سراڑ میں ایک یاد گار دن
ڈاکٹر فرہاد احمد فگار
سات دسمبر 2025ء کی ایک پرسکون شام تھی۔ گھڑی نے رات کے ٹھیک 7:26 بجائے ہی تھے کہ موبائل فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ چھوٹا بیٹا شاہ ذین احمد جو موبائل اسکرین پر کارٹون کی رنگین دنیا میں گم تھا اچھلتا ہوا آیا اور بولا:
“بابا! فون ہے۔”
فون دیکھا تو دوسری جانب ڈاکٹر نذیر اعوان صاحب تھے۔ سلام دعا کے بعد انھوں نے بڑے محبت بھرے مگر فیصلہ کن انداز میں اطلاع دی کہ ہفتہ، 13 دسمبر کو زم زم ویلفیئر سوسائٹی سراڑ کے زیرِ اہتمام سالانہ تقریب منعقد ہو رہی ہے، جس کے مہمانِ خصوصی سردار مختار عباسی صاحب، سابق امیدوار اسمبلی حلقہ 3 مظفرآباد ہوں گے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے خوش خبری سنائی کہ پی ایچ ڈی اردو کی تکمیل پر مجھے اسی تقریب میں ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔ پھر گویا حکم صادر ہوا کہ میں پرنسپل پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد پروفیسر ڈاکٹر واجد حسین اعوان صاحب اور برادرِ عزیز سالک محبوب اعوان (ماہرِ معاشیات) کو بھی دعوت دے دوں۔
فون بند ہوتے ہی میں نے فوراً دونوں احباب کو اطلاع دی کہ کہیں یادداشت کی کم زوری آڑے نہ آ جائے۔
اگلے دن برادر عزیز عتیق الرحمان اعوان سے ملاقات ہوئی تو تقریب کا ذکر چھیڑا۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے دوست نجم ظہیر اعوان کو بھی انجینئرنگ کی کامیاب تکمیل پر اسی تقریب میں ایوارڈ دیا جائے گا۔ یوں خوشیوں کی فہرست میں ایک اور نام شامل ہو گیا۔
ہفتے کی صبح سالک محبوب اعوان سے رابطہ کیا تو اس نے دس بجے کا وقت دیا۔ طے پایا کہ وہ میرے گھر آئے گا اور ہم اکٹھے روانہ ہوں گے۔ بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر واجد اعوان صاحب کو کال کی تو انھوں نے خوش گوار حیرت سے کہا:
“ابھی میں آپ ہی کو فون کرنے والا تھا۔”
وہ کسی مریض کے ساتھ امبور اسپتال میں موجود تھے۔ فرمایا کہ آپ امبور آ جائیں گیارہ بجے یہاں سے ساتھ نکلیں گے۔
حسبِ روایت، سالک محبوب اعوان وقت کا ایسا پابند نکلا کہ گھڑی دیکھنے کی نوبت ہی نہ آئی۔ ناشتے کے بعد میں نے اپنے مہمان دوست ساجد عباس سے اجازت چاہی۔ ساجد عباس، نمل کے دوست ہیں، کبیر والا ضلع خانی وال سے تعلق رکھتے ہیں اور فیڈرل گورنمنٹ میں سینئر مدرس ہیں۔ وہ یہاں اپنے ایم فل اردو کے مقالے کی تیاری کے سلسلے میں مقیم تھے۔ بڑے خلوص سے بولے:
“آپ بے فکر ہو کر جائیں، میں بیٹھ کر اپنا کام کرتا ہوں۔”
گیارہ بجے سراڑ کے لیے روانہ ہوئے۔ گاڑی امبور میں کھڑی کی اور ڈاکٹر واجد اعوان صاحب کی گاڑی میں سوار ہو کر سراڑ کی جانب چل پڑے۔ شریف شہید بوائز ہائی اسکول سراڑ میں منعقدہ تقریب کا آغاز ہو چکا تھا۔ پنڈال میں پہنچتے ہی اسٹیج سے ہمارا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا اور سامنے کی نشستوں پر جگہ دی گئی۔ سابق صدرِ معلم ریاض اعوان صاحب( ہمارے دوست محسن اعوان کے والد ماجد)اسٹیج سے میرا نام سنتے ہی اپنی نشست چھوڑ کر ملاقات کے لیے تشریف لے آئے۔
تقریب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری تھی اگرچہ اسٹیج کے نظم و ضبط کے معاملے میں گزشتہ سال کی روایت اس سال بھی برقرار رہی۔ اسٹیج سیکرٹری صاحب ایک منٹ کی کارروائی کو دس منٹ میں مکمل کرتے اور ہر وقفے کے بعد یہ اعلان ضرور فرماتے کہ “وقت کا دامن تنگ ہے”۔ نظامت کی زمہ داریاں آدھی تقریب کے بعد منتقل ہوئیں مگر مسئلہ اپنی جگہ قائم رہا۔
ایک دل چسپ لمحہ وہ آیا جب قومی ترانے پیش کیے جا چکے اور حاضرین بیٹھ چکے تھے کہ اچانک اعلان ہوا:
“اب آزاد کشمیر کے قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہو جائیں۔”
حاضرین کی ہنسی نے اعلان کرنے والے کو بھی شاید لمحہ بھر کے لیے سوچ میں ڈال دیا۔
زم زم ویلفیئر سوسائٹی سراڑ نے حسبِ سابق مختلف اداروں کے نونہالوں کو اعلا کارکردگی پر شیلڈز سے نوازا۔ اساتذہ کی محنت پر حاضرین دل کھول کر داد دیتے رہے۔ بزمِ زم زم کے رکن فیاض گل اعوان صاحب اور میرزمان اعوان گرلز ہائی اسکول سراڑ کی مدرسہ فرحت رشید نے اپنا کلام سنایا۔ مہمانِ خصوصی نے فیاض گل اعوان صاحب کے لیے پانچ ہزار روپے اور محترمہ فرحت رشید کے لیے دس ہزار روپے نقد انعام کا اعلان کر کے خوب حوصلہ افزائی کی۔ طلبہ و طالبات کی بہترین کارکردگی پر بھی نقد انعامات دیے گئے۔
میرزمان اعوان گرلز ہائی اسکول کی طالبات نے بیٹیوں کے حوالے سے ماقبلِ اسلام کا ایک واقعہ ٹیبلو کی صورت میں پیش کیا جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔ اسی طرح ہائی اسکول سیری کی طالبات نے معاشرے میں بیٹیوں کے کردار پر مبنی ٹیبلو پیش کیا۔ یہ مناظر دیکھ کر بے اختیار اپنا یہ شعر یاد آ گیا:
اداسیوں سے اٹے ہوں گے سب در و دیوار
جو آنگنوں میں ہمارے نہ بیٹیاں بولیں
قریباً ڈھائی بجے تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔ کئی اسکالرز اور طلبہ کو زم زم ویلفیئر سوسائٹی، تنظیم الاعوان اور ڈاکٹر نذیر اعوان صاحب کی جانب سے ایوارڈز دیے گئے۔ مجھے پی ایچ ڈی اردو کی تکمیل پر بیسٹ اچیومنٹ ایوارڈ اور پروفیسر ڈاکٹر واجد اعوان صاحب کو بہ طور پرنسپل بوائز پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد تعیناتی پر شیلڈ سے نوازا گیا۔
اختتام پر بہترین ظہرانے کا اہتمام تھا۔ نجم ظہیر اعوان اور عتیق الرحمان اعوان کی معیت میں ہم تینوں مہمانوں نے کھانا تناول کیا۔ زم زم ویلفیئر سوسائٹی کے صدر محمود الحسن اعوان صاحب اور ڈاکٹر نذیر اعوان صاحب کھانے کے انتظامات خود دیکھ رہے تھے۔ دوستوں کی جانب سے چائے کی دعوت بھی تھی مگر مجبوری کے باعث بادلِ نخواستہ معذرت کرنا پڑی۔ شام قریب ساڑھے چار بجے ہم واپس پہنچے، دل میں خوشی، ذہن میں یادیں اور قلم میں اس دن کی روداد سمیٹے ہوئے۔
نوٹ: تقریب کی صرف ایک ہی تصویر برادرم عتیق الرحمان اعوان کی وساطت سے موصول ہو پائی۔

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |