تلخی (Bitterness)
میں گلی میں کھڑا تھا۔ اپنے گھر کے دروازے کے بالکل سامنے۔
دروازہ وہی تھا۔ پرانا، جانا پہچانا۔ وہی لکڑی، وہی دستہ، وہی رنگ روغن۔ دہلیز بھی وہی تھی جس کو میں نے ہزاروں بار عبور کیا تھا۔ مگر آج وہ دروازہ میرا تھا نہ وہ دہلیز۔ میرے اور اس دروازے کے درمیان کچھ تھا جو پہلے کبھی نہیں تھا۔ کوئی شیشے کی ان دیکھی دیوار، کوئی ایسا فاصلہ جو نظر نہیں آتا تھا مگر موجود تھا۔
کبھی یہ دروازہ میرے لیے سکون کی سرحد جیسا تھا۔ جب میں تھک کر گھر لوٹتا تو اس پر نظر پڑتے ہی میری تھکن اترنے لگتی۔ یہ دروازہ مجھے اندر لے جاتا، بغیر کسی شرط کے، بغیر کسی سوال کے۔ مگر آج یہی دروازہ میرے لیے ایک سوال بن گیا تھا۔ ایک ایسا سوال جس کا جواب میرے پاس نہیں تھا۔
میں اندر جانا چاہتا تھا، جبھی تو میں چل کر اس کے پاس آیا تھا، مگر قدم نہیں اٹھ پا رہے تھے۔ نہ جانے یہ ہچکچاہٹ تھی یا شکست کا احساس، یا پھر وہ ڈر جو ہمارے اندر خاموش بیٹھا رہتا ہے اور موقع ملتے ہی سر اٹھا لیتا ہے۔ ڈر اس سے نہیں کہ اندر میرے ساتھ کیا ہو گا ، ڈر اس سے ہے کہ اگر اندر گیا تو مجھے اپنے آپ کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
کئی دنوں سے میں گھر سے باہر تھا۔
بیوی سے جھگڑا اتنا بڑھ گیا تھا کہ الفاظ نے راستے بند کر دیے تھے۔ پہلے وہ چھوٹی چھوٹی باتیں تھیں۔ کوئی نظر، کوئی لہجہ، کوئی ایک لفظ جو معمول سے ذرا مختلف تھا۔ پھر وہ بڑھیں۔ پھر خاموشیاں آ گئیں۔ اور پھر خاموشیوں نے دیواریں کھڑی کر دی تھیں۔ اتنی موٹی دیواریں کہ میں اپنی ہی آواز نہیں سن سکتا تھا۔
میں سوچ رہا تھا۔
بار بار سوچ رہا تھا۔
خود سے پوچھ رہا تھا کہ کیا اب واپس جانا چاہیے؟ یا یہ سفر یہیں ختم سمجھ لوں؟
میرے پاس دونوں کے لیے ہمت نہیں تھی۔
نہ جانے میں کس چیز سے زیادہ ڈرتا تھا۔ واپس جانے سے یا ہمیشہ کے لیے کھو دینے سے۔
شاید میں ڈرتا ہی نہیں تھا۔
شاید میں تھک گیا تھا۔
ایک ایسی تھکن جو نیند سے نہیں آتی، جو کھانے سے نہیں جاتی، جو صرف ایک چیز سے جاتی ہے، اور وہ چیز میرے پاس نہیں تھی۔
میں وہیں سے پلٹا۔
میرے قدم اٹھ گئے، مگر گھر کی طرف نہیں، گھر کی مخالف سمت۔
میں نے اپنے دروازے سے منہ موڑ لیا۔
اور جیسے ہی میں نے منہ موڑا، مجھے لگا جیسے دروازے نے بھی مجھ سے منہ موڑ لیا ہو۔
میں اپنے دوست کے گھر چلا آیا۔
وہی دوست جس کے ہاں میں ان دنوں پناہ لیے ہوئے تھا۔
بچپن کا دوست۔
ایسے موقعوں پر وہ پناہ دے دیا کرتا تھا۔
میں جب جب اپنا سا منہ لے کر اس کے پاس آیا، اس نے کبھی منہ نہیں بنایا۔
نہ کوئی سوال، نہ کوئی شکایت۔
بس دروازہ کھول دیتا۔
میں ہر بار منہ اٹھائے اس کے پاس چلا آتا۔
وہ جس نے مجھے کبھی کچھ دینے کا احسان نہیں جتلایا اور نہ کبھی کچھ مانگا۔
بس جب بھی میں ٹوٹ کر اس کے پاس آیا، اس نے دروازہ کھولا اور ایک طرف ہو گیا۔
اس کا دروازہ بھی کھلا ہوتا تھا اور بانہیں بھی۔
وہ مجھ سے کچھ نہیں پوچھتا تھا۔
ایک نظر میں جان لیتا تھا کہ معاملہ گڑبڑ ہے۔
تھوڑی دیر میں کھانا آ جاتا، پھر چائے۔
مجھے یوں لگتا جیسے میں کوئی ندی نالہ ہوں جو بالآخر کسی دریا میں جا گرتا ہے، بغیر کسی سوال کے، بغیر کسی وضاحت کے۔
اس رات جب میں وہاں پہنچا تو رات گہری ہو چکی تھی۔
اس نے دروازہ کھولا تو کچھ نہیں کہا۔
بس خاموشی سے ایک طرف ہو گیا۔
میں اندر گیا۔
اس نے چائے رکھ دی۔
میرے سامنے بیٹھ گیا۔
اور خاموش ہو گیا۔
میں نے چائے کو ہاتھ نہیں لگایا۔
میں نے اسے سب کچھ بتا دیا۔
جھگڑے۔
تلخی۔
گھر کی بے چینی۔
خاموشیاں۔
دیواریں۔
اور وہ آخری سوال جو میرے اندر کانٹے کی طرح اٹکا ہوا تھا۔
"مجھے کیا کرنا چاہیے؟”
"یہ رشتہ رکھوں یا توڑ دوں؟”
میں نے اپنی تمام الجھن، تمام تھکن اور تمام بے بسی اس کے سامنے رکھ دی۔
وہ کافی دیر خاموش رہا۔
پھر اس نے میری طرف دیکھا۔
اس کی آنکھوں میں کوئی پرانا زخم تھا۔
کوئی ادھوری کہانی۔
کوئی ایسا دکھ جس کا ذکر اس نے کبھی نہیں کیا تھا۔
"سن…”
اس نے آہستہ سے کہا۔
"میرے دادا کہا کرتے تھے کہ شادی محبت سے نہیں چلتی، برداشت سے چلتی ہے۔ محبت درخت کا پھول ہے، برداشت اس کی جڑ۔ لوگ پھول کو پانی دیتے ہیں، جڑ کو بھول جاتے ہیں۔”
وہ کچھ دیر رکا۔
پھر بولا:
"تلخی برداشت کرو۔ جیسے بخار میں کڑوی دوا پینا پڑتی ہے، مگر اسی سے بخار کا زور ٹوٹتا ہے۔”
اس نے چائے کا کپ اٹھایا۔
ایک گھونٹ لیا۔
اور دوبارہ میز پر رکھ دیا۔
"اور تم میرے بارے میں مت سوچنا۔ جتنا چاہو رہو۔ یہ گھر تمہارا بھی ہے۔ مگر…”
وہ خاموش ہو گیا۔
"مگر؟”
میں نے پوچھا۔
اس نے میری طرف دیکھا۔
"مگر صبح کا بھولا شام کو گھر کا رخ کر لے تو اچھا ہوتا ہے۔”
میں خاموش رہا۔
"تمہیں واپس جانا چاہیے۔”
"کیوں؟”
اس نے گہرا سانس لیا۔
"کیونکہ بعض جگہ انسان کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔ اپنی جگہ خالی نہیں کرتے۔ ورنہ جگہیں خالی نہیں رہتیں۔ جگہیں بھر جاتی ہیں۔”
پھر وہ خاموش ہو گیا۔
ایسا لگا جیسے یہ الفاظ وہ مجھے نہیں، خود کو سنا رہا ہو۔
پھر دھیرے سے بولا:
"کبھی کبھی انسان رشتہ نہیں ہارتا، صرف اپنی جگہ چھوڑ دیتا ہے۔ اور پھر واپس آتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ اس کی جگہ کہیں اور منتقل ہو چکی ہے۔”
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
وہ کہیں اور دیکھ رہا تھا۔
شاید اپنے کسی ماضی میں۔
شاید کسی ایسے دروازے کے سامنے جہاں وہ خود کبھی دیر سے پہنچا تھا۔
پھر اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
"جا۔”
بس ایک لفظ۔
مگر اس ایک لفظ میں پوری رات سمٹ آئی تھی۔
میں واپس گھر کی طرف چل پڑا۔
رات گہری تھی۔
سڑکیں سنسان تھیں۔
لیمپ پوسٹ کی زرد روشنی میں میرا سایہ میرے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔
میرے اندر دوست کے الفاظ گونج رہے تھے۔
"تلخی برداشت کرو…”
"اپنی جگہ خالی نہیں کرتے…”
میں تیز چلنے لگا۔
پھر دوڑنے لگا۔
جیسے ابھی بھی وقت باقی ہو۔
جیسے ابھی بھی سب کچھ ختم نہ ہوا ہو۔
میں دروازے کے سامنے پہنچ گیا۔
وہی دروازہ۔
وہی لکڑی۔
وہی دستہ۔
وہی دہلیز۔
مگر اب مجھے وہ اجنبی نہیں لگا۔
میں نے دروازہ کھولا۔
اندر داخل ہوا۔
جوتے اتارے۔
اپنی جگہ پر رکھ دیے۔
ہال سے گزرا۔
دیواروں نے مجھے پہچان لیا۔
گھڑی وہی تھی۔
تصویریں وہی تھیں۔
خاموشی بھی وہی تھی۔
اور وہ…
وہ کچن میں کھڑی تھی۔
میری آہٹ سن کر مڑی نہیں۔
میں نے صرف اس کی پیٹھ دیکھی۔
پھر دیکھا کہ اس کا ہاتھ رک گیا۔
چمچ ہوا میں ٹھہر گیا۔
ایک لمحہ۔
دو لمحے۔
پھر اس نے اسے آہستہ سے نیچے رکھ دیا۔
اس نے کچھ نہیں کہا۔
میں نے بھی کچھ نہیں کہا۔
میں بس اپنی جگہ پر کھڑا رہا۔
اپنی جگہ…
جسے میں چھوڑ کر گیا تھا۔
اور جسے میں دوبارہ لینے آیا تھا۔
پہلی رات خاموشی تھی۔
دوسری رات بھی۔
تیسری رات اس نے پوچھا:
"چائے لو گے؟”
میں نے کہا:
"ہاں۔”
بس اتنا۔
مگر اس ایک لفظ میں واپسی تھی۔
فیصلہ تھا۔
برداشت تھی۔
اور امید بھی۔
پھر ایک رات میں جاگ رہا تھا۔
اندھیرا تھا۔
وہ میرے پہلو میں لیٹی ہوئی تھی۔
میں اس کی سانسیں سن رہا تھا۔
ایک…
دو…
تین…
پھر اپنی سانس۔
دونوں سانسیں ایک ہی کمرے میں تھیں۔
مگر ان کے درمیان ابھی بھی ایک خلا تھا۔
میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کے بالوں کو چھوا۔
وہ نہیں ہٹی۔
میں نے ہاتھ واپس کھینچ لیا۔
تب میں نے دیکھا۔
اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔
وہ میری طرف دیکھ رہی تھی۔
میں بھی اسے دیکھتا رہا۔
کسی نے کچھ نہیں کہا۔
مگر اس ایک لمحے میں وہ خلا تھوڑا سا کم ہو گیا۔
پھر وقت نے اپنا کام شروع کیا۔
تلخی ختم نہیں ہوئی۔
مگر اس کا زہر کم ہو گیا۔
خاموشی ختم نہیں ہوئی۔
مگر اس میں سکون آنے لگا۔
اختلاف ختم نہیں ہوئے۔
مگر اختلاف کے بعد بیٹھے رہنا آ گیا۔
ایک دن وہ کسی معمولی بات پر ہنس دی۔
میں نے اسے دیکھا۔
اور مجھے لگا جیسے گھر نے دوبارہ سانس لینا شروع کر دیا ہو۔
کئی مہینے بعد کی بات ہے۔
رات خاموش تھی۔
گھر میں سب سو چکے تھے۔
وہ بھی۔
بچے بھی۔
میں اکیلا جاگ رہا تھا۔
نیند نہیں آ رہی تھی۔
میں نے الماری کھولی۔
اس کے نچلے خانے سے ایک پرانا ڈبہ نکالا۔
