اٹک کا چاند بریگیڈئیر عاصم نواز
مضمون نگار: سید حبدار قائم
کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض نام نہیں بلکہ اپنے کردار، گفتار اور طرزِ عمل کے باعث ایک روشن استعارہ بن جاتی ہیں۔ بریگیڈئیر (ر) سردار عاصم نواز بھی انہی درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہیں بجا طور پر "اٹک کا چاند” کہا جا سکتا ہے۔ ان کی ذات خلوص، سچائی اور انسان دوستی کا ایسا حسین امتزاج ہے جو دلوں کو منور کر دیتا ہے۔
یکم ستمبر 1959 کو اٹک کی سرزمین پر سردار رب نواز خان کے گھر آنکھ کھولنے والے سردار عاصم نواز نے ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور کے معروف ادارے ایچی سن کالج سے سینیئر کیمبرج کی تعلیم حاصل کی۔ 1980 میں انہوں نے پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کیا اور اپنی محنت، لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کے باعث 4 آرمڈ بریگیڈ کی کمانڈ تک پہنچے۔ 2010 میں باوقار عسکری خدمات کے بعد ریٹائر ہوئے، مگر ان کی خدمت کا سفر یہیں ختم نہ ہوا۔
فوجی زندگی نے ان کی شخصیت میں نظم و ضبط، جرات، دیانت اور فرض شناسی جیسے اوصاف کو نکھارا، جو بعد ازاں ان کی سیاسی اور سماجی زندگی میں بھی نمایاں طور پر جھلکتے ہیں۔ 2016 میں سیاست کے میدان میں قدم رکھتے ہوئے انہوں نے اسے اقتدار نہیں بلکہ خدمتِ خلق کا ذریعہ بنایا۔ ان کا منشور صحت، تعلیم اور دفتری نظام کی بہتری کے گرد گھومتا ہے، تاکہ عام آدمی کی زندگی میں آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔
عاصم نواز کی سب سے نمایاں خوبی ان کا بے لوث خلوص ہے۔ وہ عوام کے مسائل کو محض سنتے نہیں بلکہ انہیں محسوس کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص مدد کا طلبگار ہو تو وہ رسمی وعدوں پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ خود اس کے ساتھ چل پڑتے ہیں، اس کے دکھ درد کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور اس کے ازالے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ یہی جذبہ انہیں عام سیاست دانوں سے ممتاز بناتا ہے۔
ان کی شخصیت میں ایک عجیب سی کشش ہے سادگی، شائستگی اور خوش اخلاقی کا ایسا امتزاج جو ہر ملنے والے کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے۔ ان کی مسکراہٹ میں اپنائیت ہے اور گفتگو میں مٹھاس وہ ہر ایک سے خندہ پیشانی سے ملتے ہیں اور اپنے رویے سے محبت اور اخلاص کا پیغام دیتے ہیں۔
علامہ اقبال کا یہ شعر گویا انہی کے لیے کہا گیا ہو:
نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
بلاشبہ سردار عاصم نواز کی گفتگو دل میں اتر جانے والی ہوتی ہے، جس میں سچائی اور دردِ دل کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔ وہ نہ صرف ایک بہادر سپاہی رہے بلکہ آج ایک ہمدرد رہنما کے طور پر قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بریگیڈئیر (ر) سردار عاصم نواز ایک ایسی مثالی شخصیت ہیں جو خدمت، دیانت اور شجاعت کی جیتی جاگتی تصویر ہیں۔ ایسے لوگ معاشرے کے لیے مینارِ نور ہوتے ہیں، جو نہ صرف خود روشنی کا سفر طے کرتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی امید اور حوصلے کی شمع روشن کرتے ہیں۔ اگر ہمارے معاشرے میں ایسے مخلص اور باکردار افراد کی تعداد بڑھ جائے تو یقیناً وطنِ عزیز ترقی، خوشحالی اور استحکام کی نئی راہوں پر گامزن ہو سکتا ہے۔
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |