اٹک کو مسائل سے پاک شہر بنائیں
کالم نگار:۔ سید حبدار قائم
اٹک، تاریخ، تہذیب اور خوبصورتی کا امین شہر، آج مختلف شہری مسائل میں گھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اگر سنجیدگی سے اقدامات کیے جائیں تو یہی شہر ایک مثالی صاف ستھرا اور عظیم شہر بن سکتا ہے۔ ضرورت صرف کام کی نیت، عمل،نظم و ضبط اور قانون کی عملداری کی ہے۔
سب سے پہلے شہری نظم و ضبط کی بات کی جائے تو گلیوں میں ذاتی قبضوں نے راستے تنگ کر دیے ہیں۔ شہری اپنی گاڑیاں گھر میں کھڑی کرنے کے لیے چھ چھ، سات سات فٹ تک جگہ گھیر لیتے ہیں، جب کہ کچھ افراد اپنی سہولت کے لیے گھروں کے باہر غیر ضروری جمپ بنا دیتے ہیں۔ یہ روِش نہ صرف بدصورتی کا باعث ہے بلکہ عام شہری کے لیے مشکلات بھی پیدا کرتی ہے۔ ایسے افراد پر جرمانے عائد کیے جائیں، حتیٰ کہ جمپ بنانے والوں سے ماہانہ ٹیکس وصول کیا جائے تاکہ اس رجحان کی حوصلہ شکنی ہو۔
اسی طرح گیس پانی اور دیگر کنکشنز کے لیے پکی گلیاں توڑ دی جاتی ہیں مگر بعد ازاں ان کی مرمت نہیں کی جاتی، جس سے حکومت کو بار بار وسائل خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اس عمل کو قابل سزا جرم قرار دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
شہر میں مویشی پالنے کا بڑھتا ہوا رجحان بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ بھینسوں اور بکریوں کے تبیلے رہائشی علاقوں میں قائم ہیں، جن سے نہ صرف بدبو بلکہ مچھر اور مکھیاں پیدا ہو رہی ہیں، جو مختلف بیماریوں کا سبب بنتی ہیں۔ ان تبیلوں کو فوری طور پر شہر سے باہر منتقل کیا جانا چاہیے اور گوبر کو نالیوں میں بہانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
ماحولیاتی بہتری کے لیے درخت لگانا ناگزیر ہے۔ اٹک میں درختوں کی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے گرمی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پانچ مرلے کے ہر گھر میں کم از کم ایک درخت لگانا لازمی قرار دیا جائے جبکہ بڑے گھروں میں مزید درخت لگانے کو قانونی شکل دی جائے۔ حکومت ہر گلی میں درخت لگا کر ہیٹ سٹروک کو کم کرسکتی ہے اور شہریوں کو آکسیجن کی دولت سے مالا مال کر سکتی ہے
شہر میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں اور فیکٹریوں کے خلاف کاروائی، پارکس اور سٹیڈیمز کی تعمیر، اور صاف پانی کی فراہمی جیسے اقدامات بھی انتہائی ضروری ہیں۔ بارش کے پانی کو محفوظ بنانے اور نئے بور کھودنے سے پانی کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
صفائی کا نظام بہتر بنانے کے لیے ہر محلے میں کوڑے دان رکھے جائیں اور شہریوں کو گندگی باہر پھینکنے سے روکا جائے۔ گٹر ڈھکن کے بغیر نہ چھوڑے جائیں اور بہتے نالوں کی صفائی کے بعد ان پر مضبوط جالیاں لگائی جائیں۔
ہرو نالہ کو خوبصورت تفریحی مقام میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جہاں شہری سکون کے لمحات گزار سکیں۔
اٹک شہر میں لاہور کی طرح لنک روڈ بنانا ناگزیر ہے اب ہمارے سیاستدان ٹریفک بہاو کو یقینی بنائیں اور لنک روڈ بنائیں
امن و امان کے حوالے سے سٹریٹ لائٹس اور کیمروں کی تنصیب، منشیات فروشوں کے خلاف سخت کاروائی، اور ون ویلنگ جیسے خطرناک رجحانات کی بیخ کنی ضروری ہے۔ شور مچانے والی موٹر سائیکلوں پر پابندی لگا کر شہری سکون بحال کیا جا سکتا ہے۔
خوراک کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے دودھ، سبزیوں اور پھلوں کی روزانہ بنیاد پر چیکنگ کی جائے تاکہ ملاوٹ مافیا کا خاتمہ ممکن ہو۔ محکمہ صحت کو فعال بنا کر ڈینگی جیسے خطرناک امراض کے خلاف عملی اقدامات کیے جائیں۔
تعلیم اور ادب کے فروغ کے لیے ہر محلے میں لائبریریاں قائم کی جائیں، جن میں معیاری کتب دستیاب ہوں۔ شہر میں ادیبوں کے پورٹریٹ اور ان کا تعارف آویزاں کیا جائے تاکہ نئی نسل میں ادب سے محبت پیدا ہو۔ اسی طرح نوجوانوں کو امن پسند بنانے اور دہشت گردی سے نفرت پیدا کرنے کے لیے مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا۔
اٹک شہر کے ہر محلہ میں ڈبل ون ڈبل ٹو کو ایک مِنی کلینک بنا کر دیا جاۓ جہاں سے مریضوں کو بروقت طبی امداد دے کر جان بچائی جا سکے
پنجاب کی وزیر اعلٰی مریم نواز صاحبہ نئے فلاحی کام کرنے میں ماہر ہیں اس لیے اب اٹک شہر پر بھی توجہ دیں اس کام کے لیے ڈپٹی کمشنر اٹک راو عاطف رضا بہت جہاندیدہ اور محنتی انسان ہیں پہلے بھی انہوں نے شہر میں نمایاں کام کیے ہیں وہ مزید موثر کردار ادا کر سکتے ہیں
ان تمام اقدامات کے لیے ضلعی انتظامیہ، خصوصاً ڈی سی اٹک راو عاطف رضا کو ایک واضح اور مؤثر حکمت عملی کے تحت خصوصی ٹاسک دیا جانا چاہیے۔ اگر حکومت اور عوام مل کر سنجیدگی سے کام کریں تو وہ دن دور نہیں جب اٹک ایک صاف ستھرا سر سبز ، خوبصورت اور مسائل سے پاک شہر بن جائے گا۔
یہ وقت عمل کا ہے، کیونکہ زندہ قومیں اپنے مسائل کا حل تلاش کرتی ہیں، ان سے نظریں نہیں چراتیں۔ ہمیں اپنی حکومت سے امید ہے کہ ہماری مدد کرے گی۔ ان شاء اللہ
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |