پہاڑی زبان: تاریخ اور بقا
ڈاکٹر فرہاد احمد فگار،مظفرآباد
پہاڑی زبان ایک قدیم لسانی گروہ ہے جو ہمالیہ کے پہاڑی علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ اس زبان کا تعلق ہند آریائی خاندان سے ہے۔ پہاڑی زبان کی بنیاد سنسکرت اور پراکرت جیسی قدیم زبانوں سے ملتی ہےمگر وقت کے ساتھ جغرافیائی دوری، مقامی رسم و رواج اور ثقافتی اثرات نے اسے مختلف بولیوں میں تقسیم کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف علاقوں میں اس کے الفاظ، تلفظ اور اندازِ بیان میں فرق پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر “میں جا رہا ہوں” کو پہاڑی میں ، میں جانا آں ، میں جلیاں آں یا میں جلدا آں کہا جاتا ہے، جب کہ “تم کہاں جا رہے ہو؟” کو ، تُسی کتھے جاندے او؟، تسی کدھر جلدے او؟ تسی کُہر جلدے او؟ یا تو کتھے جانا اے؟ کہا جاتا ہے۔ بعض علاقوں میں الفاظ کے آخر میں نرم آوازیں شامل کی جاتی ہیں جو اس زبان کو ایک مخصوص موسیقیت عطا کرتی ہیں۔ جیسے مظفرآباد کے پہاڑی لہجے میں س کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ نہ کرو کو نہ کرس وغیرہ ۔
آزاد کشمیر میں بولی جانے والی پہاڑی زبان اپنی ایک منفرد پہچان رکھتی ہے۔ اس میں اردو، پنجابی اور کشمیری زبانوں کے اثرات شامل ہیں لیکن اس کے باوجود اس کا لہجہ نرم، میٹھا اور دل کش ہوتا ہے۔ روزمرہ گفتگو میں اس کی سادگی اور فطری پن نمایاں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر “مجھے پانی دو” کو ، مُگو پانڑی دے، وہ آیا تھا کو او آیا آسا اور “ہم کھانا کھا رہے ہیں” کو "اسیں رُٹی کھاندے آں” کہا جاتا ہے۔ اسی طرح محبت اور اپنائیت کے اظہار کے لیے “پُتّر” (بیٹا) اور “تیہ” (بیٹی) جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ مزید برآں پہاڑی زبان میں محاورات اور کہاوتوں کا بھی خاصا ذخیرہ موجود ہے جیسے جمدی دا انگور دسدا آ، ہووا کھوتی پہار نہ چاوا وغیرہ جو مقامی دانش اور تجربے کی عکاسی کرتے ہیں۔ میرپورہ نیلم میں راجا علی اکبر صاحب (سابق مدرس) کے پاس پہاڑی کہاوتوں کا ایک ذخیرہ موجود ہے میں اکثر ان سے کہتا کہ انھیں لکھیں تا کہ آئندہ نسلوں کے لیے یہ محفوظ ہو سکیں۔
پہاڑی زبان کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ ہے کہ یہ صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ثقافتی ورثہ ہے۔ اس کے ذریعے سے لوک گیت، کہانیاں، کہاوتیں اور رسم و رواج نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔ پہاڑی لوک گیتوں میں محبت، جدائی، فطرت اور انسانی جذبات کی خوب صورت عکاسی کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر قینچی ایک مکمل تہذیب کی عکاسی نظم ہے جو پہاڑی ادب کا اثاثہ ہے۔”قینچی” نہ صرف زبان کی مٹھاس کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس کے جذباتی پہلو کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ یہ زبان لوگوں کی پہچان کو مضبوط کرتی ہے اور انھیں اپنی ثقافت اور روایات سے جوڑے رکھتی ہے۔
تاہم موجودہ دور میں پہاڑی زبان کو کئی خطرات لاحق ہیں۔ سب سے بڑا خطرہ اردو اور انگریزی کے بڑھتے ہوئے اثرات ہیں جن کی وجہ سے نئی نسل اپنی مادری زبان سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں اس زبان کو مناسب مقام نہ ملنا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ شہری زندگی، میڈیا اور جدید طرزِ زندگی نے بھی اس کے استعمال کو محدود کر دیا ہے۔ اکثر(زیادہ تر) گھرانوں میں والدین خود بچوں سے پہاڑی کی بہ جائے اردو میں گفتگو کرتے ہیں جس سے زبان کی منتقلی کا عمل متاثر ہوتا ہے اور نئی نسل اس سے ناآشنا رہ جاتی ہے۔
ان خطرات کے باوجود پہاڑی زبان کی بقا ممکن ہے بشرطےکہ اس کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ سب سے پہلے گھریلو سطح پر اس زبان کے استعمال کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ بچے اپنی مادری زبان سے واقف ہوں۔ تعلیمی اداروں میں اسے بہ طور مضمون شامل کیا جا سکتا ہے جب کہ ادبی سرگرمیوں، لوک میلوں اور ثقافتی تقریبات کے ذریعے سےبھی اس کی ترویج کی جا سکتی ہے۔ جدید دور میں سوشل میڈیا، یوٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نہایت مؤثر ذرائع ہیں جن سے پہاڑی زبان میں مواد تخلیق کر کے اسے نئی نسل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
پہاڑی زبان کا مستقبل اسی صورت میں روشن ہو سکتا ہے جب ہم اس کی قدر کو پہچانیں اور اسے اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ اس تناظر میں ذاتی سطح پر بھی رویوں کی تبدیلی نہایت ضروری ہے۔ آزاد کشمیر میں راولاکوٹ سے ڈاکٹر صغیر خان، محمد حمید کامران اور حافظ ممتاز غزنی اس زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پہاڑی میری مادری زبان ہے اور یہ آزاد کشمیر میں مختلف لہجوں کے ساتھ بولی جانے والی ایک بڑی زبان ہے۔ میں اردو کی اہمیت سے نہ انکار کرتا ہوں اور نہ ہی اس سے انحراف ممکن ہے کیوں کہ اردو ہماری قومی اور ابلاغ کی زبان ہے۔ تاہم مادری اور مقامی زبان ہونے کی حیثیت سے پہاڑی سے ایک فطری محبت وابستہ ہے۔ میں خود اردو کا طالب علم اور استاذ ہونے کے باوجود اپنے بچوں سے پہاڑی زبان میں گفتگو کرتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ مادری زبان گھر سے ہی سیکھائی جا سکتی ہے۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ اردو سیکھنا نسبتاً آسان ہے ہمارے تعلیمی ادارے، اخبارات اور کتب اس زبان میں موجود ہیں لیکن پہاڑی زبان سکھانے کا کوئی باقاعدہ نظام نہیں۔ یہ صرف گھر کے ماحول میں ہی منتقل ہو سکتی ہے۔ ماضی میں ہمارے بزرگ، دادا دادی اور والدین بچوں سے پہاڑی میں گفتگو کرتے تھے جس سے زبان فطری انداز میں نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔ مگر آج حالات بدل چکے ہیں ہم پہاڑی بولنے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات اسے کم تر سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ ہم غلط اردو بولنے میں تو شرمندگی محسوس نہیں کرتے مگر اپنی مادری زبان بولنے والے کو ہریجن اورکم تر سمجھنے لگتے ہیں۔
مجھے ذاتی طور پر اس بات پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ایک اردو کے استاذ ہونے کے باوجود میں پہاڑی کیوں بولتا ہوں حال آں کہ حقیقت یہ ہے کہ زبانیں ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ مجھے اپنے زمانۂ طالب علمی کا ایک واقعہ بھی یاد آتا ہے جب ہمارے دوست زرید اعوان جو انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی، اسلام آباد میں انگریزی ادب کے طالب علم تھے اپنے غیر ملکی دوستوں سے بھی پہاڑی زبان میں بات کرتے اور فخر سے کہتے تھے کہ اگر ہم سے تعلق رکھنا ہے تو ہماری زبان بھی سیکھنی ہو گی۔ یہ طرزِ فکر دراصل اپنی شناخت پر فخر کی علامت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پہاڑی صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب، ثقافت اور طرزِ زندگی ہے۔ اس کی حفاظت دراصل اپنی شناخت کی حفاظت ہے۔ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم اردو اور انگریزی ضرور سیکھیں گےلیکن اپنی ماں بولی کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ اگر ہم نے آج اس زبان کو نظر انداز کیا تو آنے والی نسلیں نہ صرف ایک زبان بلکہ اپنی تاریخ، ثقافت اور پہچان سے بھی محروم ہو جائیں گی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اپنی مادری زبان کو اپنائیں، اس پر فخر کریں اور اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کریں تاکہ یہ خوب صورت ورثہ ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے۔
Title Image by asad_78 from Pixabay

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |