Tag: کشمیر

  • جاوید الحسن جاوید کی "ابھی نظمیں ادھوری ہیں”

    جاوید الحسن جاوید کی "ابھی نظمیں ادھوری ہیں”

    جاوید الحسن جاوید کی "ابھی نظمیں ادھوری ہیں”: تجزیاتی مطالعہ


    عتیق الرحمان اعوان


    6 مئی 2024 بہ روز پیر ریاست جموں و کشمیر کے ادبی منظر نامے پر نعت، غزل اور نظم کے حوالے سے رقم معتبر نام جناب جاوید الحسن جاوید سے ان کے دفتر میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ محترم جاوید الحسن جاوید سیکرٹری آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے عہدہ جلیلہ پر متمکن ہیں اور ان دنوں سیکرٹری اسٹیٹ ارتھ کویک ری کنسٹرکشن اینڈ ری ہیبلی ٹیشن اتھارٹی کے طور پر تعینات ہیں۔ موصوف کی جنم بھومی ضلع سدھنوتی تحصیل پلندری ہے۔ پلندری کی آب و ہوا علم و ادب کے حوالے سے انتہائی سازگار ہے اور ادبی لحاظ سے یہ خطہ ارضی خاصا ثروت مند بھی ہے جہاں پروفیسر عبدالعلیم صدیقی جیسے نابغہ روزگار ادیب پیدا ہوئے اور دھائیوں تک دنیائے ادب کے افق پر چمکے اور اپنی روشنی اور حرارت سے نئے لکھاریوں کو نمو بخشی۔ پروفیسر عبدالعلیم صدیقی کو "ترجمان اقبال” ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے اپنے بعد پلندری کو کئی گوہر نایاب تلاش اور تراش کر دیئے جو اب اپنے حصے کا کام بہ خوبی نبھا رہے ہیں۔ ان نایاب نگینوں میں ایک نام جناب جاوید الحسن جاوید کا بھی ہے جنہیں براہ راست پروفیسر عبدالعلیم صدیقی کے شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ موصوف نے جہاں شعر و ادب میں اپنا الگ نام و مقام پیدا کیا وہیں اپنی اعلا اخلاقی اقدار اور پرکھوں سے وراثت میں ملنے والی روایات کی پاسداری میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ اعلا حکومتی عہدہ ہونے کے باوجود موصوف عاجزی و انکساری کے جذبے سے سرشار ہیں، انہیں ایک بار ملنے کے بعد بار بار ملنے کو جی کرتا ہے۔

    جاوید الحسن جاوید کی "ابھی نظمیں ادھوری ہیں”

    مگر یہ طے ہے کہ جو ایک بار ہم سے ملے
    کسی کا ہو بھی چکا ہو ہمارا ہوتا ہے

    جناب جاوید الحسن جاوید سے ملاقات اور گفتگو کا سحر گھنٹوں طاری رہا۔ انہوں کمال محبت و شفقت سے نظموں اور قطعات پر مشتمل اپنا شعری مجموعہ "ابھی نظمیں ادھوری ہیں” اپنے دست خط کے ساتھ عنایت کیا، جو میرے لیے باعث اعزاز ہے۔ میری اس تحریر کا بنیادی مقصد ان کے اس مجموعے پر اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے۔
    "رمیل ہاوس آف پبلی کیشنز” راولپنڈی کے زیر اہتمام منصہ شہود پر آنے والی اس کتاب کا سرورق گہرے آسمانی نیلے رنگ سے مزین ہے جسے پہلی نظر دیکھنے پر ہی بے اختیار پڑھنے کا جی چاہتا ہے۔ مضبوط اور مربوط جلد بندی اضافی وصف ہے۔ مصنف نے اپنی یہ کاوش دنیا کے تمام مظلوم انسانوں کے نام کی ہے۔ جلد کے اندرونی حصے پر نظر پڑتے ہی آپ جان جائیں گے کہ مصنف کے تن بدن میں وطن کی محبت کس درجہ جاگزیں ہے:

    مانو کہ زندگی کی کہانی وطن سے ہے
    شعروں کا طمطراق جوانی وطن سے ہے
    نغموں کا لوچ حرف کی صورت گری سبھی
    سانسوں کا زیر و بم یہ روانی وطن سے ہے!!!

    نظموں، نغموں اور قطعات پر مشتمل اس مجموعے کا آغاز خاتم الانبیاء و رسل، نبی برحق، محبوب خدا و خلائق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت میں ڈوبے اس قطعے سے ہوتا ہے:

    وہ داغ دہلوی تھے جو کہتے سنے گئے
    مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہان کی ہے
    میں نقش پا ہوں اپنے محمدؐ کا اور بس
    مجھ کو خبر ملی مری مٹی جہاں کی ہے!!!

    نظموں کا آغاز معاشرتی برائیوں میں موجود "ونی” جیسی قبیح رسم پر قلم کشائی سے کیا گیا ہے:

    میں مویشی تو نہیں ہوں بابا!
    مجھے تاوان میں دینا تھا اگر
    کیا ہی بہتر تھا کہ جب آنکھ کھلی تھی میری
    زندہ درگور ہی کرتے مجھ کو!!!

    ہمارے معاشرے میں موجود اس قبیح رسم کے خلاف اپنے لفظوں کے ذریعے علم جہاد بلند کرنا جناب جاوید الحسن جاوید کا ہی خاصہ ہے۔
    "ابھی نظمیں ادھوری ہیں” کے عنوان سے درج نظم میں شاعر اپنی گزری زندگی پر نظر ڈالتا محسوس ہوتا ہے اور اسے احساس ہو رہا ہے کہ وقت کی مہلت تو ختم ہونے کو ہے اور میزان عمل خالی ہے، شاعر اس بات کو بھی شدت سے محسوس کرتا ہے کہ اسے تو ابھی بہت کچھ کرنا ہے:

    قلم کی روشنائی
    ختم ہونے کو چلی آئی
    مگر کاغذ تو کورا ہے
    ابھی کہنے کی سننے کی
    کئی باتیں ضروری ہیں
    ابھی نظمیں ادھوری ہیں!!!

    جاوید الحسن جاوید کہیں غریب اور بے گھر بچوں کا رونا روتے نظر آتے ہیں تو کہیں اشرافیہ اور حکمران طبقہ پر اس انداز سے طنز کرتے ہیں:

    ہجوم روک کے رستہ کھڑا ہے شاہوں کا
    انہیں خبر ہی نہیں ہے کہ بادشاہ کیا ہے؟
    جو اس کی راہ میں آئے گا مارا جائے گا
    ہجوم شاہ کی عظمت پہ وارا جائے گا!!!

    "مہاجر بچے” کا عنوان لیے نظم کشمیر، فلسطین، روہنگیا، بغداد و مصر کے بچوں کے کرب میں ڈوب کر یوں صورت پذیر ہوتی ہے:

    زمیں پر رینگنے والوں کا کوئی گھر نہیں ہوتا
    نہ ماں کی چھاتیوں میں دودھ ہوتا ہے
    نہ منہ پر نور ہوتا ہے
    بدن پر بس خراشیں اور لہو کے داغ ہوتے ہیں!!!

    انہیں خوابوں کو آنکھوں میں بسانے کی اجازت۔۔۔
    بھی نہیں ملتی!!!
    زباں ہوتی ہے لیکن
    ظلم سہہ کر بھی نہیں ہلتی!!!
    "پہلی دنیا کی اقوام” کے عنوان سے لکھی نظم میں اقوام عالم میں پھیلی انارکی، جنگ و جدل اور ناانصافی کے ذمہ داروں کے خلاف جاوید صاحب یوں سینہ سپر ہیں:

    انہیں معلوم ہے کیسے کہاں پہ جنگ کے بادل اٹھانا ہیں
    کہاں جھکڑ چلانا ہیں
    کسے آگے بڑھانا ہے
    کسے پیچھے ہٹانا ہے
    زمیں کی گیند کو کیسے گھمانا ہے
    مقابل کس کو لانا ہے!!!

    انہیں معلوم ہے کیسے
    کبھی بارود، میزائیل
    جہاز اور فالتو پرزےبنا کر بیچنا ہیں
    کس طرح سے تیسری دنیا کی قوموں کو
    لڑانا اور پھر ان کو لڑا کر امن کا رستہ دکھانا ہے
    انہیں معلوم ہے سب کچھ!

    "امر واقعہ” نامی نظم دور حاضر کی سچی تصویر پیش کرتی اور والدین کے دکھ روتی نظر آتی ہے کہ بچے وقت آنے پر ان والدین سے کیسے منہ پھیر لیتے ہیں جنہوں نے انہیں پالنے پوسنے کی خاطر اپنی عزت نفس تک بیچ ڈالی تھی!

    تو امر واقعہ یہ ہے
    یہ بیوہ ہو گئی تھی
    اور اس نے ناسمجھ بچوں کو یوں ہی بھیک سے پالا ہے پوسا ہے
    جواں بیٹے ہیں اب اپنا کماتے ہیں
    انہیں تو معاشرے میں زندہ رہنا ہے
    سو وہ بھی کیا کریں آخر
    اسے تو مانگتے رہنے کی عادت ہے
    اسی خاطر اسے بیٹون نے اپنے گھر سے بھی باہر نکالا ہے!!!
    آپ کی زیادہ تر نظمیں معاشرتی برائیوں پر وقوع پذیر ہوئی ہیں، کبھی آپ سرکاری معالجوں کے رویے پر شکوہ کناں ہیں تو کہیں کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور عالمی اداروں کی کشمیر میں ہونے والے جبر پر چشم پوشی کو بیان کرتے ہیں۔
    "اقبال جرم” کا عنوان لیے ایک نظم حاکم و محکوم کے کے لیے بنائے گئے الگ الگ قانون کا رونا روتی محسوس ہوتی ہے۔

    بڑی شدت کی اس دن بھوک تھی
    میں نے ڈبل روٹی چرائی تھی
    تو آخر دھر لیا جاتا ہے انساں کو

    فطرت شناس شاعر جاوید الحسن جاوید بہت باریک بیں نگاہ رکھتے ہیں اور چہروں، رویوں اور ارادوں کو بھانپ لیتے ہیں، ان کی نظم "ترقی کا راز” اسی موضوع کے گرد گھومتی ہے کہ کیسے جھوٹ موٹ کی تعریف اور فرضی لگاوٹ انسان کو ترقی کی راہوں پر ڈال سکتی ہے۔
    جاوید صاحب کی نظموں میں کہیں کہیں آپ کو مزاح کا رنگ بھی نظر آئے گا، آپ بہت خوب صورتی سے روز مرہ کی باتوں کو مزاحیہ آہنگ دیتے ہیں ایک نظم "وارننگ” کا مطالعہ آپ کو میرے اس بیان سے متفق کر دے گا۔ جاوید صاحب اپنی شاعری سے متعلق بتاتے ہہں کہ یہ ان کے بچپن کا شوق ہے کہ میں لفظو جوڑوں اور انہیں شعروں کی لڑی میں پرو کر معتبر کر دوں اور یہ سفر جاری ہے۔

    "راول پنڈی شہر” کے عنوان سے لکھی نظم بہت معنی خیز ہے اور اس کا حرف حرف ذومعنی ہے، سوچنے سمجھنے والوں کے لیے اس میں بہت سبق ہے۔
    محبت کے موضوع کو بھی آپ نے اپنی نظموں میں جا بہ جا جگہ دی ہے:
    دل کا دروازہ کھلا رہنے دو
    جانے کس وقت پلٹ آئے وہ جانے والا
    صبح کو بھولا سر شام پلٹ آئے تو بھولا نہ کہو
    دل کا دروازہ کھلا رہنے دو
    یہ ضروری ہے بہت!!!

    اور وطن سے محبت میں لکھی نظموں میں "چودہ اگست”، "وطن کا گیت”، "رد الفساد”، "ڈل کنارے پہ سرخ پھول” اور "نذر وطن” میں موصوف نے بلا کے اشعار تخلیق کیے ہیں جو قاری کے لہو میں محبت کا ابال سا پیدا کر دیتے ہیں اور جذبوں کو نئی توانائیاں بخشتے ہیں۔
    نظموں کے بعد قطعات کو کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے جو زیادہ تر معاشرتی موضوعات پر مبنی ہیں اور زندگی میں وقوع پذیر ہونے والے روز مرہ واقعات کو مزاحیہ آہنگ میں بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ:

    ایلو پیتھی ہو یا کوئی اور ہو طرز علاج
    تم دوا لیتے رہو اک دن شفا ہو جائے گی
    ہر معالج آپ سے مخلص ہے میرے دوستو
    گر دوا نہ چل سکی تو فاتحہ ہو جائے گی!!!

    اور

    ایک خاوند مر گیا تھا دو سے لے لی تھی طلاق
    اب کوئی جھگڑا ہے باقی اور نہ جنجال ہے
    کاسمیٹک سرجری نے کر دیا ایسا کمال
    ساٹھ کی لگتی ہیں لیکن عمر اسی سال ہے

    اسی طرح ایک قطعہ یوں ہے کہ:

    روز محشر جب اکٹھے تھے سبھی چھوٹے بڑے
    حق نے فرمایا کہ کاغذ پر گناہ اپنے لکھو
    ایک حضرت تھے جو دنیا میں بڑے اعلا وکیل
    وہ لگے کہنے کہ پہلے اک اضافی شیٹ دو!!!

    الغرض "ابھی نظمیں ادھوری ہیں” کے مطالعے سے آپ کو اچھی اور بامعنی شاعری کا بھرپور ذائقہ ملے گا۔ جہاں مختلف معاشرتی موضوعات کو اک قرینے سے منظوم کیا گیا ہے۔ جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ جناب جاوید الحسن جاوید شعروں کی تخلیق کا ہنر بہ خوبی جانتے ہیں۔ جو لوگ شعر و شاعری سے شغف رکھتے ہیں انہیں میں "ابھی نظمیں ادھوری ہیں” کے مطالعے کا مشورہ دوں گا۔

  • "گزرے زمانوں کی سیر”

    "گزرے زمانوں کی سیر”

    "گزرے زمانوں کی سیر”

    افتخار مغل مرحوم کا ایک شعر ہے کہ!

    اپنی مٹی کی مہک، کچی چھتوں کی بات ہے
    کچا کوٹھا کس قدر اچھا لگا بارش کے بعد

    احباب مضمون کی طوالت سے مت گھبرائیے، اس مضمون میں آپ کی دلچسپی کی بہت سی چیزیں ہیں، آپ پڑھیں گے تو پڑھتے چلے جائیں گے کیوں کہ میں آج آپ کو پچھلے زمانوں کی سیر کروانے چلا ہوں۔

    کہنے والوں نے کہا ہے کہ گزرے زمانوں میں مکان کچے اور لوگ سچے ہوتے تھے، آپ اس بیان سے کس حد تک اتفاق کرتے ہیں یہ آپ پر ہے لیکن مجھے کچھ گڑ بڑ نظر آ رہی ہے جسے حفظ ما تقدم صیغۂِ راز میں رکھنا بہتر ہے۔

    قارئین زیر نظر تصویر ہمارے آبائی مکان کی ہے جس کے بنانے والے برسوں پہلے اپنے اگلے ٹھکانوں کے راہی ہوئے لیکن اس کی بنیادوں سے کے کر اس کی ہر اینٹ، ہر پتھر، ہر دیوار اس کے گارے اور مٹی میں ان کے ہاتھوں کا لمس، خوش بو اور یادیں بسی ہیں جو مجھے یہ مضمون لکھتے ہوئے نم ناک ہونے پر مجبور کر رہی ہیں۔ میرے والد محترم کے مطابق یہ مکان آج سے 60 سال قبل تعمیر ہوا جب ہمارے دادا جان رحمت اللہ خان مرحوم و مغفور، ہماری مرحوم دادیاں، ہمارے تایا شاہ زمان اعوان، ملک امان اعوان، ہماری پھوپھیاں اور پیارے چچا ملک صابر حسین بقید حیات تھے۔ کتنی محنت اور محبت کے ساتھ یہ مکان تعمیر ہوا یہ میرے والد اور ان کے بھائی جانتے ہیں اور اس مکان کے ساتھ ان کی نسبت اور عقیدت سے راقم بھی بہ خوبی واقف ہے۔ قارئین یہ ہمارا خاندانی ورثہ ہے جسے میرے پیارے چچا محمد مشتاق اعوان نے کانچ کی گڑیا کی طرح سنبھال کے رکھا ہوا ہے۔ چوں کہ وہ بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں اس لیے یہ آبائی مکان انہی کے حصے میں آیا اور انہوں نے بھی اس عظیم ورثے کے ساتھ وفا کی اور آج تک اس پر اپنی محنت اور محبت نچھاور کر رہے ہیں جو انہی کا خاصہ ہے۔ کئی حوادث گزرے، 2005 کا قیامت خیز زلزلہ بھی گزرا مگر عظیم لوگوں کی عظیم تعمیر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ کھڑی ہے جس کا سہرا میرے چچا کے سر جاتا ہے۔

    "گزرے زمانوں کی سیر”


    بات لمبی ہو رہی ہے تو قارئین ہم کچے مکانوں میں رہنے والی آخری نسل سے تعلق رکھتے ہیں، کیا بہاروں کے دن ہوا کرتے تھے، کچے مکانوں میں دیودار، کائل یا چیڑ کے بڑے بڑے بالوں پر گھاس پھونس اور مٹی ڈال کر چھتیں بنتیں جو سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں ٹھنڈی ہوا کرتی تھیں۔ اس وقت مکان بھی کچے تھے اور صحن بھی، راستے اور سڑکیں بھی کچی ہوا کرتی تھیں جس وجہ سے موسم کبھی اس قدر شدید نہیں ہوتے تھے اور ہمیشہ معتدل رہا کرتے تھے۔ کچے مکانوں کی چھتوں میں چڑیاں اپنے گھونسلے بناتیں اور وہیں ان کی افزائش نسل ہوتی، کبھی کبھار سانپ بھی انکے گھروں پر حملہ آور ہو جاتے تھے، ان چڑیوں کو "کَہر چڑیاں” کہا جاتا تھا اتنی موٹی موٹی اور تر و تازہ، کیا وقت یاد دلا دیا میں نے آپ کو، اب چڑیوں کی وہ نسل نایاب ہو چکی اور یہاں سے اپنے اگلے ٹھکانے سدھار چکی کیوں کہ رفتہ رفتہ کچی چھتوں کی جگہ ٹین کی چھتوں نے لے لی اور پھر اب ٹین کی جگہ کنکریٹ کی چھتیں آ گئیں اور کچے مکان صرف ہماری نسل کی یادوں تک محفوظ رہ گئے۔ جہاں تک ہمارے آبائی مکان کی کی زندگی کا تعلق ہے تو عمومی رائے یہی ہے کہ چچا جان کی زندگی تک یہ محفوظ و مامون رہے گے ان کے بعد کیا ہو گا آپ سب جانتے ہیں۔ بہرحال آفرین ہے چچا جان کو کہ انہوں نے اس مکان کو "گُڈی” بنا کر رکھا ہوا ہے آپ تصویر دیکھ کر اس کے ظاہری خد و خال ملاحظہ کر سکتے ہیں اور بہ خوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ مکان ان کی کتنی محنت ، محبت اور شفقت کا شاہکار ہے۔
    ہمارے خاندان میں اس وقت چار عدد کچے مکان موجود ہیں جن پر پھر کبھی لکھوں گا، آج کے لیے اتنا ہی

    آپ کو یہ مضمون کیسا لگا، کمنٹ باکس میں اپنی رائے سے ضرور نوازئیے گا۔
    احقر
    عتیق الرحمن اعوان

    .

  •   "سبدِ گُل”پر میری رائے

      "سبدِ گُل”پر میری رائے

      "سبدِ گُل”پر میری رائے

    از 

    عتیق الرحمان اعوان 

    جیسا کہ نام سے ہی معلوم پڑ رہا ہے کہ زیرِ بحث مجلہ کوئی خاصے کی شے ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر فرہاد احمد فگار  کی کی وساطت سے محترمہ پروفیسر صائمہ خان کی ادارت میں گورنمنٹ گرلز سائنس ڈگری کالج گھنڈی پیراں مظفرآباد سے شائع ہونے والا "سبدِ گل” شمارہ 2023 موصول ہوا جس پر مدیرِ اعلا کے دست خط اور ناچیز کے لیے نیک خواہشات درج تھیں۔ اپنی ازلی سستی اور کاہلی کی بناء پر اسے پڑھنے اور اس پر تبصرہ کرنے میں جی بھر کے دیر کی بالآخر وہ دن آ ہی گیا کہ میرا تبصرہ حاضرِ خدمت ہے۔

    قارئینِ کرام!

