Tag: کشمیر

  • فیلڈ مارشل کا بحث و مباحثہ

    فیلڈ مارشل کا بحث و مباحثہ

    فیلڈ مارشل کا بحث و مباحثہ

    Dubai Naama

    ان دنوں وفاقی کابینہ کی طرف سے جنرل عاصم منیر کو فیڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی بحث زور شور سے جاری ہے۔ وہ خود ساختہ دانشوران بھی اس موضوع پر خامہ فرسائی کر رہے ہیں، جنہوں نے یہ دو الفاظ پہلی بار سنیں ہیں۔ حافظ جنرل عاصم منیر کو ملنے والے اس اعزاز کے حق اور مخالفت میں آپ جو مرضی رائے قائم کر لیں، لیکن اس فیصلے کی تہہ میں کارفرما سچائی یہی ہے کہ جس کے حق میں وفاقی کابینہ نے فیصلہ صادر کیا ہے۔

    اس سے قبل صدر جنرل ایوب بھی فیلڈ مارشل رہے جنہوں نے پاکستان کو بھارت کے خلاف سنہ 1965ء کی جنگ میں سرخرو کیا تھا۔ لیکن یہ تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ صدر ایوب خان نے یہ عہدہ اپنے لیئے خود منتخب کیا تھا، جنہوں نے 1958 میں مارشل لاء لگا کر اقتدار سنبھالا اور 1959 میں کوئی جنگ لڑے بغیر ہی خود کو "فیلڈ مارشل” کے عہدے سے نواز لیا، کیونکہ بھارت کے خلاف جو جنگ پاکستان نے جیتی تھی وہ 6 سال بعد سنہ 1965ء میں لڑی گئی تھی۔ صدر جنرل ایوب خان خطے کے پہلے 5 ستاروں والے فیلڈ مارشل جنرل تھے۔ ہمارے خطے کے دوسرے فیلڈ مارشل جنرل بھارت سے تعلق رکھنے والے جنرل سیم مانک شاء تھے ۔ انہوں نے سنہ 1971ء کی جنگ میں بھارتی افواج کی قیادت کی اور بنگلہ دیش میں آپریشن کیا جس کے نتیجے میں پاکستان کے دو ٹکڑے ہوئے۔ اس آپریشن کے بعد 1973 میں انہیں یہ عہدہ دیا گیا تھا۔ اب چار ستاروں والے جنرل عاصم منیر تیسرے جنرل ہیں جنہیں 5 ستاروں کے رینک میں ترقی دے کر فیلڈ مارشل کا عہدہ تفویض کیا گیا ہے۔ جنرل عاصم منیر کا منفرد اعزاز و مقام یہ ہے کہ انہوں نے کوئی مارشل لاء نہیں لگایا، وہ حاضر سروس چیف آف آرمی سٹاف ہیں اور ان کی قیادت میں افواج پاکستان نے انڈیا کو جنگ میں چاروں شانوں چت کیا ہے جس کو نہ صرف انڈیا، بلکہ پوری دنیا میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    ہمارا ایک مخصوص سیاسی طبقہ، کچھ فوجی ماہرین اور سیاسی تجزیہ کار جنرل عاصم منیر کی ترقی پر درپردہ اور دامے خرمے سیخ پا نظر آ رہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ یہ نہیں کہ جنرل عاصم منیر اس عہدہ کے حق دار نہیں تھے بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس سے ان کی ذاتی سیاسی وابستگی اور مفادات پر زد پڑتی ہے۔ اس طبقے کو جنرل عاصم منیر کے فیلڈ مارشل بننے پر اپنی سیاسی موت واضح نظر آ رہی ہے۔ خاص طور پر تحریک انصاف کو جنرل عاصم منیر کے فیلڈ مارشل بننے پر بہت تکلیف ہے۔ اس کی وجہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے جنرل عاصم منیر سے اختلافات بھی روز روشن کی طرح واضح ہیں۔ اب عمران خان جیل میں ہیں تو یہ امکانات محدود ہو گئے ہیں کہ انہیں جلد رہائی ملے گی۔ جنرل عاصم منیر کے فیلڈ مارشل بننے کا دوسرا مطلب تاحیات چیف آف آرمی سٹاف رہنا ہے یا اس وقت تک اس عہدے پر قانونا فائز رہنا ہے جب تک کہ وہ خود اس عہدے سے مستعفی نہ ہو جائیں۔ حافظ صاحب کے فیلڈ مارشل بننے کی خبر انڈیا اور اس کے پاکستانی ہمنواؤں کے لیئے موت کا پیغام بن کر اتری ہے. لھذا جنرل عاصم منیر کے فیلڈ مارشل بننے پر پی ٹی آئی کا دکھ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ ان کی ترقی پر کیوں تلملا رہے ہیں؟ حالانکہ صرف جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز نہیں دیا گیا بلکہ حکومتِ پاکستان نے بری فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کے علاوہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کو مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد بطور پاکستان ایئرفورس کے سربراہ اپنی خدمات جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

    وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق ان اہم فیصلوں کی منظوری منگل کے دن وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران دی گئی ہے۔
    یہ پیشرفت پاکستان اور انڈیا کی درمیان چار روزہ جنگ کے بعد سامنے آئی ہے۔ وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ "حکومت پاکستان کی جانب سے معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص کی اعلیٰ حکمتِ عملی اور دلیرانہ قیادت کی بنیاد پر ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے اور دشمن کو شِکست دینے پر جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دی گئی ہے۔”

    فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کے برعکس سید جنرل عاصم منیر پاکستان کے پہلے آرمی چیف ہیں کہ جنہیں وزیر اعظم اور صدر کی مشاورت کے بعد وفاقی کابینہ نے فیلڈ مارشل کا عہدہ دیا ہے۔ اس سے قبل گو کہ جنرل ایوب خاں پاکستان کے فیلڈ مارشل رہ چکے ہیں مگر انہوں نے یہ عہدہ خود اپنے لیئے زبردستی منتخب کیا تھا۔ جبکہ جنرل عاصم منیر کو یہ غیرمعمولی فوجی رینک میرٹ پر اور ان کی فوجی اور دفاعی خدمات کے عوض دیا گیا ہے۔

    اس موضوع پر ایک فضول اور لایعنی بحث یہ کی جاری ہے کہ دو عہدے ایک ساتھ رکھنا غیر آئینی ہے یعنی کچھ حاسد دفاعی تجزیہ کار جنرل عاصم منیر کے فیلڈ مارشل بننے پر یہ رائے دے رہے ہیں کہ انہیں فیلڈ مارشل یا آرمی چیف میں سے ایک عہدہ چھوڑنا ہو گا، حالانکہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں فیلڈ مارشل کے عہدے کو اس کی خدمات کے بدلے صرف ایک "اعزازی عہدہ” سمجھا جاتا ہے جو 4 سٹار جنرل کو ایک اضافی سٹار کا بیج لگا کر 5 سٹار جنرل والا فیلڈ مارشل بنایا جاتا ہے تاکہ اس کی خدمات کا قومی اعتراف کیا جا سکے۔ اگر ضرورت پڑے تو آئین میں ترمیم کی سہولت بھی موجود ہے۔ یہ کوئی اتنی بڑے مسئلے والی بات نہیں ہے کہ جس کو اتنی شدت سے زیر بحث لایا جائے۔

    یہ عہدہ جنرل عاصم منیر کو ہندوستان کو جنگ میں شکست دینے پر دیا گیا ہے جو 24 کروڑ پاکستانی عوام کی دلی خواہش کا نتیجہ ہے، جس سے دنیا بھر میں "مسئلہ کشمیر” دوبارہ ابھر کر سامنے آیا ہے۔ خضدار میں دہشت گردی کے المناک واقعہ ہی کو دیکھ لیں کہ اندرون اور بیرون ملک پاکستان کے آرمی چیف کن گوناگوں مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ ان حقائق کے درمیان ایک اعزازی عہدے کو متنازعہ بنانا بذات خود مشکوک ہے اور دشمنوں کی صف میں کھڑا ہونے کے مترادف ہے۔

  • ایٹمی جنگ اور اس کے مابعد مہلک اثرات

    ایٹمی جنگ اور اس کے مابعد مہلک اثرات

    ایٹمی جنگ اور اس کے مابعد مہلک اثرات

    Dubai Naama

    انڈین مفکر ارون دھتی رائے کہتی ہیں کہ پہلے دور میں جنگیں لڑنے کے لیئے ہتھیار بنائے جاتے تھے اور اب ہتھیار بیچنے کے لیئے جنگیں تخلیق کی جاتی ہیں۔ مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ کے پس و پیش کا باریک بینی پر مبنی جائزہ بتاتا ہے کہ اس جنگ کو بھی اسلحہ بیچنے کے لیئے دونوں ملکوں پر مسلط کیا گیا۔ پنجابی محاورے کی طرح شائد پاکستان اور بھارت تو امن و شانتی سے بستے رہتے مگر اسلحہ فروش اچکے انہیں بسنے نہیں دے رہے ہیں۔ ہمارے نصاب میں لکھا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر جھگڑے کی جڑ (Bone Of Contention) ہے۔ تقسیم ہند 1947ء کے وقت برطانوی سامراج نے مسئلہ کشمیر کو استصواب رائے کے لیئے چھوڑا تھا مگر بھارت نے سری نگر میں فوجیں اتار کر کشمیر کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔ پاک بھارت 1948ء کی پہلی جنگ کی وجہ بھی "مسئلہ کشمیر” تھا، اور بعد کی تمام جنگیں بشمول 7مئی تا 10مئی کی حالیہ جنگ بھی مقبوضہ کشمیر (پہلگام) میں دہشت گردی اور بھارت کے پاکستان (بہاولپور) پر حملے کے باعث ہوئی۔ اس 3روزہ مختصر جنگ کے بعد نہ صرف پاکستان اور انڈیا کے درمیان اسلحہ خریدنے کی نئی دوڑ لگ گئی ہے، بلکہ مشرق وسطی کے ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے بھی امریکہ سے اسلحہ خریدنے کے تاریخ ساز معاہدے کیئے ہیں۔

    ایک جنگی مقولہ ہے کہ امن قائم کرنے کے لیئے طاقت کا توازن (Balance of Power) قائم کرنا ناگزیر ہے۔ پاک بھارت کی اس جنگ میں یہ فلسفہ غلط ثابت ہو گیا ہے کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان روایتی جنگ نہیں ہو سکتی ہے کیونکہ ایٹم بم ایک رکاوٹ (Deterrent) کے طور پر کام کرتا ہے۔ اب اگر پاکستان اور بھارت وقت کے کسی موڑ پر دوبارہ روایتی جنگ میں الجھتے ہیں تو کسی ملک (پاکستان یا انڈیا) سے ایٹمی ہتھیار استعمال ہو جانا بعید از قیاس نہیں رہا ہے۔ پاک بھارت موجودہ جنگ کے بعد یہ خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ جنگ کے دوران بھارت اور پاکستان کی دو جگہوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے اثرات محسوس کیئے گئے ہیں۔

    بھارتی پنجاب کے براموس میزائل ڈپو پر خطرناک ریڈی ایشن (Radiation) کو رپورٹ کیا گیا، جبکہ پاکستان سرگودھا میں کیرانہ کی پہاڑیوں کے گردونواح میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے پیدا ہونے والے اسی طرح کے اثرات کو نمایاں کوریج دی گئی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے بعد "حالیہ تناو”، جنگ بندی (Cease Fire) کے باوجود دونوں ممالک کی طرف سے اسلحہ خریداری کی بناء پر کم نہیں ہوا بلکہ مزید بڑھا ہے، جس وجہ سے ساوتھ ایشیاء میں نیوکلیئر سیفٹی (Nuclear Safety) کے حوالے سے دنیا بھر میں تشویش پائی جاتی ہے۔ یہ پاک بھارت جنگ گو کہ بڑے دورانیہ کی نہیں تھی مگر اس کے علاقائی، سیکورٹی اور ماحولیاتی اثرات کسی طرح بھی کم نہیں ہیں۔ جب بھارت نے پاکستان کے سٹریٹیجک ایٹمی اثاثے رکھنے والے مقام پر حملہ کیا تو میڈیا پر کیمیائی اخراج اور اثرات کے پھیلاو’ کی چہ می گوئیاں ہوئیں۔ اس حوالے سے اطلاعات میں اس وقت شدت دیکھنے میں آئی جب سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ پاکستان کے اس علاقے میں ایک امریکی اٹامک ایمرجنسی ایئرکرافٹ کو اڑتے دیکھا گیا تھا، حالانکہ پاکستان نے اس خبر کی سختی سے تردید کی تھی، جبکہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے تصدیق کرتے ہوئے بیان جاری کیا کہ پاکستان کے کسی علاقے میں کیمیائی ریڈی ایشن (Radiation) نہیں ہوئی ہے۔ اس مد میں انڈیا کو بھی بیان جاری کرنا پڑا کہ اس نے پاکستان کے کسی نیوکلیائی ہتھیار رکھنے والے ٹھکانے پر حملہ نہیں کیا تھا۔

    ایٹمی جنگ اور اس کے مابعد مہلک اثرات

    اس کے علاوہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی ایک وضاحتی بیانیہ جاری کیا کہ اس قسم کی منفی افواہ (Disinformation) پاکستان کو بدنام کرنے کے لیئے بھارتی میڈیا نے پھیلائی ہے۔ اس نوع کے معمولی کیمیائی اخراج کے اثرات بھی انتہائی مہلک ہوتے ہیں جس کا احاطہ ہوا کے رخ میں 2000 کلومیٹر کی دوری تک ہو سکتا ہے۔ خدا ناخواستہ اس قسم کے ایٹمی اثرات ماحول میں پھیل جائیں اور پلوٹونیم 239، آئیوڈین 131 اور سیسئیم 137 کے ریڈیو ایکٹو آئزوٹوپس (Radioactive Isotopes) بننے لگیں تو یہ انسانوں میں کینسر، اغضاء کی بندش اور اموات کا باعث بنیں گے۔ جبکہ ماحولیاتی آلودگی کے علاوہ جہاں یہ کیمیائی اخراج ظاہر ہو گا وہاں کی زمین ایک مدت تک فصلیں اگانے سے بھی قاصر ہو جائے گی۔

    ان خبروں اور افواہوں کے دوران جنہیں خود بھارتی میڈیا نے پھیلایا تھا، انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے مطالبہ کیا کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی جانچ پڑتال کرے۔ بھارتی وزیر دفاع کے اس بیان سے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی، فوجی اور جنگی عدم اعتماد کی خلیج مزید گہری ہو گئی ہے۔ بھارت کی اس بدنیتی کے ہولناک اثرات ساوتھ ایشیاء کے علاوہ انسانی بداعتمادی، معیشت اور ماحولیات کے اعتبار سے عالمی سطح پر بھی نمایاں ہوں گے۔

    بھارت میں امکانی طور پر ظاہر ہونے والے ایٹمی ہتھیاروں کے اس اخراج (Radiation) کی جھوٹی خبر بنیادی طور پر بھارتی براموس (BrahMos) میزائل ٹھکانے پر پاکستان کے ہوائی حملے کے بعد پھیلائی گئی جس کے تحت انڈیا کے اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ (AERB) نے آن لائن دعوی کیا کہ اس حملے سے بھارت کے ان علاقوں میں کیمیائی اخراج ہوا ہے کیونکہ وہاں کچھ کیمیائی ہتھیار چلائے گئے تھے جس کے بعد انڈیا کے ان علاقوں کو عوام سے خالی بھی کروایا گیا تھا اور انہیں اس سے بچاؤ کے لیئے احتیاطی تجاویز بھی دی گئیں تھیں۔ لیکن بعد میں بھارتی سرکار اپنے ان بیانات سے مکر گئی اور ان خبروں کی سرکاری طور پر تردید کر دی۔

    تاہم اس واقعہ سے عالمی سطح پر اس بات کی کھل کر تصدیق ہو گئی ہے کہ دو ایٹمی ملکوں کے درمیان اگر روایتی ہتھیاروں سے بھی جنگ ہوتی ہے تو وہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے کتنی قریب پہنچ جاتی ہے جس سے پوری دنیا تباہی کے کنارے پر آن کھڑی ہوتی ہے۔ جنگ عظیم دوم میں جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر پانچ کلو وزنی ایٹم بم استعمال کیئے گئے تھے جس سے پہلے ہی دن لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے، جبکہ پاکستان اور انڈیا کے پاس ان ایٹم بموں سے دس گنا زیادہ وزنی اور مہلک ایٹم بم موجود ہیں۔ ایٹمی اور کیمیائی ہتھیاروں کا کچھ حفاظتی پروٹوکول اور کرسٹل قسم کی شفافیت ہوتی ہے، جو پاک انڈیا کی موجودہ جنگ میں بگڑتی ہوئی نظر آ رہی ہے، جسے دوبارہ قائم نہ گیا گیا تو کچھ بعید نہیں کہ دو ہمسایہ اٹامک پاورز امکانی طور پر تباہی کے کنارے پر ہیں۔ اس سے غربت کے ستائے ہوئے یہ دونوں ملک تو تباہ ہوں گے، مگر اس کے ساتھ باقی دنیا کی بقا اور امن بھی شدید خطرے میں پڑ جائے گا۔

    اگر اسلحہ کی فروخت کے لیئے جنگیں ہی تخلیق کرنی ہیں تو اب وقت ہے کہ تخفیف اسلحہ کے لیئے دنیا کو آگاہی فراہم کی جائے۔ خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان چوبیس گھنٹے کے ایسے فوری باہمی روابط ہونے چایئے جس سے آئیندہ روایتی جنگ کا بھی امکان پیدا نہ ہو سکے۔ لھذا ایٹمی جنگ ہونے کے امکان کو امن کے دنوں میں یاد رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس قسم کی فوجی چالوں کو دنیا اب قبول کرنے کے لیئے تیار نہیں ہے۔ اس کا ذمہ دار بھارت یا پاکستان، جو بھی ملک ہو اس کا دیگر ممالک کو مل کر محاسبہ کرنا چایئے تاکہ دنیا کو ایٹمی جنگ سے محفوظ، امن کا گہوارہ بنایا جا سکے۔

  • مودی کا جنگی جنون اور پاکستان میں بزدلانہ دراندازی

    مودی کا جنگی جنون اور پاکستان میں بزدلانہ دراندازی

    مودی کا جنگی جنون اور پاکستان میں بزدلانہ دراندازی

    Dubai Naama

    ایسا لگتا ہے کہ بھارتی پردھان منتری نریندر مودی اوقات میں رہ کر عالمی برادری میں اپنی عزت بحال نہیں رکھنا چاہتے ہیں۔ 6سمتبر 1965ء کی طرح اعلان جنگ کیئے بغیر گزشتہ روز بھارت نے ایک بار پھر پاکستان پر فضائی حملہ کیا، ہوا میں زبردست ڈاگ فائٹ ہوئی جس کے بعد بہاولپور کے نزدیک پاکستان کے جے10سی فائٹر جیٹ نے بھارتی رافیل طیارہ مار گرایا۔ مودی گجرات کے وزیراعلٰی تھے تو دنیا نے انہیں گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کرتے دیکھا۔ اب وہ وزیراعظم ہیں تو بھارت اور گجرات سے باہر ان کی نظر پاکستانی مسلمانوں پر ہے مگر پاکستان انہیں اپنے ہاتھ خون سے رنگنے کا موقع نہیں دے رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے تقدیر کو انہیں رسوا کرنا منظور ہے کہ وہ اپنی عادت سے مجبور ہو کر بار بار سرحدی دراندازی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارت نے آزاد کشمیر میں بھی دراندازی کی، جہاں ایک بھارتی ہیلی کاپٹر کو پاکستانی ائیرفورس نے تباہ کر دیا۔ بھارت کی جلد بازی میں کی گئی ان دہشت گردانہ حرکات سے یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ بھارت کسی وقت بھی زمینی جنگ شروع کرنے کی غلطی کر سکتا یے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے 24گھنٹے قبل آگاہ کیا تھا کہ بھارت سے تصادم کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ بھارت نے پانی روکنے کے لئے تعمیرات کیں تو تباہ کر دیں گے۔
    نریندر مودی کا جنگی جنون کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، وہ جارحیت کے جس خمار میں مبتلا ہیں اس سے پاکستان بے خبر نہیں ہے جس کے پیش نظر پاکستان نے گزشتہ روز ایک ایٹمی میزائل کا کامیاب تجربہ کیا۔ اس پر امریکہ نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان اشتعال انگیز صورتحال کو انتہائی سنجیدہ اور پیچیدہ قرار دیا۔ امریکی رکن کانگریس مین کیتھ سیلف نے بھی گزشتہ روز کہا کہا کہ ایٹمی طاقتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ناقابل تصور ہے، کوئی بھی جنگ ایک بار شروع ہو جائے تو آپ اسے کنٹرول نہیں کر سکتے۔ امریکی ری پبلکن اراکین کانگریس جیک برگمین اور کیتھ سیلف کے اعزاز میں نیویارک کے ہوٹل میں تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں پاکستانی کمیونٹی کی نامور شخصیات نے شرکت کی تھی، شرکا نے پہلگام واقعہ سے پیدا کشیدگی اور بھارت کے جنگی جنون کی جانب اراکین کانگریس کی توجہ دلائی تو اراکین کانگریس نے اعتراف کیا کہ قیام پاکستان سے اب تک پاکستان کے خلاف بھارت کئی "فالس فلیگ آپریشنز” میں ملوث رہا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اس بار بھی پہلگام واقعہ کے 10منٹ کے اندر ہی ایف آئی آر درج کر لی گئی جب کہ جس جگہ فائرنگ کی گئی تھی وہاں سے پولیس اسٹیشن کا ایک گھنٹے کا فاصلہ تھا۔ یہی نہیں الزام بھی پاکستان پر عائد کر دیا گیا مگر ثبوت نہیں دیئے گئے۔

    وزیراعظم نریندر مودی ممکن ہے یہ بات بھول گئے ہیں کہ ماضی میں بھی ایسی بھارتی جارحیتیں بے نتیجہ ثابت ہوتی رہی ہیں جس کی آخری مثال ابھی نیندن ہیں جب 27 فروری 2019ء کو پاکستان ایئرفورس نے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش پر 2 بھارتی طیارے مار گرائے تھے اور ابھی نندن نے اپنی گرفتاری کے 2سال بعد اپنے ایک بیان میں تسلیم کیا تھا کہ پاکستانی آرمی ایک پروفیشنل فوج ہے، میں پاک فوج کی بہادری سے بہت متاثر ہوا ہوں، لڑائی تب ہوتی ہے جب امن نہیں ہوتا، میں یہ چاہتا ہوں ہمارے دیس میں امن رہے اور ہم سکوں سے رہ سکیں۔ انہوں نے کشمیریوں کے بارے کہا تھا کہ، "نہ آپ کو پتہ ہے اور نہ مجھے معلوم ہے کہ وہاں کیا ہو رہا یے۔”

    پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان دونوں ممالک کے درمیان اب تک جتنی بڑی جنگیں اور محدود جھڑپیں ہوئی ہیں، ان کا بنیادی مرکز و محور عموماً ریاست جموں و کشمیر رہا ہے۔ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے فوراً بعد ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان پہلی جنگ چھڑ گئی، جسے 1947-48 کی جنگ کہا جاتا ہے۔ یہ جنگ جموں و کشمیر کے الحاق کے مسئلے پر ہوئی، جہاں مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت سے الحاق کا اعلان کیا، جس کے جواب میں پاکستان نے قبائلی لشکروں کی مدد سے کشمیر پر حملہ کیا تھا۔ بھارت نے فوری طور پر اپنی فوجیں کشمیر بھیج کر حملہ روکا اور ریاست کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کیا۔ یہ جنگ بالآخر اقوام متحدہ کی مداخلت پر رکی، اور ایک لائن آف کنٹرول قائم کی گئی جس کے نتیجے میں کشمیر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ ایک حصہ بھارت کے پاس ہے جو جموں و کشمیر ہے اور دوسرا پاکستان کے پاس ہے جو آزاد کشمیر ہے۔

    دوسری جنگ 1965 میں ہوئی جو کہ کشمیر کے تنازعہ پر ہی دوبارہ بھڑکی جب پاکستان نے "آپریشن جبرالٹر” کا آغاز کیا جس کے تحت کشمیر میں پاکستان نے بغاوت ابھارنے کی کوشش کی، جس کے جواب میں بھارت نے بھرپور فوجی ردعمل دیا۔ دونوں ممالک کے درمیان مغربی سرحد پر شدید لڑائی ہوئی، خاص طور پر لاہور، سیالکوٹ اور راجستھان کے محاذوں پر۔ اس جنگ میں دونوں ممالک نے دعویٰ کیا کہ وہ کامیاب رہے، لیکن دونوں طرف سے کسی واضح فتح کا اعلان نہ ہو سکا۔ اس جنگ کا اختتام سویت یونین کی ثالثی سے ہونے والے "تاشقند معاہدے” پر ہوا، جس میں دونوں ملکوں نے جنگ سے پہلے کی حدود پر واپس جانے پر رضامندی ظاہر کی۔
    1971ء کی جنگ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی سب سے فیصلہ کن اور بڑی جنگ تھی۔ اس جنگ کا آغاز مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں سیاسی بحران، عوامی لیگ کی اکثریت کے باوجود اقتدار نہ ملنے، اور پاکستانی فوج کے سخت گیر آپریشن سے ہوا۔ لاکھوں مہاجرین بھارت میں داخل ہوئے جس کے بعد بھارت نے سیاسی مفادات کی بنیاد پر مشرقی پاکستان میں فوجی مداخلت کی۔ دسمبر 1971ء میں شروع ہونے والی اس جنگ میں بھارتی افواج نے محض 13 دن میں فیصلہ کن برتری حاصل کر کے ڈھاکہ پر قبضہ کر لیا، اور پاکستانی فوج کے 90 ہزار سے زائد فوجیوں نے مصلحتا ہتھیار ڈال دیئے۔ اس کے نتیجے میں نیا ملک بنگلہ دیش معرضِ وجود میں آیا۔ یہ جنگ اگرچہ بھارت کی ایک بڑی سیاسی، فوجی اور سفارتی کامیابی کے طور پر یاد کی جاتی ہے، اور اس میں پاکستان کو شکست ہوئی۔ لیکن اسی جنگ کے مابعد نتائج کی وجہ سے 1999ء میں ایک اور بڑی فوجی جھڑپ کارگل کی پہاڑیوں میں ہوئی، جسے کارگل جنگ کہا جاتا ہے۔ اس میں پاکستانی فوج اور جنگجوؤں نے لائن آف کنٹرول عبور کر کے بھارتی علاقے میں گھس کر اہم پوسٹوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس دوران شدید جھڑپیں ہوئی تھیں، لیکن عالمی دباؤ اور خاص طور پر امریکہ کی جانب سے مداخلت کی بناء پر پاکستان کو اپنی فوجیں پیچھے ہٹانی پڑی تھیں۔

    ان جنگوں کے علاوہ سیاچن گلیشیئر پر بھی 1984ء سے کشیدگی جاری ہے۔ بھارت نے آپریشن میگھدوت کے تحت سیاچن پر قبضہ کیا۔ 2019ء میں ایک اور محدود مگر اہم واقعہ اس وقت پیش آیا جب پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کے علاقے بالاکوٹ میں فضائی حملہ کیا، جس میں بھارت نے دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی طیارہ مار گرایا اور پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا، جسے بعد میں امن کی علامت کے طور پر رہا کر دیا گیا۔ اس واقعے میں دونوں ممالک نے اپنی کامیابی کے دعوے کئے، لیکن بین الاقوامی سطح پر کوئی فیصلہ کن فاتح سامنے نہیں آیا۔

    اگر پاک بھارت جنگوں کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ ان میں کوئی بھی ملک ایک دوسرے پر یکسر اور مکمل برتری ثابت نہیں کر سکا تو اب جبکہ دونوں ممالک "ایٹمی قوت” ہیں اور ایک دوسرے کو فتح نہیں کر سکتے ہیں بلکہ اس کا تصور تک نہیں کر سکتے تو کیوں نہ اس جنگی جنون سے باہر آیا جائے؟ نریندر مودی کو اس بات کا ادراک کرنا چایئے کہ بھارت اور پاکستان دونوں کے پاس خطرناک ترین "کیمیائی ہتھیار” اور "ایٹم بمز” ہیں مگر سرحد کے دونوں اطراف عوام میں بھوک اور مفلسی ناچ رہی ہے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی، بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کو نقصان ہی پہنچاتی ہے تو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی صاحب کو چایئے کہ وہ اپنے اس جنگی جنون سے باہر آئیں۔ پاکستان کو بھی چایئے کہ اب وہ باہمی اختلافات کو مذاکرات، تجارت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرے، تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو جائے اور جو بجٹ جنگی جنون پر خرچ ہو رہا اسے غربت کی چکی میں پستی عوام پر لگایا جائے تاکہ وہ سکھ کا سانس لیں اور وہ بھی پیٹ بھر روٹی کھا سکیں۔

    Title Image by ThePixelman from Pixabay

  • الزامات اور بھارتی جارحانہ اقدامات کی مذمت

    الزامات اور بھارتی جارحانہ اقدامات کی مذمت

    الزامات اور بھارتی جارحانہ اقدامات کی مذمت

    تحریر: عبدالوحید خان، برمنگھم (یوکے) 

    22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام ”پہلگام“ میں 26 سیاحوں کے قتل پر جس میں کئی بھارت کی مسلح فوج سے تعلق رکھتے تھے کو جواز بنا کر بھارت نے بغیر کسی تفتیش، تحقیق اور ثبوت کے پاکستان کے خلاف نہ صرف الزامات لگا کر انتہائی جارحانہ اقدامات شروع کر دئیے بلکہ 1960 میں دونوں ملکوں کے مابین ہونے والے سندھ طاس معاہدہ جس کا گارنٹر ورلڈ بنک ہے کو فوری طور پر معطل کر دیا، پاکستانی شہریوں کے انڈین ویزے کینسل کر دئیے گۓ، سفارتی عملے کو بھی ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا اور پاکستان پر چڑھ دوڑنے کی جارحانہ جنگی تیاریاں شروع کر دیں جس پر حکومت پاکستان اور افوج پاکستان نے جوابی اقدامات اٹھاتے ہوۓ اپنی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی لگانے کے ساتھ ساتھ سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کا کہا اور اعلان کیا کہ پاکستان پر کسی بھی نوعیت کے حملے پر بھرپور حقِ دفاع استعمال کریں گے اور پوری قوت سے جواب دیں گے جس سے برطانیہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی میں بھی تشویش کی لہردوڑ گئ جسے مذید غم و غصے میں پاکستان ھائی کمیشن لندن کے باہر بھارتی نژاد تارکین کے ایک مظاہرے نے بدل دیا کہ جس میں نہ صرف انہوں نے گالم، گلوچ اور ہاتھا پائی کی کوشش کی بلکہ پولیس کے ساتھ انکے نامناسب روئیے کی وجہ سے کئ ایک کو بھاگنے کی کوشش کے باوجود گرفتار ہونا پڑا اور پھر دوسرے روز رات کی تاریکی میں پاکستانی ھائی کمیشن کی عمارت پر حملہ کر کے کھڑکیوں اور ان میں لگے شیشوں کی توڑ پھوڑ کئ گئ اور باہر لگی تختی پر پیلے رنگ کا سپرے کر دیا گیا اس پر برطانیہ بھر میں پاکستانی کمیونٹی نے نہ صرف مظاہرے کر کے حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا بلکہ بھارت کی طرف سے الزامات اور جارحانہ جنگی عزائم اور بھارتی شہریوں کی طرف سے ھائی کمیشن کی عمارت کی توڑ پھوڑ کی بھی شدید مذمت کی گئ جس کا سلسلہ جاری ہے-

    پاکستانی اور کشمیری ہمیشہ آزادی کشمیر کے حوالے سے اور بھارت کے غاصبانہ عزائم اور اقدامات کے خلاف نہ صرف احتجاج کرتے ہیں بلکہ بڑے بڑے مظاہرے بھی ہوتے ہیں، ریلیاں اور جلوس بھی نکالے جاتے ہیں لیکن کبھی اس طرح نہیں ہوا کہ پاکستانی و کشمیری مظاہرین نے کوئی توڑ پھوڑ کی ہو یا گالم گلوچ کی ہو یہی وجہ ہے کہ جب بھارتی مظاہرین وہاں پہنچے تو انکے عزائم کی اطلاع پر پاکستانی بھی بڑی تعداد میں پاکستانی پرچم اٹھاۓ ہوۓ پہنچے اور وہاں پر نہ صرف ٹی از فنٹاسٹک کے بینر تلے چاہے کا اسٹال لگایا گیا بلکہ بینر پر آویزاں کیا گیا جس پر Tea is fantastic لکھا ہوا تھا اور پلوامہ حملے کے بعد پاکستان میں گرفتار ہو کر عام لوگوں سے مار کھانے والے ابھینندن کی تصویر بھی لگائی گئ تھی جسے بعد میں رہا کر دیا گیا تھا-

    اسی سلسلے میں جب کمیونٹی میں اطلاع پہنچی کہ پاکستانی قونصلیٹ برمنگھم کے باہر کسی مظاہرے کی تیاریاں ہیں تو پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کی بڑی تعداد وطن عزیز پاکستان کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لۓ وہاں پہنچی اور چند مشکوک افراد جو گاڑیوں میں وہاں موجود تھے نے وہاں سے کھسک جانے میں عافیت سمجھی- 

    قائداعظم ٹرسٹ برطانیہ کا ایک ھنگامی اجلاس اسی سلسلے میں ٹرسٹ کے چئیرمین راجہ محمد اشتیاق کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پہلگام واقعہ کی نہ صرف شدید مذمت کی گئ بلکہ انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا بھی اظہار کیا گیا اور بھارت کی طرف سے بغیر کسی تحقیق اور تفتیش کے پاکستان پر بے جا الزامات اور جارحانہ جنگی اقدامات کی سخت الفاظ میں شدید مذمت اور پاکستانی حکومت ، عوام اور افواج پاکستان کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کیا گیا- 

    الزامات اور بھارتی جارحانہ اقدامات کی مذمت

    قائداعظم ٹرسٹ کے چئیرمین راجہ محمد اشتیاق، جنرل سیکرٹری بیرسٹر عمر بنیامین، سید محمد علی شاہ، چوہدری صغیر احمد، مولانا سرفراز احمد مدنی، حافظ سعید احمد مکی، محمد غالب، علامہ نیاز احمد صدیقی، بیرسٹر عثمان بنیامین ، عبدالوحید خان، راجہ بابر سلیم، راجہ واجد ملہوترہ، افتخار احمد جگنو، ارشد محمود بھٹی، چوہدری محمد افضل گجر، اور دیگر تمام عہدیداران و شرکاۓ اجلاس نے لندن میں پاکستانی ھائی کمیشن کی عمارت پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کرنے اور عمارت کو نقصان پہنچانے کی سخت الفاظ میں شدید مذمت کی اور برطانوی پولیس کی طرف سے شرپسند عناصر کی گرفتاریوں کو بروقت اور مناسب اقدام قرار دیا اور کہا کہ تمام اوورسیز پاکستانیز حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کی طرف سے اٹھاۓ جانے والے تمام اقدامات کی بھرپور حمایت کرتے ہیں کیونکہ موجودہ صورتحال میں وطن عزیز پاکستان کا دفاع اور جوابی اقدامات بہت ضروری ہیں – 

    انہوں نے بھارت کے بے جا الزامات اور جارحانہ جنگی اقدامات کو بلا جواز اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوۓ سخت الفاظ میں شدید مذمت کی اور ہر طرح سے حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا گیا- 

    اجلاس کے شرکإ نے پہلگام واقعہ میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوۓ کہا کہ مقبوضہ کشمیر جہاں پر بھارت کی سات لاکھ فوج نہ صرف موجود ہے بلکہ محکوم کشمیریوں پر عرصہ دراز سے ہر قسم کے مظالم روا رکھے جا رہے ہیں اور گزشتہ چند سال سے تو مقبوضہ کشمیر کی آئینی ریاستی حیثیت ختم کر کے ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک جیل میں بدل دیا گیا ہے کے ایک ایسے علاقے میں جو سیاحت کے حوالے سے نہ صرف مشہور ہے بلکہ وہاں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں سیاح جاتے ہیں اور ایسے واقعہ کا ہونا بذات خود بھارتی ایجنسیوں اور فوج کے بارے میں نہ صرف ایک سوالیہ نشان ہے بلکہ اسے فالس فلیگ آپریشن قرار دیا جا رہا ہے تو یقیناً اسکی ٹھوس وجوہات ہیں- 

    شرکإ نے کہا کہ بھارت کی مودی سرکار نے ایک ایسے وقت میں 22 اپریل 2025 کی سہ پہر ہونے والے اس خونریز سانحہ کو ایک جواز کے طور پر پیش کر کے پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کا آغاز کیا جب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ترکی کے دو روزہ دَورے پر تھے، جب نائب امریکی صدر جے ڈی وانس اپنی ہندو بھارتی نژاد اہلیہ اُوشا کے ساتھ بھارت کا تین روزہ دَورہ کر رہے تھے، جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سعودی عرب میں اپنے دو روزہ دَورے پر تھے، اور جب پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، ورلڈ بینک کے بعض ذمے داروں کے ساتھ مذاکرات کررہے تھے- 

    شرکإ نے کہا کہ ہم بطور پاکستانی بھرپور طور پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ نہ تو ہم وطن عزیز پاکستان کو بھُولے ہیں اور نہ ہی ہم خاموش رہیں گے، ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور انشاء اللہ کھڑے رہیں گے، پاکستانی حکومت اور افواج پاکستان کے وطن عزیز کی حفاظت اور بقا کے لۓ اٹھاۓ گۓ تمام اقدامات کی ہر طرح سے مکمل حمایت کرتے ہوۓ پوری دنیا، بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور تمام بین الاقوامی غیر جانبدار تنظیموں اور انسانی حقوق کے لۓ کام کرنے والوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ دو ایٹمی قوتوں کے مابین بڑھتی کشیدگی پر خاموش نہ رہیں بلکہ بھارت کو اس کے جنگی جنون سے باز رکھنے کے لۓ مناسب عملی اقدامات کریں- 

    اجلاس کے اختتام پر شرکإ نے پاکستانی جھنڈے لہراتے ہوۓ اور پاکستان و افواج پاکستان کے حق میں نعرے لگاتے ہوۓ ریلی بھی نکالی اور کہا کہ یہ اجتماع ہمارے اتحاد اور پاکستان سے وفاداری کا ثبوت ہے ، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ فاصلے وطن کے ساتھ ہمارے تعلقات کو کمزور نہیں کرسکتے اور ہم ہر قسم کی تقسیم سے بالاتر ہوکر بطور پاکستانی اس عہد کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم ایک قوم ہیں اور پاکستانی حکومت، افواج پاکستان اور وطن عزیز پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے- آخر میں علامہ نیاز احمد صدیقی نے پاکستان کی حفاظت، فتح و نصرت، استحکام اور ترقی کے لۓ خصوصی دعا کروائی (ختم شد)

  • اسلامک کانفرنس کے جسد خاکی کو زندہ کرنے کی ضرورت

    اسلامک کانفرنس کے جسد خاکی کو زندہ کرنے کی ضرورت

    اسلامک کانفرنس کے جسد خاکی کو زندہ کرنے کی ضرورت

    Dubai Naama

اسلامک کانفرنس کے جسد خاکی کو زندہ کرنے کی ضرورت

    21 اگست 1969ء میں مسجد اقصی کو آگ لگانے کے واقعہ پر اسرائیل کی ایک سابقہ خاتون وزیراعظم گولڈا میئر نے کہا تھا کہ ”میری زندگی کا سب سے برا اور خوشگوار دن وہ تھا جب میں نے مسجد اقصٰی کو آگ میں جلتے دیکھا تھا۔”
    جب اس سے وجہ پوچھی گئی تھی تو اس نے کہا تھا کہ
    بُرا دن اس لئے تھا کہ جس دن میں نے مسجد اقصٰی جلتے دیکھی تھی تو میں ساری رات سو نہ سکی تھی کہ کہیں صبح عالم اسلام ہم پر حملہ نہ کر دے کیونکہ اگر ایسا ہو گیا تو پھر اسرائیل کا وجود صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا اور
    خوشگوار اس لئے کہ ساری رات گزر گئی، اگلے دن کا سورج نکلا اور میں نے مسجد اقصٰی کے جلانے پر مسلمانوں کا رد عمل دیکھا کہ مسلم حکمرانوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ سب اسرائیل پر حملہ کرتے بلکہ وہ لوگ تو خود اپنی عوام کو جنگ سے ڈرانے اور روکنے میں پیش پیش نظر آ رہے تھے. یہ سب دیکھ کر میں مطمئن ہو گئی تھی کہ اب اسرائیل عرب دنیا کی حدود میں محفوظ ہے اور ہمیں امت مسلمہ سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    اس روز مسجد اقصی کو آگ لگانے والا شرپسند بدبخت ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان تھا جس سے مسجد اقصی جو مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی تھی جس سے جنوب مشرق اور عین قبلہ کی جانب مسجد کا بڑا حصہ گر گیا تھا۔ محراب میں موجود 800سالہ پرانا منبر بھی نذر آتش ہو گیا تھا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب گیا تھا۔ اس المناک واقعہ کے بعد مسلم دنیا کا اتنا ردعمل ضرور سامنے آیا تھا کہ اس کے بعد خواب غفلت میں ڈوبی ہوئی امت مسلمہ کی آنکھ ایک لمحے کے لئے بیدار ہوئی اور اس سانحہ کے بعد مفتی اعظم فلسطین کی پکار پر سعودی عرب اور مراکش نے قائدانہ کردار ادا کیا، جن کی کوشش سے مراکش کے شہر رباط میں مسلم دنیا کے سربراہ اکٹھے ہوئے اور 25ستمبر 1969ء کو اسلامی سربراہی کانفرنس کی باقاعدہ بنیاد رکھی گئی۔

    اسلامی سربراہی کانفرنس کے قیام کے 6ماہ بعد ایک مرتبہ پھر سعودی عرب آگے بڑھا اور اسلامی ممالک کے تمام وزراء خارجہ کا پہلا باقاعدہ اجلاس جدہ میں منعقد کیا۔ سنہ 1972ء میں او آئی سی کو باقاعدہ تنظیم کی شکل دی گئی اور یہ طے پایا کہ اس کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہر سال ہو گا جبکہ سربراہی اجلاس ہر 3 سال بعد ہوا کرے گا۔ 57مسلم ممالک کی اس عالمی سربراہی کانفرنس کے اجلاسوں کی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو پاکستان میں 1974ء میں منعقد ہونے والی سربراہی کانفرنس ابھی تک کی واحد کانفرنس ہے جس میں دنیا کے سب سے زیادہ ممالک نے شرکت کی تھی۔ اس کانفرنس کو کامیاب کرانے میں بھی سعودی عرب کے سربراہ شاہ فیصل نے بنیادی کردار ادا کیا تھا، یہی وہ کانفرنس تھی جس میں ذوالفقار علی بھٹو، شاہ فیصل، معمر قذافی اور یاسر عرفات عالمی لیڈر بن کر اُبھرے تھے۔ پاکستان میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں پہلی دفعہ فلسطین کو علیحدہ مملکت کا اسٹیٹس دیا گیا تھا، جس کے بعد اسی بنیاد پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے فلسطین لیڈران کو خطاب کرنے کا موقع ملا۔ 1974ء میں لاہور میں منعقد ہونے والی سربراہی کانفرنس میں مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی، فلسطین سے یاسر عرفات، سعودی عرب سے شاہ فیصل، یوگنڈا سے عیدی امین، تیونس سے بومدین، لیبیا سے کرنل قذافی، مصر سے انور سادات، شام سے حافظ الاسد، بنگلہ دیش سے شیخ مجیب الرحمان اور ترکی سے فخری کورو سمیت تمام بڑے مسلم رہنما شریک ہوئے تھے۔

    اس وقت تنظیم کے عروج کا یہ عالم تھا کہ 1980ء میں پاکستان کے صدر محمد ضیاءالحق نے امت مسلمہ کے متفقہ لیڈر کے طور پر اقوامِ متحدہ سے خطاب کیا تھا اور ان کے خطاب سے قبل ریکارڈڈ تلاوت قرآن پاک بھی چلائی گئی تھی اور پھر اس کے بعد اس تنظیم کے زوال کا یہ عالم تھا کہ یہ تنظیم ایران عراق جنگ کو بند کرانے میں ناکامی کے بعد ہر گزرتے دن کے ساتھ غیرموثر ہوتی چلی گئی۔ اگست 1990ء کو عراقی فوج نے کویت پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا مگر آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی سی) صدام حسین کے حملے کا کوئی آبرو مندانہ حل نہ نکال سکی۔ آج کشمیر اور فلسطین کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ او آئی سی کے ساتھ ایک دردناک حقیقت یہ بھی وابستہ ہے کہ اس کے عروج سے جڑے تمام کردار آہستہ آہستہ غیر طبعی موت مارے گئے۔

    گزشتہ چند روز ہوئے اسرائیل نے غزہ میں قیامت صغری برپا کر رکھی ہے۔ رمضان کے ماہ مقدس میں اور اس کے بعد اسرائیل تقریبا ہر سال فلسطینی مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ ہم مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل کر کے رکھ دیں گے۔ نیتن یاہو کے اس بیان سے پہلے مشرق وسطیٰ کی ہر ریاست یہی سوچ رہی تھی کہ اگر ہم فلسطینیوں کو مرنے دیں گے تو خود بچ جائیں گے، یاہو نے یہ بیان دے کر ثابت کر دیا ہے کہ خاموشی اور بے حسی مشرق وسطیٰ کے عربوں کو کسی صورت نہیں بچا پائے گی. عراقی صدر صدام، کرنل قذافی اور حافظ الاسد وغیرہ کی صورت میں اسرائیلیوں کے سامنے جو رکاوٹیں تھیں وہ عرب مسلمانوں نے خود ہی رضاکارانہ طور پر ختم کر دی ہیں۔ آج غزہ کی تباہی پر اسلامی کانفرنس (اور آئی سی) مگر مچھ کے آنسو بہانے سے بھی قاصر ہو چکی بلکہ اس کی کارکردگی یہ ہے وہ بیانات اور قراردادیں پاس کرنے سے بھی محروم ہو چکی ہے۔

    کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس اسلامی تنظیم پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا قبضہ ہے اور عملا یہ تنظیم کب کی مر چکی ہے جس کے جسد خاکی کو بس دفنانا باقی یے۔

    اسرائیلی عزائم سے تو یہی نظر آ رہا ہے کہ اب اس خطے میں ترکی، اسرائیل اور سعودی عرب کے تین ممالک ہی دنیا کے نقشے پر نظر آئیں گے۔ خلیجی ممالک کو چایئے کہ وہ اپنی آزادی اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیئے اسرائیلی وزیراعظم کے اس بیان کے خلاف رد عمل ظاہر کریں اور آئیندہ کا اپنا لائحہ عمل طے کریں۔ عرب ممالک کو یورپی یونین کی طرز پر اپنا تحفظ کرنا چایئے جو اسی صورت میں ممکن ہے کہ خلیجی ریاستیں اپنے درمیان فوجی اور اقتصادی تعاون کو مزید بہتر بنائیں۔ حالانکہ مسلم سکالرز کی تبلیغی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو "گریٹر اسرائیل” کا تصور بھی او آئی سی کی طرح خود ہم نے ہی تخلیق کیا تھا اور اس کے نتائج بھی ہم مسلمانوں ہی کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ اگر مسلم اتحاد ہو جائے چاہے او آئی سی کے مردہ گھوڑے ہی میں جان ڈالی جائے تو کچھ بعید نہیں ہے کہ اسرائیل کی سابقہ خاتون وزیراعظم گولڈا میئر کی طرح موجودہ وزیراعظم نیتن یاہو کی بھی نیندیں اڑ جائیں۔

  • پاکستان کے لیئے عالمی طاقت کا حصول

    پاکستان کے لیئے عالمی طاقت کا حصول

    پاکستان کے لیئے عالمی طاقت کا حصول

    Dubai Naama

پاکستان کے لیئے عالمی طاقت کا حصول

    ایک قابل فخر اور دلچسپ رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ امریکی بزنس میگزین فوربز نے دنیا کے 10 طاقتور ترین ممالک 2025 کی فہرست چھاپی ہے۔ اس میں ایشیا کے 5 ممالک آئے ہیں۔ لیکن ان ممالک کی لسٹ میں بھارت شامل نہیں ہے۔ اس فہرست نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ بھارت کو اس فہرست سے کیوں باہر رکھا گیا ہے۔

    دنیا کے 10 طاقتور ترین ممالک کی اس فہرست کی درجہ بندی میں عموما پانچ اہم عوامل کو بنیاد بنایا جاتا ہے جس میں قیادت، اقتصادی اثر و رسوخ، سیاسی طاقت، مضبوط بین الاقوامی اتحاد اور فوجی طاقت شامل ہیں۔ لیکن حیران کن طور پر ہندوستان کو شامل نہیں کیا گیا ہے جس کے پاس دنیا کی سب سے بڑی آبادی، پانچویں سب سے بڑی معیشت اور چوتھی سب سے بڑی فوج جیسے مضبوط عوامل ہیں۔ اس کے مقابلے میں اسرائیل رقبے اور فوجی طاقت وغیرہ کے حوالے سے بھارت سے بہت پیچھے ہے مگر وہ اس لسٹ میں 10ویں نمبر پر موجود ہے۔ جبکہ اگرچہ پاکستان بھی اس فہرست میں شامل نہیں ہے مگر اس میں ایک طاقتور مسلمان ملک سعودی عرب 9ویں پر موجود ہے۔

    بھارت کی اس لسٹ میں غیرموجودگی نے اسے شرمندگی اور رسوائی سے دوچار کیا ہے جس وجہ سے بھارت بھر میں اس موضوع پر تبصرے کیئے جا رہے ہیں۔ بھارت دنیا میں رقبے اور آبادی کے لحاظ سے روس اور چین کے بعد تیسرے نمبر پر کھڑا ہے۔ لیکن بھارت کو بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ مظالم، مسئلہ کشمیر اور وہاں جبر و تشدد اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی وجہ سے دنیا میں قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔ فوربز نے واضح کیا ہے کہ یہ فہرست یو ایس نیوز کی طرف سے بڑی چھان بین اور تحقیق کے بعد مرتب کی گئی ہے، جس کے مطابق امریکہ نمبر1 پر ہے جس کی جی ڈی پی 30 اشاریہ 34 ٹریلین ڈالر، آبادی 34 اشاریہ 5 کروڑ ہے اور یہ نارتھ امریکہ کا ملک ہے۔

    چین نمبر2 پر ہے جس کی جی ڈی پی 19 اشاریہ 53 ٹریلین ڈالر، آبادی 141 اشاریہ 9 کروڑ یے اور یہ ایشیا کا ملک ہے۔ روس نمبر3 پر ہے جس کی جی ڈی پی 2 اشاریہ 2 ٹریلین ڈالر ہے، آبادی 144 اشاریہ 4 کروڑ یے اور یہ ایشیا کا ملک یے۔ برطانیہ نمبر4 پر ہے جس کی جی ڈی پی 3 اشاریہ 73 ٹریلین ڈالر، آبادی 6 اشاریہ 91 کروڑ ہے اور یہ یورپ کا ملک ہے۔ جرمنی نمبر5 پر ہے جس کی جی ڈی پی 4 اشاریہ 92 ٹریلین ڈالر، آبادی 8 اشاریہ 45 کروڑ ہے اور یہ یورپ کا ملک ہے۔

    جنوبی کوریا نمبر6 پر ہے جس کی جی ڈی پی 1 اشاریہ 95 ٹریلین ڈالر، آبادی 5 اشاریہ 17 کروڑ ہے اور یہ ایشیا کا ملک ہے۔ فرانس نمبر7 پر ہے جس کی جی ڈی پی 3 اشاریہ 28 ٹریلین ڈالر، آبادی 6 اشاریہ 65 کروڑ ہے اور یہ یورپ کا ملک ہے۔ جاپان نمبر8 پر ہے جس کی جی ڈی پی 4 اشاریہ 39 ٹریلین ڈالر، آبادی 12 اشاریہ 37 کروڑ ہے اور یہ ایشیا کا ملک ہے۔ سعودی عرب نمبر9 پر ہے جس کی جی ڈی پی 1 اشاریہ 14 ٹریلین ڈالر، آبادی 3 اشاریہ 39 کروڑ ہے اور یہ ایشیا کا ملک ہے۔ اسرائیل نمبر10 پر ہے جس کی جی ڈی پی 550 اشاریہ 91 بلین ڈالر، آبادی 93 اشاریہ 8 لاکھ ہے اور یہ بھی ایشیا کا ملک ہے۔

    یہاں خصوصی توجہ کی بات یہ ہے کہ اسرائیل جو لاہور کے رقبے اور آبادی سے بھی چھوٹا ملک ہے وہ پاکستان اور بھارت دونوں سے زیادہ طاقتور ملک ہے۔ بھارت کی سیاسی قیادتیں پاکستان سے 100 گنا بہتر اور مخلص ہیں۔ بھارت دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے، وہاں کبھی مارشل لاء بھی نہیں لگا۔ اس کے باوجود پاکستان بھارت سے جدید اسلحہ اور ایٹمی ہتھیاروں کی وجہ سے زیادہ طاقتور ہے۔

    پاکستان کو مخلص اور اہل قیادت مل جائے جو کرپٹ، جھوٹی اور قومی خزانے سے غداری بھی نہ کرے تو پاکستان دنیا کے 10 طاقتور ممالک کی فہرست میں بھارت سے پہلے شامل ہو سکتا ہے۔

  • فارم پنتالیس ، چھیالیس اور سنتالیس “ جمہوری تماشا یا جنتا کا حق”

    فارم پنتالیس ، چھیالیس اور سنتالیس “ جمہوری تماشا یا جنتا کا حق”

    فارم پنتالیس ، چھیالیس اور سنتالیس “ جمہوری تماشا یا جنتا کا حق”


    تحریر/چوہدری زاہد شکور
    جمہوریت کیا ہے؟ ایک ایسا سراب جس کے پیچھے ہم بھاگتے رہتے ہیں، سمجھتے ہیں کہ یہ ہمیں انصاف، حقوق اور خوشحال مستقبل دے گا۔ مگر افسوس، حقیقت میں تو جمہوریت کا یہ خواب پاکستان جیسے ملکوں میں صرف کتابی بات بن کر رہ گیا ہے۔ اور انتخابات ہمارے یہاں بس ایک شوشہ بن گئے ہیں۔ فارم ۴۵، ۴۶ اور ۴۷ جیسے موٹے نمبروں والے کاغذات کا کھیل ہماری جمہوریت کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔
    یہ ساری باتیں لکھنے سے پہلے کچھ ریفرنسز پیشِ خدمت ہیں جنکی وجہ سے میں اپنی بات آپ تک پہچانے کی جسارت کر رہا ہوں۔ ان میں

    ریفرنس نمبر 1. الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کی ویب سائٹ پر فارم ۴۵، ۴۶ اور ۴۷ کے متعلق مکمل معلومات دستیاب ہیں۔جہاں سے آپ کو ان فارمز کی افادیت کا پتہ چلتا ہے۔
    ریفرنس نمبر 2. دی ڈان اخبار میں شائع شدہ مختلف آرٹیکلز پڑھیں جو پاکستان میں انتخابات اور سیاسی نظام کی خامیوں پر روشنی ڈالتے ہیں۔
    ریفرنس نمبر 3. بریویر آف ڈیموکریسی” از جان ڈن،یہ کتاب جمہوریت کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے اور جان ڈن کی عمیق تحقیق کا نتیجہ ہے اس کتاب میں جان ڈن قدیم یونان سے شروع ہونے والی جمہوری نظام کی تاریخ بیان کرتے ہیں جس میں جمہوریت کے فوائد، (جیسے کے عوام کی شمولیت)، اور اس کے ممکنہ مسائل، (جیسے پولیٹکل انسٹیبلٹی)۔بات لمبی ہو جائے گی مدعے پہ آتے ہوئے فارم ۴۵ کی بات کریں تو بنیادی طور پر یہ وہ فارم ہوتا ہے جس پر پولنگ افسران ہر پولنگ اسٹیشن کی تفصیلات لکھتے ہیں، یعنی کتنے ووٹ ڈالے گئے اور کس کو کتنے ملے۔ یہ فارم مہر لگا کر باقاعدہ طور پر جاری کیا جاتا ہے۔

    فارم پنتالیس ، چھیالیس اور سنتالیس “ جمہوری تماشا یا جنتا کا حق”

    اب اگر فارم ۴۵ ہمارے انتخابات کی سچائی کی عکاسی کرتا ہے، تو فارم ۴۶ اور ۴۷ کشمیر کی خوبصورتی کی مانند خوابیدہ ہوتے ہیں، جنہیں نظر انداز کرنا بھول جائیں ۔ فارم ۴۶ ریٹرننگ افسر کے ذریعہ تصدیق کیا جاتا ہے اور فارم ۴۷ پر مجموعی نتائج شائع کیے جاتے ہیں۔ مگر افسوس، ان فارمز کا حشر بھی وہی ہوتا ہے جو کسی غیر ضروری دستاویز کا۔

    پاکستان میں جمہوریت کا عالم شاید سب سے بڑا مذاق ہے۔ جسطرح مظفر آباد کی سوغاتیں یا لاہور کی فلودے والی فائل مشہور ہیں، ("لاہور کی فلودے والی فائل” ایک وائس میمو ہے جو 2005 کے زلزلے کے دوران میڈیا کی دلچسپ رپورٹنگ پر طنز کرتی ہے۔ وائس میمو ایک رپورٹر کے کردار میں بنا گیا ہے جو ایک خاص "فلودے والی” خاتون کی داستان سناتا ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو ہنسانا ہے اور میڈیا کی عجیب و خاص رپورٹنگ سٹائل پر روشنی ڈالنا ہے۔ یہ میمو سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر بے حد مقبول ہوا۔)اسی طرح یہاں جمہوریت کی سوغاتیں بھی ہیں۔ ایک اور دلچسپ بات یہ کہ بہت سے لوگوں کی روزی روٹی، اور پورے پورے خاندانوں کی معیشت، اسی سیاسی تماشے کے بل بوتے پر چلتی ہے۔

    اب مثال کے طور پر مقرر کی گئی کہ آدھی رات کو فارم ۴۵ کے غائب ہونے کی خبریں، یا پھر فارم ۴۶ پر بے شمار دستخط، کبھی سوچا ہے کہ یہ دستخط اتنے ضروری ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ پولنگ بوتھ کے بجائے شادی کے دعوت نامے پہ دستخط کر رہے ہیں۔

    دوستو، یہاں مسئلہ صرف فارم اور الیکشن کا نہیں، بلکہ یہاں مسئلہ اس سسٹم کا ہے جو خانوادوں کی کرپشن اور بد عنوانیوں کو چھوڑ کر عام عوام کی سنوائی میں ناکامی کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا نظام ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو جمہوریت کو فقط نام کی جمہوریت سمجھتے ہیں اور اسی نام کے بل بوتے پر اپنی سیاست کرتے ہیں۔

    جمہوری نظام کی ان خامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے، ہم ایک اور حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ یہاں بنیادی تبدیلی اس وقت ممکن ہوگی جب عام عوام خواب خرگوش سے بیدار ہو اور ان مسائل کا سامنا کریں۔

    آخر میں، ہمیں سمجھنا ہوگا کہ فارم ۴۵، فارم ۴۶ اور فارم ۴۷ جیسے کاغذی شہکار صرف وہ آئینہ ہوتے ہیں جس میں ہماری جمہوریت کا اصل چہرہ نظر آتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم ملک کی حقیقی جمہوریت کی تلاش کریں ورنہ ہمیں آئینے میں بس وہی پرانا چہرہ دیکھنے کو ملے گا۔

  • بنجوسہ جھیل کے مہمان

    بنجوسہ جھیل کے مہمان

    بنجوسہ جھیل کے مہمان

    کتاب: بنجوسہ جھیل کے مہمان

    مبصر:انگبین عُروج

    اس لمحے میرے ہاتھوں میں ایک بے حد پُرکشش و دیدہ زیب سرورق والی کتاب "بنجوسہ جھیل کے مہمان” موجود ہے۔گو کہ اس کتاب میں موجود کہانیوں سے میں کئی ماہ پہلے پروف خوانی کے سلسلے میں مستفید ہو چکی ہوں تاہم ان کہانیوں کے مجموعے کو کتابی شکل میں اشاعت کے بعد دیکھا تو دل باغ باغ ہو گیا۔بلاشبہ آن لائن یا پی ڈی ایف کی صورت میں مطالعہ ادھورا اور بدمزہ سا لگتا ہے۔جب تک کتابی صورت میں ورق گردانی نہ کی جائے، سیرابی حاصل نہیں ہوتی۔


    اس کتاب کی صفحہ اول سے عرق ریزی شروع کی،ابتدائی سطور ہی ہم سب کے لیے بہت بڑا پیغام لیے ہوئی ہیں کہ "زمین عقل مندوں سے تو بھر رہی ہے مگر دردمندوں سے خالی ہو رہی ہے۔”
    واللہ اسے ہم انسانی تاریخ کا بدترین المیہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جس میں زمین بم،بارود یا ہتھیاروں کی وجہ سے نہیں بلکہ انسان کی فطرت سے چھیڑ چھاڑ اور قدرت کے دیے ہوئے وسائل کو بے دریغ ضائع کرنے سے تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔

    بنجوسہ جھیل کے مہمان


    عالمی سطح پر انسانوں،جانوروں اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے نہ صرف قوانین وضع کیے گئے ہیں بلکہ ان پر سختی سے عمل درآمد بھی کروایا جا رہا ہے۔افسوس کہ جس معاشرے میں ہم سانس لے رہے ہیں وہاں انسانیت دم توڑتی نظر آتی ہے۔جہاں انسانوں کے حقوق کا تحفظ عدم دستاب ہے،وہاں جانوروں اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے اصول و قوانین وضع کرنا تو کجا کوئی ان پر بات کرتا بھی نظر نہیں آتا۔


    عصرِ حاضر میں چند ایک ادیب ایسے بھی ہیں جنہوں نے لوگوں میں ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کا شعور اجاگر کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے اور کوشاں ہیں کہ ان کے قلم سے نکلے الفاظ کسی طرح اس قوم کے ننھے معماروں اور نوجوانوں کے دلوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکیں۔ادبِ اطفال میں ایسا ہی ایک ابھرتا ہوا رخشندہ ستارہ محمد احمد رضا انصاری ہیں،جنہوں نے کم عمری میں ہی اپنی دلچسپ و اصلاحی کہانیوں سے خاطر خواہ مقبولیت حاصل کر لی ہے۔اس سے پیشتر مصنف کی دو کتابیں "خونی جیت” اور "امانت کی واپسی” بھی ادارہ پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے بینر تلے شائع ہو چکی ہیں،جو ادبی حلقوں میں خاصی داد وصول کر چکی ہیں۔


    "بنجوسہ جھیل کے مہمان” کا سرورق دیکھتے ہی آپ کشمیر کی حسین وادیوں،جھیلوں اور آبشاروں میں گم ہو جائیں گے۔مصنف نے کشمیر کے چھوٹے بڑے قصبوں،گاؤں دیہاتوں،پگڈنڈیوں،کھیتوں اور باغات،وہاں کے گھنے جنگلات حتٰی کہ پہاڑوں پر بنے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے گھروں کی ایسی خوب صورت منظر نگاری کی گئی ہے کہ قاری ان مناظر سے جذباتی وابستگی محسوس کرنے لگتا ہے۔جیسا کہ مصنف نے خود انکشاف کیا ہے کہ اس کتاب میں موجود موضوعات کو کہانیوں کے قالب میں ڈھالنے میں انہیں دو برس کا عرصہ لگا۔ان کہانیوں کو پڑھتے ہوئےکئی بار مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہ محض فرضی کہانیاں نہیں ہو سکتیں،ایک کے بعد دوسری حتی کہ سب ہی کہانیوں کو پڑھتے ہوئےلگا کہ یہ ان میں موجود کردار،جذبات و احساسات کا تانہ بانہ سب کچھ حقیقی ہے۔یہ مصنف کا اوجِ کمال ہے کہ ہر کہانی کی ایسی عمدہ عکس بندی کی ہے کہ کردار سانس لیتے ہیں اور ہم خود کو ان مناظر میں موجود پاتے ہیں۔


    اس کتاب میں یوں تو کشمیر کے گاؤں،دیہاتوں کو موضوعات کا حصہ بنایا گیا ہے تاہم اس کی ہر کہانی کے آئینے میں ہم سب کو اپنا عکس نظر آتا ہے۔جب مصنف کشمیر کے خوبصورت گاؤں کی صاف شفاف جھیل کو گاؤں والوں کی لاپرواہی کی بدولت کوڑے کرکٹ سے آلودہ ہو جانے اور آبی حیات کے لیے خطرہ بن جانے کی تصویر کشی کر رہے ہیں تو گویا ہمیں اپنا آپ بھی اُس جھیل کو آلودہ کرتا ہوا محسوس ہوگا،کہیں نہ کہیں ہم سب قدرتی حُسن کو پامال کرنے اور آبی و جنگلی حیات کی نسل کشی کرنے کے ذمہ دار ہیں۔یہی مقصد لے کر مصنف نے ہر کہانی کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے کہ ہر عمر کا فرد ان واقعات کے تسلسل میں بہتے ہوئے یر محسوس طریقے سے اپنا جرم بھی قبول کرے اور قوانینِ فطرت پر عمل پیرا ہونا بھی سیکھ لے۔


    مصنف نے نہ صرف پہاڑوں اور مضافاتی علاقوں کا رُخ کرنے والے سیاحوں کو ماحولیات کا تحفظ کرنے اور فطرتی خوب صورتی سے لُطف اندوز ہونے کے بعد اُسے کوڑے کچرے کے ڈھیر پھیلا کر برباد نہ کرنے کا سبق دیا ہے بلکہ کچھ کہانیوں کے ذریعے بچوں کی تربیت،ان کے زندگی گزارنے کے طور اطوار،ان کا طرزِ رہائش،صحت مند اور مرغوب غذاؤں کے استعمال کے ساتھ ان کی زندگی کی کامیابی کے کئی رہنما اصول بھی اجاگر کیے ہیں،جو بچوں کی عملی زندگی کے لیے یقیناً معاون و مددگار ثابت ہوں گے۔


    مصنف نے اس کتاب کے ذریعے نسلِ نو کو تحفظِ ماحولیات،آبی و جنگلی حیات کی معدوم ہوتی نسلوں کی حفاظت کی صورت ان پر عائد ہونے والی بڑی ذمہ داریوں سے انہیں آگاہی دی ہے۔


    جس تیزی سے انسان دنیاوی ترقی اور مادّہ پرستی میں اندھا دھند فطرت سے چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں،چند پیسوں اور اراضی کی خاطر جنگلات کا صفایا کیا جا رہا ہے،جنگلی حیات کو قید کر کے یا نایاب و بیش قیمت جانوروں کا شکار کر کے ان کی نسل کو معدومی کی نہج تک پہنچایا جا رہا ہے،ماحول کو گاڑیوں اور فیکٹریوں سے دھوئیں کی صورت خارج ہونے والی خطرناک ترین کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس سے زہریلا بنایا جا رہا ہے،صنعتی فُضلے اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کو سمندر بُرد کر کے آبی حیات کی نسل کشی کی جا رہی ہے، وہ دن دور نہیں جب انسان اپنے ہاتھوں سے پھیلائی اس تباہی کا خمیازہ خوراک و پانی کے قحط کی صورت میں بھگتے گا،جب جنگلات کی بے رحمی سے کاٹ چھاٹ کا بدلہ انہیں سیلاب،طوفانوں اور زلزلوں کی صورت اٹھانا پڑے گا۔


    اس خوب صورت کتاب میں ماحولیاتی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ مصنف نے معدوم ہوتے جانوروں،قومی مچھلی اور ٹی بی جیسی مہلک بیماری کے بارے میں ایسی عمیق و حیرت انگیز معلومات اکٹھی کی ہیں جنہیں پڑھ کر بچوں اور بڑوں کی معلومات میں نہ صرف اضافہ ہوگا بلکہ ان کے اندر تحقیق و مطالعے کا رجحان بھی بڑھے گا۔
    الغرض اس کتاب پر کی گئی مصنف کی انتھک محنت لائقِ خراجِ تحسین ہے۔یہ کہانیاں محض قصہ گوئی نہیں بلکہ اپنے دامن میں عمیق مشاہدہ،تحقیق اور معلومات کا وسیع ذخیرہ لیے ہوئے ہیں۔قدرت کے انمول وسائل اور ماحولیات کے تحفظ پر دردِ دل رکھنے اور اپنے قلم کے ذریعے لوگوں کی توجہ ان اہم مسائل کی جانب مبذول کروانے والے مصنفین اور ادارہ پریس فار پیس فاؤنڈیشن کی کاوشوں پر ہم قارئین ان کے بے حد مشکور ہیں اور تہہِ دل سے ان کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔

  • ساتویں بیٹی

    ساتویں بیٹی

    ساتویں بیٹی


    آزادکشمیر کے بلند چوٹیوں والے پہاڑ کی کچی دشوار گزار پگڈنڈی پر مکانوں سے دور بد حالی میں لپٹے کچے گھر میں بچے خط غربت کی لکیروں کی افادیت سے نا آشنا خود ساختہ خوشیوں سے صحن میں کھیل رہے تھے ۔ گھر میں معمول سے ہٹ کر ہلچل دیکھنے میں آ رہی تھی کہیں سفر پہ جانے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔خاتون خانہ سفری ضرورت کی چیزیں تلاش کرکے بیگ میں رکھ رہی تھی اس کا خاوند بھی حالت اضطراب میں گھر سےباہر جاتا اور جلد پلٹ کر آجاتا میاں بیوی کسی انجانے خوف میں،کسی غیر متوقع خبر کو سننے میں بے بسی محسوس کر رہے تھے۔تیاری مکمل ہو گئ گھر سے نکلنے سے پہلے خاوند نے بیوی کا ہاتھ پکڑ کر اسے دو ٹوک الفاظ میں اپنا فیصلہ سنا دیا کہ ہم راولپنڈی ہسپتال میں جا رہے ہیں وہاں تمہارے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو ٹھیک ہے لیکن اگر لڑکی پیدا ہوئی تو میں لڑکی گھر نہیں لاؤں گا بلکہ وہیں کسی کو دے دوں گا۔ حالت زچگی میں کسی عورت کی اس سے زیادہ کیا بے بسی ہو سکتی ہے۔ اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں سے اس کے اندر کا دکھ سامنے آرہا تھا۔


    دادی اماں صحن میں خاموش کھڑی بچیوں سے کہہ رہی تھی کہ تمھاری امی بیمار ہیں انہیں پاکستان کے بڑے ہسپتال میں ڈاکٹر کو دکھانے جا رہے ہیں جلد واپس آ جائیں گے۔گھر کے تین افراد پر مشتمل قافلہ کچی پگڈنڈی پر بس سٹاپ کی طرف پیدل چل پڑا۔
    ہسپتال پہنچ کے لیڈی ڈاکٹر کے معائنہ کے بعد ہسپتال میں داخلے اور بیڈ کی فراہمی کے مرحلے سے گزر کر وارڈ کا ایک بیڈ ملنے پر خاتون کو داخل کرا دیا گیا۔تیسرے روز اس کے ہاں بچی پیدا ہوئی۔ بچی کی پیدائش کی خبر سے کیا کہرام مچا۔بچی کا باپ اس خبر سے پاگل ہو رہا تھا ہسپتال کے عملے کو کہہ رہا تھا کہ اگر کوئی بچی لینا چاہے تو میں بچی دینا چاہتا ہوں۔ ہسپتال کے عملے میں ایک سٹاف کو کسی بے اولاد خاتون نے کہہ رکھا تھا کہ اگر کسی نے بچی دینی ہوئی تو ہمیں اطلاع کرنا۔سٹاف نے بچی کے باپ سے رضامندی پوچھ کر کال کی تو تھوڑی دیر بعد میاں بیوی آئے اور بچی کے باپ سے ملے اور اس سےبات چیت کرکے پوچھا کہ آپ بچی کس طرح دیں گے تو اس۔ ے کہا کہ میری کوئی شرط نہیں ہے آپ بچی لے کر جا سکتے ہیں۔میاں بیوی نے مشورہ کرکے اس کے والد کو اشٹام لکھ کر دینے اور ضروری قانونی کروائی کا کہا جس کے بعد بچی کے باپ کو دو ہزار روپے اخراجات کی مد میں دیئے اور بچی کو حوالے کرنے کو کہا تو بچی کا باپ وارڈ میں گیا اور بیوی کو بتایا کہ اس نے بچی دے دی ہے تو ماں کی فریادیں اور خاوند کی منتیں کہ وہ بچی نہ دے بچی کی دادی نے بھی اپنے بیٹے کے آگے ہاتھ باندھے اس کے پاوں پر اپنا دوپٹہ رکھا اور بیٹے کو بچی دینے کے ظلم سے روکنا چاہا لیکن بچی کے والد نے کسی کی نہ سنی اور بیوی کو ہسپتال سے ڈسچارج کر اکر واپس گھر آگیا۔
    بے اولاد میاں بیوی خوشی خوشی بچی کو لے کر گھر أ گئے۔بے اولاد جوڑا جن کا گھر کرائے کا تھا اور خاوند کسی محکمے میں ایڈہاک ملازم تھا۔گھر کے مالی حالات معاشی ایمر جنسی والے تھے بچی مل جانے کی خوشی میں وہ اپنے مسائل کو بھول کر بچی کی خدمت میں اپنے آپ کو مصروف کرلیا۔ بچی کے اس گھر میں آنے سے جیسے خوش قسمتی نے بھی اس گھر میں ڈیرے ڈال لیئے ہوں۔تھوڑے دنوں بعد اس کے باپ کی نوکری پکی ہوگئی ۔ بے اولاد جوڑے کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی اور گھر کی خوشیوں میں اصافہ ہوتا رہا۔ کچھ عرصہ بعد انہوں نے اپنا گھر بنالیا یوں اس بے اولاد جوڑے اور معاشی بد حالی والے گھر کا شمار خوش قسمت خاندانوں میں ہونے لگ گیا۔


    فطرت نے جہاں ایک بچی کو بھیج کر ساری محرومیاں،ساری تنگدستیاں ختم کرنی تھیں،خوشحالی کو اس گھر کا مقدر بنانا تھا لیکن شاید غربت کا وار بہت سخت اور ناقابلِ برداشت ہوتا ہےجو انسان کو پاگل کرکے اس سے ایمان بھی چھین لیتا ہے۔ساتویں بیٹی تو یقینی طور پر رحمت ہوتی ہے۔

    Title Image by Microsoft Designer

  • کشمیر کا انتباہی احتجاج

    کشمیر کا انتباہی احتجاج

    کشمیر کا انتباہی احتجاج

    Dubai Naama

کشمیر کا انتباہی احتجاج

    دوبارہ احتجاج کے خوف سے آزاد کشمیر میں ٹیلیفون کی سروس ابھی تک بند ہے۔ کشمیر میں خونریز احتجاج کے بعد بجلی کی قیمتوں میں تاریخی کمی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔ آٹے کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہوا۔ آزاد کشمیر میں قیمتوں میں کمی کا یہ اعلان وہاں مہنگائی کے خلاف احتجاج کے بعد کیا گیا۔ اس تاریخ ساز فیصلہ کے بعد پاکستان میں ایک عام تاثر یہ پایا جا رہا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے کا بوجھ پنجاب اور دوسرے صوبوں پر بھی پڑے گا یعنی پورے پاکستان میں مہنگائی کا ایک اور سیلاب آنے والا ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں قیمتوں میں کمی کا یہ بوجھ پنجاب یا پورے ملک پر نہ ڈالا گیا تو آئیندہ بجٹ میں حکومت لامحالہ طور پر نئے ٹیکسز لگائے گی اور پہلے کے ٹیکسوں میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے جس سے مہنگائی میں مزید کئی گنا اضافہ ہو گا۔

    صرف آزاد کشمیر میں قیمتوں میں کمی کا جو جواز ڈھونڈا گیا ہے اس کا تعلق کشمیر کے احساس محرومی سے بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ اس احتجاج کے تانے بانے مودی حکومت سے بھی جوڑے جا رہے ہیں جس کا ازالہ حکومت نے کشمیر میں احتجاج کے مطالبات کے مطابق بروقت قیمتوں میں کمی کا اعلان کر کے کیا۔ کشمیری عوام بھی خود کو اسی طرح پاکستانی سمجھتے ہیں جس طرح دوسرے پاکستانی خود کو سمجھتے ہیں۔ اگر کشمیر کو مہنگائی کا یہ ریلیف دیا جا سکتا ہے تو یہی ریلیف پاکستان کے دوسرے صوبوں کی عوام کو بھی ملنا چایئے اور نہیں ملتا تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ بجلی، آٹے اور تیل وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد یہ احتجاج دیگر صوبوں میں بھی پھیل سکتا ہے۔

    پاکستان میں مہنگائی کی بنیادی وجہ کا کھوج کبھی نہیں لگایا گیا۔ ملک میں وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور بدعنوانی کی وجہ سے امیر لوگ امیر ترین اور غریب لوگ غریب ترین ہوتے جا رہے ہیں۔ مغربی ممالک کی طرح ہمارے ہاں مہنگائی کے مطابق فی کس آمدنی میں بھی اضافہ نہیں ہوتا بلکہ ملک میں جتنی مہنگائی ہے اس کے مقابلے میں آمدن میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اس پر مستزاد ملک کرپشن کی لعنت میں سر سے لے کر پاؤں تک ڈوبا ہوا ہے۔ رشوت اور بدعنوانی صرف ایف بی آر ہی کا مسئلہ نہیں کیونکہ یہ وبا پورے ملک کے ہر محکمہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ محتسب کا ادارہ موجود تو ہے مگر وہاں بھی اقربا پروری پائی جاتی ہے۔

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے ایف بی آر (FBR) کی تقریب میں یہ تسلیم کیا تھا کہ 2700 ارب روپے کے ٹیکس کا معاملہ پہلے ہی لٹکا ہوا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق 3 سال کے سیلز ٹیکس سے ساڑھے7 سو ارب روپے غائب ہیں جو کرپشن، فراڈ، لالچ اور جعلسازی سے ہڑپ کیئے گئے اور صرف 1 ارب 60 کروڑ وصول ہوئے۔ خدا کا قہر! جس ملک میں اس قدر کرپشن ہو اور اس کا کچھ اتا پتا بھی نہ چلے اسے تقدیر ہی بچا سکتی ہے۔ صاف ظاہر ہے جب امراء اور اشرافیہ ٹیکس چوری کریں گے تو ملک میں لامحالہ طور مہنگائی کا سیلاب آئے گا جس کا اثر امراء کی بجائے صرف غریب طبقہ پر پڑے گا۔

    پاکستان کے لیئے آئ ایم ایف(IMF) کی شرائط کا بوجھ اشرافیہ سے موڑ کر سفید پوش اور غریب طبقے پر ڈالنا حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس میں نجکاری بھی شامل ہے۔ خسارے میں چلنے والے حکومتی ادارے قومی خزانے پر ایک بہت بڑا بوجھ ہیں جو مجموعی طور پر سالانہ 458 ارب روپے کا نقصان کر رہے ہیں۔ ان اداروں میں PIA، اسٹیل ملز، ریلوے اور واپڈا (ڈسکوز) قابل ذکر ہیں جن کی نجکاری کیلئے مختلف ادوار میں حکومتیں کوششیں کرتی رہی ہیں۔ لیکن ان اداروں کے ناقابل برداشت خسارے کے باعث کوئی بھی ملکی سرمایہ کار انہیں لینے کو تیار نہیں تھا۔ حکومت نے 24 اداروں کی نجکاری کی منظوری بھی دی تھی جس میں پی آئی اے (PIA) بھی سرفہرست تھی۔ قومی ایئر لائن کی خریداری میں دو خلیجی ممالک نے بھی دلچسپی ظاہر کی تھی مگر اس میں ایک رکاوٹ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی حکومتی نجکاری پالیسی کے خلاف ہے۔ آخر حکومت کی ناقص اور غیرمعیاری معاشی پالیسیوں کی وجہ سے عوام مہنگائی کے کتنے مزید سیلاب برداشت کرے گی۔

    مظفرآباد میں کے پی کے کی رنینجرز کی فائرنگ سے چار سے پانچ جوان شہید ہوئے۔ جب بات آٹے، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں سے کہیں آگے جائے گی تو کشمیر کا یہی احتجاج کل کو کسی نئے سانحہ کا باعث بنے گا۔ حکومت نے کشمیر میں دی جانے والی رعایت کو کہیں نہ کہیں تو ایڈجسٹ کرنا ہے جس کے بدلے میں ملک بھر کی غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پسے گی۔کشمیر سے نکل کر یہ احتجاج پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں پھیلے گا تو شاید احتجاج کا یہ طوفان حکومت سے تھم نہ سکے ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت غریب عوام پر مہنگائی کی کاٹھی ڈالنے کی بجائے مراعات یافتہ طبقہ پر ہاتھ ڈالے۔

    اگر حکومت مُلک کو بچانے اور عوام کو مہنگائی در مہنگائی کے سیلابوں سے نکالنے میں مخلص ہے تو اسے مہنگائی کو کم کرنے کی اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لینا ہو گا۔ ہمارے ملک کی فوج، بیوروکریسی، انتظامیہ اور عدلیہ میں دولت اور زرائع کی ریل پیل ہے۔ مہنگائی کا رخ اگر اشرافیہ کے اس طبقہ کی طرف موڑا جائے تو ان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر گزشتہ ادوار کہ طرح اس دفعہ بھی مہنگائی کا بوجھ دوبارہ عوام ہی پر ڈالا گیا تو کشمیر میں ہونے والے احتجاج سے واضح ہو گیا ہے کہ اس کے خطرناک نتائج بعید از قیاس نہیں ہیں۔

    Title Image by Designer