Tag: کشمیر

  • ‘نعتیہ مجموعہ ‘ثناۓ محمدﷺ

    ‘نعتیہ مجموعہ ‘ثناۓ محمدﷺ

    ‘نعتیہ مجموعہ ‘ثناۓ محمدﷺ


    تبصرہ نگار:۔ مولانا پیر سید مختار گیلانی قادری،

    آستانہ عالیہ ایراڑہ شریف ،باغ آزاد کشمیر


    شعرا پر نعتیہ کلام کا الہام خداٸے بزرگ و برتر کی طرف سے ہوتا ہے یہ کسی کی اپنی مجال نہیں ہوتی حضورِ اکرم ﷺ سے عشق و وارفتگی فکری عفت کی آٸینہ دار ہوتی ہے
    اپنے جذبات و احساسات کا اظہار شعر و شاعری سے کرنا ہر ایک کے بس کا روگ نہیں۔فنِ شاعری ایک خدا داد صلاحیت ہے۔اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے۔عطا فرماتا ہے۔ایسے ہی خوش نصیب شعرا میں ایک سچے اور مخلص، معظم و محترم المکرم شخص جناب مظہر علی کھٹڑ صاحب ہیں۔ جن کے متعلق مجھے بغیر کسی مبالغہ آرائی و خوشامد یہ کہنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ ان کی شاعری میں تصوف کا رنگ جھلکتا ہے۔اہلِ سخن میں ان کو منفرد اور خدادا صلاحیت حاصل ہے۔ ان کے نعتیہ مجموعہ ,,ثناۓ محمدﷺ ,,کو اہلِ عشق و محبت نے بہت پسند کیا۔جوکہ عشقِ حقیقی ﷻ عشق نبوی ﷺ اورعشقِ صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنھما سے معمور ہے۔یقیناً نعت لکھنے کا فن بہت مشکل اور احتیاط پر مبنی ہوتا ہے۔لیکن جناب مظہر علی کھٹڑ صاحب کا عشق ،اخلاص و محبت ان کے نعتیہ اشعار میں نمایاں ہے۔اور شاگرد کی صلاحیت کا انحصار اس کے استاد کی قابلیت پر ہوتا ہے۔یہ اپنے استاد المکرم جناب سید حبدار قاٸم صاحب کے گرویدہ ہیں۔جن کے دستِ شفقت میں اِنہوں نے ادبی سفر طے کیا۔اور ادب و احترام، عجز و انکسار کی دولت سمیٹی۔اورعشق و مستی میں ڈوب کر اپنے جذبات و احساسات کی داستان رقم کی۔ان کی شاعری کا لفظ لفظ سلاست اور منفرد طرزِ سخن کا پیکر ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اہل ذوق و شوق اربابِ علم و ادب ان کو بےحد پذیراٸی دیتے ہیں۔آپ اپنے تصوفانہ اشعار کی بنا پر بےشمار ایوارڈ و اعزازات سے نوازے گٸے ہیں۔مجھے چند ماہ سے ان کی رفاقت حاصل ہوئی۔ان کی شفقتیں ، محبتیں اور عنایتیں ملیں تو میں بھی شعر کہنے لگ گیا۔دراصل میں نعتیہ شاعری کا مشتاق ہوں ۔مجھے عروض کی غلطیوں سے بچنے کے لیے ان کی مدد درکار ہوتی ہے۔میرے اشعار موصوف کی نظرِ التفات کے منتظر رہتے ہیں۔ان کی اعلٰی ظرفی اور ذرہ نوازی ہے کہ اپنی بےحد مصروفیات کے باوجود میرے کلام کی اصلاح کے لیے اپنا قیمتی وقت دیتے ہیں۔

    ‘نعتیہ مجموعہ ‘ثناۓ محمدﷺ


    ان کی کتاب میں مجھے جگہ جگہ تلمیحات نظر آٸی ہیں ان کی شاعری میں سلاست اور بلاغت دونوں بدرجہ اتم موجود ہیں ان کی کتاب سے کچھ اشعار کا چناو پیشِ خدمت ہے ملاحظہ فرماٸیے:۔
    خدا نے بناۓ جہاں ہیں یہ سارے
    اُسی کی ہیں قدرت کے سارے نظارے
    ثناۓ محمدﷺ کیےجا کیےجا
    نبیﷺ کی محبت میں ہرپل جیے جا
    قمر اترا سلامی کو
    ستارے بھی اتر آئے
    بلائیں گر مرے آقاﷺ
    زیارت کو شجر آئے
    چلیں جب دھوپ میں آقاﷺ
    تو بادل سایہ بن جائے
    شجر کو بلایا ہے قدموں میں اپنے
    قمر کو بھی دو لخت کر کے دکھایا
    خوشی ہے حبیبِ ﷺ خدا آ گئے ہیں
    جہاں میں مرے دلربا آ گئے ہیں
    دل، نبی ﷺ کی عطا کی باتیں کر
    چل درِ مصطفٰی ﷺ کی باتیں کر
    کرم سے تو اپنے اسے بھی جگادے
    گھرانہ ہے جن کا جہاں میں مثالی
    وہ نبیوں کا سلطاں مدینےکاوالی
    وہ دن عید کا ہو گا مظہر قسم سے
    کہ جس دن انہیں میں نے مدحت سنا لی
    جو عرشِ بریں ہے وہ سدرہ سے اوپر
    براقِ نبی ﷺ لے گیا ہے وہاں پر

    مجھے مظہر علی کھٹڑ نے اپنا نعتیہ مجموعہ عنایت کیا جس کے لیے میں ساری زندگی ان کا احسان مند رہوں گا اور ان کے لیے دعا گو ہوں کہ ۔اللہ ﷻ ان کے علم ،حلم، قلم میں روانی و برکت عطا فرماۓ ۔آمین یا رب العالمین ﷻ

    مولانا پیر سید مختار گیلانی قادری

    مولانا پیر سید مختار گیلانی قادری
    آستانہ عالیہ ایراڑہ شریف ،باغ آزاد کشمیر

  • رئیس احمد کمار کا افسانہ “عمرہ”

    رئیس احمد کمار کا افسانہ "عمرہ”

    رئیس احمد کمار کا افسانہ "عمرہ”: فنی و فکری مطالعہ

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    کشمیری ادیب رئیس احمد کمار کا افسانہ "عمرہ” ایک مختصر افسانہ ہے جس میں غلام خان کے پُرجوش سفر کی عکاسی کی گئی ہے، جو کسی زمانے میں ایک بہت ہی امیر آدمی تھا لیکن اب وہ اپنی مال و دولت کھونے اور اپنی شدید بیمار ماں کی دیکھ بھال کرنے کے بعد غربت کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے۔ اس کی مایوسی اسے خوشحال پوش کالونی میں بھیک مانگنے اور مدد لینے کے لیے لے جاتی ہے جہاں اسے مسترد ہونے اور انکار کے عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے بالآخر وہ مایوسی کا شکار ہوکر واپس آ جاتا ہے۔
    افسانے کا مرکزی تھیم معاشرتی بے حسی اور دولت اور بدحالی کے بالکل تضاد کے گرد گھومتا ہے۔ غلام خان کی حالتِ زار معاشرے میں پسماندہ لوگوں کو درپیش تلخ حقیقتوں کی نشاندہی کرتی ہے جو ہمدردی، مدد، بھیک اور سماجی ذمہ داری کے موضوعات کو اجاگر کرتی ہے۔
    افسانہ "عمرہ” کی ساخت اور تھیم کا فنی و فکری جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بیانیہ کا ڈھانچہ پوش کالونی کی عیش و آرام کی واضح وضاحتوں کے ذریعے ایک زبردست کہانی بناتا ہے، جس میں سخت تقسیم پر زور دیا جاتا ہے۔ یہ واضح تضاد غلام خان کی جدوجہد کے لیے ایک طاقتور پس منظر کے طور پر کام کرتا ہے، جو سماجی عدم مساوات کے مرکزی موضوع کو گہرائی فراہم کرتا ہے۔
    رئیس احمد کمار نے بڑی ہنرمندی اور خوبصورتی سے استعاروں کا بھی استعمال کیا ہے، مصنف پوش کالونی کو ایک ایسی جگہ کے طور پر پیش کرتا ہے جس میں "چار مزید چاند لگتے ہیں”، جو اس کی خوشحالی کی علامت ہے۔ غلام خان کی ماضی کی خوشحالی اور موجودہ حالت زار کا جوڑ زندگی کی غیر یقینی صورتحال کا ایک طاقتور استعارہ ہے۔
    تکنیکی نقطہ نظر دیکھنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رئیس احمد کمار کا افسانے میں زبان کا استعمال فکرانگیز ہے، جس سے کرداروں اور ترتیبات کی واضح تصویر کشی ہوتی ہے۔ پیسنگ اچھی طرح سے تیار کی گئی ہے، یہ کہانی قاری کو غلام خان کے سفر میں غرق کرتی ہے اور ہمدردی کو جنم دیتی ہے۔ بیانیہ مرکزی کردار کے جذباتی انتشار کو مؤثر طریقے سے پیش کرتا ہے۔


    افسانے کا فکری جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بیانیہ معاشرتی حرکیات، دولت کی تقسیم اور مراعات یافتہ طبقوں کی اخلاقی ذمہ داریوں پر فکری عکاسی کا اشارہ کرتا ہے۔ یہ قارئین کو معاشرتی بے حسی کے نتائج اور ضرورت مندوں کے ساتھ ہمدردی کی ضرورت پر غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
    اسلوب کے لحاظ سے بھی افسانہ اچھا ہے، رئیس احمد کمار کے اسلوب میں ایک پُرجوش سادگی بھی نظر آرہی ہے جو ہر عمر کے قارئین کو یکسان طور پر پسند ہے۔ مختصر اور طاقتور زبان کے استعمال سے کہانی کے جذباتی اثر کو بڑھایا گیا ہے، کرداروں اور ان کی جدوجہد میں گہرائی کا اضافہ ہوتا ہے۔
    رئیس احمد کمار کا افسانہ "عمرہ” انسانی کمزوری اور سماجی بے راہ روی کی اپنی باریک بینی سے تلاش کے لیے نمایاں ہے۔ کہانی کا انسانی حالت کا تجزیہ اور مشکلات کے خلاف اس کا ردعمل ایک آئینہ کا کام کرتا ہے جو معاشرتی اقدار اور خامیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
    تنقیدی نقطہ نظر سے جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگرچہ داستان میں غلام خان کی حالت زار کی جذباتی گہرائی کو مؤثر طریقے سے پیش کیا گیا ہے، لیکن کچھ قارئین کو اس کا اختتام اچانک معلوم ہو سکتا ہے۔ غلام خان کے مسترد ہونے اور ٹھکرانے کے بعد کی مزید باریک بینی سے تحقیق بیان میں مزید گہرائی کا اضافہ کر سکتی تھی۔
    افسانہ”عمرہ” سماجی مسائل کو حل کرنے والے ادب میں ایک قابل قدر شراکت کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔ مزید تحقیق غربت اور بیماری کے بارے میں سماجی ردعمل کو تلاش کر سکتی ہے، جو کہانی کے وسیع تر مضمرات کے بارے میں بصیرت پیش کرتی ہے۔
    کہانی کی طاقت اس کی سماجی تعمیرات پر سوچ کو بھڑکانے کی صلاحیت میں پنہاں ہے۔ ایک تفصیلی تجزیہ غلام خان جیسے افراد پر مسترد ہونے یا ٹھکرانے کے نفسیاتی اثرات اور معاشرے پر بڑے پیمانے پر ممکنہ لہروں کے اثرات کو تلاش کر سکتا ہے۔
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ رئیس احمد کمار کا افسانہ "عمرہ” سماجی تفاوت کی ایک پُرجوش تحقیق پر مبنی بہترین کہانی ہے، جس میں قارئین تک ایک طاقتور پیغام پہنچانے کے لیے بھرپور ادبی آلات استعمال کیے گئے ہیں۔ بیانیہ کی جذباتی گونج اور فکر انگیز موضوعات اسے انسانی ہمدردی اور معاشرتی ذمہ داری کی گہرائی سے سمجھنے کے خواہاں افراد کے لیے ایک زبردست اور قابل مطالعہ افسانہ بناتے ہیں۔

    Title Image by Amy from Pixabay

  • مجھ کو آتا نہیں محرومِ تمنا ہونا

    مجھ کو آتا نہیں محرومِ تمنا ہونا

    مجھ کو آتا نہیں محرومِ تمنا ہونا

    ٢١ اکتوبر ٢٠١٩ءکا دن،میں گورنمنٹ کالج، میر پورہ میں نو تعینات تھا۔چھٹی کے وقت پرنسپل صاحب کے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک دراز قد ،کلین شیو، خوش پوش نوجوان ہاتھ میں لیپ ٹاپ کا بیگ تھامے دفتر میں وارد ہوا۔ میرے لیے وہ بالکل اجنبی تھا لہذا واجبی سا سلام اور مصافحہ کرنے کے بعد وہ صوفے پر ہی تشریف فرما ہو گیا۔میں نے بھی کوئی خاص التفات نہ کی۔ بعد ازاں جب ہم ہاسٹل کی طرف آئے تو وہ بھی ہمارے ساتھ ہی آگیا۔ کمرے میں سامان وغیرہ رکھا تب میرے ساتھی ملک مبشر احمد نے اس ہنس مکھ نوجوان کا تعارف کچھ یوں کروایا: "یہ ثاقب صاحب ہیں میرے ایم فل کے ہم جماعت اور مڈل اسکول میرپورہ میں جونیئر سائنس مدرس آبائی تعلق کیل سے ہے اور رہائشی مظفرآباد کے ہیں۔”
    ثاقب اقبال سے یہ پہلا تعارف تھا۔ ثاقب ہمارے ساتھ ہاسٹل میں ہی قیام پذیر تھا اس لیے بہت قریب رہنے کا موقع ملا۔ سویرے اسکول جانا اور چھٹی کے بعد واپس آنا، کھانا کھا کر اور نماز ادا کرنے کے بعد دوبارہ اسکول کی طرف جانا اور تدریسی فرائض سر انجام دینا ثاقب کے معمولات میں تھا۔ ثاقب اقبال مغل آزاد کشمیر کے ضلع نیلم کی تحصیل شاردہ کے گاؤں کیل میں ٦ اگست ١٩٨٩ء کو محمد اقبال مغل کے گھر تولد ہوئے۔ کیل نکہ کے مسجد اسکول سے پرائمری تک کی تعلیم حاصل کی۔ گورنمنٹ مڈل اسکول کیل سے آٹھویں جماعت میں کام یابی حاصل کی۔ بوائز انٹر کالج کیل سے دسویں اور بعد ازاں انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں کام یابی سمیٹی۔ ثاقب اقبال کے سنجیدہ مزاج اور تابع فرماں ہونے کی بنا پر اساتذہ کو ہمیشہ عزیز رہے۔ بشیر الدین چغتائی صاحب جو ثاقب کے کالج میں استاد رہے ان کے شرافت اور تابع فرمانی کے گواہ ہیں۔ ثاقب پڑھائی میں زیادہ قابل ذکر نہ تھا مگر محنت سے جی نہ چرانے والے یہ طالب علم کام یابی کے زینے طے کرتا چلا گیا۔

    ثاقب اقبال

مجھ کو آتا نہیں محرومِ تمنا ہونا
    ثاقب اقبال


    ٢٠٠٧ء میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کرنے کے بعد شہرِ اقتدار مظفراباد کا رخ کیا۔گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج،مظفراباد میں داخلہ لیا اور ٢٠٠٩ء میں گریجویشن کی تعلیم مکمل کر لی۔ ایک سال کے وقفے کے بعد آزاد جموں کشمیر یونی ورسٹی میں کمپیوٹر سائنسز کی ڈگری کے لیے جت گئے اور ٢٠١٢ء میں ایم ایس سی کمپیوٹر سائنسز مکمل کر لی۔ سفر ابھی مکمل نہ ہوا اور تشنگی کم نہ ہوئی کہ اسی ادارے سے ماسٹر آف فلاسفی بھی ٢٠١٥ء میں کام یابی سے مکمل کر لی۔ایم فل کی تکمیل کے بعد باقاعدہ عملی زندگی میں قدم رکھا اور ایک سال تک جامعہ آزاد جموں کشمیر کے نیلم کیمپس میں بہ طور جز وقتی لیکچررخدمات سر انجام دیں۔ ٢٠١٧ء میں پاکستان کے بہترین تعلیمی ادارے قائد اعظم یونی ورسٹی، اسلام اباد میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لیے میدان میں اترے۔ ٢٠١٨ء میں آزاد کشمیر میں اساتذہ کی تعیناتی کے لیے این ٹی ایس کا نفاذ ہوا۔ اس امتحان میں شامل ہو کر اپنی محنتِ شاقہ کی بدولت یہاں بھی کام یابی سمیٹی۔ اکتوبر ٢٠١٨ء میں محکمہ تعلیم آزاد کشمیر میں جونیئرمدرس کی حیثیت سے نئے سفر کی شروعات کیں۔گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول، میرپورہ میں ابتدائی تعیناتی ہوئی۔ ثاقب اقبال نے اپنی قابلیت کی بدولت طلبہ پر اس قدر محنت کی کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار ایسا دیکھا کہ ایک نوجوان اپنے پیشے کے ساتھ اتنا مخلص ہے۔ چھٹی کے بعد شام کے اوقات میں بھی طلبہ کو بلانا اور ان پر جی جان سے محنت کرنا ثاقب کی اضافی خوبیوں میں شامل رہا۔ میرا اور ثاقب اقبال کا ایک ساتھ جتنا بھی وقت گزرا وہ اتنا شان دار گزرا کہ بیان سے باہر ہے۔ہوسٹل میں کھانا بنانے کا معاملہ ہو،چائے تیار کرنی ہو، چشمے سے پانی لانے کی بات ہو، چہل قدمی کرنے جانے کا وقت ہو یا پھر یا پھر کھیل کا موقع ہر دم اس شخص کو مستعدی سے کام کرتے دیکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم پر بھی مکمل توجہ،اسکول کے فلاحی اور ترقیاتی کاموں میں اور طلبہ کی کام یابی کے لیے ثاقب کو ہمیشہ فکر مند دیکھا۔ اہلِ محلہ کی مشکلات کو حل کرنا ثاقب کی سرشت میں شامل تھا۔ جیسا کہ جمعے کا وہ دن جب ہم لوگ مسجد میں نماز جمعہ ادا کر کے واپس آئے۔ ثاقب اور ملک مبشر خریداری کے لیے بازار کی طرف ہو لیے جب کہ میں اور بشیر الدین صاحب ہاسٹل کی طرف آگئے۔ کافی وقت گزر گیا جب ان کی واپسی نہ ہوئی تو باہر نکل کر دیکھا دور محلے کے ایک گھر میں آگ بھڑک رہی تھی۔ آگ دیکھ کر میں نے کہا کہ ضرور ثاقب اور مبشر ادھر چلے گئے ہیں بشیر صاحب نے کہا ایسا نہیں ہو گا۔ میں بشیر صاحب کے ہم راہ جب ادھر کا رخ کیا تو دونوں کو اس جلتے ہوئے گھر میں آگ بجھانے والوں کی صف میں پایا۔یہ ہم دردی اور خدا ترسی کا ایک واقعہ ہے۔اس طرح کہ کئی واقعات کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ محلے سے کوئی آدمی آدھی رات کو آجاتا کہ فلاں جگہ آن لائن داخلہ بھیجنا ہے یا پرنٹ نکالنا ہے۔ ثاقب خندہ پیشانی سے اس کا کام کرنے نکل پڑتا اور اپنا لیپ ٹاپ کھول کر اس کی مشکل کا حل تلاش کرتا۔حتیٰ کہ اس کے چلے جانے کے بعد بھی جو کبھی کالج میں کمپوٹر کے کسی مسئلے میں الجھتے تو ثاقب اقبال یا ملک مبشر ہی ہوتے جو فون پر اس مسئلے کو حل کرتے۔ ثاقب اقبال وہ سیمابی صفت انسان ہے جو ستاروں سے اگے جہاں کی جستجو میں لگا رہتا ہے۔ اس کے مسلک میں یہ بات نہیں کہ بنا سعی کے کچھ حاصل ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ اپنے بہتر مستقبل کی تلاش میں وہ ہمہ دم سرگرداں نظر آیا۔کم و بیش آٹھ مرتبہ آزاد جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن میں شمولیت کی درخواست دی مگر شومئی قسمت کے کچھ عناصر نے پبلک سروس کمیشن کے امتحانات پر عدالت سے حکم امتناعی جاری کروا دیا۔ اس طرح ثاقب دو مرتبہ شامل امتحان ہو کر بالترتیب ٥٦ اور ٧٣ نمبرز لینے کے باوجود منتخب نہ ہو سکا۔ وجہ اس اسامی پر حکم امتناعی۔یہی نہیں بلکہ منزل کی تلاش میں آزاد کشمیر کی تین بڑی جامعات باغ، پونچھ اور کوٹلی میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے کے باوجود سفارش نہ ہونے کی بنا پر نظر انداز ہونے والا یہ نوجوان اتنا با ہمت رہا کہ اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ لیکچرر کے لیے ٢٠٢٢ء میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے تحت ہونے والے امتحانات میں شمولیت کے لیے درخواست دی۔ آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع سے کئی لوگوں نے اس دوڑ میں ہنر آزمایا لیکن صرف ایک امیدوار کا انتخاب عمل میں آیا جو ثاقب اقبال تھا۔ ہمارے ایک ساتھی نے جب یہ سنا کہ ثاقب خوش قسمت رہا کہ اس کا تقرر ہوا تو میرا یہ جواب تھا کہ بخت سے بڑھ کر اس کی شبانہ روز محنت کا یہ ثمر ہے کہ اس نے ہمت نہ ہاری اور اپنی لگن اور کوشش کو کبھی ماند نہ پڑنے دیا۔ثاقب اقبال کی محنت کی بابت اس کے ہم جماعت ملک مبشر احمد کا کہنا ہے کہ وہ جماعت میں بھی نہایت سنجیدگی کے ساتھ محنت کرتا۔ کبھی کسی پرچے یا مشق کے معاملے میں اس نے غفلت نہ برتی۔ گورنمنٹ مڈل اسکول،میر پورہ میں اس کی سرگرمیاں دیکھ کر بھی مجھے اس کے محنتی ہونے کا ٹھیک طور پہ اندازہ ہو گیا۔ امتحانی پرچے بنانا، کمپوز کرنا اور پھر ان کو بہتر انداز میں طلبہ کو دینا، داخلوں کے لیے اشتہار بنوانا حتیٰ کہ اسکول کے ہر ہر معاملے میں اس کی دل چسپی اس کے محنتی ہونے کی غماز ٹھہری۔ثاقب نے زندگی میں ہارنا نہیں سیکھا اور اس کی یہی ادا مجھے بہت بھائی۔ میں نے اپنے تئیں ثاقب کی شخصیت پر یہ چند سطور قلم بند کیں۔ دعا گو ہوں کہ ڈاکٹر ثاقب اقبال لیکچرر کے عہدے سے ترقیاب ہو کر مزید آگے بڑھے اور زندگی میں ہمیشہ کام یابیاں سمیٹے آمین۔

    احمد ندیم قاسمی مرحوم کا یہ شعر ثاقب کے حوصلے کی نذر:


    قعرِ دریا میں بھی آ نکلے گی سورج کی کرن
    مجھ کو آتا نہیں محرومِ تمنا ہونا

    Title Image by Leszek Stępień from Pixabay

  • محمد نعیم خان کی “حمدیہ شاعری” کا تجزیاتی مطالعہ

    محمد نعیم خان کی "حمدیہ شاعری” کا تجزیاتی مطالعہ

    محمد نعیم خان کی "حمدیہ شاعری” کا تجزیاتی مطالعہ

    محمد نعیم خان کا تعلق اننت ناگ کشمیر سے ہے آپ کی "حمدیہ شاعری” شکرگزاری، دعا اور مناجات کے موضوعات پر مبنی ہے اور حمد رب جلیل میں انبیاء اور ان کی آزمائشوں کی کہانیوں خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔

    "آپ کی حمدیہ شاعری” کا مرکزی موضوع اللہ رب العزت کے لیے شکرگزاری اور حمد کے اظہار کے گرد گھومتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ اس خیال پر زور دیتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔محمد نعیم خان کی حمدیہ شاعری قارئین پر زور دیتی ہے کہ وہ انسانیت کی قدر کریں اور الله کی طرف سے عطا کی گئی نعمتوں پر غور و فکر کریں اور الله تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ یہ حمدیہ نظم انسانیت کی رہنمائی میں انبیاء کے اہم کردار کو اجاگر کرتی ہے اور ان کے لیے عقیدت اور محبت کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

    محمد نعیم خان کی “حمدیہ شاعری” کا تجزیاتی مطالعہ
    محمد نعیم خان

    محمد نعیم خان کی "حمدیہ شاعری” کو قطعاتی شکل کی ایک سیریز کے طور پر تشکیل دیا گیا ہے، ہر ایک میں گہرے افکار و خیالات کی عکاسی اور تعریفیں شامل ہیں۔ حمدیہ کلام کا مستقل ڈھانچہ بار بار پڑھنے کی اجازت دیتا ہے۔ تھیمز بغیر کسی رکاوٹ کے ڈھانچے میں بہترین ترتیب سے بنے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، حمدیہ اشعار ایک مربوط بیانیہ تخلیق کرتے ہیں جو خدا کی منفرد حیثیت کے اعتراف سے لے کر مختلف پیغمبروں کی شراکتوں اور چیلنجوں کے اعتراف تک خوبصورت اسلوب میں بیان کیے گئے ہیں۔

    شاعر اپنے پیغام کو مؤثر طریقے سے پہنچانے کے لیے کئی ادبی آلات کا بھی استعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ استعمال ہونے والے نمایاں آلات میں سے ایک تکرار لفظی بھی ہے جو خاص طور پر "اے قاسم عطایا” اور "اسے اچھی خدمت دو” جیسے جملے کی تکرار شامل ہے۔ یہ تکرار شاعری میں زور اور تال کا اضافہ کرتی ہے اور موضوعات اور پیغامات کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

    مزید برآں تمام شاعری میں علامتیت موجود ہے۔ نوح، نمرود، سلیمان، اور ابن مریم (یسوع) جیسی تاریخی شخصیات کا ذکر الہی مداخلت، فضل اور رہنمائی کی علامتی نمائندگی کرتا ہے۔ استعاراتی زبان کا استعمال، جیسا کہ "تاروں کو جلایا” اور "طوفان میں ڈوب گیا”، بیانیہ میں گہرائی اور واضح منظر کشی کا اضافہ کرتا ہے۔

    "حمدیہ شاعری” محمد نعیم خان کے گہرے روحانی تعلق اور الٰہی قدرت کے لیے تعظیم کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ خدا کے احسان، انبیاء کی طرف سے فراہم کردہ رہنمائی، اور مصیبت پر ایمان کی حتمی فتح کے لیے اس کی شکرگزاری کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر کے الفاظ ایمان کی تبدیلی کی طاقت اور زندگی کے ہر پہلو میں الہی موجودگی کو تسلیم کرنے کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں۔

    حمدیہ نظم اسلامی روایت کے اندر اتحاد اور تسلسل کا احساس دلاتی ہے، کیونکہ یہ مختلف پیغمبروں اور ان کے تجربات کو جوڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، انسانی نجات کی عظیم داستان میں ان کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ محمد نعیم خان کی "حمدیہ شاعری” ایک بہترین دعائیہ شاعری ہے جس میں ساختی نظم، ادبی آلات، اور گہرے موضوعاتی کھوج کو یکجا کیا گیا ہے۔ یہ اشعار قارئین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے ساتھ اپنے تعلق پر غور کریں، اظہار تشکر کریں، اور انبیاء کی کہانیوں میں سے سبق حاصل کریں۔ یہ شاعری ایمان کی لازوال قوت اور فصیح و بلیغ اشعار کے ذریعے عقیدت کے اظہار کی خوبصورتی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    Title Image by Ashish Bogawat from Pixabay

  • ناول “دُھندلے عکس”

    ناول "دُھندلے عکس”

    ناول "دُھندلے عکس”

    مُصنّفہ؛ کرن عباس کرن
    اشاعت: اکتوبر ۲۰۲۲
    مُبصرہ؛ انگبین عُروج۔
    کراچی،پاکستان۔

    مادّیت پرستی اور بھاگ دوڑ میں صَرف ہوتی بیشتر زندگی کہ جہاں ہر ذی نفس دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں اور دنیا کی رنگینیوں کو حاصل کرنے کی جستجو میں خود کو ہلکان کرتا دکھائی دیتا ہے،وہیں کچھ لوگ آج بھی بظاہر دنیا کی دوڑ میں شامل ہوتے بھی باطنی طور پر فقیری کا لبادہ اوڑھے روحانی دنیا کے مکیں ہیں۔جن کی ارواح محض خالق و مخلوق کی محبت میں غرق ہیں،جو کسی اور روپ میں دنیا میں رہتے ہوۓ بھی اپنا اصلی روپ،اپنا باطن دنیا سے پوشیدہ رکھتے ہیں۔
    چاند چمکتا ہے تو اس کی روشنی کیسی چمکدار معلوم ہوتی ہے،چاندنی کی ٹھنڈک کیسا لُطف دیتی ہے لیکن یہ روشنی،چاندنی خود چاند سورج سے مستعار لیتا ہے جبکہ سورج سدا آگ اگلتا،جھلساتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔عین اسی طرح خالقِ کائنات کے کچھ مقرب بندے اپنی ذات کو حقیقی دنیا کی وحشتوں اور ویرانیوں کے صحرا میں تمام عمر جُھلسا کر،مخلوق کے لیے باعثِ صَد محبت اور منزل کے لیے زادِ رہ ہوتے ہیں۔
    آذاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی نوجوان طبقے کی نمائندہ اُردو ادب میں نووارد ادیبہ،مُصنّفہ و افسانہ نگار محترمہ کرن عباس کرن صاحبہ جو ایک ایم فِل اسکالر اور خوبصورت اسلوب و بیان رکھنے والی شخصیت ہونے کے ساتھ اپنے دل میں روحانی دنیا آباد رکھتی ہیں،ان کا دل تصوّف کے وجد میں دھڑکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
    ۲۰۱۸ میں مُصنفہ کا افسانوی مجموعہ "گونگے خیالات کا ماتم ” شائع ہوا۔تعلمی مصروفیات سے فراغت کے بعد ۲۰۲۲ میں کرن صاحبہ نے قارئین کی پذیرائی اور مقبولیت کے سبب سنڈے میگزین میں شائع ہونے والے اپنے قسط وار ناول کو مکمل کتاب کی شکل میں شائع کروایا،جس کی خوبصورت طباعت و اشاعت کا سہرا اردو ادب کی خدمت میُ کوشاں ادارۀ پریس فار پیس فاؤنڈیشن کو جاتا ہے۔

    ناول “دُھندلے عکس”


    ناول کا نام "دھندلے عکس” اپنے اندر بے پناہ وسعت و گہرائی رکھتا ہے۔سرورق میں نظر آتا بکھرتے رنگوں میں دُھندلا سا عکس آپ کو متحیر و متجسس کرتا ہے۔مُصنفہ کا کہنا ہے کہ یہ ناول لکھتے وقت انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا اور کیوں لکھ رہی ہیں کیونکہ کبھی کبھی خود شاہکار تخلیق کرنے والے کو اندازہ نہیں ہوتا کہ خالقِ کائنات اُس سے کس طرح یہ کام لینے والا ہے۔
    میرا اپنا مزاج تھوڑا مختلف ہے،میں ناولوں پر افسانوی مجموعوں،سفر ناموں اور مضامین کے مطالعہ کو فوقیت دیتی ہوں۔جس کی ایک وجہ فی زمانہ روایتی ناول نگاری اور کم و بیش ایک جیسے موضوعات کی تکرار ہے،نیا پن اور جِدّت کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔سو جب یہ ناول "دھندلے عکس” مجھے موصول ہوا تو اپنے مزاج کے سبب ناول کا مطالعہ مجھے گِراں و بوجھل محسوس ہوا اور چاہ کر بھی کئی دنوں تک میں اس کے مطالعے کے لیے وقت نہ نکال پائی۔
    ناول کی عرق ریزی کے آغاز پر ایک وقت ایسا بھی آیا جب ناول کے اسلوب میں جابجا تشبیہات و استعاروں کی بُنت کو سمجھنے میں کافی مشکل پیش آئی۔چونکہ میں خود ادب سیکھنے کے ابتدائی مراحل میں ہوں لہٰذا میں نے محسوس کیا کہ یہ ناول ایک ادنٰی سی طالبہ کے ذوق سے بہت اعلٰی پاۓ کا ہے۔
    مُصنفہ نے ناول کے پلاٹ کو تین مختلف ادوار میں تقسیم کیا ہے،جس کا مقصد ناول پڑھتے ہوۓ آپ پر ازخود واضح ہوتا جاۓ گا۔
    ناول کا پہلا دور جسے اضطراب و بے قراری کا دور کہنا بے جا نہ ہو گا،ناول کے کرداروں رسیم اور اسراء کے وجود میں پلتی وحشتوں کے مثل قاری کو بھی مضطرب کیے دیتا ہے جبکہ نایاب کا شوخ و چنچل،رنگوں،پھولوں اور تتلیوں سے محبت کرنے والا کردار شگفتگی کا احساس بھی دلاتا ہے۔
    مطالعے کے دوران کئی مرتبہ دل و دماغ اور روح کی بہترین ترجمانی،تشبیہات و تمثیلات اور ناول نگاری کی بیشتر تکنیک پر مُصّنفہ کی مضبوط گرفت اور زبان و بیان پر مکمل عبور دیکھتے ہوۓ میرے لیے کرن عباس صاحبہ کی کم عمری اور مُصنّفہ کی یہ منفرد تخلیق معمّہ بنی رہی۔عام طور پر نوجوان لکھاریوں کا ایسے اچھوتے موضوع پر لکھنا تو دور سوچنا بھی شاید محال ہوتا ہے۔
    تمثیل نگاری کا نمونہ ملاحظہ فرمائیے؛
    "روح کے بے کراں دشت میں دیوانگی کا برہنہ پا رقص اب بھی جاری ہے۔اندھیرے اپنی ہی تاریکی سے خوف زدہ ہو کر روشنیوں سے اپنے وجود کے خاتمے کی دعا کرتے ہیں۔یہی حال تاریک وحشت کے زندانوں میں قید تڑپتی بلکتی روحوں کا بھی ہے۔”
    مصنفہ ناول کے ہر کردار کو کسی نہ کسی تخلیقی صلاحیت سے آراستہ کر کے دراصل کائنات کے تخلیق کار کی تخلیق کی جھلک کرداروں کے فن میں خالق کی وَصف کی صورت دیکھتی ہیں۔ایک موقع پر فَن کی تعریف میں لکھتی ہیں؛
    "فن،فن کار کے انتہا کی پیداوار ہے،کوئی بھی فن یوں ہی وجود میں نہیں آ جاتا۔خیال کے پُرخار صحرا میں برہنہ پا تپتی ریت یہ قدم رکھ کر جھلسنا پڑتا ہے۔دیوانگی کی دیوار پر ٹھوکریں لگا لگا کر دنیا سے بے گانہ ہونا پڑتا ہے۔فن،ضبط کی تاریک کوٹھری میں قید ہو کر بے زبان جذبات کو زبان دے کر تخلیق پاتا ہے۔”
    ناول کا دوسرا دور مرکزیت و یکتائی کے محور کے گِرد گردش کرتا ہے،اس دور کی ورق گردانی کرتے ہوۓ یہ ناول آہستہ آہستہ کیفیت بن کر مُجھ پر طاری ہونے لگا اور مصنفہ پر الہامی کیفیت کا گمان سا ہونے لگا کہ ایک نوجوان ناول نگار روایتی انداز و اسلوب سے ہٹ کر بے شک لکھ سکتا ہے لیکن اپنی ذات کے اندر روح میں پنہاں خاموشی،دِل و دماغ کے سماعتوں کو چیرتے شور کے باوجود کیسے سُن سکتا ہے؟؟
    روحانی تربیت،روح کی پرتوں کے اندر جھانک کر اپنی ذات کے ‘دھندلے عکس’ پر جمی دُھند کی دبیز تہہ کو مِٹا لینے کا راز پا لینا ایک زندگی میں شاید ہم جیسے دل و دماغ کی حکمرانی میں رعایا بن کر چلنے والوں کے لیے ممکن نہیں ہوتا پھر سوچنے کی بات ہے کہ مُصنفہ روحانی و الوہی تربیت کے کس درجے پر فائز ہو کر ظاہر سے باطن کے طویل تر سفر پر نکل کر حقیقی زندگی کی وحشتوں،ویرانیوں کے کانٹوں بھرے دشت سے دامن تار تار اور روح زخمی ہونے کے باوجود ثابت قدمی اور استقامت سے نہ صرف کرداروں کی ذات کا دھندلا عکس روح کے شفاف آئینے میں ڈھونڈ کر اِس دھند اور گدلے پن کو "محبت” کے پانی سے وضو کروایا بلکہ طلب کی آگ میں ان کی روحوں کو جُھلسا کر کندن بنانے میں بھی کامیاب رہیں۔
    ہم بنی نوع انسان کائنات کے اسرار و رموز جاننے کی ہمہ وقت جستجو کرتے ہیں لیکن خالق کی تخلیق کردہ سب سے بہترین تخلیق "انسان” یعنی خود اپنی ذات کا سفر شروع کرنے سے خوفزدہ رہتے ہیں۔یہی خوف،اندیشے اور واہمے ہمیں اپنی ذات کا دھندلا عکس ڈھونڈنے سے روکتے ہیں۔دل و دماغ کی وضاحتیں اور دلائل سننے میں ساری عمر کی جمع پونجی لگا دیتے ہیں ہیں مگر اپنے اندر چھپے دُھندلے عکس کو نہ ڈھونڈ پاتے ہیں نہ ہی اس عکس کا دھندلا پن صاف کر کے اپنی روح کا راز جان پاتے ہیں۔
    مادیت پرستی اور نفسانی خواہشات کے پیچھے اندھادھند بھاگتے بھاگتے اپنے اندر کا انسان تو کہیں بہت دور روتا بلکتا چھوڑ آتے ہیں اور محض ایک روبوٹ بن کر مصنوعی زندگی گزار دیتے ہیں۔ہم اپنی روح میں جاری خامشی کا رقص نہ ہی دیکھ پاتے ہیں نہ ہی اس خامشی کی چیخیں ہمیں سنائی دیتی ہیں۔
    مُصنفہ نے عمدگی سے تشبیہات کی تکنیک کا بخوبی استعمال کرتے ہوۓ تخلیق کار کی تخلیق سے اس کی دیوانہ وار محبت و اُنسیت کے احساس کو دلائل سے بیان کیا ہے۔وہ لکھتی ہیں،
    "ہم اپنی شخصیت کے پرخچے اڑاتے ہیں،اپنے آپ کو تباہ حال کر لیتے ہیں،خیالات کا نوالہ بنتے ہیں،تب جا کر کوئی تخلیق سامنے آتی ہیں۔جیسے کوئی انسان اپنی اولاد فروخت نہیں کر سکتا ایسے ہی میں اپنی کسی تصویر کو محض پیسے کے عوض کسی کو نہیں سونپ سکتا۔”
    خالقِ کائنات نے اپنی اشرف ترین تخلیق کے بارے میں بھی انہی احساسات کی نشاندہی فرمائی ہے،جب وہ کہتا ہے کہ؛
    "میں اپنے بندوں سے ستّر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔”
    یوں کائنات کے سب سے بڑے تخلیق کار نے اپنے چنیدہ بندوں میں اپنی تخلیق کے چند اوصاف کی جھلک ودیعت فرماتا ہے۔مُصنفہ کے قلم سے نکلے الفاظ، خیالات و تصورات میں بھی تخلیق کار نے تخلیق کا خاص وَصف ودیعت فرمایا ہے،جس کی جھلک ان کی تحریر کی ہر سطر میں واضح نظر آتی ہے۔
    کوئی مصوّر ہو،شاعر،لکھاری یا کوئی نغمہ ساز،وہ اپنی تخلیق کی انتہا کو اسی وقت پہنچ سکتا ہے جب اس کے فن کو مرکزیت کی معراج مل جاۓ۔جب اس کے فن کو یکتائی اور اپنا گردشِ کا دائرہ محور کی صورت حاصل ہو جاۓ۔
    انسان پر جب آگہی کے دَر کھلتے ہیں،وہ شعور کی دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اس پر ایسی ایسی حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اس سفرِ آگہی میں ثابت قدم رہنا اس کا کڑا امتحان بن جاتا ہے،عموماً طلب کی پُرخار راہ میں طالب کے قدم لڑکھڑا جاتے ہیں۔
    کرن عباس صاحبہ نے ناول کے تیسرے اور آخری دور میں ناول کے کرداروں کو اضطراب سے یکتائی و مرکز کے مل جانے کے بعد روح کو قرار کی منزل تک کا سفر طے کرتے دکھایا ہے۔
    طالب کی طلب اسے مطلوب تک کیسے پہنچاتی ہے،روحانیت کی طلب میں ترکِ دنیا پر آمادہ روحانی دنیا کے مسافروں کو کیسے دنیا کی حقیقی زندگی میں رہ کر خالق کی مخلوق سے محبت کو اپنا شعار بنا لینا ہی دراصل خُدا سے ملاتا ہے کہ خدا اپنی ہر تخلیق کے دل میں محبت کی صورت ہی بستا ہے۔رومی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں؛
    "What you seek is seeking you”۔

    یعنی "طالب و مطلوب دونوں کو ہی ایک دوسرے کی تلاش ہوتی ہے۔”
    ضرورت ہے تو سچی تڑپ اور ذات کے دھندلے عکس کو ڈھونڈ کر اس دھندلاہٹ اور میل کچیل کو دور کرنے کی!!

    الغرض ناول کا پلاٹ مربوط اور بے جھول رہا،کہانی کی بُنت پر مُصنفہ کی گرفت مضبوط رہی۔تین ادوار پر مشتمل ہونے کے باوجود ہر کردار کو بے حد عمدگی سے نبھایا گیاہے، ہر کردار اپنے آپ میں مکمل نظر آتا ہے۔حتٰی کہ مصنفہ نے سولہویں صدی کی مصوّرہ "غادہ” کی روح کا جسم سے آذاد ہو کر وقت کا سفرطے کر کے اس زمانے میں رسیم کے کرب و اذیت کو مرکزیت اور قرار بخشتے ہوۓ پیش کیا ہے،میرے نزدیک دو زمانوں کا یہ تقابل و مِلاپ ناول نگاری کی مشکل ترین تکنیک ہے۔ناول میں شامل نایاب کے کردار کی موقع بر محل شاعری آذاد نظموں کی صورت بے حد خوبصورت تاثر پیش کرتی ہے اور شاعری کے دلداہ قارئین کے لیے بھی دلچسپی کا عنصر قائم کیے رکھتی ہے۔
    مصنفہ نے تشبیہات و استعاراتی ذریعے سے بے حد احسن طریقے سے ہر ایک منظر کو قلمبند کیا ہے۔رات کی تاریکی و وحشت،بہار کا موسم ہو یا خِزاں کا ذکر ہو،درد و غم کی لذت کو بیان کرنا ہو یا زندگی کی حقیقی تصویر کی منظر کشی ہو،آپ مصنفہ کی منظر کشی کے اچھوتے و منفرد بیان کی داد دئیے بِنا نہ رہ پائیں گے۔
    "سارے شہر میں قیامت کا شور بپا تھا لیکن اس گھر میں موت کی سی خاموشی چھائی تھی”۔

    میں یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ اس ناول کو جذب کی شدت اور روحانی کیفیت کے ساتھ پڑھنا اس کا حق ہے۔ناول کی عرق ریزی کے دوران آپ کے باطن کو روحانی تربیت کی سِمت حاصل ہو گی۔شعور و آگہی کے کے متعلق روح میں اٹھتے بنیادی سوالات کے جوابات کسی حد تک آپ کے اضطراب کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔
    نوجوان مُصنفہ کرن عباس کرن کے لیے اس خوبصورت تخلیق پر مبارکباد و نیک تمنائیں پیش کرتی ہوں۔دعا ہے کہ روحانیت کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھنے کے بعد پروردگار ان کے اس سفر کو دوام بخشے،زورِ قلم مزید بُلند ہو آمین۔

  • فلسطین پر علی شاہد ؔ دلکش کی شاعری

    فلسطین پر علی شاہد ؔ دلکش کی شاعری

    فلسطین پر علی شاہد ؔ دلکش کی شاعری کا اظہاریہ مع کھوار ترجمہ

     رحمت عزیز خان چترالی (ورلڈ ریکارڈ ہولڈر)

      علی شاہد ؔ دلکش ایک متحرک اور فعال شاعر و ادیب ہیں۔ عالمی ادبی سطح پر درونِ ہندوستان اور بیرون ملک دیگر ممالک کے ادبی پلیٹ فارم پر ان کی منظوم تخلیقات و نثر نگاری دیکھنے کو ملتی رہی ہیں۔‌ آپ کوچ بہار گورنمنٹ انجینئرنگ کالج ، مغربی بنگال، ہندوستان میں شعبہ کمپیوٹر سائنس میں درس و تدریس کے عہدے پر فائز ہیں۔ اردو زبان و ادب کا اولین آن لائن ماہنامہ ‘کائنات’ کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر ہیں۔ ماہنامہ طلوع ادب، پاکستان اور ہفت روزہ بروقت، کشمیر، انڈیا سے بھی لٹریری طور بر وابستہ ہیں۔ روزنامہ سری نگرِ جنگ، کشمیر کے مستقل کالم نگار بھی ہیں۔

      علی شاہد ؔ دلکش
      علی شاہد ؔ دلکش

    رواں مصائبِ فلسطین کے مدنظر  علی شاہد ؔ دلکش کی اردو شاعری میں فلسطینی عوام اور اس مقدس سرزمین سے یکجہتی اور عقیدت کا دلی اظہار قابلِ ذکر ہے۔ موضوعِ گفتگو علی دلکش کی یہ مرصع غزل ہے جو فلسطین اور اس سے متعلق و منسوب ہے‌۔ اہل فلسطین کی محبت میں لکھی متذکرہ غزل کا ہر شعر اپنے اندر ایک علیحدہ معنویت لیے ہوئے ہے۔ اشارے کنائے  اور استعارے کے ساتھ ساتھ شعریت بھی خوب بے۔ اس غزل کا ہر شعر الگ الگ معانی کو ظاہر کرتا ہے۔

    اس غزل کا آغاز بیت المقدس کے مکینوں کے لیے پرتپاک سلام اور خراج عقیدت کے ساتھ ہوتا ہے، جس میں روحانی تعلق کا احساس ہوتا ہے۔ علی شاہد ؔ  دلکش کی اس غزل میں فلسطینیوں کی معصومیت اور بہادری کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے جنہوں نے انصاف اور آزادی کی جدوجہد میں مشکلات اور قربانیاں برداشت کیں۔ اس نظم میں مسجد اقصیٰ کی اہمیت اور شہداء سے گہرے عقائد کا بھی اعتراف کیا گیا ہے۔

    غزل کا تخلیقی عنصر موضوعِ فلسطینی کاز اور مصیبت میں اس کے عوام کا ناقابل تسخیر جذبہ ہے۔ یہ فلسطینی آبادی کے انصاف اور آزادی کی تلاش اور ان کے ثقافتی اور روحانی ورثے کے تحفظ میں جدوجہد، قربانی اور اٹل ایمان کو اجاگر کرتا ہے۔

     مرصع غزل کو مربوط اور تسلسل کی ایک سیریز کے طور پر تشکیل دی گئی ہے۔ ہر ایک شعر میں سلام عقیدت ، توجہات اور ستائشی کلمات شامل ہیں۔ شاعر کا لہجہ فلسطینی عوام کے لیے احترام، تعریف اور گہری ہمدردی کا ہے۔ شاعر پوری غزل میں ایک مستقل تال اور بہاؤ کو برقرار رکھتا ہے، جس سے اس کے جذباتی اثرات اور غزل کے حسن میں اضافہ ہوتا ہے۔

     ‘فلسطین’ سے منسوب مرصع غزل میں مندرجہ ذیل ادبی آلات بھی استعمال کیے گئے ہیں:

    تصویر کشی: اس غزل میں فلسطین کی کچلی ہوئی معصومیت، عزم کے مضبوط درختوں اور ظلم کے طوفان میں جلتے چراغوں کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ یہ منظر کشی قارئین میں ایک طاقتور جذباتی ردعمل کو جنم دیتی ہیں۔

    علامتیت: بیت المقدس، مسجد اقصیٰ، اور قبلہ اول فلسطینی جدوجہد، ان کیب روحانی اہمیت اور ان کے اٹل عزم کی علامتی نمائندگی کرتے ہیں۔

    "قبلہ اول سے محبت کرنے والی روحوں کو سلام” جیسے جملے میں دہرائی جانے والی آوازوں کا استعمال متذکرہ غزل میں ایک سریلی کیفیت کا اضافہ کرتا ہے۔

    استعارہ: شہداء کا معصوم فرشتوں سے موازنہ اور فلسطین سے محبت کرنے والوں کے خون کو یقین کی علامت سے منظوم نگاری کی گہرائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ نِڈر ہو کر معرکہ آرائیاں کرنے والے فلسطین کے غازیوں اور جواں مردوں کو عزم آہن لیے مضبوط شجر کا استعارہ بھی لا جواب ہے۔

    مخصوص غزل کا آغاز بیت المقدس اور فلسطین کی گلیوں اور شہریوں کو سلام پیش کرتے ہوئے مزید احترام اور تعلق کا رشتہ قائم کرتے ہوئے ہوتا ہے۔ "پاک دامن / خالص پاؤں” کا حوالہ بے دردی سے کچلنے والے فلسطینی عوام کی معصومیت اور کمزوری کی علامت ہے جنہوں نے مصائب کا سامنا کیا ہے۔ شاعر نے فلسطینیوں کی نڈر مزاحمت کو خوب خراج تحسین پیش کرتا ہے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو  عمدہ خراج عقیدت بھی۔

    "عزم آہن لیے مضبوط درخت” نیز "ظلم کے طوفان میں جلتے چراغ” کی تصویر کشی انصاف کے حصول میں فلسطینیوں کے غیر متزلزل جذبے کی حقیقی و سچی نشاندہی کرتی ہے۔ قابل ذکر طور پر فلسطین سے محبت کرنے والوں کے خون کو ناحق بہائے جانے سے تعبیر کیا گیا ہے، جس میں لوگوں کو درپیش ناانصافیوں اور مصائب پر زور دیا گیا ہے۔

    فلسطین پر علی شاہد ؔ دلکش کی شاعری
    Image by DEZALB from Pixabay

    غزل کا اختتام قبلہ اول کی طرف جھکنے، مسجد اقصیٰ کے زائرین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ہی فلسطینی کاز کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ہوتا ہے۔ 

    مجموعی طور پر موضوعِ بحث غزل کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ علی شاہد ؔ دلکش کی شاعری فلسطین کی محبت و حمایت کا ایک متحرک اور ہمدردانہ اظہار ہے، جو جذبات کی گہرائی اور اس کے لوگوں کے قوتِ برداشت کو بیان کرنے کے لیے ادبی آلات کا استعمال کرتی ہے۔ راقم الحروف (رحمت عزیز خان چترالی) کا کھوار ترجمہ علی شاہد ؔ دلکش کے فلسطین کے لیے طاقتور شاعرانہ پیغام کی رسائی کو مزید وسعت دیتا ہے، جس سے چترال، مٹلتان کالام اور گلگت-بلتستان کے وادی غزر کی کھوار برادری کے وسیع تر قارئین تک رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔ اہل فلسطین سے منسوب علی شاہد دلکش کی غزل  مع کھوار ترجمہ زیر نظر یوں ہے:

    سر زمیں بیتِ مقدس کے مکینوں کو سلام

    اے فلسطین ترے شہر کی گلیوں کو سلام

     کھوار:بیت المقدسو سرزمینہ ہال باک رویانتے مه سلام، اے فلسطین ته شہرو گنزولانتے سلام

     پاک دامن جو بے رحمی سے کچل ڈالے گئے

     اَن گِنے پھول کی معصوم سی کلیوں کو سلام

    کھوار:پاکدامن روئے کا کہ بے رخمیو سورا لیچھی مارونو ہونی، بے اشمار گمبوریان معصوم بڑوکھانتے مه سلام

    غاصبوں سے لڑے جی جاں سے نڈر ہو کے سبھی

    جاں ہتھیلی پہ لِیے سارے شہیدوں کو سلام

    کھوار:یہودیان سوم ژنگ آرینی نو بوھرتوئیی سف، ژانان پھانہ لاکھیرو سف شہیداننتے سلام

    ہیں ڈٹے ظلم کے طوفان میں جتنے بھی شجر

    عزم آہن لیے مضبوط درختوں کو سلام

    کھوار:ظلمو طوفانو پروشٹہ روپھی شینی کندوری کی کآن مان، چومرو غون ڈنگ جذبہ گنیرو ہے مضبوط کانانتے سلام

    ظلم کے خون سے بچے ہوئے جتنے بھی شہید

    ان فلسطین کے معصوم فرشتوں کو سلام

    کھوار: ظلمو لیاری کندوری کی پھوپھوک شہید ہونی، فلسطینو ہے معصوم فرشگاننتے سلام

    بیت اقدس کے لیے دست دعا ہے جو اُٹھا

    قبلہ اول سے محبت بھرے جذبوں کو سلام

    کھوار:بیت المقدسو بچے کاکی ہوستان اسنیے دعا آریر، قبلہ اولو بچے محبتاری ٹیپ جزبانتے سلام

    تیز اور تند ہوا میں بھی ہے روشن جو چراغ

    ظلم کی آندھی میں ان جلتے چراغوں کو سلام

    کھوار:تیز اوچے تھن ہوا دی کیہ دیوا کی روشت شیر، ظلمو تیز طوفانہ ہے چوکیرو چراغانتے مه سلام

    خوں محبانِ فلسطین کا ناحق جو بہا

    ناز بردار شہیدوں کے عقیدوں کو سلام

      کھوار: فلسطینو سوم محبت کوراکان کوس کی ناحق لیئی یو چوٹیتائے، ہتے ناز بردار شہیدانن عقیدانتے سلام

    اولیں قبلہ پہ سر سب کا جو شاہد ؔ ہے جھکا

    مسجدِ اقصیٰ کی اطہر گلی کوچوں کو سلام

    کھوار:اے شاہد قبلہ اولو معژیتہ سفان سور سجدا بغانی، اقصو معزیتو پاک گنزول اوچے کوچاہانتے سلام

  • آزمودہ را آزمودن جہل است

    آزمودہ را آزمودن جہل است

    آزمودہ را آزمودن جہل است

    Dubai Naama

آزمودہ را آزمودن جہل است

    پرانے زمانے کے ایک بادشاہ کے پاس دو شکاری باز تھے۔ ایک باز اڑتا تھا جبکہ دوسرا باز بادشاہ کے باغیچے میں ایک درخت کی ٹہنی پر بیٹھا رہتا تھا۔ کافی عرصہ گزر گیا مگر اس باز نے اڑنے کا نام نہیں لیا۔ بادشاہ سلامت کو اس باز کی بیماری کے بارے فکر لاحق ہوئی تو بادشاہ نے ملک بھر سے پرندوں کے طبیب بلائے مگر سب نے اس باز کو صحت مند قرار دیا۔ تب بادشاہ نے پرندوں کے ماہرین کو بلا بھیجا مگر کسی کی ایک نہیں چلی۔ بلآخر بادشاہ کے ہاتھ ایک سیانا لگا جس نے باز کے رکھوالے سے اس کاہل باز کی تمام معلومات اکٹھی کیں، اس ٹہنی کا جائزہ لیا جس پر وہ باز بیٹھنے کا عادی ہو چکا تھا اور ایک دن موقع پا کر اس سیانے نے پہلے باز کی خوراک بند کروائی اور پھر اگلے روز اس درخت کی ٹہنی ہی کو کٹوا دیا جس پر وہ باز بیٹھ کر سوچتا رہتا تھا کہ زندگی بس کسی ایک شاخ پر بیٹھ کر وقت گزارتے رہنے کا نام ہے۔

    ہم میں سے بہت سے لوگ زندگی میں ایک خاص قسم کی ذہنی کیفیت یا نفسیات میں رہنے کے عادی ہو جاتے ہیں جس میں محبت، جنون، نشہ، جنسیت یا سستی اور کاہلی وغیرہ سرفہرست ہیں۔ ان سب سے بڑا اور منفی "سیاسی مائنڈ سیٹ” ہے جس کا شکار پورا ملک اور معاشرہ ہو جاتا ہے۔ کائنات کے "بلیک ہول” کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کسی بڑے ستارے کی موت کا ایک ایسا "کالا گڑھا” ہے جہاں سے کوئی مادی چیز بچ کر نہیں نکلتی۔ حتی کہ تین لاکھ فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرنے والی روشنی بھی بلیک ہول میں جا کر پھنس جاتی ہے۔ جب معاشروں، ملکوں اور انسانوں کی زندگی میں ایسی کوئی "نحوست” پیدا ہو جاتی ہے تو وہ بلند پروازی سے یکسر محروم ہو جاتے ہیں۔ یہ زہنی کیفیت کسی بھی انسان کی زندگی میں پیدا ہو سکتی ہے اور اس کا دورانیہ چند لمحے، دن، مہینے، سال اور عمر بھر بھی ہو سکتا ہے۔ ایک بار کوئی آدمی ایسی دماغی کیفیت کا شکار ہو جائے تو پھر وہ عمربھر کے لئے بھی بیکار ہو سکتا ہے۔

    حالانکہ انسانی دماغ لامحدود ہے اور اس میں اتنی پوٹینشل ہے کہ وہ اس نوع کی وقتی زہنی دلدل سے نکل کر نہ صرف خود کو فتح کر سکتا ہے بلکہ وہ پوری کائنات پر بھی تصرف حاصل کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔

    ایک عرصہ ہوا بلکہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہم "فلیکسیبل مائنڈ سیٹ” کی بجائے "فکسڈ مائنڈ سیٹ” کا شکار چلے آ رہے ہیں۔ اس بار کہا یہ جا رہا ہے کہ 15 سے 25 بلین ڈالرز کیساتھ نوازشریف کی واپسی ہوئی ہے اور دو سے تین سالوں میں پاکستان میں بہت کچھ تبدیل ہونے جا رہا ہے۔ کیا یہ عوام الناس کے "مائنڈ سیٹ” کو خوش فہمی میں بدلنے کی نئی "واردات” نہیں ہے جس کے اندر کی کہانی دبئی سے خصوصی طیارے سے اسلام آباد اور وہاں سے ایک اور خصوصی طیارے سے لاہور پہنچنے سے شروع ہوتی ہے اور نواز شریف کے ہاتھ پر "سفید کبوتر” بٹھانے پر آ کر ختم ہو جاتی ہے۔ کیا یہ سفید کبوتر پاکستان اور مشرق وسطی میں "امن کی فاختہ” کا خفیہ پیغام ہے؟ ایک طرف فلسطین میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے دوسری طرف میاں محمد نواز شریف کا استقبال جہاز سے پھول کی پتیاں پھینکنے سے کیا گیا۔ کیا یہ عوام کے ذہن (Mass Mind) کو دوبارہ میسمیرائز کرنے کی کوشش نہیں ہے؟ یہ میاں نواز شریف وہی ہیں جو پہلے ہی 3دفعہ "وزارت عظمی” پر بٹھا کر آزمائے جا چکے ہیں اور جن کا "خاندان” پچھلے 35سال سے زیادہ عرصے سے "لاہور” اور "اسلام آباد” کے تخت پر بیٹھتا چلا آ رہا ہے۔ "آزمودہ را آزمودن جہل است” ‏کیا نوازشریف صاحب پاکستانیوں کو لوٹا ہوا پیسہ لوٹانے کے لئے واپس "جاتی عمرہ” کے محل میں تشریف لائے ہیں یا پھر "بیرونی طاقتوں” کو پاکستان کی غریب عوام پر ترس آ گیا ہے؟ شائد ایسا کچھ نہیں ہے. درون خانہ بات یہ ہے کہ نوازشریف کو بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ خصوصاً امریکہ و برطانیہ سے ایک بہت ہی خاص "ڈیل” کے تحت پاکستان واپس لایا گیا ہے۔پہلے خان حکومت گرائی گئی، پھر سولہ سترہ مہینے خوب مہنگائی کی گئی، ساتھ ساتھ امن و امان کی صورت حال خراب کی گئی. اب نواز شریف کو قوم کا "مسیحا” بنا کر پیش کرنے کی آخر کیا ضرورت آن پڑی ہے کہ وہ ملک میں بلین آف ڈالرز لائیں گے. جبکہ شہباز شریف کے دور میں ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے پہلے ہی اپنا کاروبار سمیٹ کر جا چکی ہیں۔ یہ کمپنیاں واپس آئیں گی، سعودیہ، قطر اور یو اے ای بھی سرمایہ کاری کریں گے، امریکہ، برطانیہ، یورپ، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف بھی قرضے اور امداد دیں گے۔ یوں پاکستان کے بھوک سے مرتے عوام کو جب کچھ ریلیف ملے گا تو وہ سکھ کا سانس لیں گے اور خاموش بیٹھ جائیں گے۔ ان کو اس بات سے کوئی پرواہ نہیں ہو گی کہ ان کی آزادی و خود مختاری کو بیچ دیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ بلین آف ڈالرز کیا پاکستان کو فری میں ملیں گے اور آخر نواز شریف ہی کیوں؟ پہلے بھی تو ملک میں اسٹیبلشمنٹ کا راج ہے تو یہ کام "سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹرز” بھی تو کر سکتے تھے، آخر نواز شریف ہی کو اس مقصد کے لیئے کیوں استعمال کیا جا رہا ہے؟

    ‏پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ بقول عمران خان صاحب "مفت کا کھانا نہیں ملتا” (There is no free lunch) کہ ان بلین آف ڈالرز کے عوض پاکستان نے تین شرائط ماننی ہیں (جو پہلے ہی تقریباً مانی جا چکی ہیں، صرف اعلان ہونا باقی ہے) اول کشمیر سے مکمل دستبردار ہونا یا پاکستان کے زیر کنٹرول کشمیر بھی ہندوستان کو بخش دینا اور یا پھر لائن آف کنٹرول کو سرحد تسلیم کر لینا ہے جس کا فیصلہ زمینی حالات اور عوامی ردعمل کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ اگر عوامی ری ایکشن کم ہوا تو اپنا کشمیر بھی ہندوستان کو دے دینا اور اگر عوامی ری ایکشن زیادہ ہوا تو کم از کم لائن آف کنٹرول کو سرحد مان لینا۔ دوم پاکستان کا "نیوکلیئر پروگرام” رول بیک کرنا۔ یہ پلان خفیہ بھی مکمل کیا جا سکتا ہے جس کی عوام کو کانوں کان خبر نہیں ہو گی۔ سوم یہ اور سب سے اہم "ٹاسک” یہ ہے کہ نواز حکومت "اسرائیل” کو تسلیم کرے گی جس کے لئے "طوفان الاقصی” پہلے ہی برپا کیا جا چکا یے۔ یہ سب اعلانیہ ہو گا جس پر سب سے زیادہ عوامی ردعمل آئے گا۔ مگر اس سے پہلے عوام کا "مائینڈ سیٹ” بنانا ہو گا یہ بھی دو طرح سے کیا جائے گا کہ ‏ایک تو تاجر برادری کو سامنے لایا جائے گا جو پاکستان اسرائیل کے تجارتی روابط کے فوائد بتائیں گے دوسرا "مخصوص مذہبی راہنماؤں” کو یہ سونپا دیا جا سکتا ہے کہ عوام کو بتائیں کہ اسرائیل کا ذکر قرآن میں بار بار آیا ہے اور یہ کہ احادیث شریف میں ہے کہ "اللہ آخری زمانے میں یہودیوں کو ایک جگہ اکھٹا کرے گا” جب یہ اللہ کی مرضی ہے تو ہم انسان اس میں کیا کر سکتے ہیں!

    گزشتہ رات کی اسرائیلی بمباری میں بھی 182بچوں سمیت 436فلسطینی شہید ہوئے، اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 5 ہزار 87 ہو گئی۔ ایسی انسانیت سوز غلط عالمی سیاست کا انجام آخر کب ہو گا۔ کیا خلافت و خدمت کا متضاد عالمی سیاست کا یہی مقصود ہے کہ انسانی اقدار کو ختم کر کے دنیا پر شیطانی حکومت قائم کرنی ہے؟

    Title Image by Steve Buissinne from Pixabay

  • بزم فگار پر اک نظر

    بزم فگار پر اک نظر

    بزم فگار پر اک نظر

    مبصر: اشوک کمار خاموش،تھرپارکر


    بہ قول فیض احمد فیض:
    چشمِ نم جانِ شوریدہ کافی نہیں
    تہمتِ عشقِ پوشیدہ کافی نہیں
    آج بازار میں پا بہ جولاں چلو
    دست افشاں چلو مست و رقصاں چلو
    خاک بر سر چلو خوں بداماں چلو

    میرے لیے یہ بات باعث صد افتخار ہے کہ میں صوبہ سندھ کے آخری ضلع تھرپارکر کے صحرا میں بیٹھ کر وادئ کشمیر کے محقق، نقاد، شاعر اور انشا پرداز پروفیسر فرہاد احمد فگار کے شاہ کار "بزم فگار” کا مطالعہ کر رہا ہوں۔یہ سب گلوبلائيزيشن کی مہربانی سے ہو رہا ہے۔جس کی وجہ سے میری فرہاد احمد فگار صاحب جیسی ہستی سے شناسائی ہوئی اور پاکستان کے ایک کونے میں بیٹھ کر دوسرے کونے سے فرہاد احمد فگار صاحب کی بزم میں حصہ لے رہا ہوں۔
    فرہاد احمد فگار کی یہ تصنیف "بزم فگار” ادبی اور تحقیقی مضامین پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں بیس سے زائد مختلف موضوعات پر مضامین شامل ہیں۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس کی زبان سادہ اور سلیس، نکتہ بہ نکتہ تاریخی حوالوں سے بھرپور، دلائل میں پختگی اور اس کا اندازِ بیان ایک قسم کی مٹھاس سے بھرپور ہے. جس کی وجہ سے قاری کو کسی بھی قسم کی بوریت محسوس نہیں ہوتی۔ حالاں کہ تحقیق، تنقید اور تاریخ بہت ہی خشک سبجیکٹس ہیں۔ ہر کوئی شوق سے نہیں پڑھتا۔ لیکن یہ تخلیق کار یا فن کار کا کمال ہے کہ کسی خشک سبجیکٹ میں قاری کے لیے کشش کیسے پیدا کرے؟ جو ایک بار شروع کرنے کے بعد بیچ میں چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ شیخ ایاز نے کیا خوب کہا:

    شاعری ہے چند باذوق لوگوں کا سرمایہ
    ہر بانس کی ٹہنی بانسری نہیں ہوتی!

    بزم فگار پر اک نظر


    فگار صاحب خود کالج میں پروفیسر ہیں ادب کے شعبے میں طلبہ کے مسائل اچھی طرح سمجھتے ہیں۔اس لیے یہ کتاب خاص طور پہ کالج اور یونی ورسٹی کے طلبہ اور کسی بھی قسم کی ادبی تحقیق اور تنقید میں کار آمد ثابت ہوگی۔ یہ کتاب اساتذہ، طلبہ اور دوسری ادبی شخصیات کو تحقیق اور تنقید کی دعوت دیتی ہے۔ فگار صاحب نے اس کتاب میں خشک موضوع کو خوب صورت بنانے کے لیے بڑے خوب صورت اشعار کا انتخاب کیا ہے جو پڑھنے میں تجسّس پیدا کرتے ہیں۔ سنت کبیر کہتے ہیں:

    گُرو گوبند دونوں کھڑے، کا کے لاگوں پائے
    بلہاری گُرو آپنے، جس گوبند دیو بتائے

    کتاب کا پہلا مضمون بہ عنوان "دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں” ہے۔اس مضمون میں فرماتے ہیں کہ، "ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ہاں تحقیق پر توجہ دی جائے، تحقیق ہی واحد ذریعہ ہے جو سچ اور جھوٹ میں فرق کرتا ہے.” آپ قاری کو اتساہ دیتا ہے اور غلطیوں سے سبق سیکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ، "میں بھی غلطی کر سکتا ہوں لیکن اپنی غلطی مان لینا بڑی بات ہے.”
    کتاب میں ایک مضمون ادبی غلطی اور غلط فہمی سے انشا اللہ خان انشا کا ایک شعر اقبال کے نام لکھا گیا ہے۔اس کو ادبی اور تحقیقی دلائل اور حوالہ جات کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ یہ شعر اقبال کا نہیں بلکہ انشا اللہ انشا کا ہے۔ اس کتاب میں وادی لیپا کا ایک مختصر سفرنامہ بھی شامل ہے۔ اس سفر نامےمیں تخلیق کار نے اپنے قلمی فن کا خوب کمال دکھایا ہے۔ یہ سفرنامچہ پڑھنے سے قاری کی بوریت بالکل ہی ختم ہو جاتی اور اک دم تازہ توانا ہو جاتا ہے۔ راستے کی خوب صورت منظر کشی پڑھتے وقت وہ سارا منظر آنکھوں کے آگے مور بن کر ناچنے لگتا ہے۔ منظر کشی کے ساتھ جو تشبیہات استعمال کی گئی ہیں وہ پڑھ کے زبان و دل ق واہ کرنے سے نہیں رکتا۔منظر کشی کی مثال دیکھیے کہ: "کسی نانگن کی مانند بل کھائی سڑک اوپر ہی اوپر چلی جاتی ہے.” کیا کمال کی تشبیہ دی ہے۔ سفر کو مزید جان دار بنانے کے لیے سفر کے دوران میں وہاں کی تاریخی جگہوں، وہاں کی نام ور شخصیات، ان پہاڑوں سے منسوب تاریخی قصے، وہاں ہوئے صنعتی اور ترقیاتی کام، عام لوگوں کی زندگی اور ان کے مسائل سے لے کر حکم رانوں کی عدم توجہ اور نا اہلی تک ہر چیز کی خوب صورت تصویر کھینچی ہے۔یہاں پر مجھے تخلیق کار کی جو عظمت نظر آئی وہ اس بات میں کہ آپ مکمل انسان پرست شخصیت کے مالک ہیں اور ہر کسی کے عقیدے کا احترام کرتے ہیں۔ مثلاً ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ: "اس وادی میں ایک کالج کی تعمیر کے دوران میں کچھ مورتیاں بھی ملیں، جن کو مذہبی تعصب کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے توڑ کر دیوار میں چُن دیا گیا۔” بہ قول خاموش غازی پوری:

    عمر جلووں میں بسر ہو یہ ضروری تو نہیں
    ہر شب غم کی سحر ہو یہ ضروری تو نہیں

    شیخ کرتا تو ہے مسجد میں خدا کو سجدے
    اس کے سجدوں میں اثر ہو یہ ضروری تو نہیں

    اگلا مضمون بہ عنوان "مشاہیر ادب اردو کے حقیقی نام” ایک کثیر جانب تحقیقات پر مشتمل ہے۔یہ مضمون اردو کے نام ور ادبا، شعرا، محققین، دانش وروں، افسانہ نگاروں، ڈرامانگاروں، ناول نگاروں کے ادبی ناموں یعنی تخلص اور ان کے اصلی ناموں پر مبنی ہے۔ یہ ایک ایسا تحقیقی مقالہ ہے جو شعبہ اردو کے ہر طالب علم اور استاد کے لیے کارآمد ہے۔اس مضمون میں کئی نام ور شخصیات کے اصلی نام، تھوڑا سا شجرہ، تولد اور رحلت کی تاریخ اور ان کی ادبی تصنیفات کا ذکر کیا گیا ہے۔

     اشوک کمار خاموش،تھرپارکر


    کچھ ادبی اصناف پر بھی مضمون ہیں اور اردو زبان میں بولے جانے والے الفاظ کے غلط استعمال پر بھی کمال کے مضامین ہیں۔مثال کے طور پر "تدوین اور تدوین متن کی روایت” ، "املا وہ تلفظ کی عمومی اغلاط” ، "غلط العوام الفاظ اور املا” ، "اردو کی خوش بو” اور "اردو ہے میرا نام”. جن میں بہت باریک بینی سے اردو صوتیات و صرفیات کو بیان کیا گیا ہے۔ یہی دو تین مضامین تھے جنھوں نے میرے حواس کھول دیے اور میں نے یہ تبصرہ لکھنے لیے دوبارہ اس کتاب کا مطالعہ کیا.۔ مجھے معلوم ہوا کہ فگار صاحب اردو لفظوں کا تقدس اور حرمت رکھنا خوب جانتے ہیں. فرماتے ہیں کہ: "اردو کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے میں اکثر سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ کبھی کسی کی غلطی سے اور کبھی اپنی غلطی سے۔” فگار صاحب کی اپنی زبان کے بارے میں بے تحاشا محبت دیکھ کر مجھے داغستان کی آوار زبان کا شاعر رسول حمزہ توف یاد آگیا۔رسول حمزہ توف نے لکھا ہے کہ: "ہمارے داغستان کی سب سے بڑی بد دعا یہ ہے کہ ہم کسی کو کہیں کہ آپ کے بچے اپنی زبان بھلا دیں۔” ہماری سندھی زبان کا ایک بڑا نام ہے شیخ ایاز جس نے اردو میں بھی خوب لکھا ہے اور سندھی کے بہت بڑے شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے رسالے کا اردو زبان میں منظوم ترجمہ بھی کیا ہے۔ایاز صاحب کے ایک سندھی شعر کا مطلب ہے کہ: "آپ اگر اپنی زبان میں "اماں” پکاریں تو دنیا کی کسی بھی زبان میں وہ مٹھاس آپ کو نہیں ملے گی۔”
    آتے ہیں بزم فگار کی طرف. تو ان کے علاوہ اردو کی مشہور مثنویوں پر بھی ایک کمال کا مضمون ہے۔ جو ایک عمدہ تحقیقی حیثیت رکھتا ہے۔
    یہ کتاب ہم کیوں پڑھیں!! ہم اپنی زندگی میں کئی کتابیں پڑھتے ہیں. ناول، افسانہ، شاعری، عشقیہ قصے وغيره وغيره. یہ سب ہم ذہنی عیاشی، ذہنی سکون اور اپنے آپ کو تازا توانا کرنے لیے پڑھتے ہیں لیکن کوئی تحقیق یا تنقید ہم اپنا ذہن ان لاک یعنی ذہن کھولنے کے ساتھ اور زیادہ تحقیق کے دروازے کھولنے کے لیے بھی پڑھتے ہیں۔اس لیے اپنی ادبی واقفیت بڑھانے کے لیے اور اپنے علم کو وسیع کرنے کے لیے یہ کتاب ضرور پڑھیں. آخر میں میں فیض احمد فیض کے اس شعر کے اجازت چاہوں گا۔

    ہم خستہ تنوں سے محتسبو،
    کیا مال منال کا پوچھتے ہو،
    جو عمر سے ہم نے بھر پایا،
    سب سامنے لائے دیتے ہیں

    دامن میں ہے مشتِ خاکِ جگر،
    ساغر میں ہے خونِ حسرتِ مے
    لو ہم نے دامن جھاڑ دیا!
    لو جام الٹائے دیتے ہیں!!

  • کشمیر، برفباری اور قومی ترانہ

    کشمیر، برفباری اور قومی ترانہ

    کشمیر، برفباری اور قومی ترانہ

      1993 کی بات ہے ہاجرہ بتول تین سال کی تھی اس کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر نواز شریف پارک مری روڈ سیر کرانے کے لیے لے گیا۔ واپسی پر مجھے شرارت سوجھی ۔ میں موٹر سائیکل پر بیٹھا  ہاجرہ بتول نیچے کھڑی تھی۔میں اس کو بٹھائے بغیر چل دیا۔اس پر اس نے شور مچا دیا۔ میں نے موٹر سائیکل روک کر اس کو بٹھا لیا ۔ اس کا غصے سے برا حال تھا ۔ مجھے مکے مارنے لگی اور شاؤٹ کر رہی تھی۔

    تو                  بھاگ                    لا               تھا۔  تو                                مجھے                              چھول                    لا                     تھا۔

    جب بھی نواز شریف پارک سے گزر ہوتا وہ منظر یاد آ جاتا ہے۔ جب  ہاجرہ بتول چار سال کی ہوئی تو اس کو محلے کے حیدر پبلک  سکول ڈھوک فرمان میں داخل کرایا اس کے لئے پہلی دفعہ سکول شوز باٹا وارث خان مری روڈ سے خریدے۔

     پنڈی سے ہم لوگ راولاکوٹ گئے وہاں فوجی فاؤنڈیشن سکول میں  ہاجرہ کی ایک ٹیچر کا نام تھاFGHIJK  (Farah Gul Hussain In Jammu & Kashmir)   ۔

    اس ٹیچر نے بچوں کو اسلام آباد کے سپیلنگ اتنے شاعرانہ انداز میں یاد کرایے کہ میں اب تک ان کو انجوائے کرتا ہوں۔

    Is اس   la لا      ma ما      bad  باد

    اسلا ما باد

     فوجیوں کی ہر دو تین سال بعد پوسٹنگ ہوتی ہے ۔ اس کے ساتھ ان کے بچے بھی نئی جگہ جا کر نئے سکولوں میں داخل ہوتے ہیں۔ یونیفارم اور کتابیں تک بدل جاتی ہیں اور کبھی کبھی قومی ترانہ بھی تبدیل ہو جاتا ہے جیسا کہ ہمارے بچوں کے ساتھ راولاکوٹ میں ہوا۔

     وطن ہمارا آزاد کشمیر آزاد کشمیر  

     وطن ہمارا آزاد کشمیر آزاد کشمیر  

    باغوں اور بہاروں والا

    دریاؤں کہساروں والا

    آسمان ہے جس کا پرچم

    پرچم چاند ستاروں والا

    جنت کے نظاروں والا

    جموں و کشمیر ہمارا

    وطن ہمارا آزاد کشمیر آزاد کشمیر

    وطن ہمارا آزاد کشمیر آزاد کشمیر

    کوہستانوں کی آبادی

    پہن چکی تاج آزادی

    عزت کے پروانے جاگے

    آزادی کی شمع جلا دی

    جاگ اٹھی ہے ساری وادی

    ضامن ہے اللہ تمہارا

    وطن ہمارا آزاد کشمیر آزاد کشمیر

    وطن ہمارا آزاد کشمیر آزاد کشمیر

      ہمارے بچے مختلف اسکولوں میں پڑھتے رہے۔ پی اے ایف سکول مسرور کراچی،پی اے ایف سکول چک لالہ،فوجی فاؤنڈیشن سکول راولاکوٹ،سن رائز سکول راولاکوٹ،علامہ اقبال سکول راولاکوٹ،گیریژن اکیڈمی کھاریاں،چنار اے پی ایس مری،ایف جی سکول مری،اے پی ایس سرگودھا،دار ارقم سرگودھا،دار ارقم واہ کینٹ،سرسید سکول واہ کینٹ،فوجی فائونڈیشن سکول راولپنڈی۔

     ہم نے تین سال راولاکوٹ اور تین سال مری میں قیام کے دوران خوب سیر ہو کر رج کے برفباری دیکھی ۔ نومبر کے مہینے میں عصر کے وقت سی ایم ایچ راولاکوٹ سے بیرونی گشت کے لئے کھڑک جا رہے تھے۔ ہمارے ساتھ ایک مقامی ساتھی فیض اللہ صاحب ہوٹل والے تھے۔ چلتے چلتے انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور خبر نشر کر دی ۔ آج برفباری ہوگی۔میں ان کی بزرگی کی وجہ سے  دل میں ہنسا  اور دل میں  کہا،خواہ مخواہ  راقم کو امپریس کر رہے ہیں۔ لیکن خدا کی شان اسی رات برفباری ہو گئی۔

      کھڑک میں پہلی بار  ایک نوجوان کو کشمیری فرن پہنے دیکھا۔ یہ ڈھیلا ڈھالا کرتا اس کو عام لباس کے اوپر پہنتے ہیں ۔بازو اس کے اندر رکھتے ہیں اور ضرورت کے وقت بازو باہر نکالتے ہیں۔

    کشمیر، برفباری اور قومی ترانہ
    Image by Ram Pangeni from Pixabay

      پروفیسر گردیزی صاحب راولاکوٹ والے اس پر فرمانے لگے   یہ برفباری قبل از وقت ہوئی ہے اور اس کو مقامی لوگ کہتے ہیں ،برفباری کی ابارشن ہو گئی ہے۔ ترُو پئی اے۔ اسقاط حمل ہوگیا ہے اس لئے اس دفعہ  برفباری روٹین سے کم ہو گی۔

     راولاکوٹ کوٹ میں اس پہلی برفباری کے بعد ایک ہاٹ ٹاپک تھا کہ کون سلپ ہو کر گرا ہے  ہاسپیٹل کے اندر ہی مکانات اور مسجد تھی۔جو گرتا اس کی فورا سب کو  خبر ہو جاتی۔ سی او صاحب گر گئے۔ میجر صاحب سلپ ہو گئے ۔ڈسپنسر صاحب  پُٹھے ہو گئے۔

     سلپ ہونے سے بچنے کے لئیے بوٹوں کے تلوے پر sole پر سائیکل کی ٹیوب کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے موچی سے لگوائے جاتے تھے۔اس کو بریک کہتے تھے اس کی وجہ سے تلوے کی سطح رف ہو جاتی تھی اور سلپ ہونے کے چانس کم ہو جاتے۔ جرابوں کو گیلا ہونے سے بچانے کے لئے ان کے اوپر شاپر چڑھا کر بوٹ پہنتے تھے۔ مری میں ہمارا گھر سی ایم ایچ سے تین سو میٹر دور تھا۔ایک دن اتنی شدید برفباری ہوئی کہ ہاسپیٹل جانا ممکن ہی نہ تھا۔سی او صاحب کو فون پر اطلاع کی تو فرمانے لگے ٹھیک ہے ہاسپیٹل نہ آئیں… لیکن گھر سے نہیں نکلنا۔

  • ایک شام فرہاد احمد فگار کے نام

    ایک شام فرہاد احمد فگار کے نام

    ایک شام فرہاد احمد فگار کے نام

    رپورٹ:عدنان نصیر
    اپنے عہد کے باشعور شخص کو پہچاننا، اس کی خدمات کا اعتراف کرنا اور اس کی تعظیم کرنا تہذیب یافتہ معاشروں اور صاحبِ بصیرت اشخاص کا خاصا ہے۔
    اگر وہ شخص اپنے ہی شعبے کا ہو تو اس کی قابلیت اور اہلیت کا اعتراف، اس کے فن کی ستائش اور اس کی تعظیم کرنا بڑے ظرف کی بات ہے۔

    ایک شام فرہاد احمد فگار کے نام


    یہ تعظیم، ستائش اور اعتراف اس کی زندگی ہی میں ہونا چاہیے اس سے اس شخص کو زمانے کی ناقدری کا گلہ نہیں رہتا اور وہ اپنا کام اور زیادہ جاں فشانی سے سرانجام دیتا ہے کہ اس کے کام سے اس کے چاہنے والوں کی امیدیں اور خوشیاں وابستہ ہیں۔
    اس میں شبہ نہیں کہ دوسرے کے ہنر کے اعتراف سے اپنا قد بھی بڑھتا ہے۔
    دراصل ہم معاش کے چکر میں الجھ کے رہ گئے ہیں وگرنہ بہ حیثیتِ قوم یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے فن کاروں، دانش وَروں، محققوں، مدرسوں، سائنس دانوں، ڈاکٹروں الغرض ہر شعبہ ہائے زندگی کے قابلِ قدر لوگوں کو ان کی حیات ہی میں سراہیں۔
    اسی جذبے کے تحت کہوٹہ لٹریری سوسائٹی نے انڈس کالج کہوٹہ کی لائبریری میں جواں سال محقق، مدرس، مدیر، نقاد، صاحبِ بصیرت، نکتہ رس فرہاد احمد فگار کے اعزاز میں 15 اپریل 2023ء کو ہفتے کی شام ایک تقریب بہ عنوان”ایک شام فرہاد احمد فگار کے نام” کا انعقاد کیا۔
    تقریب کی صدارت نام وَر شاعر جاوید احمد نے کی۔مہمانانِ خصوصی میں ڈاکٹر ماجد محمود، صداقت طاہر اور قمر عباس شامل تھے۔ نظامت کے فرائض عدنان نصیر اور حسیب علی نے سرانجام دیے۔
    تقریب کے دو حصے تھے پہلے حصے میں مقررین نے فرہاد احمد فگار کی تحقیقی خدمات پہ روشنی ڈالی اور ان کے کام کو سراہا۔
    حسن ظہیر راجا نے فرہاد احمد فگار سے اپنے دوستی کے تعلق اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پہ کلام کیا۔ حسن ظہیر راجا نے فرہاد کے جذبۂ شوق کی مثال دیتے ہوئے کہا:
    "فرہاد مظفرآباد سے لاہور مع حوالہ جات ایک صاحب کو محض یہ بتانے گئے کہ حضور یہ شعر آپ کا نہیں ہے اس کا اصل وارث فلاں ہے”۔
    پروفیسر حبیب گوہر نے فرہاد احمد فگار کی خدمات پہ تفصیلی مضمون پیش کیا جس میں ان کے تنقیدی و تحقیقی کاموں کی نوعیت کو اجاگر کیا اور فرہاد کی مدیرانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ فرہاد کی زیرِ ادارت شائع ہونے والے علمی و ادبی مجلے "بساط” کی تعریف کی اور کئی اشعار کا حوالہ دیا جن کے خالق کا پتا فرہاد احمد فگار نے دیا۔ان میں زیادہ تر اشعار ایسے ہیں جو اقبال کے نام سے منسوب ہیں جب کہ ان کے اصل خالق اقبال نہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ فرہاد نے نصابی کتب میں موجود اغلاط کی نشان دہی بھی کی ہے اور اب یہ خود آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کی اردو کی نظر ثانی کمیٹی کا حصہ ہیں ۔
    اس کے بعد صاحبِ شام فرہاد احمد فگار نے تقریب کے انعقاد پر حسن ظہیر راجا اور کہوٹہ لٹریری سوسائٹی کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے کہا کہ پروفیسر حبیب گوہر نے جتنا کہا میں اس قدر نہیں ہوں بس یہ خواہش رہتی ہے کہ لفظوں کا احترام کیا جائے میں تو جاوید احمد کے اس شعر پہ عمل پیرا ہوں۔

    لفظ وہ پرندے ہیں پیار اسی سے کرتے ہیں
    جس نے ان کو رکھا ہے جس نے ان کو پالا ہے

    فرہاداحمد فگار نے اپنے نعتیہ اشعار کے ساتھ حرف تشکر کو اختتام بخشا۔

    کہوٹہ لٹریری سوسائٹی کی طرف سے جنابِ جاوید احمد، صابر علی صدیقی اور پروفیسر حبیب گوہر نے فرہاد احمد فگار کو یادگاری شیلڈ برائے تحقیقی خدمات پیش کی۔

    award
    awaed

    تقریب کے دوسرے حصے میں مشاعرہ بپا ہوا۔ کہوٹہ شعری حوالے سے بہت زرخیز شہر ہے جاوید احمد کے زیرِ سایہ نئی آوازوں کی چہکار چار اَور سنائی دے رہی ہے۔ انڈس کالج کی لائبریری باذوق سامعین سے بھری ہوئی تھی۔ ہر معیاری شعر پہ بے پناہ داد دی گئی واہ واہ سبحان اللہ مکرر کی صدائیں اول تا آخر گونجتی رہیں۔
    یہ دوسرے ہفتے میں کہوٹہ میں دوسرا مشاعرہ تھا۔گزشتہ ہفتے اسی جگہ ڈاکٹر وحید احمد کی صدارت میں جاوید احمد کی سال گرہ کے سلسلہ میں ایک بھرپور مشاعرہ بپا ہوا تھا جس میں اس عہد کی نمایاں آوازیں شامل تھیں۔افضل خان، انجم سلیمی، ڈاکٹرعابد سیال، عمران عامی اور کرنل شہاب عالم بہ طورِ خاص جلوہ افروز ہوئے تھے۔

    کہوٹہ لٹریری سوسائٹی نے شعری نشستوں، مشاعروں اور دانش وروں کے علمی و ادبی لیکچروں کے انعقاد کا سلسلہ بحال کر دیا ہے۔ دعا ہے کہ شعری و علمی منظر نامے پہ کہوٹہ آب و تاب سے چمکتا رہے۔

    نشست سے منتخب اشعار

    کیسے رحمت نہ کہتا بارش کو
    ایک چھتری تلے تھے ہم دونوں
    ذیشان ستی

    میرے گاؤں میں مجھے دیکھنے آئی ہو گی
    سیر کرنے کو تو کاغان بھی جا سکتی تھی
    وقاص امیر

    تیرے گم راہ کردہ تجھ سے ملیں
    اور تُو ان سے راستا پوچھے
    حسیب علی

    کیسے کاٹے گا کوہِ غمِ زیست
    بیٹا ہونے پہ دکھ ہو رہا ہے
    عدنان نصیر

    یہ جو دل میں اتر رہے ہیں مرے
    یہ بھی دل سے اترنے والے ہیں
    نوید فدا ستی

    اس کی فرقت میں جل رہا ہوں میں
    اس کو سمجھاؤ اور بجھاؤ مجھے
    قمر عباس

    مٹی کے ساتھ ذہن کو بھی کچھ نمو ملی
    بارش ہوئی تو تھوڑے سے اشعار ہو گئے
    حسن ظہیر راجا

    شمعِ اسلام جس سے فروزاں ہوئی
    وہ لہو مصطفٰیؐ کے گھرانے کا ہے
    فرہاد احمد فگار

    بیج پھوٹا کہ تہِ خاک بغاوت پھوٹی
    ایک ہی جڑ سے تنے دو نکل آئے ہائے
    صداقت طاہر

    ہوس ہوتی تو پوری کر بھی لیتے
    محبت تھی ادھوری رہ گئی ہے
    ڈاکٹرماجد محمود

    حق مانگنے پہ صبر کی تلقین کی گئی
    ہم کو خدا کے نام پہ دھوکا دیا گیا
    حبیب گوہر

    سکے کھنک رہے ہیں عزازیل کے یہاں
    میرے خدا یہ کاسہ ء دنیا اٹھا کے پھینک

    جاوید احمد