    قومی زبان کی اہمیت و افادیت ہر دور اور ہر قوم کے ہاں مسلم ہے، اپنی زبان اور معاشرت سے دوری قوموں کو نادیدہ راہوں کا مسافر بنا دیتی ہے اور انسان نشانِ منزل کے بغیر اس سفر پر نکل پڑتا ہے اور آخر کار انہی راہوں کی گرد بن جاتا ہے۔ گورنمنٹ گرلز سائنس ڈگری کالج گھنڈی پیراں اس لحاظ سے منفرد اور ثروت مند ادارہ ہے کہ اس نے قومی زبان کی اہمیت کو سمجھا اور طلباء و طالبات کو ادبی سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے سبد گل کا اجراء کر کے ان چند اداروں میں شامل ہوا جو اپنے سالانہ رسالے شائع کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ جس کے لیے رئیسِ ادارہ پروفیسر سکینہ نور حسین اور مدیرہ محترمہ پروفیسر صائمہ خان داد و تحسین کی لائق ہیں۔

    مجلے کی طباعت اور جلد بندی کا خاص اہتمام کیا گیا ہے جو دیدہ زیب اور پائیدار بھی ہے۔ شروع میں وزیر ہائر ایجوکیشن کے علاوہ وزیر وائلڈ لائف، سابق وزراء و امیدوار اسمبلی، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن، ناظم اعلا ہائر ایجوکیشن، محترمہ سکینہ نور حسین پرنسپل ادارہ اور محترمہ صائمہ خان اسسٹنٹ پروفیسر اردو (مدیرہ) کے تاثرات اس رسالے کی اہمیت و افادیت اجاگر کرتے ہیں، اور تعریفی تاثرات رسالے کے ایڈیٹوریل بورڈ کے لیے کسی ایندھن سے کم نہیں۔ رسالے کا باقاعدہ آغاز جناب منور قریشی کی حمد سے ہوتا ہے۔

    ہر چہرہ ہے اس کا چہرہ، ہر اک روپ ہے اس کا روپ

    قریہ قریہ اس کی مہک ہے جس نگری بھی گھومیں جی!

    حمد کے بعد جمیل اختر جمیل کی نعت شامل کی گئی ہے

    ذکرِ نبی سے آج وہ خوش بو بکھر گئی

    محفل ضیاء کے نور سے یکسر نکھر گئی

    شمارے کا اگلا حصہ مضامین پر مشتمل ہے جس میں ادارہ کی لیب اٹنڈنٹ شاہدہ بی بی کا مضمون میرا کالج اور اس کی تاریخ ادارے کے حوالے سے اہم نوعیت کا حامل مضمون ہے۔ اس کے بعد ادارہ کی طالبات عالیہ مفتی، مدیحہ اور الماس فدا کی جانب سے پرنسپل صاحبہ کا لیا گیا انٹرویو شامل اشاعت کیا گیا ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ بعد ازیں ادب کی قد آور شخصیات کے مضامین کو مجلہ میں جگہ دی گئی ہے جو اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ یہ رسالہ قابل مطالعہ ہے۔ مضامین میں پروفیسر ڈاکٹر عبد الکریم صاحب کا مضمون "قومیت کی تشکیل، ذریعہ تعلیم اور زبان”، میاں کریم اللہ قریشی کے قلم سے نکلے الفاظ "تاریخ کے جھروکوں سے”، پروفیسر بشیر احمد ملک کا مضمون "کشمیر کی جنگ آزادی”، ڈاکٹر راجا محمد سجاد خان کا آرٹیکل ” مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تبدیلی، کشمیریوں کی شناخت چھیننے کا عمل”، "کشمیر کا چمن جو مجھے دل پذیر ہے” تحریر کرن آصف لیکچرر معاشیات، "اردو زبان کا قضیۂِ پیدائش” از پروفیسر محمد صغیر آسی میرپور، "آزاد کشمیر کے مایہ ناز شاعر زاہد کلیم کی غزل کی فکری جہتیں، ایک تجزیہ” از ڈاکٹر میر یوسف میر صدر شعبہ اردو جامعہ کشمیر، "غزل کا افتخار” کے نام سے مدیرہ محترمہ صائمہ خان کا دلآویز مضمون میرے پسندیدہ شاعر جناب ڈاکٹر افتخار مغل مرحوم کی شاعری کے متعلق، کشمیر کے عظیم محقق ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تحقیقی مضمون "بیان چند اشعار کا”، "طالب علم اور ماہرِ نفسیات” کا عنوان لیے پروفیسر رقیہ شاہین کا مضمون، "حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا واقعہ” از کشور ناز لیکچرر اسلامیات اور افشاں مشتاق لیکچرر انگریزی کا مضمون "تعلیم” شامل ہیں۔

      "سبدِ گُل"پر میری رائے

    شمارے کا اگلا حصہ افسانوں پر مشتمل ہے جس میں جناب شوکت اقبال مظفرآباد، محترمہ عندلیب بھٹی  اسلام آباد اور  محترمہ صائمہ بتول عباس پور کے افسانوں کو جگہ ملی ہے۔ اسی طرح شمارے کا اگلا حصہ ادارہ کی سابق طالبات کے مضامین اور ادارے سے جڑی یادوں پر مشتمل ہے جو ادارے کے ساتھ ان کی والہانہ محبت کو ظاہر کرتا ہے۔

    مجلے کا اگلا حصہ خصوصی اہمیت و افادیت کا حامل ہے کیوں کہ اس حصہ میں ادارہ کی طالبات کے مختلف موضوعات پر مضامین شامل ہیں۔ جو اس مجلے کا بنیادی مقصد ہے۔ طلباء و طالبات کو ادب کی طرف راغب کرنا اور اس اسٹیج پر انہیں اس جانب ترغیب دینے کے لیے اس طرح کے رسالے بہت ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں اور طلباء و طالبات بہت شوق اور محنت کے ساتھ اپنی تحریریں پیش کرتے ہیں جو مستقبل میں انہیں ادب کی تدوین و ترویج کی راہوں پر ڈالنے کا ذریعہ ہیں۔ 

    رسالے کا آخری حصہ غزلیات پر مشتمل ہے جس میں مختلف شعراء کی غزلیں شامل ہیں جن میں ڈاکٹر اسحاق وردگ، پشاور، پروفیسر اعجاز نعمانی مظفرآباد، جناب احمد عطا اللہ مظفرآباد، جناب حسن ظہیر راجا پنڈی کہوٹہ، ڈاکٹر فرہاد احمد فگار مظفرآباد،جناب ظہیر احمد مغل حویلی کہوٹہ،جناب  محمد یونس رانا، جناب ظہور منہاس بھیڑی، جناب قمرالحق کھریگامی شاردہ، محترمہ منیبہ مبشر اور کچھ طالبات کی منتخب کردہ بےمثال غزلیں شامل کی گئی ہیں۔ 

    الغرض یہ مجلہ اپنی ابتدائی اشاعت سے ہی ایک بہترین ادبی رسالے کے درجے پر فائز ہو چکا ہے جو گورنمنٹ گرلز سائنس ڈگری کالج گھنڈی پیراں کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ مجھے امید ہے کہ یہ سلسلہ یوں ہی جاری و ساری رہے گا اور ہر سال باقاعدگی کے ساتھ اس ادبی رسالے کا اجراء ہوتا رہے گا اور تشنگانِ علم کی پیاس بجھتی رہے گی۔

    .

  • لفظ اور محبت کا روشن مینار: شہباز گردیزی

    لفظ اور محبت کا روشن مینار: شہباز گردیزی

    آزاد کشمیر کے ادبی منظرنامے میں سید شہباز گردیزی ایک درخشاں نام مضبوط و معتبر حوالے اور ایک دل آویز شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ صرف شاعر نہیں اسلوب، روایت اور ایک تہذیب کا نام ہیں۔ اپنی شائستگی، انکساری، اخلاص اور وقار کے باعث وہ ہر محفل، ہر حلقے اور ہر دل میں اپنی جگہ بناتے ہیں۔ ان کے یومِ ولادت پر اٹھنے والی محبت کی لہر اور بے شمار خلوص بھری دعائیں خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ دلوں کی دنیا میں کتنے مضبوطی سے رچے بسے ہوئے ہیں۔
    2014ء میں نیلم کے ایک مشاعرے میں ہونے والی پہلی ملاقات نے ایک ایسا قلبی رشتہ تشکیل دیا جس نے وقت کے ساتھ کم زور ہونے کی بہ جائے اور زیادہ استحکام اختیار کیا۔ شہباز گردیزی بھائی سے ملاقات ایک شخصیت سے ملنے کا نام نہیں بلکہ ایک دل آویز انسان، مہربان دوست، معتبر شاعر اور ایک روشن دماغ سے روبہ رو ہونے کا نام ہے۔ ان میں علم و ادب کا وقار بھی ہے اور انسان دوستی کی لطافت بھی۔

    لفظ اور محبت کا روشن مینار: شہباز گردیزی


    باغ کی ادبی فضا اُن کے دم سے زندہ ہے۔ طلوحِ ادب باغ میں ان کا کردار روحِ رواں کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی مشاعرے یا کسی ادبی فورم پر باغ کی نمائندگی جس مضبوطی اور سنجیدگی کے ساتھ دکھائی دیتی ہے وہ دراصل شہباز گردیزی بھائی ہی کی مرہونِ منت ہے۔ اہلِ قلم کی ایک پوری نسل ان سے رہنمائی لیتی ہے۔ وہ بڑے شاعر ہونے کے ساتھ بڑے دل والے انسان بھی ہیں۔
    شہباز بھائی کی شاعری احساس، سچائی، درد، مزاحمت، امید اور تجربے کا وہ حسین امتزاج پیش کرتی ہے جو قاری کے دل تک اتر کر اسے دیر تک متاثر رکھتا ہے۔ ان کے اشعار انسانی تجربے کا عطر ہیں سچے اور دل میں اتر جانے والے:

    اس ایک بات پہ اٹکی ہوئی ہے سانس مری
    میں مر گیا تو مرے خواب کون دیکھے گا

    ٹھیک ہے میں اس کوشش میں ناکام رہا
    لیکن میں نے خوش رہنے کی کوشش کی

    جب بھی میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی
    سب نے مجھ کو چپ رکھنے کی کوشش کی

    ہمارے پیٹ پچکے رہ گئے ہیں
    ہماری بھوک پلتی جا رہی ہے

    اور شہدائے کربلا کی شان میں کہا گیا یہ شعر ان کی فکری عظمت کا روشن ثبوت ہےجو لمحے کے فیصلے اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کی عظمت کو خوب صورت انداز میں بیان کرتا ہے:

    جنگ کا فیصلہ ہو جاتا ہے اس اک پل میں
    حر کوئی جب کسی لشکر سے نکل آتا ہے

    ان کے فن کا ایک اور جان دار حوالہ نظم نگاری ہے ۔ ان کی نظم "سامبا کا رن” ملاحظہ کریں جو تاریخ، قربانی، جدوجہد اور امید کا بامعنی اور دل کش استعارہ ہے:

    کبھی اسیر ، کبھی دربہ در ، کبھی خوں بار
    ہمارے خون سے سامبا کا رن ہے مہکا ہوا
    ہزار رام نگر ، رائے پور ہم پہ ڈھے
    مگر یہ کارِ جنوں کم نہیں ہوا اپنا
    ہزار بار یہ باغ ارم ہوا صحرا
    ہزار بار یہ صحنِ چمن اجاڑا گیا
    سو اس زمین پہ گزرے ہیں سانحات کئی
    کئی بسیں تھیں ستوری سے آگے جا نہ سکیں
    عجب ٹرین ہے ، وکرم کے چوک پر ہے کھڑی
    اسی ٹرین سے پھوٹے گی لو آزادی کی
    شہر سے نکلے ہوئے پھر سے لوٹ آئیں گے
    عجب نہیں ہے کہ ہم پھر سے گھر بسائیں گے

