Tag: کشمیر

  • پھل دار درخت

    پھل دار درخت

    پھل دار درخت


    راجا لیاقت علی،پرنسپل رائزنگ اسکول،میرپورہ،نیلم


    ایک گھنے پھل دار درخت سے اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق اپنی اپنی ضرورت اور حثییت کے مطابق کوئی نہ کوئی فائدہ اُٹھاتی ہے ۔کوئی تپتی دھوپ میں اس کی چھاؤں سے راحت اُٹھا رہا ہوتا ہے، کوئی اُس کا پھل کھا کر اپنی بھوک کو مٹاتا ہے تو کوئی دوسرا اُس کی لکڑی سے اپنا نفع ڈھونڈتا ہے۔ مجھے تو بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ جناب فرہاد احمد فگار نے ایسے ہی کسی درخت سے اللہ کی مخلوق کی بے لوث خدمت کا سبق سیکھا ہے۔ کوئی ان کی زندگی تبدیل کر دینے والے تحریروں سے چھپی ہوئی صلاحیتں اور کام یابی کے عناصر دریافت کر رہا ہے اور کوئی ان کی زندگی کے مختلف پہلووں کا نچوڑ پیش کرنے والے مضامین سے اپنے لیے نئی جہت اور حوصلے کا سامان پیدا کر رہا ہے ۔ سب سے دل چسپ بات یہ کہ فرہاد احمد فگار(Farhad Ahmed Figar) صاحب یہ سارا کام ایک پیشہ ورآدمی کی طرح دھن دولت کمانے کے لیے نہیں بل کہ بے لوث انداز میں بنا کسی حرص ہوس کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے قدرت نے اپنی مخلوق کی خاطربہتر تربیت کے لیے انھیں
    اِس کام پر لگا دیا ہے ۔
    فگار Figar صاحب کے شوق ،لگن اور محنت نے گورنمنٹ انٹر کالج میرپورہ میں بے شمار تبدیلیاں لائی ہیں۔ آپ کے جذبے، محبت اور جنون سے نہ صرف ادارے کے اندر تبدیلی آئی بل کہ طلبہ کے رویوں میں بھی تبدیلی دیکھنے کو ملی۔آپ ادارے نہ صرف معاشی اعتبار سے منسلک ہے بل کہ آپ کی بے چینی اور لگاو سے اندازہ ہوا کہ آپ صرف اور صرف تعلیم سرگرمیوں اور نوجوان کے رہبر کے طور پر کام کر
    رہے ہیں۔فگار صاحب نے اپنے پیشے کو روایتی نہیں لیا بل کہ اس بات کے تیقن سے آگے بڑھے کہ محنت سے کچھ بھی ناممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ضلع نیلم کے اندر کالج میگزین کے حوالے سے ایک تاریخ رقم کرتے ہوئے میرپورہ کالج سے ضلع نیلم کا پہلا کالج میگزین”بساط” Bisaatشائع کر دیا۔بساط 2020ء میں اس وقت پہلی مرتبہ منصئہ شہود پر آیا جب مخلوقِ خدا کرونا جیسی آفت سے نبرد آزما تھی۔تسلسل کو برقرار رکھا اور 2021ء کا شمارہ بھی بہ اہتمام چھاپ دیا۔ آپ نے اپنی بساط سے بڑھ کر نہ صرف بساط میں کام کیا ہے بل کہ بہتر تعلیم اور تربیت پر کام کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے اس ادارے سے منسلک ہونے کے بعد اس ادارے میں واضح بدلاؤ دیکھنے کو ملا۔ میرپورہ کالجMirpura College کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پراسپیکٹس چھاپنے کا سہرا بِھی آپ کے سر رہا۔کالج کے اندر خوب صورت اقوال، اشعار کی لکھائی کروا کر اس کے حسن کو دوبالا کرنا ہو، پرنسپل آفس کی تزئین و آرائش ہو یا کالج کے لیے خوب صورت اور دیدہ ذیب لوگو یہ آپ ہی کاوشوں سے ممکن ہو پایا۔ یہی نہیں آپ کالج کو سائنس کا درجہ دلانے کے لیے بھی ہمہ تن سرگرمِ عمل ہیں۔ تعلیمی میدان میں بات کریں تو آپ کے آنے کے بعد 2020ء میں ادارے کے ایک طالب علم سید شفقت شاہ نے میرپور بورڈ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔

    پھل دار درخت

    مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ آپ مظفرآباد کے رہائشی ہونے کے باوجود اس کالج کو سائنس کے درجے پر پہنچانے
    کے لیے نیلم بالخصوص میرپورہ اور گردونواع کے معماروں کے لیے سفیر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو کام یاب کرے۔
    جناب فرہاد احمد فگارFarhad Ahmed Figar انتہائی خوش مذاج اور دوستانہ شخصیت کے مالک ہیں آپ کی ایک بات جو مجھے بہت پسند آئی وہ یہ کہ آپ غلط تلفظ کی درستی کر کے چھوڑتے ہیں۔ غلط تلفظ پر فوراً ٹوک دیتے ہیں اور بہت خندہ پیشانی سے اصلاح کر کے چھوڑتے ہیں۔ جناب کے ساتھ جب بھی بیٹھنے کا موقع میسر آیا ضرور کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملا ۔ آپ کی ادب کے کے ساتھ غیر معمولی دل چسپی دیکھنے کو ملی ۔ فرہاد احمد فگار صاحب کے متعلق کئی ادبی شخصیات کی تحریریں پڑھیں سبھی کی تحریروں میں پڑھا کہ فرہاد اردو زبان و ادب کا ایک روشن ستارہ ہے۔ ان کے ادبی مضامین کی وجہ سے ان کے ادبی شخصیات سے روابط مضبوط ہوئے۔ تنقید، تحقیق یا شاعری ہر صنف میں مہارت رکھتے ہیں۔ اردو کے نام وَر شاعر اور ادیب سید معراج جامی ایک مضمون میں جناب فرہاد احمد فگارFarhad Ahmed Figar کے متعلق لکھتے ہیں:
    "فرہاد ادب کا ایک بہت فعال اور متحرک دیوانہ ہے اسے مطالعے کا بہت شوق ہے تحقیق سے بہت رغبت ہے فرہاد تنقید، تحقیق اور شاعری کا بہ یک وقت شوق رکھتا ہے”
    فگار صاحب کی تحریروں اور صحبت سے جو کچھ سیکھنے کو ملا وہ مجھے کسی کتاب سے نہیں مل سکا۔میری خواہش ہوتی ہے کہ آپ کے ساتھ بیٹھوں اور گفت و شیند ہو ۔ہرچند آپ سے بات کرتے ہوئے ہچکچاہیٹ بھی رہتی ہے کیوں کہ آپ غلطیاں بہت نکالتے ہیں مگر میرا آپ کے ساتھ بیٹھنے کامقصد ہی اصلاح کروانا ہوتا ہے۔ اُمید ہےجناب اپنی صلاحیتوں سے ہمارے اندر بھی نکھار لائیں گے۔
    اس کے علاوہ حال ہی میں ہمارے لیے بُری خبر کے طور پر فگار صاحب کی تبادلہ کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں اس پر میرے خیال سے انٹر کالج میرپورہ سے فرہاد احمد فگارصاحب کا تبادلہ ہمارے بچوں پر اور آنے والے معماروں پر ظلم عظیم تصور ہوگا پہلے سے ہی ہمارا علاقہ پسماندہ اور اساتذہ کی کمی کا شکار رہا ہے بل کہ نوے کی دہائی میں مکمل انڈین فائرنگ کا شکار رہاہے اب چوں کہ امن کے جیسے حالات بھی ہیں اور بچوں میں دل چسپی اور اساتذہ بھی موجود ہے بالخصوص فرہاد صاحب جیسا۔ ذرائع کے مطابق متبادل اُردو کا پروفیسر بھی میسر نہیں ہے جس کی بدولت فرہاد احمد فگار صاحب کا تبادلہ بچوں کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔ محترم فرہاد احمد فگار Farhad Ahmed Figar جیسے چست، لائق، محقق، ادیب اور محنتی استاد سے محرومی ہمارے بچوں کے لیے بدقسمتی بن سکتی ہے۔ اس ضمن میں احکام بالا سے بھی درخواست ہوگی کہ فرہاد احمد فگار صاحب کا تبادلہ عمل میں لا کر ہمارے بچوں پر ظلم نہ کیا جائے ہمارے علاقے کو ہمارے اداروں کو ان جیسے لائق اساتذہ کی ضرورت ہے بل کے احکام بالا کی نظر کرم اس طرف بھی ہو کہ ہمارے بچے انٹرمیڈیٹ سال اول سائنس مضامین میں دل چسپی رکھتے ہوئے یہاں سے 60کلومیٹر دور مظفرآباد کے مختلف کالجزمیں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں۔ اس ادارے کو اپ گریڈ کرتے ہوئے سائنس کالج کا درجہ دیا جائے تا کہ یہاں کے غریب ماں باپ جو اپنے بچوں دور تعلیم دینے سے قاصر ہیں ان کے بچے بھی سائنس کی تعلیم یہاں ہی حاصل کر سکیں۔
    فرہاد احمد فگار صاحب سے راقم کی واقفیت یوں تو زیادہ عرصے سے نہیں تاہم فگار صاحب سے اُن کی علم دوستی ، نیک نیتی، مخلصانہ کاوش اور حقیقت پسندانہ سوچ کی بدولت لگاو اتنا ہو چکا ہے جیسے میں پہلے سے اُن کو جانتا ہوں۔ فرہاد احمد فگار صاحب اکثر راقم کے ادارے (رائزنگ پبلک اسکول میرپورہ )میں تشریف لاتے ہیں۔ ان کی گفت گو ہمیشہ علمی ہوتی ہے کوئی نیا خیال آپ کے ذہین میں ہوتا ہے۔ آپ کی گفت گو یقناَ اندھیرے میں روشنی کی مانندبن جاتی ہے۔ مجھے اندازہ ہے کہ آپ کی چند منٹ کی ملاقات میرے لیے کس قدر قیمتی بن جاتی ہے تو جن بچوں کو آپ روزانہ کی بنا پر تعلیم دیتے ہیں اُن کے لیے آپ کتنے قیمتی ہوں گے۔ فرہاد احمد فگار صاحب سے جب بھی (انفرادی یا اجتماعی صورت) میں محفل ہوئی ہمیشہ محفل میں آپ نے غلط لفظ تلفظ کی نہ صرف تصحیح کی بل کہ وجہ تسمیہ بھی بیان کی۔
    راقم دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ اُمید ہے آئندہ بھی آپ بساط کے اس تسلسل کو جاری رکھیں گے اور احکام بالا بھی آپ جیسے محنتی اور لگن والے شخص کا ہمارے کالج سے تبادلہ کرنے کی کوشش نہیں کریں گے کیوں کہ یہاں کے بچوں کو آپ کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

  • الوداعی تقریب سید نسیم حسین شاہ

    الوداعی تقریب سید نسیم حسین شاہ

    الوداعی تقریب سید نسیم حسین شاہ

    نیلم(راجا شاہد سے) سینئر مدرس سید نسیم حسین شاہ 39 سالہ ملازمت کے بعد بہ عزت ذمہ داریوں سے سبک دوش ہو گئے۔انھوں نے ملازمت کا بڑا حصہ جورا، کٹن، بلگراں اور میرپورہ کے تعلیمی اداروں میں گزارا۔الوداعی تقریب گورنمنٹ کالج میرپورہ میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت پرنسپل ادارہ پروفیسر محمد رفیق نے کی۔مہمانانِ خصوصی سید نسیم حسین شاہ اور حال ہی میں ادارے سے تبادلہ ہونے والے لیکچرر اسلامیات چودھری غلام یوسف تھے۔ تقریب میں نظامت کے فرائض لیکچرر اردو فرہاد احمد فگار نے سرانجام دیے ۔ مقررین میں سے بشیر الدین چغتائی، راجا نصیر خان اور دیگر نے سید نسیم حسین شاہ کی خدمات کو اپنے اپنے الفاظ میں سراہا۔

    الوداعی تقریب سید نسیم حسین شاہ

    پرنسپل ادارہ نے کہا کہ سید نسیم حسین شاہ نے اپنے فرائض منصبی میں کبھی کوتاہی نہ کی اور ہر ذمہ داری کو بہ طریق احسن سر انجام دیا۔ راجا نصیر خان نے کہا کہ سید نسیم حسین شاہ نہ فخر سادات ہیں بل کہ فخرِ میرپورہ اور فخرِ اساتذہ بھی ہیں۔ بشیر الدین چغتائی کے مطابق نسیم شاہ کی شخصیت باغ و بہار ہے انھوں نے ہمیشہ مثبت انداز میں اپنے چھوٹوں کی تربیت کی ۔ طلبہ اپنے استاد کے چلے جانے پر مغموم دکھائی دیے۔ فرہاد احمد فگار کے مطابق سید نسیم حسین شاہ محفل کو زعفران زار بنانے کے فن سے خوب آشنا ہیں ان کی کھٹی میٹھی باتیں ان کی شخصیت کا خاصا ہیں۔ سید نسیم حسین شاہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے منتظمین کا شکریہ ادا کیا ۔ چودھری غلام یوسف نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے ادارے کے اندر اپنے دو سال کے عرصے کو بہترین قرار دیا اور اپنے تمام ساتھوں کی تعریف کی ۔فرہاد احمد فگار نے نسیم حسین شاہ کی بذلہ سنجی کو ان الفاظ سے تعبیر کیا:
    سنا ہے اس کی ہر اک بات ہے لطیفہ ہے
    "یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں”
    تقریب کی اختتامی دعا مدرس مفتی ممتاز مغل نے کروائی جس کے بعد چودھری غلام یوسف اور سید نسیم حسین شاہ کو شان دار خدمات پریادگاری شیلڈ پیش کی گئیں۔ مابعد ضیافت کا انتظام تھا جس کے بعد قافلے کی شکل میں نسیم حسین شاہ کو ان کے دولت کدے تک پہنچایا گیا۔

  • احمد عطا اللہ کی غزل گوئی

    احمد عطا اللہ کی غزل گوئی

    احمد عطا اللہ کی غزل گوئی بہ زبان فرہاد احمد فگار

    جب اردو ادب وشاعری لاوارث ہونے لگی تو پروانے اس کی ترویج کےلیے تن من سے میدان عمل میں اترتےرہے اوراترتے رہیں گے۔اندرونی و بیرونی سازشی اپنے وار چلاتی رہیں لیکن دیوانے اپنی ہی دھن میں مگن رہے اور اس کی آبیاری کرتے رہے۔ اردو ادب و شاعری دوسری زبانوں کی طرح ترقی کی منازل طے کرتی جارہی ہے. دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں اس کے دیوانے تن دہی سے اپنے کام میں مگن نظر آئیں گے۔ انھیں نہ تو کسی صلےکی پروا اور نہ ہی ستائش کی تمنا ہے۔ بس اپنے کام میں مگن اس کی ترویج کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔ اردو کےانھی دیوانوں میں ایک جنونی فرد فرہاد احمد فگار Farhad Ahmed Figar ہے۔جو نہ صرف اس زبان کی ترویج کے لیے کوشاں ہے بلکہ املا کے میدان میں بھی جان کھپا رہا ہے جو جان جوکھم کا کام ہے۔ اس محاذ پر خطۂ بے نظیر کشمیر سے یہ جنونی اس علم کو لے کر بہ جانب منزل ہی رواں دواں ہے۔ بالکل مجروح سلطان پوری کے اس شعر کے مصداق جس میں وہ اپنا مدعا بیان کرتے ہیں کہ:
    میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
    لوگ ساتھ آتے گئے اور کاروں بنتا گیا
    اب دیکھنا یہ ہے کب فرہاد احمدفگار کے ساتھ افراد ملتے ہیں اور کارواں بنتا ہے اور اردو املا کی ترویج میں ان کا ہاتھ بٹاتے ہوئے ایک جانثار فوج تیار ہوتی ہے۔

    احمد عطا اللہ کی غزل گوئی


    میری فرہاد سے بالمشافہ ملاقات تو نہیں لیکن ان کے کام نے مجھے ان کاگرویدہ بنا دیا ہے۔ میرا ان سے رابطہ بہ زریعہ واٹس اپ گروپ ہواجس میں انھوں نے میرے بھیجے گئے میسیج پر املا کی گوشمالی کر ڈالی . یورپ میں رہتے اردو زبان سے انگریزی زبان کی طرف مراجعت ایک قدرتی امر ہے لیکن اپنی قومی زبان اردو کوپسِ پشت ڈالنے کی سزا اور املا کی غلطی کی تصحیح پر زور دارگوشمالی فرہاد جیسا انسان جن کی اس کاز کے ساتھ مکمل وابستگی ہو وہ ہی کر سکتے ہیں۔ان کی اس گو شمالی پر مجھے نہ صرف اچھا لگا بلکہ اپنائیت کا احساس بھی ہوا۔ یہی بات ہماری جان پہچان کا باعث بنی۔میں نے یہ امید باندھ رکھی ہے کہ ان شاءاللہ زندگی میں ان سے بالمشافہ ملاقات کا شرف ضرورحاصل ہوگا۔

    figar and MK


    اب آگے بڑھتے ہوئے ان کی کتاب "احمدعطااللہ کی غزل گوئی” کے بارے میں اپنے تاثرات نذرِ قارئین کرتا ہوں۔اس کتاب نے مجھے بہت متاثر کیا. کتاب نے مجھے اپنی طرف بے ساختگی سے اردو ادب کی چاشنی کے زریعے راغب کیا اس کے علاوہ وادئ بے نظیر کشمیر کے منتخب شعرا کا تعارف گو کہ احمد عطا اللہ کی شاعری کے توسط سے لکھے ہوئے جملے تھے لیکن ان سب سے غائبانہ تعارف ہوتا چلا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ احمدعطااللہ کی غزل گوئی کے بارے علم میں اضافہ اور ذاتی وجدان بڑھنا شروع ہوا ۔میں فرہاد کا تہِ دل سے احسان مند ہوں کہ انھوں نے انتہائی سلیس اردو کی تمہید باندھتے ہوئے احمد عطا اللہ کی غزل پہ روشنی ڈالی۔ کتاب پڑھتے ہی احمد عطاا للہ کی شاعری کی کئی پرتیں کھلتی چلی گئیں اور ایک ایسا ہیولہ میرے سامنے آن کھڑا ہوا جیسے کہ میری احمد عطا اللہ سے ازلوں سے جان پہچان ہے اور ان کی شعری کو عرصۂ درازسے جانتا ہوں۔یہ صرف فرہاد کی مہارت تھی کہ کیسے لفظوں کےچناؤ سے تمام موتیوں کو ایک لڑی میں پروتے ہوئے ایک مالا تیار کی جس سے مجھ جیسا کم آہنگ انسان بھی لطف اندوز ہو نے پر مجبور ہوا یہ انھی کا خاصا ہے۔دل تو چاہتا ہے کہ ان کی تعریف میں رطب اللسان ہو جاؤں، وقت تھم جائے اور میں اپنی دل کی تمام باتیں سپردِ قلم کرتا چلا جاؤں۔ بس اسی پر اکتفا کرتا ہوں کہ اللہ کرے ذور قلم اور زیادہ۔
    احقر
    محمود خان
    ریٹائرڈ پرنسپل ہاؤسنگ آفیسر
    مانچسٹر، انگلینڈ

  • پھل دار درخت

    بساط اور فرہاد

    بساط اور فرہاد

    تحریر: ریاض ملک
    سینئر وائس چیئرمین
    بزمِ مصنّفین ہزارہ
    مجھے لگتا ہے کہ مجلہ ”بساط“ Bisaat کے ساتھ وادیئ نیلم کے فرہاد کا نام ایسے جُڑ جائے گا جس طرح لوک داستان شیریں فرہاد میں شاہ ایران کی ملکہ شیریں کے ساتھ سنگ تراش فرہاد کا نام جڑا ہے۔ فرق صرف اتنا ہوگا وہ داستانِ غم تھی لیکن اب کے جو داستان جنم لے گی جو زبانِ زدِ عام ہو گی وہ اردو ادب کی داستانِ فرحت ہو گی ”بساط اور فرہاد“۔ فرہاد سچے عاشق کو کہا جاتا ہے۔ ہمارا فرہاد بھی سچا عاشق ہے،اس کی محبوبہ نہایت ہی خوبصورت نین نقش والی ہے، جس کے ہونٹ گلاب کی طرح سرخ، گردن صراحی جیسی، جھیل جیسی نیلی آنکھیں، کشمیر کے سیب جیسے سرخ رخسار، نیلم دریا کی طرح بَل کھاتی زلفیں، دیودار جیسا قد، چاند چہرے والی کوئی اور نہیں وہ حسن کی ملکہ ”اردو“ ہے جس سے وادی نیلم کے پڑھاکو فرہاد کو عشق ہو گیا ہے۔ اور وہ عشق کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر علم و ادب کے موتی نکال نکال کر بساط میں جڑتے جا رہے ہیں۔

    پھل دار درخت


    یہ نہایت ہی خوشی کی بات ہے کہ بساط کا تیسرا مجلہ ایک بہت بڑی ادب کی قد آور شخصیت پروفیسر عبدالعلیم صدیقی کی یاد میں شائع کیا جا رہا ہے۔جنھیں حکومت پاکستان کی جانب سے 2007ء میں تمغائے امتیاز سے نوازا گیا ہے۔ اور پھر ان کا تعلق بھی آزاد کشمیر ضلع پلندری سے ہے۔ مجھے کشمیر اور کشمیر کے باسیوں سے کچھ زیادہ محبت اس لیے بھی ہے کہ میرے آباؤاجداد بھی وادئ نیلم کے گاؤں بٹمنگ سے نقل مکانی کرکے رچھ بہن ایبٹ آباد میں جا کر آباد ہوئے تھے۔
    گورنمنٹ بوائز انٹرکالج میرپورہ Govt . College Mirpura کا پہلا علمی و ادبی مجلہ 2020ء میں شائع ہوا۔ اس کے مدیر اعلا فرہاد احمد فگارFarhad Ahmed Figar تھے۔ کالج کے پرنسپل پروفیسر محمد رفیق کی سرپرستی میں یہ مجلہ شائع ہوا اس مجلہ میں ڈاکٹر خواجاعبدالرحمن ناظم اعلا تعلیمات کالجز آزاد کشمیرلکھتے ہیں کہ ”علمی و ادبی مجلے کا اجرا میرے لیے باعث مسرت ہے مجھے اس بات کا پورا ادراک ہے کہ کسی بھی ادارے سے اس طرح کے مجلے کا جاری ہونا نہایت اہمیت کا حامل ہے۔یہ ایک ایسا مرکز ہے جس سے طلبہ اپنی عملی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکتے ہیں اس سے طلبہ کے اندر شوق، لگن اور مثبت سرگرمیاں پروان چڑھتی ہیں۔“اس بات میں ذرہ برابر بھی شک کی گنجائش نہیں کہ درس گاہوں میں علم و ادب کی ترویج بزمِ ادب سے شروع ہوتی ہے اور پھر کالج اور یونی ورسٹیوں میں ان مجلوں کی وساطت سے پروان چڑھتی ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے سمت کا تعین ہوتا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرپورہ کالج ”بساط“ کا اجرا کرکے طلبہ کے علمی و ادبی ذوق کو پروان چڑھا رہا ہے۔
    دوسرا مجلہ بساط Bisaat 2021ء بھی پروفیسر محمد رفیق (پرنسپل) کی زیرسرپرستی ہی شائع ہوا۔ اس مجلے میں جاوید الحسن جاوید سیکرٹری پبلک سرورس کمیشن آزاد کشمیر نے اسے اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”یقینا یہ آزاد کشمیر کی علمی و ادبی نیز تحقیقی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔“ اسی طرح کالج کے پرنسپل اپنے پیغام میں لکھتے ہیں ”کالج کی انتظامیہ کی کوشش ہے نہ صرف نصابی سرگرمیوں کی طرف توجہ دی جائے بل کہ اس کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں کی طرف بھی بھرپور توجہ دی جائے۔ گاہے بہ گاہے تقریبات کا انعقاد اور یہ مجلہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔“ ساتھ ساتھ انھوں نے فرہاد احمد فگار اور بشارت کیانی کی کاوشوں کو بھی خوب سراہا ہے۔
    فرہاد احمد فگارFarhad Ahmed Figar پہلے مجلے میں یوں عرضِ فگار کرتے ہیں ”میں اس رسالے کی اشاعت پر ان تمام چاہنے والوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنھوں نے اس کی اشاعت میں کسی بھی طرح کا تعاون کیا ہے۔ میں نے اپنی ”بساط“ کے مطابق کام کیا اور طلبہ نے اپنی ”بساط“ کے مطابق، یوں سب کی بساطBisaat کو ہم نے ”بساط“ کی صورت دے دی۔ کوشش رہے گی اِن شاء اللہ آئندہ بھی اس رسالے کی اشاعت باقاعدگی سے جاری رہے۔
    فگار پھر بساط2022ء کا مجلہ شائع کرکے تجدیدِ عہد کر رہے ہیں کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ خوش قسمت ہیں وہ طالب علم جن کو اس دورافتادہ علاقے کے کالج میں فگار جیسے معلم ملے ہیں اور ”بساط“ Bisaatجیسے علمی ادبی مجلہ کا اجرا ہو رہا ہے، جس میں وہ اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔ ابتدا ہی میں اگر ایسا مضبوط مستند پلیٹ فارم میسر آ جائے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان پربتوں کی کوکھ سے بڑے بڑے لکھاری جنم لیں گے جو ملک و قوم کا نام روشن کریں گے۔

  • صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کا یوم پیدائش

    صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کا یوم پیدائش

    وہ مجھ سے ہوئے ہم کلام ﷲ ﷲ
    کہاں میں کہاں یہ مقام ﷲ ﷲ
    ۔۔۔۔۔۔
    معلم، شاعر، ادیب اور نقاد صوفی غلام مصطفیٰ تبسم 4 اگست 1899 کو امرتسر میں پیدا ہوئے جہاں ان کے بزرگ کشمیر سے آکر آباد ہوئے تھے، صوفی تبسم کے والد کا نام صوفی غلام رسول اور والدہ کا نام فاطمہ تھا۔ صوفی غلام مصطفی ان کا نام تھا اور تبسم تخلص۔ وہ چار بہن بھائی تھے جن میں صوفی تبسم سب سے بڑے تھے، ابھی صوفی تبسم معصوم بچے تھے کہ ان کی والدہ انھیں دیوان خانے سے باہر صحن میں لیے بیٹھی تھیں تو ایک جوگی جو اللہ سے لو لگائے ہوئے تھا وہاں سے گزرا،اس نے معصوم صوفی تبسم کو دیکھتے ہی شفقت کا ہاتھ ان کے سر پر رکھا اور ان کی والدہ سے کہا ’’اے بی بی! یہ بچہ بڑی قسمت لے کر پیدا ہوا ہے، یہ بڑا ہوکر بڑی شہرت اور ناموری حاصل کرے گا۔‘‘ پھر دنیا نے دیکھا یہ معصوم بچہ کل کا صوفی غلام مصطفی تبسم انیسویں صدی کا مشہور ومعروف معلم، شاعر، ادیب اور نقاد بنا۔
    صوفی غلام مصطفی تبسم نے ایف سی کالج لاہور سے بی اے جب کہ اسلامیہ کالج لاہور سے ایم اے فارسی کیا، بی ٹی سینٹرل ٹریننگ کالج لاہور،گورنمنٹ کالج لاہور میں اردو اور فارسی کے شعبے کے صدر رہے، صوفی تبسم کے کئی روپ تھے اور ہر روپ میں پسند کیے گئے، بحیثیت معلم شاگردوں کے ساتھ ان کا رویہ دوستانہ رہا، پرانے زمانے کے استادوں کی طرح وہ صرف استاد ہی نہیں تھے، مرشدوں والی صلاحیت بھی رکھتے تھے، صوفی تبسم کی ادبی خدمات کو بھلایا نہیں جاسکتا، انھوں نے تین زبانوں میں لکھا اور بہترین لکھا، اردو، پنجابی اور فارسی پر انھیں عبور حاصل تھا۔
    صوفی غلام مصطفی تبسم نے غالب کے فارسی کلام کا منظوم ترجمہ بھی کیا جوکہ ان کا بڑا کارنامہ ہے۔ فارسی کلام غالب کی شرح تحریر کی جو دو جلدوں میں چھپ چکی ہے۔
    اس کے علاوہ صوفی تبسم نے امیر خسرو کے فارسی کلام کا بھی منظوم ترجمہ کیا۔ یہ امیر خسرو کی 100 غزلوں کا ترجمہ تھا جو ’’دو گونہ‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ اس کی ایک غزل ’’یہ رنگینی نوبہار اللہ اللہ‘‘ گلوکارہ ناہید اختر کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا جس نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کردیے۔ اس کلام کی تاثیر ہمسایہ ملک تک بھی پہنچی اور بھارتی موسیقاروں نے فلم ’’جینا صرف میرے لیے‘‘ میں اسی کلام کو ’’مجھے مل گیا میرا پیار اللہ اللہ اللہ‘‘ کے الفاظ میں ریکارڈ کرلیا۔
    صوفی تبسم کی لکھی ہوئی 31 کتابیں مارکیٹ میں موجود ہیں۔
    صوفی تبسم نے غالب کی فارسی غزلوں کا پنجابی میں ترجمہ کیا جن میں سے ایک غزل گائیک غلام علی نے ’’میرے شوق دا نئیں اعتبار تینوں‘‘ گاکر خوب شہرت حاصل کی۔
    صوفی غلام مصطفیٰ تبسم نے بچوں کے لیے بھی بہت لکھا، بچوں سے بے حد محبت کرتے تھے، انھوں نے ایک بار یہ واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ’’میرے بچے اپنی ماں اور دادی جان سے کہانیاں سنتے، مگر آخر ایک دن ان کی والدہ نے انھیں میری طرف بھیجا کہ جاؤ آج والد سے کہانی سنو۔ میں نے دو چار دن تو کہانی سنائی مگر پھر میں نے بچوں سے کہا کہ میں آپ کو نظم سناسکتا ہوں اور یوں انھوں نے اپنی بیٹی ثریا کے لیے ایک نظم کہی
    ’’ثریا کی گڑیا نہانے لگی، نہانے لگی ڈوب جانے لگی، بڑی مشکلوں سے بچایا اسے، کنارے پہ میں کھینچ لایا اسے‘‘
    پھر ایک بچہ جو صوفی تبسم کے دوست عبدالخالق کا بیٹا تھا اور جو عموماً عجیب و غریب حرکتیں کرتا، اس بچے سے ایک کردار نے جنم لیا اور وہ مشہور و معروف کردار ’’ٹوٹ بٹوٹ‘‘ ہے جو آج بھی بچوں کے پسندیدہ کردار ہے اور گنگنایا جاتا ہے:
    ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ
    باپ تھا اس کا میر سلوٹ
    پیتا تھا وہ سوڈا واٹر
    کھاتا تھا بادام اخروٹ
    صوفی غلام مصطفیٰ تبسم قادر الکلام شاعر تھے، ان کی شاعری نصف صدی پر محیط ہے آپ محض اردو کے شاعر ہی نہیں بلکہ پنجابی اور فارسی کے بھی بلند پایہ شاعر تھے۔ آپ کے شعری ذوق کو فارسی سے خاص مناسبت تھی۔ صوفی تبسم کی شاعری میں محبت کے جذبات کی سچی اور صحیح ترجمانی ملتی ہے۔
    صوفی تبسم کو عشق ومحبت کے جذبات و احساسات کا اتنا واضح شعور تھا کہ وہ اپنے کلام میں جگہ جگہ ان جذبات و احساسات کی صحیح اور سچی تصویر کھینچ کر رکھ دیتے تھے۔ اس کی ایک واضح مثال ان اشعار میں بھی ملتی ہے:
    جب بھی دو آنسو نکل کر رہ گئے
    درد کے عنواں بدل کر رہ گئے
    زندگی بھر ساتھ دینا تھا جنھیں
    دو قدم ہمراہ چل کر رہ گئے
    صوفی تبسم کی بہت سی ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی حب الوطنی کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا اور اس کا اظہار انھوں نے 1965 کی جنگ میں متعدد جوشیلے اور پراثر جنگی ترانے لکھ کر کیا۔ ان کے لکھے جنگی ترانے آج بھی 1965 والا جذبہ سموئے ہوئے ہیں، خصوصاً ملکہ ترنم نور جہاں نے ان کے جنگی ترانے گاکر انھیں امر کردیا اور جو آج بھی زبان زدعام ہیں
    ’’اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے،
    میریا ڈھول سپاہیا تینوں ربّ دیا رکھاں،
    کرنیل نی جرنیل نی،
    ’میرا سوہنا شہر قصور نی،
    یہ ہواؤں کے مسافر، یہ سمندروں کے راہی‘‘
    ان جنگی ترانوں کو نور جہاں نے اپنی جادو بھری آواز میں کچھ اس انداز میں گایا کہ آج بھی ان نغمات کی گونج سے اٹھتے قدم ٹھہر جاتے ہیں۔
    صوفی غلام مصطفی تبسم کا علامہ اقبال کے ساتھ محبت اور عقیدت کا سلسلہ جو زمانہ طالب علم سے قائم ہوا، زندگی بھر رہا۔ 1932 میں صوفی تبسم نے علامہ اقبال کی زندگی میں ان کی شاعری کے لیے بہت کام کیا۔ انھوں نے علامہ اقبال کی شاعری کے عنوان سے ایک طویل مقالہ تحریر کیا، جسے علامہ اقبال نے بہت سراہا۔ اسی سال اورینٹل کالج لاہور میگزین میں صوفی تبسم نے علامہ اقبال کے حکم کی تعمیل میں نصیرالدین ہاشمی کی کتاب ’’یورپ میں دکنی مخطوطات‘‘ پر تبصرہ تحریر کیا۔ علامہ اقبال کی وفات کے بعد تو صوفی تبسم نے علامہ اقبال کی شاعری اور فکروفن کی تشریح وضاحت کے لیے اپنی زندگی کو وقف کردیا۔ انھوں نے فارسی، اردو، پنجابی میں جتنا کچھ لکھا اس کا ایک تہائی اقبالیات پر مشتمل ہے۔ اپنی عمر کے آخری سال تو صوفی تبسم نے صرف اقبالیات کے فروغ کے لیے وقف کردیے تھے۔
    فروری 1976 میں صوفی تبسم کی ان ہی خدمات کے پیش نظر انھیں اقبال اکادمی کا وائس پریذیڈنٹ مقرر کردیا گیا اور پھر آخری وقت تک وہ اس عہدے پر فائز رہے۔
    صوفی تبسم کی ان خدمات کے اعتراف میں پنجاب یونیورسٹی نے انھیں تمغہ پیش کیا،
    پھر علامہ اقبال پر بہترین کتاب تحریر کرنے والے ادیب کے لیے علامہ اقبال میڈل صوفی تبسم کو دیا گیا۔
    اقبال میوزیم لاہور نے مجسمہ اقبال دیا۔
    صوفی تبسم جب آرٹس کونسل لاہور کے چیئرمین بنائے گئے تو یہاں بھی انھوں نے اقبالیات پر بہت کام کیا۔ ہفتہ وار اقبال لیکچر اور تنقیدی مجالس کا اہتمام کیا، بلامبالغہ انھوں نے اقبالیات کی تشریح و ترقی کے سلسلے میں انتھک کام کیا۔
    اپنی زندگی کے سفر کے اختتام پر بھی صوفی تبسم اقبال میموریل فنڈ کے سلسلے میں ٹی وی پر قوم سے اپیل کرنے اسلام آباد گئے ہوئے تھے کہ واپسی پر لاہور ریلوے اسٹیشن پر اپنے شاگرد کے ہاتھوں میں وفات پائی۔
    صوفی تبسم کا ایک بڑا کارنامہ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ انھوں نے دفتری زبان اردو قائم کی جس میں دفتری زبان کی اصلاحات کو عام فہم اردو زبان میں منتقل کرنے کا اہتمام کیا۔ یہاں ان کے ساتھ سید وقار عظیم بھی موجود تھے۔
    صوفی تبسم پاکستان کرکٹ بورڈ کے پہلے چیئرمین بھی رہے اور انھوں نے شیکسپیئر کے مشہور ڈرامے ’’مڈسمر نائٹ ڈریم‘‘ کا ’’ساون رین کا سپنا‘‘ کے نام سے ترجمہ بھی کیا تھا جو بہت کم لوگوں کے علم میں ہے۔
    صوفی تبسم نے دو فلموں میں گانے بھی لکھے، جن میں ’’شام ڈھلے‘‘ فلم مشہور ہے۔ ان کے فلمی گیتوں میں بھی ادبی رنگ نمایاں رہا:
    سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی
    دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی
    اور یہ گیت:
    آگئی یاد شام ڈھلتے ہی‘ بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی
    صوفی غلام مصطفی تبسم 7 فروری 1978 کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے، لیکن وہ اپنی شاعری میں آج بھی زندہ ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔
    منتخب کلام

    قائدِ اعظم
    تیرے خیال سے ہے دل شادماں ہمارا
    تازہ ہے جاں ہماری، دل ہے جواں ہمارا
    تیری ہی ہمتوں سے آزاد ہم ہوئے ہیں
    خوشیاں ملی ہیں، ہم کو دل شاد ہم ہوئے ہیں
    تجھ سے ہی لہلہایا یہ گلستاں ہمارا
    پھرتے تھے ہم بھٹکتے، رستہ ہمیں دکھایا
    تُو رہنما ہمارا، تُو سارباں ہمارا
    تیرے ہی حوصلے سے طاقت ملی ہے ہم کو
    تیری ہی آبرو سے عزت ملی ہے ہم کو
    چمکا ہے تیرے دم سے قومی نشاں ہمارا
    اس دیس میں ابھی تک چرچا ہے عام تیرا
    جس شخص کو بھی دیکھا، لیتا ہے نام تیرا
    دل تیری یاد سے ہے اب تک جواں ہمارا
    ہم جو قدم اٹھائیں آتی ہے یاد تیری
    ہم جس طرف بھی جائیں آتی ہے یاد تیری
    تجھ سے رواں دواں ہے یہ کارواں ہمارا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نگاہیں در پہ لگی ہیں اداس بیٹھے ہیں
    کسی کے آنے کی ہم لے کے آس بیٹھے ہیں

    نظر اٹھا کے کوئی ہم کو دیکھتا بھی نہیں
    اگرچہ بزم میں سب روشناس بیٹھے ہیں

    الٰہی کیا مری رخصت کا وقت آ پہنچا
    یہ چارہ ساز مرے کیوں اداس بیٹھے ہیں

    الٰہی کیوں تن مردہ میں جاں نہیں آتی
    وہ بے نقاب ہیں تربت کے پاس بیٹھے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    غم نصیبوں کو کسی نے پکارا ہو گا
    اس بھری بزم میں کوئی تو ہمارا ہو گا

    آج کس یاد سے چمکی تری چشم پر نم
    جانے یہ کس کے مقدر کا ستارا ہو گا

    جانے اب حسن لٹاۓ گا کہاں دولت درد
    جانے اب کس کو غم عشق کا یارا ہو گا

    ترے چھپنے سے چھپیں گی نہ ہماری یادیں
    تو جہاں ہو گا وہین ذکر ہمارا ہو گا

    یوں جدائی تو گوارہ تھی یہ معلوم نہ تھا
    تجھ سے یوں مل کے بچھڑنا بھی گوارہ ہو گا

    چھوڑ کر آۓ تھے جب شہر تمنا ہم لوگ
    مدتوں راہ گزاروں نے پکارا ہو گا

    ایک طوفاں میں قریب آ گئی اپنی منزل
    ہم سمجھتے تھے بہت دور کنارا ہو گا

    مسکراتا ہے تو اک آہ نکل جاتی ہے
    یہ تبسمؔ بھی کوئی درد کا مارا ہو گا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی
    دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی

    اک لحظہ بہے آنسو اک لحظہ ہنسی آئی
    سیکھے ہیں نئے دل نے انداز شکیبائی

    یہ رات کی خاموشی یہ عالمِ تنہائی
    پھر درد اٹھا دل میں پھر یاد تری آئی

    اس عالم ویراں میں کیا انجمن آرائی
    دو روز کی محفل ہے اک عمر کی تنہائی

    اس موسمِ گل ہی سے بہکے نہیں دیوانے
    ساتھ ابرِ بہاراں کے وہ زلف بھی لہرائی

    ہر دردِ محبت سے الجھا ہے غمِ ہستی
    کیاکیا ہمیں یاد آیا جب یاد تری آئی

    چرکے وہ دیے دل کو محرومئ قسمت نے
    اب ہجر بھی تنہائی اور وصل بھی تنہائی

    جلووں کے تمنائی جلووں کو ترستے ہیں
    تسکین کو روئیں گےجلووں کے تمنائی

    دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے
    آغاز بھی رسوائی انجام بھی رسوائی

    دنیا ہی فقط میری حالت پہ نہیں چونکی
    کچھ تیری بھی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آئی

    اوروں کی محبت کے دہرائے ہیں افسانے
    بات اپنی محبت کی ہونٹوں پہ نہیں آئی

    افسونِ تمنا سے بیدار ہوئی آخر
    کچھ حسن میں بے باک کچھ عشق میں زیبائی

    وہ مست نگاہیں ہیں یا وجد میں رقصاں ہے
    تسنیم کی لہروں میں فردوس کی رعنائی

    آنکھوں نے سمیٹے ہیں نظروں میں ترے جلوے
    پھر بھی دلِ مضطر نے تسکین نہیں پائی

    سمٹی ہوئی آہوں میں جو آگ سلگتی تھی
    بہتے ہوئے اشکوں نے وہ آگ بھی بھڑکائی

    یہ بزمِ محبت ہے اس بزمِ محبت میں
    دیوانے بھی شیدائی فرزانے بھی شیدائی

    پھیلی ہیں فضاؤں میں اس طرح تری یادیں
    جس سمت نظر اٹھی آواز تری آئی

    اک ناز بھرے دل میں یہ عشق کا ہنگامہ
    اک گوشہء خلوت میں یہ دشت پنہائی

    ان مد بھر آنکھوں میں کیا سحر تبسم تھا
    نظروں میں محبت کی دنیا ہی سمٹ آئی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نظم
    زندگی ہے تو کوئی بات نہیں ہے اے دوست

    زندگی ہے تو بدل جائیں گے یہ لیل و نہار

    یہ شب و روز، مہ و سال گزر جائیں گے

    ہم سے بے مہر زمانے کی نظر کے اطوار

    آج بگڑے ہیں تو اک روز سنور جائیں گے

    فاصلوں ، مرحلوں راہوں کی جدائی کیا ہے

    دل ملے ہیں تو نگاہوں کی جدائی کیا ہے

    کلفت زیست سے انساں پریشاں ہی سہی

    زیست آشوب غم مرگ کا طوفاں ہی سہی

    مل ہی جاتا ہے سفینوں کو کنارا آخر

    زندگی ڈھونڈ ہی لیتی ہے سہارا آخر

    اک نہ اک روز شب غم کی سحر ہو گی

    زندگی ہے تو مسرت سے بسر بھی ہو گی

    زندگی ہے تو کوئی بات نہیں ہے اے دوست !
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (بشکریہ خالد محمود، نسرین اختر)

  • کشمیر

    کشمیر

    مرے کشمیر تیری پھر کہانی لکھ رہا ہوں میں
    لبوں کی پیاس اشکوں کی روانی لکھ رہا ہوں میں

    تمہارے پربتوں سے پیار کے چشمے نکلتے تھے
    تمہاری وادیوں میں آ کے کیا کیا دل سنبھلتے تھے
    محبت کی تھی ہو سو حکمرانی لکھ رہا ہوں میں

    پرندوں کی چناروں پر چہکنے کی صدائیں تھیں
    تیری الہڑ جوانی میں وفائیں ہی وفائیں تھیں
    تری گل پوش راہوں کی جوانی لکھ رہا ہوں میں

    مگر اب تو یہ عالم ہے بے بسی ہے التجائیں ہیں
    صدائے گھن گرج میں عزم و ہمت کی دعائیں ہیں
    ستمگر نے نہ اب تک ہار مانی لکھ رہا ہوں میں

    کہاں وہ زندگی جو خواب چنتی تھی ستاروں سے
    کہاں وہ روشنی جو پیار لاتی تھی بہاروں سے
    جو کھو بیٹھی ہیں وہ یادیں پرانی لکھ رہا ہوں میں

    صدائے جبر کی گرہیں کوئی تو آس کھولے گا
    کسی دن تو کوئی منصف ہمارے حق میں بولے گا
    نئے ڈھب کی ملے گی زندگانی لکھ رہا ہوں میں

    سعادت حسن آسؔ

    اٹک

  • علامہ محمد یوسف حقانی

    علامہ محمد یوسف حقانی

    سرمایہ اہل سنت، واعظ شیریں بیاں،  حضرت  علامہ مولانا   جناب محمد یوسف حقانی  صاحب  دام ظله العالی ، اٹک شہر کی  قدیم عظیم دینی و روحانی درسگاہ جامعہ قادریہ حقانیہ کے ناظم اعلی اور جامعہ مسجد نوری بادشاہ صاحبؒ کے امام و خطیب ہیں۔

    آپ انتہائی نفیس شخصیت کے مالک، باکردار اور وضع دار  انسان اور اہل سنت عالم دین  ہیں۔ میں نے انہیں ہمیشہ   تاجدار مدینہ ﷺ     کی محبت کا درس دیتے اور اتباع اولیائے کرام کا پیغام سناتے سُنا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر ان کے جملہ اوصاف کے ساتھ ساتھ  ان کی  خوش الحانی بہت پسند ہے، جب وہ نعت و سلام  بحضور سرور کائنات  رحمت عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پیش کرتے ہیں تو رقت و سرور کا ایک ناقابل بیاں  ماحول ہوتا ہے۔

    اس میگزین کی بنیاد رکھتے وقت  جو موضوعات میرے ذہن میں تھے ان میں سے ایک اہم ترین موضوع اٹک کی شخصیات کے احوال بھی تھا جس کے  ذیلی موضوعات میں اولیائے کرام ،اساتذہ کرام ، علماء و مشائخ  وغیرہ ہیں، علمائے کرام کی فہرست میں ایک نام  جناب یوسف حقانی صاحب کا بھی تھا،ذیل میں  ان کے احوال حیات جس قدر ممکن ہوسکے بیان کرتا ہوں۔

    آپ   ؁ 1968 ء میں آزاد جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ (موجودہ ضلع سندھنوتی) ، تحصیل پلندری ڈاک خانہ رحیم آباد کے موضع ڈھک میں پیدا ہوئے۔  آپ کے والد گرامی گل شیر خان ابن جمال الدین بن نواب خان ابن فتح علی اعوان قبیلے کے ایک زمیندار  دیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔  زمین داری کے ساتھ ساتھ تجارت بھی ان کا پیشہ تھا۔

    علامہ محمد یوسف حقانی

    ابتدائی  تعلیم  آپ نے پرائمری تک آبائی گاؤں موضع ڈھک کے اس وقت کے پرائمری اسکول ڈھک آزادکشمیر اور مڈل کے لیے گلہ چوکیاں مڈل اسکول تحصیل پلندری سے حاصل کی ۔ میٹرک پرائیویٹ  طور پر راولپنڈی بورڈ سے مکمل کی،  اسی دوران  آپ کو علماء و مشائخ اہل سنت کی مجالس میں بیٹھنے اور انہیں  سننے سے دینی مذہبی تعلیم کا شوق پیدا ہوا تو اس کےلیے چکسواری ضلع میر پور آزادکشمیر میں مدرسہ حنفیہ میں داخلہ لیا۔ ابتدائی قرآنی تعلیم  ، تجوید و ناظرہ وہاں پر پڑھا اور یہ تقریبا 82-1981 کا دور تھا۔ پھر 1984 میں اٹک جامع قادریہ حقانیہ میں آگئے۔دارالعلوم جامع قادریہ حقانیہ میں 1984 سے درس نظامی کا آغاز کیا جہاں سے الشہادۃ الثانویہ جامع الشہادۃ الثانویہ خاصہ ، الشہادۃ العالیہ ، الشہادۃ العالمیہ کا کورس آٹھ سالہ مکمل کیا اور دورہ حدیث عالمیہ سال دوم کا امتحان  تنظیم المدارس اہل سنت و جماعت پاکستان سے پاس کیا، اور الشہادہ العالمیہ (مساوی ایم۔اے اسلامیات) کی سند حاصل کی۔

    آپ کی ابتدائی اور ثانوی تعلیم  کے اساتذہ کرام میں تجوید و ناظرہ  قاری نور گل صاحب جامع حنفیہ چکسواری ضلع میر پور،عصری تعلیم میں جناب محمد قاسم صاحب ،محمد حنیف صاحب ،محمد صغیر صاحب ، محمد بشیر صاحب ، کرم خان صاحب ، ہیڈ ماسٹر محمد عارف صاحب ، محمد اعظم صاحب شامل ہیں۔ جب کہ اعلی تعلیم  میں آپ نے شیخ الحدیث حضرت علامہ محمد سلیمان شاہ صاحب آف جلالیہ چھچھ ، حضرت علامہ مفتی محمد غوث شاہ صاحب ، حضرت علامہ شیخ الحدیث عبدالباری صاحب ، حضرت علامہ صاحبزادہ پیر عبدالظاہر رضوی صاحب ، حضرت علامہ صاحبزادہ پیر عبدالعادل قادری بادشاہ صاحب ،  حضرت علامہ مفتی محمد نعمان صاحب غورغشتی ، حضرت علامہ امیر الرحمان صاحب صوابی ، حضرت علامہ غلام ربانی صاحب ہری پور سے کسب فیض کیا۔

    آپ کے سلسلہ طریقت اور بیعت کا احوال بھی بہت دلچسپ و راہنما ہے۔ سلاسل اربعہ میں سے ایک سلسلہ ہے،سلسلہ عالیہ قادریہ جس کی نسبت امام الاتقیاء الاصفیاء سید الاولیاء حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی الحسنی و الحسینی المعروف غوث الاعظمؒ کی طرف ہے تو اس سلسلہ میں بدست ا میر شریعت پیر طریقت غوث زمان حضرت پیر بادشاہ صاحب ؒآستانہ عالیہ قادریہ شریف آمین آباد اٹک کے دست حق پرست پر بیعت ہو کر داخل سلسلہ قادریہ ہوئے۔ داستان اس کی یوں ہے کہ تعلیم کے ابتدائی زمانے سے ہی آپ کو یہ شوق تھا کہ کسی کامل پابند شریعت محمدی ولی اللہ کی بیعت کی جائے، چونکہ حضرت پیر بادشاہ صاحبؒ فی الفور ہر کسی کو بیعت نہ کرتے تھے تو دائیں بائیں دور نزدیک تلاش کی مگر اطمینان قلب نہ ہوا جہاں کہیں حاضری ہوتی غور و خوض سے نظر پھرآکر آپ کی ذات پہ ہی ٹھہرتی آخر ایک دن عرض کرنے پر فرمایا کہ بام خیل شریف حضرت لالہ جی صاحب اور خواجگان بام خیل شریف کے مزارات پر حاضری دے کر آؤ تو آپ اپنے ایک ساتھی دوست مولانا محمد عزیز صاحب آزاد کشمیر رحیم آباد والے کے ساتھ وہاں تشریف لے گئے اور حاضری کے بعد واپسی پر درخواست پیش کی تو دونوں کو حضرت پیر بادشاہ صاحبؒ نے اپنے قادری سلسلہ میں بیعت کی سعادت بخشی اور کچھ اورادواسباق کا ارشاد فرمایا۔

    حضرت پیر بادشاہ صاحبؒ طلباء سے فرماتے کہ آپ کتاب کے ساتھ تعلق قائم رکھیں علم حاصل کریں اور پھرتصوف کے طرف رجوع کریں۔

    آپ بسلسلہ تبلیغ دین اندرون ملک مختلف شہروں کا سفر بھی کرتے رہتے ہیں۔ ؁ 2010 ء میں آپ کو سفر حرمین شریفین کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ تحریر و تحقیق بھی آپ کا مشغلہ ہے اور کئی ایک کتب زیر  قلم ہیں۔

    جامعہ قادریہ حقانیہ سے آپ کی وابستگی کو لگ بھگ 37 برس کا عرصہ ہو چکا ہے۔ آپ 1984ء کو یہاں تشریف لائے اور 1994 ء کی ابتدا میں فراغت کے بعد دستار بندی ہوئی اور تب سے اب تک آپ بحیثیت مبلغ، معلم،خطیب اور ناظم اعلی جامعہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

  • قلعہ اٹک ایک لاکھ روپے میں فروخت کر دیا گیا

    قلعہ اٹک ایک لاکھ روپے میں فروخت کر دیا گیا

    تحقیق و تحریر: راجہ نور محمد نظامی

    ماخذ: سہ ماہی ذوق

    شاہ افغانستان محمودشاہ درانی کے وزیر فتح خان اور پنجاب کے حکمران رنجیت سنگھ کے درمیان 1812ء میں قلعہ رہتاس ضلع جہلم میں معاہد ہوا ۔ جس کے ذریعے رنجیت سنگھ نے کشمیر کی مہم سرکرنے کے لئے دیوان محکم چند کی سرکردگی میں بارہ ہزار سپاہی بطور امداد اور راجوری وپیر پنجال سے گزرتے وقت افغان فوج کو تمام سہولتیں پہنچانے کا وعدہ کیا۔ اس کے عوض اسے کشمیر کے مال غنیمت سے نولاکھ روپے اور ملتان پر حملہ کرنے کے لئے ایک فوجی دستہ وزیر فتح خان نے دینے کا وعدہ کیا۔فروری 1812ء میں وزیر فتح خان نے کشمیر پر حملہ کیا ۔معاہدہ مذکور کی وجہ سے دیوان محکم چند کے زیر کمان بارہ ہزار کی فوج ہمراہ تھی ۔ایک زبردست جنگ کے بعد گورنرکشمیر عطا محمد خان کو شکست ہوئی ۔عطامحمدخان اور معزول شاہ کابل شاہ شجاع گرفتار کر لئے گئے ۔ دیوان محکم چند نے ان دونوں کو اپنے قبضے میں کر لیا۔ انگریزمورخ مرے لکھتا ہے کہ کشمیر پر چڑھائی سے پہلے ہی رنجیت سنگھ اٹک کے حاکم سردار جہاں داد خان سے ساز باز کر رہا تھا۔ رہتا س میں وزیر فتح خان سے ملاقات کے بعد لاہور روانگی سے پیشتر رنجیت سنگھ نے اپنی فوج کا ایک دستہ دریائے سندھ کے آس پاس دیا سنگھ کی زیر کمان متعین کر دیا تھا۔

    وزیر فتح خان کی کامیابی اور اپنے بھائی عطا محمد خان کی گرفتاری کی خبر سن کر سردار جہاں داد خان نے رنجیت سنگھ کو پیغام بھیجا کہ قلعہ اٹک کا سودا کرنے اور قبضہ کرنے کے لئے اپنے نمائندے بھیجے۔ رنجیت سنگھ نے فوری طورپر فقیر عزیز الدین کو قلعہ اٹک کا سودا کرنے اور قبضہ کرنے کے لئے بھیجا اور دیگر اشخاص بھی اس علاقے پر تسلط مضبوط کرنے کے لئے اس کے ساتھ تھے۔ اس نے کشمیر کی مہم کے لیڈر دیوان محکم چند کو حکم بھیجا کہ اٹک کی کارروائی کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی وہ لاہور پہنچ جائیںاور شاہ شجاع کو ہمراہ لائیں ان(سکھوں ) کے چلے جانے کے بعد اٹک کی کارروائی کا حال(وزیر فتح خان )کو معلوم ہواتو وہ بہت بگڑا اور غاصبانہ کارروائی پر بہت واویلا کیا۔اس بناء پر اس نے اپنے آپ کو ان شرائط پر پورا کرنے سے آزاد سمجھا جن کی رو سے اس نے سکھوں سے امداد لی تھی اور یہی سبب تھا کہ کشمیر میں حاصل کئے گئے مال غنیمت میںسے بھی سکھوں کو کوئی حصہ دیے بغیر چلتا کیا۔

    سوال یہ ہے کہ فتح خان کو اٹک پر قبضہ کا حال کشمیر سے محکم چند کی روانگی سے پہلے معلوم ہوا یا بعد میں ’’دوست محمد کی سوانح عمری ‘‘میں موہن لال لکھتا کہ سکھ سپاہی محکم چند نے وزیر فتح خان کو اس بات پر راضی کر لیا تھا کہ وہ غلام محمد خان کو اس کے ساتھ جانے کی اجازت دے اور غلام محمد خان ہی نے اپنے تیسرے بھائی جہاں داد خان والی ِ اٹک کو اپنا قلعہ سکھ حکومت کے ہاتھ بیچ ڈالنے پر زور دیا۔ رنجیت سنگھ نے قلعہ اٹک کے حاکم جہاں داد خان سے سازباز کر کے ایک لاکھ روپیہ کی معمولی قربانی کی بدولت قلعہ اٹک حاصل کر لیا۔ اس سلسلہ میں یہ بتانا مناسب ہو گا کہ رنجیت سنگھ کی فوجوں نے ۳۵۱۰من غلہ 439من گولہ بارود 70 بندوقیں اور کنڈے 4390من کوہستانی نمک اٹک کے قلعہ میں پایا اس طرح گویا سکھوں نے اہم جنگی مقام کو بہت ہی سستے داموں حاصل کر لیا ۔ یہ سب مارچ 1813ء میں ہواتھا۔

    منشی دیوی داس ،مت سنگھ ،بھرانیہ اور حکیم عزیز الدین نے اس ساز باز میں سکھوں کی طرف سے حصہ لیا۔ جاں دادخان حاکم اٹک کی طرف سے عبدالرحیم خان قلعہ دار اٹک نے سکھوں کی فوج کو قلعہ میں داخل ہونے دیا ۔وزیر فتح خان کو جب قلعہ اٹک پر سکھوں کے قبضے کا حال معلوم ہوا تو اس نے قلعہ واپسی کا مطالبہ کیا ۔ رنجیت سنگھ نے کہا کہ جب تک کشمیر کے مال غنیمت سے حصہ نہیں ملے گا قلعہ واپس نہیں کیا جائے گا۔ وزیر فتح خان کا موقف یہ تھا کہ سکھوں نے فتح کشمیر کے موقع پر بزدلی کا مظاہر کیا ہے ۔ لہٰذا وہ حصہ کے حق دار نہیں ہیں۔ انہی دنوں فتح خان کے وکیل گودڑ مل اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے درمیان قلعہ اٹک کی واپسی کے لئے ملاقات بھی ہوئی مگر مہارا جہ نے انکار کردیا۔ وکیل گودڑ مل کے جانے کے بعد دوسرے مہینے رنجیت سنگھ کو خبر ملی کہ فتح خان نے ایک بڑے لشکر اور توپخانہ کے ساتھ قلعہ اٹک کا محاصرہ کر لیا ہے ۔ غلہ رسد کی کمی ہے۔ سکھ فوج قلعے میں محصو رہوگئی ہے ۔ اور نہایت تنگی کی حالت میں ہے ۔اگر مہاراجہ نے خبر نہ لی تو تمام فوج فاقوں سے مر جائے گی ۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے فوری طور پر شہزادہ کھڑک سنگھ اور بھیارام سنگھ کی سرکردگی میں فوج روانہ کی جس نے سرائے کالا سے آگے حسن ابدال کی سرائے شاہجہانی میں قیام کیا یہاںسکھ فوج پرفتح خان کی فوجوں نے حملہ کر دیا جس میں سکھ فوج کو شکست ہوئی ۔

    اب دیوان محکم چند رنجیت سنگھ کے حکم پر خود کمک لے کر روانہ ہوا۔ اس کی رہنمائی میں سکھ فوج سرائے کالا سے حسن ابدال کی طرف بڑھی ۔فتح خان کی فوج نے حضر ومیں ڈیرہ ڈال رکھا تھا۔ دیوان محکم چند نے سرائے شاہجہانی حسن ابدال اور سرائے برھان میں فوج کا کیمپ لگایا۔ 11جوائی 1813ء میں قلعہ اٹک کی محصور فو ج کو سامان رسد اور غلہ مہیا کرنے کے لئے جب دیوان محکم چند سکھ سپاہیوںکے ساتھ آگے بڑھ رہاتھا تو موضع سیدن ہٹیاں مڈبھیر ہوگئی ۔فتح خان کے بھائی دوست محمد خان کی فوج نے اچانک سکھوںپر حملہ کر دیا۔ سکھوں کی طرف سے توپوں او ربندوقوں کے فائر کئے گئے۔ کافی کشت وخون ہوا۔سکھوں کے قدم اکھڑے ہی تھے کہ افغانوں نے لوٹ مارشروع کر دی جس سے فتح شکست میں بدل گئی۔ سکھ فوج افغانوں کا تعاقب کرتے ہوئے حضرو تک پہنچ گئی اور افغانوں کے ڈیروں کو لوٹ لیا۔ افغان فوج فاقہ کشی اور گرمی کی وجہ سے بھاگ گئی ۔ان میں سے اکثر سپاہی دریائے سندھ پارکرتے ہوئے ڈوب کر مر گئے ۔28جون 1813ء کو سکھوں نے ایک شاندار فیصلہ کن فتح حاصل کر لی ۔ جن افغان فوجوں نے قلعہ اٹک کا محاصرہ کیا ہوا تھا جب ان کو فتح خان کی شکست کا حال معلوم ہوا تو محاصرہ اٹھا کر چلی گئی اور دیوان محکم چند قلعہ اٹک میں آسانی سے داخل ہوگیا۔

    چھچھ کے میدان میں اس لڑائی کی اہمیت نظرانداز نہیںکی جاسکتی ۔ ہیوجل لکھتا ہے ’’مسلمانوں کی طاقت ہندوستان میں گھٹ رہی تھی۔ اٹک کی معمولی لڑائی کے بعد آخری مسلمان فوجی دستوں کو سندھ پار بھگا دیا گیا۔ نریند ر کرشن سہنا ہیوجل کے جواب میں لکھتا ہے اس کی یہ رائے بالکل گمراہ کن ہے ۔کسی لڑائی کی اہمیت اس میں لڑنے والے سپاہیوں کی تعداد پر منحصر نہیں ہوتی ۔ اگر فتح خان جیت جاتا تو اس کانتیجہ کیا ہوتا۔ جھنگ اور سندھ ساگر دوآبہ کے مسلمانوں سرداریقیناایک بار پھر کابل کی اطاعت کر لیتے اور قدرتی طورپر رنجیت سنگھ کی شکست پنجاب پر اس کے اقتدار کو کاری ضرب لگاتی۔چھچھ کے میدان میں اگر فتح خان کامیاب ہوجاتا تو یقینا ہندوستان میں اس کی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ۔ کشمیر جیسے خوش حال ملک کی آمدنی تالپور کے امیروں کا خراج پشاور اوراٹک پر متحدہ قبضہ ،افغانستان کی طاقت اور سکھوں پر اس کی شاندار جیت اس کی اتنی ہمت بڑھاتی کہ احمد شاہ کی چھوٹی وراثت کو مکمل طورپر دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ۔ چھچھ کی لڑائی میں افغانوںکی فتح سکھ قوم کی تاریخ میں اتنی ہی اہم ہوتی جتنی کہ شمال میں پانی پت کی تیسری لڑائی مرہٹوں کی تاریخ میں سمجھی جاتی ہے۔

    اس وقت پنجاب میں رنجیت سنگھ کی طاقت بہت زیادہ مضبوط نہ تھی ۔یہ شکست اس کے لئے تباہ کن ہی ثابت ہوتی ۔ سی ایم لطیف ہسٹری آف پنجاب میں لکھتا ہے لاہور میں رنجیت سنگھ نے اس فتح کی خوشی میں جشن عظیم الشان کیا۔ لاہور امر تسر اور وٹالہ میں بڑی دھوم دھام سے روشنی ہوئی ۔ اور دو ماہ تک لاہور میں اس فتح کا جو افغانوں پر سکھوں نے حاصل کی تھی ۔ خوشیاں منائی جاتی رہیں ۔ کنہیالال تاریخ پنجاب میںلکھتا ہے ۔ اس فتح کے حصول کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ کا کمال اعزاز ورتبہ بڑھ گیا اور کسی سرکش کو طاقت گردن اٹھانے کی نہ رہی۔

    ماخذات:

    (1) رنجیت سنگھ مصنف ،نریندرکرشن سہنا

    (2) تاریخ پنجاب، کنہیالال ہندی

    (3) تاریخ پنجاب مرتبہ، کلب علی خان فائق

    (4) تاریخ ہزارہ ،ڈاکٹر شیر بہادر پنی

    (5) تاریخ وادی چھچھ، سکندر خان

    (6) تاریخ حسن ابدال منظور الحق صدیقی

    (7) تاریخ پنجاب سید محمد لطیف

    (8) عمدۃ التواریخ لالہ سوہسن لال

    (9) ٹیکسلاطلوع  اسلا م کے بعد راجہ نور محمد نظامی (قلمی )