شاعری میں زندہ دکھائی دیتے ہیں۔

                جاوید الحسن جاوید کشمیر کی فطری خوب صورتی کو نہ صرف الفاظ کی صورت میں پیش کرتے ہیں بل کہ اس کے ذریعے سے انسانی جذبات کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ وہ کشمیر کے حسن اور یہاں کے شہیدوں کوان  الفاظ میں اپنی شاعری میں سموتے ہیں:

    تم نے دیکھا نہیں کشمیر کی دھرتی کو میاں 

    سرخ پھولوں میں شہیدوں کو کفن بولتا ہے

     جاوید الحسن جاوید کی شاعری میں کشمیر کے لوگوں کی سیاسی اور سماجی حالت بھی اہم موضوع ہے۔کشمیر میں ہونے والے تشویش ناک حالات، کشمیری عوام کا ظلم و ستم کے خلاف احتجاج اور آزادی کی جدوجہد کی نظموں میں نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ جاوید الحسن جاوید کی شاعری کشمیر کے عوام کے دکھوں، ان کے خوابوں اور آزادی کے لیے کی جانے والی جدوجہد کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔

    ہر روز اجڑتا ہوں کہ تقدیر یہی ہے 

    سرحد پہ بسے گاؤں کی توقیر یہی ہے

     آبا  کو مبارک، مرے بچوں کو مبارک

     زنجیر یہی اور یہ کشمیر یہی ہے

     اترا ہی نہیں مجھ سے منافقت کا لبادہ

     آزادئ کشمیر میں تاخیر یہی ہے

               یہ اشعار کشمیر کی موجودہ سیاسی صورت ِحال اور عوام کی قربانیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان اشعار میں  کشمیری عوام کی تکالیف اور ان کی جدوجہد کو دکھایا گیاہے  جہاں ہر فرد آزادی کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہے۔ جہاں شاعر نے کشمیری عوام کی قربانیوں کو بیان کیا ہے وہیں کشمیر کی آزادی میں حائل سیاسی رکاوٹوں پر بھی طنز کیا ہے۔

         جاوید الحسن جاوید نے کشمیر کی عوام کی آزادی کے لیے کی جانے والی جدوجہد کوبڑے درد اور حقیقت پسندی سے پیش کیا ہے۔وہ کشمیر کے لوگوں کی ہمت، ان کے خوابوں،ان کی قربانیوں کا احترام کرتے ہیں اور ان کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔

       جاوید الحسن جاوید کی شاعری میں کشمیری عوام کی حالتِ زار، ان کے جذبات اور ان کی آزادی کے لیے کی جانے والی قربانیاں  ان کی نظموں کا حصہ بنتی ہیں۔ کشمیر میں خون ریزی ،جنگ اور سیاسی مشکلات نے کشمیری عوام کو بے شمار دکھوں میں مبتلا کیا ہے اور جاوید الحسن جاوید نے ان سب کو اپنی شاعری کے ذریعے سے بیان کیا ہے۔ جاوید الحسن جاوید کشمیر کے عوام کے دکھوں اور ان کے سوالات کی گہرائی کو محسوس کرتے ہیں اپنی شاعری میں اس درد کو اجاگر کرتے ہیں۔

          جاوید الحسن جاوید کی شاعری میں کشمیر کی ثقافت اور تاریخ کا  بھی گہرا اثر ہے۔ کشمیر ایک قدیم ثقافت اور تاریخ کا حامل خطہ ہے جس میں مختلف قوموں اور مذاہب کا میل جول رہا ہے۔ جاوید الحسن جاوید نے اپنی شاعری میں کشمیر کی تاریخی اہمیت اور یہاں کی ثقافت کو اجاگر کیا ہے۔ جاوید الحسن جاوید کی شاعری میں کشمیر کا عکس ایک وسیع اور گہرے دائرے میں پھیلا ہو ہے۔ ان کی شاعری میں کشمیر کی فطری خوب صورتی، عوام کا درد،آزادی کی جدوجہد  اور کشمیر کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ قاری ان اشعار کے ذریعے سے کشمیر کی حقیقت کو بہ آسانی جان سکتا ہے۔ جاوید الحسن جاوید کی شاعری کشمیر کی آواز بن کر اس کے دکھوں اور خوابوں کو دنیا  کے سامنے پیش کرتی ہے۔ان کی تخلیقات  میں کشمیر کی روح اور اس کے عوام کی حالتِ زار کی سچی عکاسی موجود ہے جو نہ صرف کشمیری عوام بل کہ پورے عالم کو اس خطے کے مسائل کے بارے میں آگاہی فراہم کرتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کشمیر جاوید الحسن جاوید کی رگوں میں لہو بن کر دوڑ رہا ہے۔ وہ اپنی شاعری(نظم وغزل )میں اس کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا زیرِ مطالعہ مجموعہ "خواہشیں، آئینے،انگلیاں، کرچیاں) یقیناً ان کے سابقہ مجموعوں کی طرح قارئین  میں مقبولیت حاصل کرے گا۔ دعا ہے ان کا قلم یونھی رواں دواں رہے۔

    15جنوری 2025ء