    یہ نظم ان کی فکری رفعت شعری گہرائی اور امید کے ابدی سفر کی واضح دلیل ہے۔
    اسی طرح نظم "ہے دعا بس یہی” مزاحمت، آگہی اور عزم کا ایسا بلند آہنگ اظہار ہے جو روح کو جھنجھوڑ دیتا ہے:

    ہر کوئی ظالموں کا طرف دار ہے
    بعیتِ جبر پر شاہ کو اصرار ہے
    لاکھ گزریں گے اب ہم پہ دشتِ الم
    گردنیں ہوں گی تشنہ لبی میں قلم
    ہم سے قائم رہے آگہی کا بھرم
    اس مصیبت میں نہ لڑکھڑائیں قدم
    بک چکے قریۂ جان کے بام و در
    ہے دعا بس یہی
    جسم کی شاخ پر سر سلامت رہیں
    اپنے انکار پر
    گھر سلامت رہیں

    یہ نظم انکار کی قوت، آزادی کی آرزو اور شعور کے تحفّظ کا ایسا مرقع ہے جو کم ہی شاعروں کے ہاں ملتا ہے۔
    شہباز بھائی کی نظم ہو یا کہ غزل ان میں انسان، معاشرے اور داخلی الجھنوں کی بھرپور تصویر نظر آتی ہے۔اس بات کی دلیل کے طور پر بہ ذیل غزل دیکھیں :

    اور اب کیا کوئی تماشا ہو
    جو یہاں واقعی تماشا ہو

    کیا عجب دائروں کی بستی میں
    جو ہوا پھر وہی تماشا ہو

    کیا خبر موت ہو تماشائی
    کیا پتہ موت ہی تماشا ہو

    میں یہاں کس طرح سے رہتا ہوں
    جس جگہ آدمی تماشا ہو

    پھر تماشا ہوا تماشائی
    اب تو اس پر کوئی تماشا ہو

    بھر گیا دل مرا تماشوں سے
    اب تو بس آخری تماشا ہو

    ایسے عالم میں کیا کہوں شہباز
    جب کہی، ان کہی تماشا ہو

    یہ غزل انسانی تجربے کی گہرائی، عہد کی بے حسی اور سچائی کے المیے کا ایک بھرپور تخلیقی اظہار ہے۔
    شہباز گردیزی بھائی کے یومِ ولادت پر دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں صحت، عزت، آسودگی، آسانیاں اور دونوں جہانوں کی روشنیاں عطا فرمائے۔ ان کے لفظ اسی طرح نسلوں کے دلوں کو روشن کرتے رہیں، ان کی شخصیت اسی طرح محبتیں بکھیرتی رہے، اور ان کا فن آنے والے زمانوں تک رہنمائی کا چراغ بنا رہے۔
    شہباز بھائی کو جنم دن کی بے شمار، بے حساب اور دل کی گہرائیوں سے نکلی مبارک باد۔
    اللہ پاک آپ کو ہمیشہ سلامت، شاد اور سربلند رکھے۔

  • سراڑ میں ایک یاد گار دن

    سراڑ میں ایک یاد گار دن


    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار

    سات دسمبر 2025ء کی ایک پرسکون شام تھی۔ گھڑی نے رات کے ٹھیک 7:26 بجائے ہی تھے کہ موبائل فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ چھوٹا بیٹا شاہ ذین احمد جو موبائل اسکرین پر کارٹون کی رنگین دنیا میں گم تھا اچھلتا ہوا آیا اور بولا:
    “بابا! فون ہے۔”
    فون دیکھا تو دوسری جانب ڈاکٹر نذیر اعوان صاحب تھے۔ سلام دعا کے بعد انھوں نے بڑے محبت بھرے مگر فیصلہ کن انداز میں اطلاع دی کہ ہفتہ، 13 دسمبر کو زم زم ویلفیئر سوسائٹی سراڑ کے زیرِ اہتمام سالانہ تقریب منعقد ہو رہی ہے، جس کے مہمانِ خصوصی سردار مختار عباسی صاحب، سابق امیدوار اسمبلی حلقہ 3 مظفرآباد ہوں گے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے خوش خبری سنائی کہ پی ایچ ڈی اردو کی تکمیل پر مجھے اسی تقریب میں ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔ پھر گویا حکم صادر ہوا کہ میں پرنسپل پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد پروفیسر ڈاکٹر واجد حسین اعوان صاحب اور برادرِ عزیز سالک محبوب اعوان (ماہرِ معاشیات) کو بھی دعوت دے دوں۔
    فون بند ہوتے ہی میں نے فوراً دونوں احباب کو اطلاع دی کہ کہیں یادداشت کی کم زوری آڑے نہ آ جائے۔
    اگلے دن برادر عزیز عتیق الرحمان اعوان سے ملاقات ہوئی تو تقریب کا ذکر چھیڑا۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے دوست نجم ظہیر اعوان کو بھی انجینئرنگ کی کامیاب تکمیل پر اسی تقریب میں ایوارڈ دیا جائے گا۔ یوں خوشیوں کی فہرست میں ایک اور نام شامل ہو گیا۔
    ہفتے کی صبح سالک محبوب اعوان سے رابطہ کیا تو اس نے دس بجے کا وقت دیا۔ طے پایا کہ وہ میرے گھر آئے گا اور ہم اکٹھے روانہ ہوں گے۔ بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر واجد اعوان صاحب کو کال کی تو انھوں نے خوش گوار حیرت سے کہا:
    “ابھی میں آپ ہی کو فون کرنے والا تھا۔”
    وہ کسی مریض کے ساتھ امبور اسپتال میں موجود تھے۔ فرمایا کہ آپ امبور آ جائیں گیارہ بجے یہاں سے ساتھ نکلیں گے۔
    حسبِ روایت، سالک محبوب اعوان وقت کا ایسا پابند نکلا کہ گھڑی دیکھنے کی نوبت ہی نہ آئی۔ ناشتے کے بعد میں نے اپنے مہمان دوست ساجد عباس سے اجازت چاہی۔ ساجد عباس، نمل کے دوست ہیں، کبیر والا ضلع خانی وال سے تعلق رکھتے ہیں اور فیڈرل گورنمنٹ میں سینئر مدرس ہیں۔ وہ یہاں اپنے ایم فل اردو کے مقالے کی تیاری کے سلسلے میں مقیم تھے۔ بڑے خلوص سے بولے:
    “آپ بے فکر ہو کر جائیں، میں بیٹھ کر اپنا کام کرتا ہوں۔”

    سراڑ میں ایک یاد گار دن


    گیارہ بجے سراڑ کے لیے روانہ ہوئے۔ گاڑی امبور میں کھڑی کی اور ڈاکٹر واجد اعوان صاحب کی گاڑی میں سوار ہو کر سراڑ کی جانب چل پڑے۔ شریف شہید بوائز ہائی اسکول سراڑ میں منعقدہ تقریب کا آغاز ہو چکا تھا۔ پنڈال میں پہنچتے ہی اسٹیج سے ہمارا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا اور سامنے کی نشستوں پر جگہ دی گئی۔ سابق صدرِ معلم ریاض اعوان صاحب( ہمارے دوست محسن اعوان کے والد ماجد)اسٹیج سے میرا نام سنتے ہی اپنی نشست چھوڑ کر ملاقات کے لیے تشریف لے آئے۔
    تقریب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری تھی اگرچہ اسٹیج کے نظم و ضبط کے معاملے میں گزشتہ سال کی روایت اس سال بھی برقرار رہی۔ اسٹیج سیکرٹری صاحب ایک منٹ کی کارروائی کو دس منٹ میں مکمل کرتے اور ہر وقفے کے بعد یہ اعلان ضرور فرماتے کہ “وقت کا دامن تنگ ہے”۔ نظامت کی زمہ داریاں آدھی تقریب کے بعد منتقل ہوئیں مگر مسئلہ اپنی جگہ قائم رہا۔
    ایک دل چسپ لمحہ وہ آیا جب قومی ترانے پیش کیے جا چکے اور حاضرین بیٹھ چکے تھے کہ اچانک اعلان ہوا:
    “اب آزاد کشمیر کے قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہو جائیں۔”
    حاضرین کی ہنسی نے اعلان کرنے والے کو بھی شاید لمحہ بھر کے لیے سوچ میں ڈال دیا۔
    زم زم ویلفیئر سوسائٹی سراڑ نے حسبِ سابق مختلف اداروں کے نونہالوں کو اعلا کارکردگی پر شیلڈز سے نوازا۔ اساتذہ کی محنت پر حاضرین دل کھول کر داد دیتے رہے۔ بزمِ زم زم کے رکن فیاض گل اعوان صاحب اور میرزمان اعوان گرلز ہائی اسکول سراڑ کی مدرسہ فرحت رشید نے اپنا کلام سنایا۔ مہمانِ خصوصی نے فیاض گل اعوان صاحب کے لیے پانچ ہزار روپے اور محترمہ فرحت رشید کے لیے دس ہزار روپے نقد انعام کا اعلان کر کے خوب حوصلہ افزائی کی۔ طلبہ و طالبات کی بہترین کارکردگی پر بھی نقد انعامات دیے گئے۔
    میرزمان اعوان گرلز ہائی اسکول کی طالبات نے بیٹیوں کے حوالے سے ماقبلِ اسلام کا ایک واقعہ ٹیبلو کی صورت میں پیش کیا جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔ اسی طرح ہائی اسکول سیری کی طالبات نے معاشرے میں بیٹیوں کے کردار پر مبنی ٹیبلو پیش کیا۔ یہ مناظر دیکھ کر بے اختیار اپنا یہ شعر یاد آ گیا:

    اداسیوں سے اٹے ہوں گے سب در و دیوار
    جو آنگنوں میں ہمارے نہ بیٹیاں بولیں

    قریباً ڈھائی بجے تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔ کئی اسکالرز اور طلبہ کو زم زم ویلفیئر سوسائٹی، تنظیم الاعوان اور ڈاکٹر نذیر اعوان صاحب کی جانب سے ایوارڈز دیے گئے۔ مجھے پی ایچ ڈی اردو کی تکمیل پر بیسٹ اچیومنٹ ایوارڈ اور پروفیسر ڈاکٹر واجد اعوان صاحب کو بہ طور پرنسپل بوائز پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد تعیناتی پر شیلڈ سے نوازا گیا۔

     زم زم ویلفیئر سوسائٹی، تنظیم الاعوان


    اختتام پر بہترین ظہرانے کا اہتمام تھا۔ نجم ظہیر اعوان اور عتیق الرحمان اعوان کی معیت میں ہم تینوں مہمانوں نے کھانا تناول کیا۔ زم زم ویلفیئر سوسائٹی کے صدر محمود الحسن اعوان صاحب اور ڈاکٹر نذیر اعوان صاحب کھانے کے انتظامات خود دیکھ رہے تھے۔ دوستوں کی جانب سے چائے کی دعوت بھی تھی مگر مجبوری کے باعث بادلِ نخواستہ معذرت کرنا پڑی۔ شام قریب ساڑھے چار بجے ہم واپس پہنچے، دل میں خوشی، ذہن میں یادیں اور قلم میں اس دن کی روداد سمیٹے ہوئے۔
    نوٹ: تقریب کی صرف ایک ہی تصویر برادرم عتیق الرحمان اعوان کی وساطت سے موصول ہو پائی۔

  • ڈاکٹر محمد سلیم مغل — علم، اخلاق اور اخلاص کا استعارہ

    ڈاکٹر محمد سلیم مغل — علم، اخلاق اور اخلاص کا استعارہ


    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار

    ڈاکٹر محمد سلیم مغل سے پہلا تعارف اُس زمانے کا ہے جب وہ گورنمنٹ ماڈل سائنس کالج کنڈل شاہی میں بہ طور لیکچرر خدمات انجام دے رہے تھے۔ کیمیا اُن کا مضمون ہے اور وہاں وہ اکثر ڈاکٹر لیاقت علی صاحب کے ہم سفر ہوتے۔ انہی اسفار میں مجھے بھی مظفرآباد سے نیلم تک کئی بار ان کی رفاقت نصیب ہوئی۔ یہ سفر صرف راستوں کا سفر نہیں تھا بلکہ ایک سنجیدہ استاد، باوقار انسان اور ایک سلجھی ہوئی شخصیت کو قریب سے دیکھنے کا سفر بھی تھا۔ اُس مختصر مگر پُراثر رفاقت نے دل میں ان کے لیے ایک نرم گوشہ پیدا کر دیا۔ پھر وقت نے رخ بدلا، حالات نے کروٹ لی اور مغلیہ نسب سے تعلق رکھنے والا یہ ہمّت و محنت کا پیکر کنڈل شاہی سے انٹر کالج ٹھیریاں منتقل ہوا۔ یوں ایک نیا باب رقم ہوا۔
    محمد سلیم مغل 15 جنوری 1988ء کو مظفرآباد کے خوب صورت اور پر فضا گاؤں کھن بانڈی میں پیدا ہوئے۔ایسا ماحول جس میں سادگی بھی ہے، خلوص بھی اور محنت کی خوش بو بھی۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ مڈل اسکول کھن بانڈی سے حاصل کی۔ بچپن سے ذہین توجہ دینے والے اور تجسس رکھنے والے طالب علم کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ میٹرک علی اکبر اعوان ماڈل ہائی اسکول چھتر دومیل سے امتیازی کارکردگی کے ساتھ مکمل کی۔ ایف ایس سی انھوں نے ماڈل سائنس کالج مظفرآباد سے کی۔ ان کا تعلیمی سفر مستقل مزاجی اور لگن کا آئینہ دار ہے۔ بی ایس سی انھوں نے پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد سے کی جہاں انھوں نے سائنس کے شعبے میں اپنی بنیادیں اور بھی مضبوط کیں۔
    اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کا سفر شروع ہوتا ہے۔ 2013ء میں انھوں نے ایم ایس سی کیمسٹری یونی ورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر سے مکمل کی ۔ مابعد 2016ء میں اسی یونی ورسٹی سے ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ یہ مرحلے محض ڈگریاں نہیں بلکہ ان کی بے پناہ محنت، مسلسل جدوجہد اور علمی پیاس کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ان کا یہ سفر بالآخر انھیں پی ایچ ڈی کی چوٹی تک لے گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر بلال احمد خان کی زیرِ نگرانی انھوں نے 2025 میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ ان کا موضوع تھا:
    "سرفیکٹنٹ کی مدد سے دھاتی آکسائیڈز اور اینسائیڈز (NSAIDs) کو نینو پیمانے پر محفوظ طریقے سے ڈیزائن کرنا تاکہ انھیں طب اور دوا سازی جیسے حیاتیاتی شعبوں میں موثر طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔”

    ڈاکٹر محمد سلیم مغل — علم، اخلاق اور اخلاص کا استعارہ


    یہ موضوع جدید سائنس میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے سے نینو ٹیکنالوجی، ادویات اور بائیومیڈیکل سائنس کے سنگم پر پیدا ہونے والے نئے امکانات کی راہیں کھلتی ہیں۔ اس تحقیق نے نہ صرف ان کی علمی اہلیت کا بھرپور اظہار کیا بلکہ مستقبل میں ان کے تحقیقی کردار کی بنیاد بھی مضبوط کی۔
    ٹھیریاں کالج میں ان کے ساتھ قریب رہ کر مجھے ان کی شخصیت کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع ملا۔ اگر معمولی بشری کمزوریوں کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو ان کا وجود بلاشبہ ایک ہمہ گیر، زندہ دل اور محنتی انسان کا ہے۔ وہ خاموش طبع مگر تاثیر رکھنے والے، نرم گو مگر جرات مند اور سادہ مگر علم و وقار کے حامل شخص ہیں۔ تدریسی عمل ان کے لیے فرض سے بڑھ کر ایک مشن ہے۔ جب وہ پڑھاتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں ایک خاص چمک نظر آتی ہے۔علم بانٹنے کی، ذہن روشن کرنے کی اور اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی چمک۔ طلبہ اکثر کہتے ہیں کہ سلیم صاحب کے لیکچرز میں کیمسٹری محض ایک مضمون نہیں رہتی بلکہ ایک سمجھ میں آنے والی حقیقت بن جاتی ہے۔
    انھیں کبھی کالج میں فارغ بیٹھے نہیں دیکھا۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی طالب علم کو سمجھا رہے ہوتے ہیں۔کبھی کتاب کے ذریعےسے ، کبھی سوالات کے ذریعے سے،کبھی مثالوں سے اور کبھی محبت بھری ڈانٹ کے ساتھ۔ ان کی گفتگو میں نرمی، ان کی حرکات میں وقار اور ان کی موجودگی میں ایک عجیب سی شرافت محسوس ہوتی ہے۔
    سلیم مغل دوستوں میں فیاض، روّیوں میں سادہ، دل میں نرم اور پیشے میں دیانت دار ہیں۔ تیموری نسب ہونے کے باوجود اُن میں وہ نخوت یا غرور بال برابر بھی نہیں پایا جاتا جو بعض نسبی برتری کے دعوے داروں میں ہوتا ہے۔ روزانہ صبح سویرے کھن بانڈی سے عوامی سواری میں چھتر پہنچنا پھر وہاں سے کالج جانا یہ سب معمولات ان کے حوصلے، عزم اور ذمہ داری کے احساس کا بیان ہیں۔ یہ سفر آسان نہیں لیکن وہ اسے بہ حسنِ خوبی نبھاتے ہیں۔
    سلیم صاحب کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی ہے کہ وہ چھٹی محض کسی ناگزیر مجبوری میں کرتے ہیں وگرنہ فرض شناسی ان کے خون میں بسی ہوئی ہے۔ شاید اسی لیے وہ طلبہ میں خاص مقبولیت رکھتے ہیں۔ ان کے پڑھانے کا انداز ایسا ہے کہ طالب علم صرف مضمون نہیں پڑھتے بلکہ سیکھتے ہیں، سمجھتے ہیں اور یاد رکھتے ہیں۔
    میرا ایمان ہے کہ اس زمانے میں ایسے لوگ کم رہ گئے ہیں جو ڈگری کے ساتھ کردار بھی رکھتے ہوں اور ذمہ داری کے ساتھ دیانت بھی۔ ہمارے تعلیمی نظام کو ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے۔ کاش ہمارے قومی و تعلیمی قوانین میں ایسی گنجائش ہو کہ ڈاکٹر سلیم مغل جیسے صاحبانِ علم اور اصحابِ کردار افراد کو مرکزی اداروں میں کلیدی ذمہ داریاں ملیں تاکہ وہ اپنی قابلیت اور اخلاص سے نظامِ تعلیم کو بہتر سے بہترین بنانے میں کردار ادا کر سکیں۔
    دعا ہے کہ شعبۂ تعلیم خصوصاً کالج سیکٹرڈاکٹر محمد سلیم مغل جیسے بااخلاق، باصلاحیت اور مخلص اساتذہ کی بدولت مزید روشن ہو۔ آنے والی نسلیں ان کے علم، سادگی، ان کی محنت اور ان کے کردار سے فیض یاب ہوں اور وہ یوں ہی تحقیق و تدریس کی راہوں میں ترقی کرتے ہوئے نئی منزلیں طے کرتے رہیں۔ ان جیسے لوگ ہماری تعلیمی دنیا کا سرمایہ ہیں اور یقیناً آنے والے وقت میں ان کا نام مزید قدروقیمت حاصل کرے گا۔

    .

  • بھارت کے آٹھویں لڑاکا طیارے کی تباہی

    بھارت کے آٹھویں لڑاکا طیارے کی تباہی

    بھارت کے آٹھویں لڑاکا طیارے کی تباہی

    Dubai Naama

    انڈیا امریکی صدر کے ہاتھوں مسلسل ذلت کا شکار تھا۔ اب جنرل بخشی نے فائٹر جیٹ تیجس کریش کا ملبہ امریکہ پر ڈال کر جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ دبئی کے ایئرشو میں کریش سے صرف ایک روز قبل انڈین پائلٹس اور عوامی وزٹرز پاکستان کے نمائشی لڑاکا طیاروں کو دیکھنے کے لیئے جوق در جوق آ رہے تھے۔ بہت سے انڈین تو پاکستان کے جے ایف17 تھنڈر کے ساتھ تصاویر بھی بنوا رہے تھے۔ اگلے روز جونہی انڈیا کا لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہوا اور جس میں انڈین پائلٹ بھی ہلاک ہو گیا تو اس کا ملبہ جنرل موصوف نے امریکہ پر ڈال کر بھارتی خفت مٹانے کی کوشش کی۔ لیکن کہتے ہیں کہ، "جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے۔” مئی میں انڈیا نے پاکستان کے ہاتھوں شکست کھائی اور اب اپنی ہوائی قوت کا مظاہرہ کرنے کے لیئے جب بھارت نے دبئی کے ایئر شو میں شرکت کی تو اس نے اپنی رہی سہی کسر دنیا کے سامنے خود ہی پوری کر دی۔

    متحدہ عرب امارات دبئی میں انڈیا کا لڑاکا طیارہ کیا گرا ہے پوری دنیا بھارت کی نہ صرف ایئرفورس کا مذاق اڑا رہی ہے بلکہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انڈیا کے 8 لڑاکا طیاروں کے گرائے جانے کی گواہی بھی عین سچ ثابت ہوئی ہے۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے تقریبا ہر فورم پر بھارت کے 7 طیارے گرائے جانے کا تسلسل سے ذکر کر رہے تھے اور انہوں نے چند روز قبل ہی اپنے آخری بیان میں ایک مزید طیارہ گرنے کا اضافہ کیا تھا۔ عقل مند کہتے ہیں کہ جب دن برے چل رہے ہوں تو محتاط ہو جانا چایئے لیکن اس سے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے کوئی سبق نہیں سیکھا تھا اور وہ پاکستان کو وقفے وقفے سے جنگ کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ جونہی بھارت کا دبئی میں جنگی طیارہ گر کر تباہ ہوا ہے اس سے بھارت کا جنگی جنون وقتی طور پر ٹھنڈا ہو گیا ہے۔ لیکن بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں شکست چین سے نہیں بیٹھنے دے رہی ہے اور وہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا رہا ہے۔ بہتر ہو گا کہ بھارت عقل کے ناخن لے اور پاکستان کے ساتھ اپنے سرحدی تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کرے تاکہ خطے میں امن کو بحال کیا جا سکے۔

    پاکستان اور بھارت دو عالمی ایٹمی قوتیں ہیں اور جب تک ان دونوں ممالک کے درمیان امن قائم نہیں ہوتا ہے دنیا پر ایٹمی جنگ کے خطرات مسلسل منڈلاتے رہیں گے۔ پاکستان نے بھارت کے خلاف جارحیت کرنے میں پہل کرنے کی کبھی غلطی نہیں کی ہے۔ مئی 2025ء کی جنگ میں بھی بھارت نے بہاولپور میں رات کی تاریکی میں بزدلانہ بمباری کر کے جنگ کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں 8 پاکستانی شہری شہید اور 35 زخمی ہو گئے تھے لیکن اس جنگ میں بھارت کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور آج بھی پاکستان بھارت کی جنگی دھمکیوں کے خلاف کوئی جارحانہ ردعمل نہیں دے رہا یے۔ پاکستان نے اپنے دفاع میں بھارت پر حملہ کر کے اسے سبق سکھایا۔بھارت کو چایئے کہ وہ جنگی ماحول قائم کرنے کی بجائے مذاکرات کی میز پر آئے اور "مسئلہ کشمیر” کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی کوشش کرے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر لڑائی کی جڑ ہے جسے حل کیئے بغیر خطے میں جنگ کو روکنا اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی قائم کرنا ناممکن ہے۔ ان دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کی جنگوں کو روکنے اور دنیا کو ایٹمی جنگ سے بچانے کا یہ واحد حل ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیئے عالمی قوتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چایئے۔ جب تک بھارت پر عالمی طاقتیں دباؤ نہیں ڈالتی ہیں مسئلہ کشمیر کو حل کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ لیکن بھارتی حکمرانوں کے ذہن میں "اکھنڈ بھارت” کا خناس شامل ہے۔ بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نہ صرف پاکستان کے خلاف دزدیدہ اور نفرت کے عزائم رکھتے ہیں بلکہ وہ بھارت کی مسلم برداری کے بھی دشمن ہیں۔ وہ بھارت میں مسلم کشی کے مرتکب رہے ہیں۔ گجرات کے فسادات میں مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا بلکہ جب وہ وہاں کے وزیراعلٰی تھے وہ ان فسادات کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ مودی کے مخالفین انھیں تفرقہ پیدا کرنے والی شخصیت گردانتے ہیں۔ سنہ 2002ء کے گجرات فسادات کے دوران مودی گجرات کا وزیر اعلیٰٰ تھا جس کی وجہ سے ان پر الزام دیا جاتا ہے کہ وہ پس پردہ اس میں ملوث تھے۔ اب وہ بھارت کے وزیراعظم ہیں تو وہ پاکستان کے وجود کو بھی نقصان پہنچانے کی اپنی ناتمام خواہش پر ہاتھ ملتے رہتے ہیں جو نہ صرف اچھے ہمسایہ کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ پوری دنیا کے امن کو بھی داو پر لگانے کے مترادف ہے۔

    جب مئی 2025ء میں بھارت کو شکست ہوئی تو اس وقت بھارت اسلحہ جمع کرنے کے جنون میں مبتلا ہو گیا۔ اس تناظر میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کو مسلسل زچ کیا اور بھارت بلآخر امریکہ سے دفاعی معاہدہ کرنے پر مجبور ہو گیا جس کے تحت امریکہ نے بھارت کو 3 خطرناک جنگی اٹاچی ہیلی کاپٹر فراہم کرنے تھے جو ترکی میں رکے اور واپس امریکہ لوٹ گئے۔ ریٹائرڈ جنرل بخشی نے اپنے بیان میں اس کا الزام بھی امریکہ پر لگایا اور ساتھ ہی بھارت کے دبئی کے ایئرشو میں تیجس طیارہ گرنے کا الزام بھی امریکہ کو دیا کہ اس نے بھارت سے ایک ارب ڈالر لے لیئے مگر تیجس طیارے کے ناقص انجن فراہم کیئے جس سے دبئی کے ایئرشو میں بھارتی جنگی طیارہ گرنے کا واقعہ پیش آیا جو کہ ایک ناعاقبت‌ اندیشی پر مبنی بیان ہے۔ بھارت کے جنرل بخشی ٹی وی پر بیٹھ کر ہمیشہ پاکستان کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں۔ وہ بھارت کے نمایاں "جنگی بھونپو” ہیں جو اپنے ہر تبصرے میں بھارت کو جنگی اشتعال دلاتے ہیں۔ درحقیقت جنرل بخشی نہ صرف بھارت اور پاکستان کے لیئے خطرہ ہیں بلکہ وہ خطے کے امن کے لیئے بھی ایک بھڑکتی چنگاری ہیں۔ ایک دنیا جانتی ہے کہ جنرل بخشی کا وجود دونوں ممالک کی امن و سلامتی کے لیئے کتنا مہلک ہے۔ ان کی بھاری اور نفرت اگلتی آواز دونوں ملکوں کی عوام کو اشتعال دلاتی ہے کہ امن و سکون اور پرامن رہنے کی بجائے ایک دوسرے کی عوام کا خون بہانا ہے۔ اس واقعہ کے بعد بھارت کو سمجھنا چایئے کہ فطرت کے اشارے کیا کہہ رہے ہیں؟ قدرت ہر ملک اور قوم کو موقع دیتی ہے کہ وہ اس کے اشاروں کو سمجھے اور امن و سکون سے رہے لیکن ایک بھارت ہے کہ وہ روز اول سے پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور اسے جب جب موقع ملتا ہے وہ پاکستان کو جنگ کے دہانے پر لے آتا یے۔

    بھارت کے آٹھویں لڑاکا طیارے کی تباہی

    متحدہ عرب امارات دبئی کے ایئر شو میں جمعہ کی دوپہر کو بھارتی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ "تیجس” فضائی کرتب کے مظاہرے کے دوران گر کر تباہ ہوا۔ 15 نومبر سے 21 نومبر تک جاری رہنے والے اس ایئر شو کے دوران دوپہر کو بھارت کا یہ لڑاکا طیارہ اپنے ہوائی مظاہرے میں مصروف تھا کہ اچانک حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے بعد ایئر شو عارضی طور پر روک دیا گیا۔ یہ حادثہ المکتوم ایئرپورٹ کے قریب اس مقام پر پیش آیا جہاں بڑی تعداد میں لوگ فضائی مظاہرہ دیکھنے کے لئے موجود تھے۔ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 10 منٹ پر طیارہ فضائی ڈسپلے کے دوران اچانک زمین سے ٹکرا کر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ انڈین ایئرفورس نے حادثے میں پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق کرنے کے بعد حادثے کی وجوہات جاننے کے لئے تحقیقات تو شروع کر دی ہیں لیکن ہلاک ہونے والا بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر نومنش سیال دنیا میں پلٹ کر واپس کبھی نہیں آئے گا۔
    گرنے والے اس طیارے کے پائلٹ کے بارے میں معلومات لی جا رہی ہیں اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گرا یا پھر پائلٹ کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے گرا۔

    جائے وقوعہ پر موجود عینی شاہدین کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارے کے گرتے ہی گہرے سیاہ دھوئیں کے بادل فضا میں اٹھنے لگے تھے، جس پر نظارہ دیکھنے کے لئے آئے ہوئے شائقین پریشان ہو گئے۔ چند روز قبل بھی دبئی ائیر شو کے دوران بھارتی لڑاکا طیارے کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں تیجس طیارے کے فیول ٹینک سے تیل لیک ہوتے دیکھا گیا تھا۔ تیجس بھارت میں مقامی طور پر تیار ہونے والا لڑاکا طیارہ ہے، دو سال سے بھی کم عرصے میں اس طیارےکا یہ دوسرا حادثہ ہے۔ مارچ 2024ء میں تیجس لڑاکا طیارہ راجستھان کے شہر جیسلمیر میں گر کر تباہ ہوا تھا، جس میں پائلٹ محفوظ طور پر باہر نکل آیا تھا لیکن اس دفعہ پائلٹ طیارے کے گرنے پر ہلاک ہو گیا۔ اس بھارت کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد کوئی چھوٹا ملک بھارتی ساختہ طیارے بھی نہیں خریدے گا۔ یہ واقعہ انسانی حوالے سے المناک ہے اور بطور انسانی ہمدردی اہل پاکستان کو بھی اس واقعہ پر شدید دکھ ہوا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس واقعہ کے بعد بھارت اپنے جنگی جنون سے باز آ جائے اور جنرل بخشی جیسے نامعقول جنگی ماہرین کو تبصروں کے لیئے بلانے کی بجائے کسی امن پسند جنگی تجزیہ کار کو ٹی وی پر بٹھائے جس سے عوام کو امن کا پیغام جائے۔ جنگوں کے بعد اگر مذاکرات کی میز پر جا کر حائل مسائل کو حل کرنے کے لیئے میز پر بیٹھنا ناگزیر ہوتا ہے تو یہ کام جنگ سے پہلے کیوں نہ کیا جائے۔ جنگیں چاہے سلامتی اور امن کے نام پر ہی کیوں نہ لڑی جائیں ان میں جان و مال کا نقصان ہوتا ہے اور پوری انسانیت کی "بقا” خطرے میں چلی جاتی ہے کہ اسلام کے مطابق ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زبان "کالی” ہے وہ جو کہہ رہا تھا وہ ہو گیا اور بھارت کا 8واں جنگی طیارہ بھی گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ یہ واقعہ بھارت کی آنکھ کھولنے کے لیئے کافی ہونا چایئے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کی عوام "امن” چاہتی ہے۔ ہم اہل پاک و ہند صدیوں تک اکٹھے رہتے رہے ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا بھی سیکھ لیں۔ اگر اہل یورپ تباہ کن اور خونریز جنگوں کے بعد اچھے ہمسائے بن سکتے ہیں تو ہم بھی بن سکتے ہیں۔ امن کو سیاست کی بھینٹ چڑھانا کوئی عقل مندی کا کام نہیں ہے۔

  • مقبول ذکی مقبول کی کتاب حُسنِ بیان اشاعت کے آخری مراحل میں

    مقبول ذکی مقبول کی کتاب حُسنِ بیان اشاعت کے آخری مراحل میں

    بھکر ( نمائندہ خصوصی ) مقبول ذکی مقبول کی کتاب حُسنِ بیان بہت جلد مارکیٹ میں آنے والی ہے. جو تحقیقی و تنقیدی مضامین اور تبصروں پر مشتمل ہے ۔ مضامین و تبصروں کے عنوانات بالترتیب، بھکر کے معروف اُردو غزل گو ، بھکر میں نظم نگاری ، بھکر میں افسانہ اور ناول نگاری بھکر کا ادبی جائزہ سال برائے 2024 ء ہیں۔ اس کے بعد جھنگ ، بھکر ، میانوالی ،ہری پور ہزارہ منکیرہ کے ادبی شخصیات کے ادبی کارناموں پر تحقیق و تنقید کی گئی ہے۔

    مقبول ذکی مقبول کی کتاب حُسنِ بیان اشاعت کے آخری مراحل میں

    مقبول ذکی مقبول کی شخصیت اور فن پر معروف قلم کاروں کی آراء بھی شامل ہیں۔ جن میں ڈاکٹر فرحت عباس ( اسلام آباد ) پروفیسر ڈاکٹر فرہاد احمد فگار ( مظفرآباد آزاد کشمیر ) محمد مظہر نیازی ( میانوالی ) بیک ٹائٹل پروفیسر ڈاکٹر سیدہ آمنہ بہار شعبہ اُردو آزاد جموں کشمیر یونیورسٹی مظفرآباد نے لکھا ہے اُردو ادب میں یہ کتاب ایک خوبصورت اضافہ ہے۔

  • پت جھڑ میں کشمیر کی سیر: تجزیاتی مطالعہ

    پت جھڑ میں کشمیر کی سیر: تجزیاتی مطالعہ

    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار ، مظفرآباد

    سرفراز بزمی اردو شاعری کے اُن دردمند اور باوقار شعرا میں سے ہیں جنھوں نے مشرقی احساس، روحانی گہرائی اور عصری شعور کو یک جا کر کے اپنے اظہار کو ایک منفرد رنگ دیا ہے۔ ان کے ہاں لفظ صرف اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ تہذیبی شعور اور انسانی ضمیر کا آئینہ ہے۔سرفراز بزمی کی شاعری میں حضرت اقبال کا واضح پرتو ملتا ہے۔ میرا بزمی صاحب سے تعارف ان کے ایک مشہور قطعے کے ذریعے سے ہوا۔ وہی قطعہ جو اکثر غلطی سے علامہ اقبالؒ سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔
    اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
    املاک بھی، اولاد بھی، جاگیر بھی فتنہ
    ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
    شمشیر ہی کیا نعرۂ تکبیر بھی فتنہ
    یہ قطعہ ان کے فکری مزاج کی جھلک پیش کرتا ہے ۔ ۔ بزمی صاحب کےاس ضرب المثل قطعے کے حوالے سے میں ایک مضمون کچھ سال قبل ضبط تحریر میں لا بھی چکا ہوں۔ جو ایکسپریس سمیت کئی اہم اخبارات اور ویب سائٹس پر شائع بھی ہو چکا ہے۔ سرفراز بزمی صاحب نے اپنی ایک تحریر میں اس بات کا برملا اظہار بھی کچھ یوں کیا:
    "آج مجھے اپنی شاعری کے ابتدائی ایام کا اپنا ایک قطعہ جسے نادان احباب نے فکری اور لسانی ہم آہنگی کی بناپر علامہ اقبال سے منسوب کرنے کی غلطی کردی یہاں تک کہ پڑوسی ملک کی نیشنل اسمبلی میں بھی ایک باوقار رکن نے اسے علامہ سے منسوب کرتے ہوئے سنایا جس کے بعد یہ موضوع بحث بنا اور جستجو ہوئی کہ آخر یہ کس کی تخلیق ہے۔اور بالآخر مظفرآباد یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر فرہاد فگار نے اس بابت مجھ سے رابطہ کیا
    پھر ایک تحقیقی مضمون قلم بند کیا جس کے بعد اور بھی کئی احباب نے اس پر مضامین لکھے
    خیر میں عرض یہ کرنا چاہ رہا تھا کہ میرے اس قطعے کے بابت مظفر نگر یوپی کے مشہور شاعر جناب ریاض ساغر صاحب نے آج مجھ سے رابطہ کیا اور ایک فیس بک پوسٹ پر چل رہی ایک بحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ علامہ کا قطعہ ہے جسے بعض لوگ آپ سے منسوب کر رہے ہیں مجھے بڑی تکلیف ہوئی کہ ایسے بڑے اصحاب ادب بھی اسے آج تک علامہ کا سمجھ رہے ہیں ۔
    (سرفراز بزمی سوائی مادھوپور راجستھان انڈیا)”
    وہ شاعر جو علم و دولت کی اصل قدر کو روحانی ربط سے ناپتا ہے۔ سرفراز بزمی کی شاعری کی انھی معنوی بلندیوں کا تسلسل ہمیں ان کی نظم "پت جھڑ میں کشمیر کی سیر” میں ملتا ہے۔ یہ نظم انھوں نے 28اکتوبر 2024ء کو تخلیق کی اور وٹس ایپ کے ذریعے سے 27 اکتوبر 2025ء کو مجھے ارسال کی جب بزمی صاحب نے یہ نظم ارسال کی تو مجھے اتنی پسند آئی کہ میں نے فوراً اپنے محسن ومربی شوکت اقبال صاحب کی خدمت میں ارسال کی۔ انھوں نے نظم مکمل انہماک سے پڑھی اور یہ جواب دیا:”بھر پور تاثراتی نظم ہے اس پر مکمل تنقیدی کالم بنتا ہے۔”

    پت جھڑ میں کشمیر کی سیر: تجزیاتی مطالعہ


    شوکت صاحب کے حکم کی تعمیل میں یہ جسارت کرنے چلا ہوں۔سرفراز بزمی صاحب کی یہ نظم”پت جھڑ میں کشمیر کی سیر” بہ ظاہر کشمیر کے مناظرِ فطرت کی سیر ہے مگر درحقیقت کشمیر کے دکھ، انسانی بے بسی اور امیدِ نو کی ایک علامتی داستان ہے۔
    نظم کا آغاز ایک دل گرفتہ منظر سے ہوتا ہے ڈل جھیل کے کنارے ایک محافظ کھڑا ہے فولادی لباس میں ملبوس مگر آنکھوں میں خوف کی چمک لیے ہوئے۔ یہ منظر محض ایک سپاہی کی موجودگی نہیں بلکہ اس خوف، جبر اور غیر یقینی فَضا کی علامت ہے جو پورے کشمیر پر طاری ہے۔ شاعر کی نگاہ سطحی نہیں بلکہ باطنی ہے اور یہی بزمی صاحب کی شاعری کی شناخت بھی ہے۔ وہ فولاد میں لپٹے بدن کے پیچھے ایک لرزتے ہوئے انسان کو دیکھ لیتا ہے۔
    ڈل جھیل کا میلا پانی، شکستہ شکارے اور بجھا بجھا سا بزرگ مانجھی یہ سب تصویریں کشمیر کی اداسی اور ماند پڑتی ہوئی زندگی کی عکاس ہیں۔ شاعر کے بیان میں ایک ٹھہرا ہوا درد ہے جو نہ چیخ بن کر ابھرتا ہے نہ خاموشی میں گم ہوتا ہے۔ یہ درد دراصل ایک اجتماعی المیے کا استعارہ ہے۔ شاعر کی نگاہ جہاں بھی جاتی ہے وہاں بارود کی مہک، لہو کی تازگی اور تباہی کی چاپ سنائی دیتی ہے مگر اس تباہی میں بھی وہ جمال کی جھلک دیکھنے سے باز نہیں رہتا۔
    نظم کے ایک حصے میں شاعر سوال اٹھاتا ہے:
    “جو دیوداروں سے پوچھتا ہے چنار میں آگ کیوں لگی ہے؟”
    یہ سوال علامتی ہے۔ درخت فطرت کی صدیوں پرانی خاموش گواہیاں ہیں اور ان سے پوچھنا گویا وقت سے بازپرس کرنا ہے۔ چنار کی آگ صرف درخت کی نہیں بلکہ کشمیر کی روح کی آگ ہے ۔ چنار کشمیر میں ایک خاص استعارہ ہے جس سے آگ اگلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ وہ آگ جو ظلم، جدائی اور بے بسی نے بھڑکائی ہے۔
    لیکن سرفراز بزمی مایوسی کے شاعر نہیں۔ وہ خزاں کے زرد پتوں میں بھی بہار کی جھلک دیکھ لیتے ہیں۔ ان کی نظم کا سب سے درخشاں لمحہ وہ ہے جب وہ کہتے ہیں:
    “بجھی بجھی کانگڑی میں لیکن ابھی شرارے دہک رہے ہیں”
    یہ بات نظم کی فکری روح ہے۔ “کانگڑی” کشمیر کی روایتی حرارت ہے اور “شرارے” انسانی ارادے اور ضمیر کی علامت۔ کانگڑی کشمیر کی ثقافت کا وہ حسین چہرہ ہے جس کی مٹھی بھر آگ یخ بستہ موسم میں بھی حرارت دیتی ہے۔ وہ کم زور سی آگ برف میں بھی سردی کو شکست ریخت کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ شاعر کا بھی یقین ہے کہ ظلمتوں کے باوجود انسان کے باطن میں امید کی چنگاری زندہ ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں نظم محض بیان سے نکل کر فلسفے میں بدل جاتی ہے۔
    پھر منظر بدلتا ہے۔ برف پوش پہاڑ، پہلگام کی سفید چوٹیاں، آبشاروں کی شوخ سرگم سب امید، بقا اور تجدیدِ حیات کی علامت بن جاتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ خزاں کا موسم عارضی ہے، زخم مندمل ہوں گے اور بہارِ نو پھر سے لوٹے گی۔ یہ ایمان دراصل زندگی کے ابدی اصولِ تغیر پر مبنی ہے۔یہ فکر ہر کشمیری مفکر کی ہے ،ہر شاعر کی اور ہر قلم کار کی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر اس زندہ انسان کی جس کا خمیر تو کشمیر کی مٹی سے نہیں اٹھا تاہم وہ کشمیر کے درد سے مکمل طور پر آشنا ہے۔ سرفراز بزمی کا تعلق بھی مؤخر الذکر قبیل سے ہے۔
    نظم کے اختتام پر لہجہ درویشانہ اور روحانی ہو جاتا ہے۔ شاعر دعا دیتا ہے:
    “خدا تمھیں قوتِ نمو دے، وقارِ غیرت رہے سلامت، تمھیں محبت کی آبرو دے۔”
    یہ دعا کشمیر کے لیے ہے مگر اس کی معنویت عالمی ہے۔ یہ دراصل انسانیت، آزادی اور محبت کے بقا کی دعا ہے۔ شاعر چاہتا ہے کہ زمین پر حسن صرف فطرت سے نہیں بلکہ انسان کے ضمیر سے بھی جنم لے۔
    اگر اس نظم کو تنقیدی زاویے سے دیکھا جائے تو اس میں تین بنیادی سطحیں واضح طور پر محسوس ہوتی ہیں۔ جمالیاتی سطح پر بزمی صاحب نے فطرت کی منظرکشی کو نہایت باریک حِسّی مشاہدے کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ڈل جھیل کا نیلگوں پانی، جلے درختوں کی بو، چنار کے زرد پتے یہ سب تصویری ترکیبیں قاری کے ذہن میں متحرک منظر بنا دیتی ہیں۔ فکری سطح پر نظم حسن و جبر، خوف و امید اور خزاں و بہار کے تضاد پر قائم ہے۔ شاعر کے نزدیک مایوسی محض وقتی کیفیت ہے جب کہ امید اور تجدید انسان کی اصل شناخت ہے۔ علامتی سطح پر خزاں زوال اور جبر کی علامت ہے، بہار تجدید و آزادی کی اور شرارے انسانی حوصلے اور بےدار ضمیر کے پیام بر۔
    یہ نظم صرف کشمیر کی روداد نہیں بلکہ انسان کی ابدی جستجو اور مزاحمت کا استعارہ ہے۔ اس میں فطرت، تاریخ اور انسان ایک ہی بیانیے میں ضم ہو گئے ہیں۔ شاعر نے فطرت کے حسن میں چھپا ہوا کرب دکھایا ہے اور کرب میں چھپی ہوئی امید کو جاوداں کیا ہے۔
    “پت جھڑ میں کشمیر کی سیر” محض مناظرِ فطرت کی نظم نہیں، بلکہ ایک عہد کی روح کا بیان ہے۔ اس میں خزاں کی سرد ہوا کے ساتھ امید کی حرارت بہتی ہے اور شاعر کے الفاظ دل پر یوں نقش ہو جاتے ہیں جیسے چنار کے پتوں پر اترتی دھوپ۔ یہ نظم کشمیر کا نوحہ بھی ہے اور انسان کی جاودانی امید کا اعلان بھی کہ اندھیروں کے باوجود چراغِ ہمت جلا ہوا ہے۔

    Title Image background by Joe from Pixabay

  • بھارتی جنگی جنون اور امریکہ سے دفاعی معاہدہ

    بھارتی جنگی جنون اور امریکہ سے دفاعی معاہدہ

    بھارتی جنگی جنون اور امریکہ سے دفاعی معاہدہ

    Dubai Naama

    ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے شاطر اور ذہین ترین صدور میں سے ایک ہیں۔ آخری اظہاریہ میں لکھا تھا کہ امریکی صدر وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہیں ہیں۔ ایک طرف وہ پاکستان اور چیف مارشل کی تعریف کرتے تھک نہیں رہے تھے تو دوسری طرف وہ بھارت اور مودی کو جہازوں کے مار گرائے جانے کا بار بار طعنہ دے کر "کچھ خاص” یاد کرا رہے تھے۔ امریکہ دنیا کی واحد "سپر پاور” ہے۔ ظاہر ہے کہ امریکی صدر امریکی اسٹیبلشمنٹ اور سی آئی اے کی تائید کے بغیر کوئی غیرسنجیدہ بات کہنے کے مجاز نہیں ہیں۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان 10 سالہ دفاعی معاہدہ ہو گیا ہے۔ اب جبکہ کہ بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے تو ظاہر ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مزید خطرناک روایتی اور ایٹمی ہتھیاروں کو جمع کرنے کی ایک اور خطرناک دوڑ شروع ہو گئی ہے۔

    امریکہ اس معاہدے کے تحت اگلے 24 گھنٹوں میں دیگر آتشیں اسلحہ کی فراہمی کے علاوہ دنیا کے سب سے خطرناک اپاچی ہیلی کاپٹر 3اےایچ-64ای کی ایک بڑی کھیپ انڈیا کو فراہم کرنے جا رہا ہے۔ ایک طرف امریکی صدر زبانی جمع خرچ سے پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے اور دوسری طرف انہوں نے انڈیا کے ساتھ معاہدہ کر کے اسے عملی دفاعی مدد کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکہ نے بھارت سے یہ دس سالہ دفاعی معاہدہ کر کے جہاں پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کا توڑ کیا ہے وہاں اس نے روس اور چین کو بھی "اسلحہ فروشی” میں مات دی ہے اور انہیں بتایا ہے کہ امریکہ اپنی دفاعی اور سیاسی طاقت ہی میں پہلے نمبر پر نہیں ہے بلکہ وہ عالمی سفارت کاری میں بھی دنیا بھر میں "نمبر ون” ہے۔

    اس معاہدے کے بارے میں امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیک سیتھ نے سماجی رابطے کی ایک سائٹ "ایکس” پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان 10 سالہ دفاعی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کر دیئے گئے ہیں۔ موصوف امریکی وزیر کا یہ اعلان دو روز قبل کوالالمپور میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ساتھ ملاقات کے بعد سامنے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ بھارت اور امریکہ کے درمیان دفاعی شراکت میں ایک اہم پیش رفت ہے جو علاقائی سلامتی کا سنگِ میل ثابت ہو گا۔ "امریکی وزیر برائے جنگ و جدل” کا یہ بیان محلے کی اس ماسی جیسا ہے کہ جو محلے بھر کے لوگوں کو لڑنے کے لیئے ڈانگ سوٹے پکڑا کر کہتی ہے کہ، "میں تو چاہتی ہوں کہ ہم سب مل جل کر امن کے ساتھ رہیں۔” ان کے مطابق دونوں ممالک دفاعی تعاون، معلومات کی شیئرنگ اور ٹیکنالوجی میں شراکت کو بڑھائیں گے۔ ان کے بقول امریکہ اور بھارت کے دفاعی تعلقات کبھی اس سے زیادہ مضبوط نہیں رہے جو اس وقت ہیں۔ اس معاہدے کی پیش گوئی چند روز پہلے ایک برطانوی خبر رساں ادارے نے بھی کی تھی کہ جس کے مطابق بھارت امریکہ سے فوجی ساز و سامان خریدنے جا رہا تھا۔

    بھارتی جنگی جنون اور امریکہ سے دفاعی معاہدہ

    امریکہ نے بھارت سے لمبی مدت کا یہ دفاعی معاہدہ کر کے پاکستان کو براہ راست بتایا ہے کہ وہ امریکی مفادات کے سوا کسی کا نہیں ہے۔ امریکہ نے بالواسطہ طور پر چین کو بھی آگاہ کیا ہے کہ وہ اپنے مفادات کا سختی سے دفاع کرے گا اور وہ بحر ہند اور بحرالکاہل میں طاقت کا توازن برقرار رکھے گا۔ امریکی وزیر کے بقول امریکہ بھارت دفاعی معاہدہ خطے میں استحکام اور دفاعی توازن کے لیئے ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں اس بھونڈے دفاعی قول کو بھی سچ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے کہ، "امن قائم کرنے کے لیئے جنگ کے لیئے ہر وقت تیار رہنا چایئے۔” ان کے بقول دونوں ممالک کی افواج کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی سمت یہ ایک اہم قدم ہے جو مستقبل میں زیادہ گہرے اور موثر دفاعی تعلقات کی راہ ہموار کرے گا۔

    اس امریکہ بھارت دفاعی تعاون کے معاہدے پر پاکستان نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس معاہدے کو نظر انداز نہیں کرے گا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں باور کرایا کہ پاکستان بھارت کی فوجی مشقوں اور نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے سکتی ہیں۔ پاک فوج ہر وقت چوکس ہے اور بھارتی حرکات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کسی بھی مہم جوئی کا فوری اور بھرپور جواب دینے کے لیئے ہمہ وقت تیار ہے۔

    پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ اور بھارت کے درمیان ہونے والے معاہدے کے اثرات کو اچھی طرح جانتا ہے۔ پاکستان کو بھارت یا امریکہ کے ناراض ہونے کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ پاکستان اپنی بقا اور سلامتی کے لیئے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے کبھی گریز نہیں کرے گا۔

    قیام پاکستان کے فورا بعد ہی یہ حقیقت واضح ہو گئی تھی کہ بھارت نے پاکستان کی آزادی کو دل سے قبول نہیں کیا تھا جب اس نے سری نگر پر اپنی افواج اتار کر کشمیر کے مقبوضہ حصوں کو بھارت کا "اٹوٹ انگ” قرار دیا تھا۔ بھارتی حکومتوں کی انڈیا کو "اکھنڈ بھارت” بنانے کی ہمیشہ خواہش رہی ہے۔ اس منصوبے کو پورا کرنے میں پاک فوج بنیادی رکاوٹ ہے۔ اسی وجہ سے بھارت کی آنے والی ہر حکومت نے پاکستان کی دشمنی کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی حصہ بنا رکھا ہے۔ بھارت چونکہ پاکستان دشمنی کے ایجنڈے پر کاربند ہے یہی وجہ ہے وہ اپنے ان دزدیدہ مقاصد کی تکمیل کے لیئے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سمیت ہر نوعیت کے جدید ہتھیار اور جنگی ساز و سامان خود بھی تیار کرتا ہے اور روس کے علاوہ امریکہ، فرانس، جرمنی اور برطانیہ وغیرہ سے بھی خریدتا ہے۔ اس جنگی جنون کی بناء پر بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان کے پورے بجٹ کے حجم سے بھی زیادہ ہے جو وہ اپنی جنگی دفاعی استعداد اور صلاحیت بڑھانے کے لیئے ہر سال بروئے کار لاتا ہے

    اس پس منظر میں پاکستان کو بھی اپنی سرزمین کے تحفظ اور دفاع کے لیئے ایٹمی ٹیکنالوجی سمیت عصر جدید کے تمام دفاعی تقاضے پورے کرنا پڑتے ہیں۔ بھارتی جنگی اور توسیع پسندانہ عزائم پاکستان اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیئے مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔ اس تناظر میں بھارت اپنی جنگی استعداد بڑھانے کے جو بھی اقدامات اٹھاتا ہے اس پر پاکستان کا ردعمل ظاہر کرنا ایک مجبوری ہے۔ حالانکہ پاکستان پرامن ملک ہے اور اپنے ہمسایہ ممالک سے دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔

    Title Image background by Marisa Marini from Pixabay