کشمیر

کشمیر

مرے کشمیر تیری پھر کہانی لکھ رہا ہوں میں
لبوں کی پیاس اشکوں کی روانی لکھ رہا ہوں میں

تمہارے پربتوں سے پیار کے چشمے نکلتے تھے
تمہاری وادیوں میں آ کے کیا کیا دل سنبھلتے تھے
محبت کی تھی ہو سو حکمرانی لکھ رہا ہوں میں

پرندوں کی چناروں پر چہکنے کی صدائیں تھیں
تیری الہڑ جوانی میں وفائیں ہی وفائیں تھیں
تری گل پوش راہوں کی جوانی لکھ رہا ہوں میں

مگر اب تو یہ عالم ہے بے بسی ہے التجائیں ہیں
صدائے گھن گرج میں عزم و ہمت کی دعائیں ہیں
ستمگر نے نہ اب تک ہار مانی لکھ رہا ہوں میں

کہاں وہ زندگی جو خواب چنتی تھی ستاروں سے
کہاں وہ روشنی جو پیار لاتی تھی بہاروں سے
جو کھو بیٹھی ہیں وہ یادیں پرانی لکھ رہا ہوں میں

صدائے جبر کی گرہیں کوئی تو آس کھولے گا
کسی دن تو کوئی منصف ہمارے حق میں بولے گا
نئے ڈھب کی ملے گی زندگانی لکھ رہا ہوں میں

سعادت حسن آسؔ

اٹک

سعادت حسن آسؔ

Next Post

5فروری ...تاریخ کے آئینے میں

ہفتہ فروری 5 , 2022
5فروری ...تاریخ کے آئینے میں
5فروری …تاریخ کے آئینے میں