اس میں زندگی کے بکھرے ہوئے موسم رکھے تھے۔
تصویریں۔
کارڈ۔
رسیدیں۔
یادیں۔
اور سب سے نیچے ایک زرد لفافہ۔
میرے ہاتھ رک گئے۔
یہ دادا جان کا خط تھا۔
وہی خط جو انہوں نے میری شادی کے دن میرے ہاتھ میں دیا تھا۔
مجھے یاد آیا۔
رخصتی کے شور میں انہوں نے مجھے ایک طرف بلایا تھا۔
میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔
اور کہا تھا:
"بیٹا، اسے سنبھال کر رکھنا۔ وقت آئے تو پڑھ لینا۔”
میں نے اس وقت ہنس کر جیب میں رکھ لیا تھا۔
جوانی نصیحتوں کو نہیں سمجھتی۔
اسے صرف تجربہ سمجھاتا ہے۔
میں نے لفافہ کھولا۔
کاغذ بوسیدہ ہو چکا تھا۔
سیاہی مدھم پڑ گئی تھی۔
مگر لفظ ابھی زندہ تھے۔
میں پڑھتا گیا۔
گھر کے بارے میں۔
رشتوں کے بارے میں۔
صبر کے بارے میں۔
ذمہ داری کے بارے میں۔
اور پھر ایک جگہ لکیر کھنچی ہوئی تھی۔
میں رک گیا۔
وہاں لکھا تھا:
"بیٹا، یاد رکھنا۔ تلخی برداشت کرنا اور گھر کا سکون ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ ایک کے بغیر دوسرا نہیں ملتا۔ برداشت کڑوی دوا ہے، مگر اسی سے سکون پیدا ہوتا ہے۔ اور اپنی جگہ کبھی خالی مت کرنا۔ جگہیں خالی نہیں رہتیں۔ جگہیں بھر جاتی ہیں۔”
میں دیر تک وہ سطریں دیکھتا رہا۔
اچانک مجھے اپنے دوست کا چہرہ یاد آیا۔
وہی رات۔
وہی چائے۔
وہی الفاظ۔
تب مجھے احساس ہوا کہ اس نے مجھے کوئی نئی بات نہیں بتائی تھی۔
اس نے صرف ایک پرانی حکمت کو اپنے تجربے کے لہو میں گھول کر مجھے واپس دے دیا تھا۔
دادا جان نے اسے لکھا تھا۔
میرے دوست نے اسے جیا تھا۔
اور میں نے اسے سمجھنے میں برسوں لگا دیے تھے۔
میں نے خط تہہ کیا۔
واپس لفافے میں رکھا۔
اور احتیاط سے الماری میں رکھ دیا۔
اسی وقت میری نظر دوسرے کمرے میں گئی۔
وہ پرانی چادریں نکال رہی تھی۔
میں قریب گیا۔
ایک چادر اس کے ہاتھ میں تھی۔
کئی جگہ سے گھس چکی تھی۔
میں نے کہا:
"یہ چادریں مت پھینکو۔”
اس نے میری طرف دیکھے بغیر جواب دیا:
"پھٹ گئی ہیں۔”
میں نے چادر ہاتھ میں لے لی۔
مسکرا کر کہا:
"ٹھیک ہو جائیں گی۔”
اس نے پہلی بار میری طرف دیکھا۔
چند لمحے مجھے دیکھتی رہی۔
پھر آہستہ سے بولی:
"اچھا۔”
میں نے چادر تہہ کی۔
واپس اس کے ہاتھ میں دے دی۔
رات خاموش تھی۔
گھر خاموش تھا۔
مگر اس خاموشی میں اب اجنبیت نہیں تھی۔
میں بستر پر لیٹا تو بہت دیر تک نیند نہیں آئی۔
دادا جان کے الفاظ، دوست کی آواز، اس کے لبوں سے نکلا ہوا ایک چھوٹا سا لفظ — سب میرے اندر کہیں آہستہ آہستہ بیٹھتے گئے۔
بعض سکون آسانی سے نہیں ملتے۔
ان کی قیمت برداشت ہوتی ہے۔
یہ خیال بار بار مجھے آتا رہا اور پھر نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی ۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |