ہماری بیٹیوں کے تعلیمی ادارے تحفظ، وقار اور ترجیحات
کالم نگار:۔ سید حبدار قائم
قوموں کی تعمیر اینٹ اور پتھر سے نہیں بلکہ کردار، علم اور اقدار سے ہوتی ہے۔ اور یہ اقدار سب سے پہلے ماں کی گود سے جنم لیتی ہیں۔ اگر ہماری بیٹیاں محفوظ، باوقار اور پُرسکون تعلیمی ماحول سے محروم رہیں تو پھر ایک مضبوط معاشرے کا خواب کیسے شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے؟
اٹک سمیت ملک کے کئی علاقوں میں خواتین کے کالجز اور تعلیمی اداروں کی صورتحال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے: کیا ہم واقعی اپنی بیٹیوں کے لیے ایسا ماحول فراہم کر رہے ہیں جس میں وہ خود کو محفوظ اور باوقار محسوس کریں؟
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ خواتین کے تعلیمی اداروں میں اکثر عملہ مردوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ حالانکہ آج خواتین ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں۔ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت خواتین کی موجودگی کے باوجود مردوں کی تعیناتی ایک ایسا سوال ہے جو سنجیدگی سے سوچنے کا متقاضی ہے۔ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ خواتین کے اداروں میں انتظامی اور تدریسی ذمہ داریاں خواتین ہی سنبھالیں تاکہ طالبات بلا جھجھک علم حاصل کر سکیں؟
اسی طرح سیکیورٹی کا مسئلہ بھی نہایت اہم ہے۔ خواتین کے کالجز کے باہر مرد سیکیورٹی گارڈز کی موجودگی بعض اوقات طالبات اور والدین کے لیے باعثِ تشویش بنتی ہے۔ جب پولیس اور دیگر اداروں میں خواتین اہلکاروں کی تعداد موجود ہے تو پھر کیوں نہ انہیں ایسے مقامات پر تعینات کیا جائے جہاں ان کی موجودگی زیادہ موزوں اور مؤثر ثابت ہو سکتی ہے؟
یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ مختلف بہانوں سے مرد افراد کا تعلیمی اداروں میں داخلہ ہوتا رہتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف ادارے کے نظم و ضبط کو متاثر کرتا ہے بلکہ طالبات کے احساسِ تحفظ کو بھی کمزور کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خواتین کے اداروں میں آنے جانے کے اصول سخت کیے جائیں اور غیر ضروری آمد و رفت کو روکا جائے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ مغرب زدہ سوچ کی اندھی تقلید کے بجائے اپنی سماجی، ثقافتی اور دینی اقدار کو مدنظر رکھنا زیادہ ضروری ہے۔ اسلام نے خواتین کو عزت، تحفظ اور وقار دیا ہے، اور اسی اصول کے تحت ہمیں اپنے معاشرتی ڈھانچے کو ترتیب دینا چاہیے۔
یہ سوچ صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ معاشرے کے دیگر شعبوں میں بھی اس کی جھلک نظر آنی چاہیے۔ خواتین کے لیے علیحدہ کھیلوں کے اسٹیڈیم، الگ جم سینٹرز، مخصوص بازار جہاں دکاندار بھی خواتین ہوں، اور علیحدہ پارکس قائم کیے جائیں تاکہ وہ بغیر کسی جھجھک کے اپنی سرگرمیاں انجام دے سکیں۔ اس طرح نہ صرف ان کا اعتماد بڑھے گا بلکہ معاشرے میں ایک مثبت اور مہذب فضا بھی قائم ہوگی۔
ادب اور ثقافت کے میدان میں بھی ہمیں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ مخلوط مشاعروں کی روایت کے بجائے خواتین کے لیے الگ ادبی محافل اور مشاعرے منعقد کیے جائیں جہاں وہ آزادی اور اعتماد کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں۔ اس سے ان کی تخلیقی صلاحیتیں مزید نکھر کر سامنے آئیں گی۔
مزید برآں، موجودہ حالات کے پیش نظر تعلیمی اداروں کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ اگر پولیس یا دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکار تعینات کیے جائیں تو اس سے دہشت گردی اور شرپسند عناصر کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے، اور والدین بھی اپنی بیٹیوں کو اعتماد کے ساتھ تعلیم کے لیے بھیج سکیں گے۔
یہ وقت ہے کہ ہم جذباتی نعروں کے بجائے عملی اقدامات کی طرف آئیں۔ ہماری بیٹیاں صرف ہماری ذمہ داری نہیں بلکہ قوم کا مستقبل ہیں۔ ان کے لیے محفوظ، باوقار اور معیاری تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اگر ہم نے آج اس جانب توجہ نہ دی تو کل ہمیں صرف پچھتاوا ہی نصیب ہوگا۔
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |