Tag: کشمیر

  • افغانستان سے پاکستان پر حملے کرنے والی پراکسیز

    افغانستان سے پاکستان پر حملے کرنے والی پراکسیز

    افغانستان سے پاکستان پر حملے کرنے والی پراکسیز

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    پاک افغان تعلقات کی تاریخ شروع دن سے ہی کشیدگی، مفاہمت، اعتماد اور بداعتمادی کے متوازی ادوار پر مشتمل رہی ہے۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد جب 1947 میں پاکستان وجود میں آیا تو افغانستان واحد ملک تھا جس نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت کی تھی۔ اس تاریخی پس منظر میں دونوں ممالک کے درمیان ایک غیر مستحکم سرحدی تعلق ہمیشہ قائم رہا۔ 1979 میں سوویت یونین کی افغانستان پر جارحیت کے بعد پاکستان نے افغان عوام کی عملی و اخلاقی مدد کی، مگر اسی دوران "مجاہدین” اور بعد ازاں "طالبان” کے اثرات نے پاکستان کی داخلی سلامتی کو بھی براہِ راست متاثر کیا۔ آج جب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر افغانستان کی طالبان رجیم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف سرگرم پراکسیز کو لگام ڈالے، تو یہ محض ایک سفارتی بیان ہی نہیں بلکہ تاریخی حقائق اور خطے کی سلامتی سے جڑا ایک سنجیدہ انتباہ بھی ہے۔

    افغانستان ہمیشہ سے وسطی و جنوبی ایشیا کے درمیان جغرافیائی و اسٹریٹجک پُل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر 2001 میں امریکہ کی قیادت میں افغانستان پر حملے کے بعد یہ خطہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بن گیا۔ طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی (2021) کے بعد پاکستان نے ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی، لیکن توقعات کے برعکس افغانستان کی سرزمین دوبارہ دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنتی جا رہی ہے۔ ٹی ٹی پی، داعش خراسان اور دیگر گروہ پاکستان کے اندر بدامنی اور دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ کہنا کہ "طالبان رجیم کو ان پراکسیوں پر لگام ڈالنی چاہیے جو افغان سرزمین استعمال کر رہی ہیں”، دراصل خطے کی سلامتی اور پاکستان کی خودمختاری کا دفاعی بیانیہ ہے۔

    پاکستان نے قیام کے بعد سے اپنے دفاعی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ افواجِ پاکستان نے نہ صرف روایتی جنگوں میں دشمن کو شکست دی بلکہ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں بھی بے مثال قربانیاں دیں۔ آرمی چیف کے مطابق “ہماری فوج دو دہائیوں تک سب کنوینشنل میدانِ جنگ میں آزمودہ رہی ہے اور اب روایتی میدان میں بھی دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔” یہ بیان پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی "کریڈیبل ڈیٹرنس” کی بنیاد کو واضح کرتا ہے یعنی ایسا دفاعی توازن جو دشمن کو جارحیت سے روکے۔ پاکستان نے نہ صرف جدید ٹیکنالوجی، راکٹ سسٹمز، فضائی صلاحیت اور انٹیلیجنس نیٹ ورک کو بہتر کیا بلکہ اپنی عسکری تربیت میں اخلاقی اور قومی نظریات کو بھی مرکزی حیثیت دی ہے۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں بھارتی فوجی قیادت کو خبردار کیا کہ "جوہری ماحول میں جنگ کی کوئی گنجائش نہیں”۔ یہ انتباہ اس خطے کے حساس ترین مسئلے یعنی بھارت و پاکستان کے درمیان ایٹمی توازن سے جڑا ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں، مگر پاکستان کا مؤقف ہمیشہ دفاعی رہا ہے۔ بھارت کی جارحانہ پالیسیاں، مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی اور داخلی سطح پر اقلیتوں کے خلاف تشدد نے جنوبی ایشیا کے امن کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔
    فیلڈ مارشل کا یہ کہنا کہ "ہم اس مقدس سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کے حوالے نہیں کریں گے”، صرف عسکری عزم نہیں بلکہ قومی وحدت، خود اعتمادی اور حب الوطنی کا اعلان ہے۔

    پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ مظلوم اقوام کی حمایت پر مبنی رہی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے خطاب میں نہ صرف کشمیر بلکہ فلسطین کے مسئلے پر بھی پاکستان کے اصولی مؤقف کو دہرایا۔ کشمیر پر بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کا اعلان دراصل قائداعظم کے اس نظریے کا تسلسل ہے جس کے مطابق کشمیر پاکستان کی "شہ رگ” ہے۔
    اسی طرح فلسطین کے حوالے سے دو ریاستی حل اور القدس شریف کو دارالحکومت قرار دینے کی حمایت، پاکستان کے عالمی ضمیر اور امتِ مسلمہ کے ساتھ وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔

    افغانستان سے پاکستان پر حملے کرنے والی پراکسیز

    افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان نے توقع کی تھی کہ دہشت گرد گروہوں کو محدود کیا جائے گا، مگر حالیہ مہینوں میں پاکستان کے اندر ہونے والے حملے اس امید کے برعکس ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا انتباہ اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان اب مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔ تاریخی طور پر پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے استحکام کی حمایت کی ہے۔ افغان مہاجرین کی میزبانی سے لے کر تعمیرِ نو کے منصوبوں تک، پاکستان کا کردار مثبت رہا ہے۔ تاہم اگر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے تو یہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔

    خطے میں استحکام کے لیے پاکستان نے ہمیشہ متوازن سفارتی پالیسی اپنائی۔ چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری اور "چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC)” نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو مزید مستحکم کیا۔ اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ خاص طور پر حرمین شریفین کے دفاع کی مشترکہ حکمتِ عملی پاکستان کے لیے غیر معمولی اعزاز ہے۔
    فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ "مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کی جانب ایک قدم ہے۔” اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان صرف عسکری طاقت ہی نہیں بلکہ ایک "ریجنل سٹیبلائزر” کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں "Post Truth Era” کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ آدھے سچ اور جعلی خبروں سے گمراہ نہ ہوا جائے۔ یہ پیغام نہایت اہم ہے کیونکہ آج کی جنگ صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ سوشل میڈیا اور نفسیاتی محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہے۔ دشمن قوتیں پاکستان کے عوام اور افواج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے مقابلے کے لیے قومی یکجہتی، فکری استحکام اور میڈیا شعور کی ضرورت ہے۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خطاب محض ایک عسکری تقریب کی تقریر ہی نہیں بلکہ پاکستان کے قومی نظریے، دفاعی پالیسی اور خارجہ حکمتِ عملی کا جامع منشور بھی ہے۔ انہوں نے قوم کو یہ یقین دلایا کہ پاکستان کی افواج ہر محاذ پر تیار ہیں، دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے جائیں گے اور عوام و فوج کے درمیان رشتہ ایمان و وطنیت پر قائم رہے گا۔ یہ خطاب اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا، بلکہ یہ عزم اور استقلال کی نئی منزلوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ افغانستان، بھارت، کشمیر اور فلسطین کے تناظر میں یہ پیغام واضح ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اپنی خودمختاری پر کسی سودے بازی کے لیے تیار نہیں۔

    خلاصہ یہ ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بیان ایک جامع عسکری، سفارتی اور فکری دستاویز ہے جو نہ صرف پاکستان کی داخلی و خارجی پالیسیوں کی سمت طے کرتا ہے بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے اتحاد، امن اور مزاحمت کا پیغام بھی دیتا ہے۔ افغانستان کی طالبان حکومت کے لیے یہ پیغام ایک دوستی پر مبنی انتباہ ہے کہ پاکستان امن کا حامی ہے مگر اپنی سرزمین پر حملے کبھی بھی برداشت نہیں کرے گا۔

  • شنگھائی کانفرنس کا اختتامی اعلامیہ اور پاکستان کی خارجہ پالیسی

    شنگھائی کانفرنس کا اختتامی اعلامیہ اور پاکستان کی خارجہ پالیسی

    شنگھائی کانفرنس کا اختتامی اعلامیہ اور پاکستان کی خارجہ پالیسی

    Dubai Naama

    شنگھائی تنظیم دنیا کی 40 فی صد سے زیادہ آبادی کی نمائندہ ایک انتہائی طاقتور تنظیم ہے جس کا 25واں سربراہی اجلاس اختمام پذیر ہوا۔ اس تنظیم پر چین کا اثر و رسوخ زیادہ ہے اور چین ہمارا ہمسایہ اور دیرینہ دوست ملک ہے۔ لیکن اس کانفرنس کے اختتامی اعلامیہ میں پاکستان اور بھارت کو نہ صرف برابر اہمیت دی گئی، بلکہ کئی حوالوں سے یہ مشترکہ اعلامیہ ہمارے لیئے مایوس کن رہا کیونکہ اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کا حوالہ تو دیا گیا مگر بھارت میں پہلگام اور پاکستان میں دہشت گردوں کے حملوں کا ایک ساتھ ذکر کیا گیا۔ اگرچہ اس اعلامیہ میں توازن قائم کرنے کی کوشش کی گئی، مگر اعلامیہ کے مکمل متن سے ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں کو دہشت گردی کے ’’شریک مظلوم‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس حکمت عملی سے توازن قائم کرنے کی تو کوشش کی گئی مگر ہمارے لیئے جو اہم امور ہیں وہ سردست پس منظر میں چلے گئے ہیں۔

    شنگھائی تعاون تنظیم ایک ایشیائی سیاسی، اقتصادی اور عسکری تعاون کی تنظیم ہے جسے چین کے شہر شنگھائی میں سنہ 2001ء میں چین، روس، قازقستان، کرغستان اور ازبکستان کے رہنماؤں نے قائم کیا۔ یہ تمام ممالک شنگھائی پانچ کے اراکین کہلائے۔ جب 2021ء کے آخر میں ازبکستان اس میں شامل ہوا، تب اس تنظیم کا نام بدل کر "شنگھائی تعاون تنظیم” رکھ دیا گیا۔ 10 جولائی 2015ء کو اس میں پاکستان اور بھارت کو بھی شامل کیا گیا۔ ہم پاک چین دوستی کا ہمیشہ دم بھرتے ہیں اور ایسا کرنا بھی چایئے۔ پاک بھارت حالیہ جنگ میں پاکستان کی تاریخی کامیابی کے پس پردہ چین کا تعاون بھی شامل تھا۔ اس کے باوجود شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا چین کے شہر تیانجن میں منعقدہ اجلاس ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان کو اپنی سفارتی حکمت عملی کو متوان کرنے پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

    حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستانی فتح نے دنیا بھر میں پاکستان کے تشخص کو غیرمعمولی طور پر اجاگر کیا ہے۔ بھارت کے مقابلے میں امریکہ کا جھکاو واضح طور پر پاکستان کی طرف ہو گیا ہے اور امریکی صدر ہر سطح پر بھارت کی سرزنش اور پاکستان کی تعریف کرتے نظر آ رہے ہیں۔ جبکہ مغربی ممالک اور روس میں بھی پاکستان کے لیئے نرم گوشہ پیدا ہوا ہے۔ جبکہ شنگھائی تنظیم کے اجلاس میں بھارت کے ساتھ پاکستان کے تنازعات کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی ہے۔ اعلامیہ میں کہیں بھی پاکستان کے بنیادی مسئلے یعنی بھارت کی جانب سے "آبی جارحیت” اور بالخصوص سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کو بھارت کی طرف سے معطل کرنے اور اس میں ردوبدل کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، اور نہ ہی بھارت کی یکطرفہ کارروائی کے تحت آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کو "بھارتی اکھنڈ یونین” میں ضم کرنے، کا کوئی ذکر موجود ہے۔ یہاں تک کہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت، جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کے تحت تسلیم کیا گیا ہے، کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے۔

    شنگھائی کانفرنس کا اختتامی اعلامیہ اور پاکستان کی خارجہ پالیسی

    اس مشترکہ اعلامیہ میں بھارت کے لئے ان مسائل کا غیر موجود ہونا ایک سفارتی کامیابی ثابت ہوا۔ نہ صرف نئی دہلی کو کشمیر میں اپنی غیر قانونی کارروائیوں پر کسی تنقید سے بچا لیا گیا بلکہ پاکستان کے خدشات کو مؤثر طور پر پس پشت ڈال دیا گیا۔ مئی کی جھڑپ کے دوران بھارت کے پاکستان پر بلااشتعال حملے پر ایس سی او کی خاموشی اور مکمل تحقیقات کی عدم موجودگی نے مزید بھارت کے حق میں پلڑا جھکا دیا ہے۔ اس کے برعکس، پہلگام حملے کو نمایاں طور پر اجاگر کیا گیا تاکہ بھارت کے بیانیئے کو عالمی توجہ ملے جبکہ پاکستان کا مؤقف دب کر رہ گیا۔ بے شک چین اور روس ایک دوسرے کے زیادہ قریب آ رہے ہیں اور بھارت کے روس پر اثرات کی وجہ سے چین نے اعلامیہ کو متوازن رکھا۔ لیکن اس وقتی جھکاو کو انتہائی سنجیدہ لیا جانا چایئے اور ہماری وزارت خارجہ کو سوچنا چایئے کہ چین کے ساتھ خارجہ پالیسی کے میدان میں کہاں کمی بیشی رہ گئی ہے۔ یہ عدم توازن ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا چین واقعی پاکستان کا ’’ہمہ موسم دوست‘‘ ہے؟ پاکستان کے اندر موجود کمیونسٹ نواز لابی طویل عرصے سے بیجنگ کو ایک قابلِ اعتماد اور وفادار شراکت دار کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ لیکن ایک ایسے فورم میں جہاں چین کا اثر و رسوخ نمایاں ہے، پاکستان کے قومی مفادات، بالخصوص کشمیر اور آبی سلامتی کو نمایاں کیا جانا مقصود تھا۔ یہ کسی بھول چوک کا نتیجہ نہیں بلکہ اس امر کی عکاسی ہے کہ کثیرالجہتی فورمز میں بھارت کتنا وزنی کردار رکھتا ہے اور پاکستان کا ایک ہی شراکت دار پر انحصار کس قدر محدودیت پیدا کرتا ہے۔

    یہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کا ذکر بھی ضروری ہے، جنہوں نے کھلے عام تسلیم کیا کہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک تنازعہ ہے اور اس کے غیر حل شدہ ہونے کو واضح طور پر مانا۔ ٹرمپ کے اس مؤقف نے کشمیر کے مسئلے کو دوبارہ عالمی منظرنامہ پر اجاگر کیا اور اسے بین الاقوامی سفارتکاری کے ایوانوں تک پہنچا دیا۔ یہ اعتراف، اگرچہ مختصر ہے، تاہم یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بااثر عالمی رہنماؤں کی وضاحت کسی بھی "بیانئے” کو بدل سکتی ہے۔ یہ ایسا بنیادی کام ہے جو شنگھائی تنظیم کے اعلامیہ میں نظر آنا چایئے تھا۔

    خارجہ پالیسی کی از سرِ نو ترتیب ناگزیر ہے، ایسی حکمت عملی جس میں چین کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے امریکہ، یورپ اور مسلم دنیا کے ساتھ روابط کو مضبوط بنایا جائے تاکہ پاکستان کے قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اس میں ہمارے لیئے سبق واضح ہے کہ کثیرالجہتی فورمز پر پاکستان کے مسئلے اس وقت تک اجاگر نہیں ہوں گے جب تک اسلام آباد خود انہیں وضاحت، حکمت عملی اور تسلسل کے ساتھ آگے نہ بڑھائے۔

  • دھرتی کے علاوہ گزارہ نہیں ہونا

    دھرتی کے علاوہ گزارہ نہیں ہونا

    دھرتی کے علاوہ گزارہ نہیں ہونا


    اشوک کمار "خاموش” ،تھرپارکر

    جناب فرہاد احمد فگار کے اس شعر سے بات آغاز کرتے ہیں۔

    دھرتی کے علاوہ تو گزارا نہیں ہونا
    رہنا ہے مجھے خاک ستارہ نہیں ہونا

    وہ ٢٩ جون سن ٢٠٢٥ع کی ایک خوب صورت شام تھی اور بارش رُک رُک کر برس رہی تھی. موسم بالکل ایسا ہی تھا جیسے محبوب اپنی شرارتی اور نخریلی نگاہوں سے دیکھتا ہو.
    ہم وادئ کشمیر کے محبوب دریائے جہلم کے کنارے پر آباد شہر مظفر آباد کی سپریم کورٹ چوک چھتر کے قریب ایک پہاڑی پر موجود مہربان طبیعت میڈم خضرا منظور کے بہت پُر آسائش اور اچھی سروس کے ساتھ بہت صاف ستھرے ماحول والے سیون الیون گیسٹ ہاؤس میں موجود تھے۔گیسٹ ہاؤس کا سارا اسٹاف بہت مہرباں تھا اور نئے آدمی سے ایسے پیش آتے جیسے صدیوں پرانا تعلق جڑا ہوا ہے. خیر……!
    آزاد جموں کشمیر میں میرا یہ پہلا بسیرا تھا۔سیون الیون گیسٹ ہاؤس میں ہم یہاں کشمیر کے ایک معروف اور بڑے شاعر ، نقاد، محقق اور نام ور استاد محترم  ڈاکٹر فرہاد احمد فگار  صاحب کا انتظار کر رہے تھے۔
    فرہاد احمد فگار صاحب کا اردو ادب میں بڑا نام ہے۔آپ گورنمنٹ بوائز انٹر کالج ٹھیریاں ضلع مظفرآباد میں اردو کے لیکچرار ہیں۔ اردو غزل کے بہترین شاعر کے ساتھ نقاد اور محقق بھی ہیں۔آپ کی نعت کا ایک شعر ہے کہ :

    گاؤں آباد ہوئے، شہر بسے، آپؐ آئے
    دشت گلزار بنے، پھول کھلے، آپؐ آئے

    جیسے ہی بارش تھوڑی سی رکی تو محترم فگار صاحب تشریف لائے۔ گیسٹ ہاؤس کےباہر رک کر مجھے کال کی اور کہا کہ موسم بہت اچھا ہے اور چلیں باہر کہیں چائے پیتے ہیں.
    میں نے اپنے دوستوں کو بھی باہر بلایا اور آپ کے ساتھ چل پڑے۔
    سبز پہاڑیوں اور دریائے جہلم کی بانہوں میں بسے ہوئے شہر مظفرآباد کی خوب صورت سڑکوں پر گذرتے ہوئے شہر سے باہر چرواہا کے مقام پر دریا کے کنارے ایک خوب صورت ہوٹل "مہمان سرائے” پر آ پہنچے۔
    چائے کا آرڈر دے کر ہم گفت گو میں محو ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد چائے اور باقرخانی آئی۔ ہم نے چائے کے ساتھ باقرخانی بھی کھائی۔ باقرخانی کشمیر کی مشہور سوغات ہے جو پراٹھے کی طرح ہوتی ہے اور چائے کے ساتھ کھائی جاتی ہے۔ یہ بہت لذیذ اور مزے دار ہوتی ہے۔

    دھرتی کے علاوہ گزارہ نہیں ہونا

    اس سے بھی جو زیادہ مزے دار بات تھی وہ یہ تھی کہ قریب ہی سے دریائےجہلم کی لہروں کا ہلکا سا شور تھا اور ساتھ میں سر فرہاد احمد فگار صاحب کی پُر وقار گفت گو تھی۔ آپ کے اندازِ گفت گو میں قدرت نے ایک ایسی موسیقی رکھی ہے بس کیا کہیں………!
    آپ بات کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ جیسے ہوا کے جھونکے کے ساتھ پہاڑوں سے گرتے ہوئے چشمے کی مدھم آواز آ رہی ہو۔ ہر بات ایک دلیل کے ساتھ اور ہر دلیل ایک خوب صورت شعر کے ساتھ۔
    اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے اردو ادب کا وسیع مطالعہ کیا ہے۔ اردو کے بہت پرانے اشعار زبانی یاد ہیں۔
    مطالعے کے ساتھ حافظہ بھی کمال کا ہے۔
    جنت کے ٹکڑے جیسی خوب صورت وادئ کشمیر کے مشکوک موسم اور رک رک کر برستی بوندوں کے ساتھ ہم بھی واپس گیسٹ ہاؤس پر آ ٹھہرے۔

    حضور آپ پہ قربان ہے یہ تن، من، دھن
    زبان ہی سے نہیں، دل سے ہم یہ کہتے ہیں
    فرہاد احمد فگار

    رات ہوتے ہی ایک اور دوست سالک محبوب اعوان بھی تشریف لائے۔ آپ بھی دو تین کتب کے خالق ہیں۔ آپ میرے لیے بھی کتب کا تحفہ لائے۔ نہ صرف ان کے نام میں محبوب لفظ ہے بل کہ آپ ایک محبوب شخصیت کے مالک بھی ہیں۔ آپ کے اندازِ گفت گو سے محبوبیت کی خوش بُو آ رہی تھی۔ فرہاد صاحب کا ایک شعر ہے کہ :

    میں کنارے پہ رات کاٹوں گا
    شجرِ غم کے پات کاٹوں گا

    اب رات کے کھانے کا وقت ہو چکا تھا اور ہم ساتھ میں گیسٹ ہاؤس کی پہاڑی سے اترے اور لوئر چھتر دریا کے کنارے پر آئے۔ رات کی مدھم روشنی اور دور دور تک پھیلی ہوئی بتیوں کی بارش، کہیں اوپر تو کہیں نیچے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ہم آسمان پر سفر کر رہے ہیں۔ ہم دریا کے کنارے ایک ایسی جگہ پر رکے جہاں پہاڑ کے اندر سے بنائی ہوئی سرنگ سے دریائے کنہار آ کہ دریا جہلم سے ایسے چھپ چھپ کر مل رہا تھا جیسے ایک عاشق چھپ چھپ کر اپنے محبوب سے ملتا ہے۔ لہروں کا ہلکا سا شور جیسے کہ کوئی ستار کی تاروں سے راگ پہاڑی چھیڑ رہا ہو…..!

    یہ تصور ہی تسلی مجھے دیتا ہے فگارؔ
    چھٹیاں ہوں گی تو جاؤں گا حسن کی جانب
    فرہاد احمد فگار

    سارا نظارا دیکھ کر ہم سر فرہاد احمد فگار صاحب کے گھر پہنچے۔ آپ کے والد صاحب، بڑے بھائی شہزاد احمد اور چھوٹے چھوٹے بچوں نے ہمارا خیر مقدم کیا۔
    ہم نے اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھایا۔ گھر کا بنا ہوا بہت لذیذ کھانا کھا کر اور کشمیری بھائیوں کا اپنا پن دیکھ کر بہت سکون محسوس ہوا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ہمارا صدیوں پرانا تعلق ہے۔

    کھانا کھانے کے بعد سالک صاحب اور فگار صاحب ہمارے ساتھ گیسٹ ہاؤس تک آئے اور آتے وقت ہم نے پہاڑی کے اوپر پی سی ہوٹل سے مظفرآباد شہر کا نظارہ کیا۔ ہم لوگ بہت لطف اندوز ہو کر واپس آئے۔
    صبح جیسے ہی آنکھ کھلی تو ایک اور دوست کی کال آئی اور کہنے لگے کہ سر جی آپ سے ملنا بھی ہے اور ناشتا ہمارے ساتھ کرنا ہے۔ وہ تھے عتیق الرحمان صاحب!
    ہم کمرے سے نیچے آئے اور عتیق الرحمان صاحب سے ملاقات کی.
    کچھ دیر گپ شپ کے بعد فگار صاحب بھی آ پہنچے۔ ہم نے ساتھ میں مل کر ناشتا بھی کیا۔
    وہی اندازِ گفت گو، وہی شعروں کی برسات، ثقافتی باتیں، موسیقی، دریاؤں کی کہانیاں، کتابوں کے حوالے موضوع ِگفت گو تھے۔
    آخر کار الوداع کا وقت آ گیا اور ہماری کچہری کے موضوعات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
    آخر میں سر فرہاد احمد فگار صاحب نے مجھے اپنی کچھ کتابیں تحفے میں دیں.
    سالک محبوب صاحب، عتیق الرحمان صاحب اور فرہاد احمد فگار صاحب نے ہمیں اتنا اپنا پن دیا کہ ہمارے پاس دینے کے لیے اجرک اور سندھی ٹوپی کے علاوہ اور کوئی بھی قیمتی چیز نہ تھی.
    تو میں نے اجرک اٹھائی اور سر فرہاد احمد فگار صاحب اور عتیق الرحمان صاحب کے کندھوں پر رکھ دی.
    ان کے لبوں پر ایک لافانی مسکان دیکھ کر محسوس ہوا کہ ایک ثقافت دوسری ثقافت سے بے تحاشا پیار کرتی ہے۔
    میں دل میں یہ خیال لے کر الوداع ہوا کہ مجھے وادئ کشمیر ہمیشہ سندھو ماتھری کی طرح عزیز رہے گی اور دریائے جہلم مجھے سندھو دریا جیسا محبوب لگے گا.

    اور ہمارا سفر دریائے جہلم سے الوداع ہو کر دریائے کنہار کے کنارے سے رواں تھا. اب ہمیں گڑھی حبیب اللہ سے ہو کر وہاں سے بالاکوٹ جانا تھا.
    بلند پہاڑیاں، پہاڑیوں سے ڈبکیاں لگاتے ہوئے بادل، نانگن کی طرح بل کھاتی سڑکیں، چاروں طرف بکھرے ہوئے ہرے بھرے رنگ ، ان رنگوں میں بھری خوش بُو، ساتھ ساتھ بہتا ہوا دریا، دریا میں گنگناتا ہوا پانی، پانی میں ناچتی ہوئی لہریں، لہروں پر تیرتے ہوئے عکس، ٹھنڈی ہوائیں ، لوکل ٹرانسپورٹ کا مزا، سادہ سے لوگ، یہ سب نظارے ہمارے سفر کے ساتھی تھے. آخر میں ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کی ایک غزل:

    کوئی دیوار اٹھائی نہ کوئی در رکھا
    اینٹ کو تکیہ کیا ریت کو بستر رکھا

    پہلے آنکھوں میں ترا عکس اتارا میں نے
    اور ان آنکھوں کو شیشے میں سجا کر رکھا

    اس سے تسکین نہیں ہوگا اضافہ دکھ میں
    دشت کا نام اگر ہم نے سمندر رکھا

    پھول بھجوائے کبھی شعر کیے نام ترے
    ہم نے اے شخص تجھے یاد ہے اکثر رکھا

    درمیاں اپنے فقط روح کی دوری بچی تھی
    ہم نے پھر بھی ترے پہلو میں نہیں سر رکھا

    ورنہ ہر اگلا قدم پیچھے ہٹاتا مجھ کو
    شکر صد شکر کہ کچھ دھیان نہ گھر پر رکھا

    مشورہ چاہیے تھا کل ترے بارے میں مجھے
    نہ ملا کوئی تو آئینہ برابر رکھا

  • بچھڑنا ہے تو خوشی سے بچھڑو

    بچھڑنا ہے تو خوشی سے بچھڑو

    بچھڑنا ہے تو خوشی سے بچھڑو


    تحریر: احمد قریشی


    26 اپریل2025ء ہفتے کی صبح ہمارے تعلیمی ادارے(گورنمنٹ بوائز انٹر کالج ،ٹھیریاں، مظفرآباد )میں ایک شان دار اور پروقار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کا مقصد دوازدہم کو کالج میں اپنا عرصہ بہترین انداز میں گزارنے پر یہاں سے الوداع کرنا تھا۔ کالج کے ہونہار طلبہ و طالبات کے اعزاز میں ان کی تعلیمی محنت و کاوشوں کو سراہنا اور ان کے آئندہ کی زندگی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرنا تھا۔ یہ تقریب تعلیمی سفر کے اختتام کی غم گین اور خوشی کے ملی جلے جذبات کی آئینہ دار تھی۔ اس موقعے پر ہر طالب علم اور ہر استاذ کے دل میں یادیں اور امیدیں در آئی تھیں۔
    تقریب کا آغاز بہت ہی روح پرور انداز میں ہوا، جب دواز دہم کے طالب علم محمد حذیفہ نے خوب صورت الحان کے ساتھ تلاوتِ کلامِ پاک کی۔ ان کی آواز نے محفل کو معطر کر دیا اور ایک روحانی فضا پیدا کی۔ اللہ کی بے پایاں رحمتوں اور برکات کا ذکر کرنے والی آیاتِ قرآنی نے تقریب میں برکتوں کا رنگ بھر دیا۔ اس کے بعد احمد شریف نے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نعت پیش کی۔ ان کی دل نشین آواز اور آخری نبی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عقیدت کے پھول نچھاور کرنے والے کلمات نے سامعین کے دلوں کو جھنجھوڑ دیا۔ ہر شخص خود کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں ڈوبتا محسوس کر رہا تھا۔
    تقریب میں طلبہ و طالبات نے اپنی مختلف صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔ مختلف تقاریر، مزاحیہ خاکے اور مزاح کے مختلف آئٹم پیش کیے گئے۔ طلبہ اور طالبات نے پروفیسر صاحبان سے الگ الگ سوال کیے۔ کچھ طلبہ نے ڈراما کیا اور مکالمے بھی کیے۔ ہر کسی نے چہرے پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کیجس نے محفل کو اور بھی خوش گوار بنا دیا۔
    ان سرگرمیوں نے حاضرین کو نہ صرف محظوظ کیا بلکہ ان میں محنت کا جذبہ پیدا کرنے کے ساتھ ان میں اپنے تعلیمی سفر کے حوالے سے یادیں تازہ کر دیں۔طلبہ کی پرجوش آوازوں نے محفل کو گرمایا اور ایک یادگار موقع بنا دیا۔

    بچھڑنا ہے تو خوشی سے بچھڑو


    وقت کی قلت کو سامنے رکھتے ہوئے تقریب میں صرف تین اساتذہ نے خیالات کا اظہار کیا۔ اسٹیج سیکرٹری حفصہ ایمان نے سب سے پہلے استاد محترم پروفیسر سید طارق علی بخاری صاحب کو دعوت دی۔ جنھوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ لمحہ آپ کے لیے بہت یاد گار ہے۔ آپ نے یہاں جو دو سال مکمل کیے آج آپ یہاں سے جدا ہو رہے ہیں۔ کچھ بچے خوش اور کچھ غم زدہ ہوں گے لیکن یہ زندگی کا اصول ہے کہ سب نے مل کر بچھڑنا ہوتا ہے۔ طارق بخاری صاحب نے طلبہ کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس کے بعد اردو کے ہر دلعزیز استاد فرہاد احمد فگار  صاحب کو دعوت دی گئی۔ فرہاد سر نے حسب عادت ایک شعر سے اپنی بات کا آغاز کیا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ جو وقت گزر گیا وہ گزر گیا۔ اب آپ اپنی تمام تر توجہ امتحان پر مرکوز کریں اور دلجمعی سے امتحان کی تیاری کریں ۔ فگار صاحب نے بتایا کہ محنت کرنے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے کوئی بھی نالائق نہیں ہوتا آپ طلبہ کا مسئلہ صرف غفلت ہے۔ انھوں نے طلبہ کو ایک مشہور آدمی کا محنت کے حوالے سے واقعہ بھی سنایا جو بہت سست تھا لیکن ایک دن غیرت کھانے کے بعد وہ گولڈ میڈلسٹ ہو گیا۔ اس کے بعد سربراہ ادارہ پروفیسر راجا تنویر احمد خان صاحب کو طلبہ سے خطاب کرنے کی دعوت دی گئی۔ پرنسپل صاحب نے طلبہ سے وابستہ اپنی امیدوں کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں مکمل کوشش کر رہا ہوں کہ یہ ادارہ ڈگری کالج بن جائے۔ تنویر صاحب نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ مکمل محنت سے اپنا امتحان دیں اور کامیابی حاصل کریں۔ انھوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ آپ نے اپنا تعلیمی سفر ادھورا نہیں چھوڑنا بلکہ اسے تکمیل کو پہنچانا ہے۔
    انھوں نے کہا کہ: "علم کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا، اور زندگی کے ہر مرحلے پر سیکھنے کی جستجو برقرار رکھنی چاہیے۔” انھوں نے طلبہ کو یہ نصیحت کی کہ وہ مستقبل میں آنے والے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے اپنی خود اعتمادی کو بڑھائیں اور اپنے علم کو عمل میں ڈھالیں۔ ان کا کہنا تھا کہ علم انسان کو باہمت بناتا ہے اور یہ دنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ پروفیسر صاحب نے طلبہ کو محنت اور عزم کی طاقت کو سمجھانے کی کوشش کی تاکہ وہ اپنی زندگی میں درپیش مسائل کا حل نکال سکیں۔
    تقریب کے اختتام پر ایک شان دار ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ ہمارے استاد محترم ڈاکٹر جواد اعوان صاحب نے بہت لذید بریانی بنوا کر لائی تھی۔ اس ضیافت میں تمام طلبہ، اساتذہ اور انتظامیہ نے ایک ساتھ خوش گوار لمحوں کا لطف اٹھایا۔ یہ ایک خوب صورت موقع تھا جب سب نے اپنی محبتوں، یادوں اور نیک تمناؤں کا تبادلہ کیا۔ اس کے بعد یادگاری تصاویر بنوائیں گئی تاکہ اس دن کو ہمیشہ کے لیے یاد رکھا جا سکے۔
    یوں یہ خوب صورت اور یادگار الوداعی تقریب دعاؤں، نیک تمناؤں اور دلوں میں گزرے لمحوں کی یادیں چھوڑتے ہوئے اپنے اختتام کو پہنچی۔ طلبہ و طالبات نے اپنی محنت اور کامیابیوں کی ایک نئی کہانی لکھی اور اس دن کو ہمیشہ کے لیے اپنی یادوں میں محفوظ کر لیا۔ اس خوب صورت تقریب نے سب کو اپنے تعلیمی سفر کی اہمیت اور اس کے اثرات کا دوبارہ ادراک کروایا۔

  • پاکستانی جشن آزادی اور قونصل جنرل کی تعیناتی

    پاکستانی جشن آزادی اور قونصل جنرل کی تعیناتی

    پاکستانی جشن آزادی اور قونصل جنرل کی تعیناتی

    تحریر: عبدالوحید خان، برمنگھم (یوکے)  

    اگست کا مہینہ وطن عزیز پاکستان کی آزادی اور قیام کے حوالے سے بڑی اہمیت کا حامل ہے اور امسال معرکہٕ حق میں پاکستان کی اپنے سے کئی گنا بڑے روایتی دشمن بھارت سے باقاعدہ جنگی فتح کی وجہ سے جشنِ آزادی کی خوشیاں مزید بڑھ گئی ہیں یہی وجہ ہے کہ برطانیہ کے مختلف شہروں کی طرح سب سے زیادہ پاکستانی آبادی والے شہر برمنگھم میں بھی جشن آزادی کی تقریبات کا سلسلہ ماہِ اگست کے آغاز سے جاری ہے اور لگتا ہے کہ جشن آزادی کے پروگرام برمنگھم اور گردونواح میں اگست کا پورا مہینہ ہی جاری رہیں گے- 

    جشن آزادی کی خوشیوں میں مڈلینڈ میں آباد پاکستانیوں کے لۓ پاکستان قونصلیٹ آفس برمنگھم میں کافی عرصے بعد مستقل قونصل جنرل کی تعیناتی مزید باعثِ خوشی ہے کہ بڑے عرصے بعد مستقل قونصل جنرل کی تعیناتی عمل میں آ گئی ہے اور تجربہ کار سفارتکار فہد امجد نے پاکستان قونصلیٹ آفس برمنگھم میں بطور قونصل جنرل چارج سنبھال کر اگست کی سات تاریخ سے اپنا کام شروع کردیا ہے-

    پاکستانی جشن آزادی اور قونصل جنرل کی تعیناتی

    فہد امجد قبل ازیں جنوبی افریقہ میں پاکستان کے ڈپٹی ھائی کمشنر تعینات رہے ہیں جہاں وہ قائم مقام ھائی کمشنر کی ذمہ داری بھی ادا کرتے رہے ہیں- انکی برمنگھم میں تعیناتی کو پاکستانی کمیونٹی نے سراہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ وہ کمیونٹی کی جائز شکایات کا ازالہ کریں گے اور روزانہ کی بنیاد پر کمیونٹی کی سروسز میں مزید بہتری لائیں گے-

    کہا جاتا ہے کہ پاکستان سے باہر سب سے زیادہ پاکستانی اگر کسی ایک شہر میں آباد ہیں تو وہ برمنگھم شہر میں آباد ہیں جہاں کے کئی گلی کُوچے تو باقاعدہ پاکستان کا منظر پیش کرتے ہیں اور اسی بنا پر کئی احباب برمنگھم کو مِنی پاکستان پکارنا اور لکھنا شروع ہو گۓ ہیں بلکہ مقامی کھینچا تانی اور ایک دوسرے کے خلاف سیاسی حربے بھی پاکستان کی طرح ہی کے استعمال ہوتے ہیں لیکن جب کوئی پاکستان کے خلاف بات کرے تو یقیناً دُکھ ہوتا ہے اسی لۓ قائداعظم ٹرسٹ کے چئیرمین راجہ محمد اشتیاق برملا کہتے ہیں کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں اور پاکستان ہماری آن بان شان اور ایمان کا حصہ ہے- 

    ان دِنوں سٹی کونسل برمنگھم کے لارڈ مئیر چوہدری ظفر اقبال ایم بی ای ہیں جنکا آبائی علاقہ میرپور آزادکشمیر ہے ان سے پہلے بھی کئ پاکستانی و کشمیری نژاد کونسلر لارڈ مئیر آف برمنگھم کی ذمہ داری ادا کر چکے ہیں جن میں نمایاں نام خواجہ محمود حسین، مرحوم چوہدری عبدالرشید جے پی، سید شفیق شاہ، چوہدری محمد افضل، مرحوم چوہدری محمد عظیم کے ہیں- 

    فہد امجد نے برمنگھم میں اپنی آمد کے پہلے روز ہی قائداعظم ٹرسٹ کے زیراہتمام 14 اگست یوم آزادی پاکستان کے حوالے سے منعقدہ جشن آزادی پاکستان کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور تقریب سے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ مل کر پاکستان کے لۓ کام کریں گے کیونکہ اس وقت پوری دنیا کی نظریں پاکستان کی طرف ہیں اور ہر حوالے سے عالمی سطح پر پاکستان کو زبردست کامیابیاں مل رہی ہیں جس پر اوورسیز کمیونٹی کو پہلے سے بڑھ کر وطن عزیز کے مثبت امیج اور پاکستان کی نیک نامی کے لۓ کام کرنے کی اشد ضرورت ہے-

    پاکستانی جشن آزادی اور قونصل جنرل کی تعیناتی

    قائد اعظم ٹرسٹ یوکے کے زیر اہتمام جشن ازادی کی اس شاندار تقریب کی صدارت چیئرمین قائد اعظم ٹرسٹ راجہ محمد اشتیاق نے کی جبکہ برمنگھم میں نو تعینات پاکستانی قونصل جنرل فہد امجد کے ساتھ گوجر خان سے بر سر اقتدار جماعت مسلم لیگ نون کے رکن صوبائی اسمبلی راجہ شوکت عزیز بھٹی اور جہلم سے سابق رکن صوبائی اسمبلی چوہدری ندیم خادم مہمانان خصوصی تھے- 

    تقریب میں پاکستانی کمیونٹی کی سرکردہ شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور میزبان و مہمانان خصوصی کے علاوہ ڈاکٹر طارق سمیع، حاجی شیر بہادر خان، بیرسٹر عمر بنیامین، شاہد نواز، علاٶالدین قادری، شفقت رضا، عبدالوحید خان، رب نواز چغتائی، سردار خان چوہان نے تقریب سے خطاب کیا جبکہ قادریہ ٹرسٹ کے چئیرمین پیر طیب الرحمٰن قادری نے وطن عزیز پاکستان کی سلامتی، بقإ، ترقی اور خوشحالی کے لۓ خصوصی اجتماعی دعا کروائی- 

    تقریب کے اختتام پر پاکستان کی آزادی کی سالگرہ کی خوشی میں کیک بھی کاٹا گیا اور فُضا پاکستان زندہ باد، قائداعظم زندہ باد اور افواج پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی- 

    پاکستانی قونصل جنرل فہد امجد کی برمنگھم آمد کے بعد یہ کمیونٹی کی پہلی تقریب تھی جس میں انہوں نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی- تقریب کے تمام مقررین نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا جن کی بے مثال قیادت اور انتھک کوششوں کی بدولت برصغیر پاک و ہند کے محکوم مسلمانوں کو آزادی نصیب ہوئی- 

    مقررین نے افواج پاکستان کو بھی شاندار خراج تحسین پیش کیا جس نے دس مئی کو آپریشن بنیان مرصوص جسے بعد میں معرکہٕ حق کا نام دیا گیا ہے میں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکستِ فاش دے کر جشن آزادی کی خوشیوں کو دوبالا کر دیا ہے- 

    پاکستانی جشن آزادی اور قونصل جنرل کی تعیناتی

    سٹی کونسل برمنگھم کے تعاون سے پاکستان قونصلیٹ آفس برمنگھم نے ”سّپِرَٹ آف پاکستان“ کے تحت کونسلر وسیم ظفر کی سربراہی میں پورا ھفتہ جشنِ آزادی پاکستان کے مختلف رنگا رنگ پروگرام منعقد کۓ جن میں لارڈ مئیر آف برمنگھم چوہدری ظفر اقبال ایم بی ای، پاکستانی ھائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل، قونصل جنرل فہد امجد، وائس قونصلر محترمہ بختاور میر، سینئر پارلیمینٹیرین خالد محمود مرزا سابق ایم پی، آزاد ممبر پارلیمنٹ بیرسٹر ایوب خان، ایم پی طاہر علی، کونسلروں، کمیونٹی رہنماٶں، پاکستانی و کشمیری کمیونٹی نے بڑی تعداد میں شرکت کی- 

    سَپِرٹ آف پاکستان ھفتہ جشنِ آزادی پروگراموں پر کچھ حلقوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر اور کمیونٹی اجتماعات میں دھیمے انداز میں تنقید بھی کی گئ اور پاکستانی صحافت سے وابستہ مقامی صحافیوں کی چپقلش بھی سامنے آئی جبکہ ایم پی طاہر علی کی ایک پرانی وڈیو بھی موضوع گفتگو بنی رہی جس میں وہ اپنا آبائی تعلق کشمیر سے جوڑتے اور پاکستان سے فاصلہ کرتے دکھائی اور سُنائی دئیے ایسے میں پاکستانی ھائی کمیشن کی بنفس نفیس برمنگھم آمد اور لیبر پارٹی کے سینئر پارلیمنٹیرین، پانچ مرتبہ ایم پی رہنے والے سابق ایم پی خالد محمود مرزا کے گھر دعوت ظہرانہ میں شرکت نے کمیونٹی کو جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا یہاں پر پاکستانی ھائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل کی انگلش میڈیا پر انڈیا اور پاکستان کے مابین جنگ کے دنوں میں پاکستانی موقف کو بھرپور انداز میں اجاگر کرنے پر نہ صرف انکی تعریف بنتی ہے بلکہ یہ کہوں تو غلط نہیں ہو گا کہ حکومتی سطح پر انکو باقاعدہ قومی اعزاز کے لۓ نامزد کرنا چاہئے تھا- (ختم شد)

  • میرا کالج: ٹھیریاں آزاد کشمیر

    میرا کالج: ٹھیریاں آزاد کشمیر

    میرا کالج: ٹھیریاں آزاد کشمیر


    ایمن معروف


    کالج انگریزی زبان کا لفظ ہے اور اردو میں اس کے معنی ” مدرسہ ” کے ہیں ۔ ہر مدرسے کا بنیادی مقصد یہی ہوتا ہے کہ فرد کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا جائے اور معاشرت کے ڈھنگ سکھائے جائیں۔
    یہ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں بچوں کو علم و تہذیب، اخلاق، نظم و ضبط اور معاشرتی رویوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔ تا کہ وہ ایک اچھے شہری اور نیک انسان بن سکیں۔
    میرا کالج ٹھیریاں گاؤں میں واقع ہے۔ جس کا نام گورنمنٹ بوائز انٹر کالج ہے ۔ اس کالج کے پرنسپل پروفیسرراجا تنویر احمد خان ہیں۔ ان ہی کی کوششوں سے 2018ء میں اس کو کالج کا درجہ ملا۔ پہلے یہ ہائی سکول ہوا کرتا تھا ۔ گاؤں کے لوگوں کی سہولت کے لیے عدالتی فیصلے کے بعد اس کو کالج بنا دیا گیا۔
    میرے کالج کی عمارت نہیں بنی ہوئی ابھی اس کے لیے جگہ خریدی گئی ہے۔ جو خستہ حال عمارت ہے اس میں ایک ہال ہے اور پانچ کمرے ہیں۔ ایک پرنسپل آفس ہے۔ اسی میں اساتذہ کے لیے آرام دہ کرسیاں رکھی ہوئی ہیں جہاں فارغ اوقات میں بیٹھتے ہیں۔ کالج میں ایک لائبریری، کمپیوٹر لیب اور لیبارٹری بھی ہے لیکن چوں کہ عمارت نہیں اس وجہ سے یہ مکمل فعال نہیں ۔ کالج کے آگے ایک باغ ہے ، جس میں طرح طرح کے درخت، پودے ، پھل اور پھول لگائے گئے ہیں۔ ہمارے کالج میں کھیلنے کے لیے میدان بھی ہے جہاں کالج کے طلبہ کرکٹ اور دیگر کھیل کھیلتے ہیں۔ میرے کالج میں بیس اساتذہ ہیں۔ تمام اساتذہ میرے پسندیدہ ہیں۔ جن میں سے چند ایک کا ذکر کروں گی ۔ سب سے پہلے ساجد اقبال رشی میرے پسندیدہ سر ہیں جو فزکس کے ایڈہاک لیکچرار ہیں ۔بہت ہی اچھا پڑھانے والے، ہر چیز ایسے سمجھاتے تھے جو فورا سمجھ میں آ جاتی تھی ۔ پھر پروفیسر سفیر حسین بھٹی صاحب ریاضی کے لیکچرار ہیں۔آپ پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ بھٹی صاحب میرے پسندیدہ سر ہیں بہت ہی محنتی استاد جنھوں نے ہمارے ساتھ بہت محنت کی۔ پھر پروفیسر فاروق صاحب، جو انگریزی کے ایڈہاک لیکچرار ہیں۔ میرے پسندیدہ سر جنھوں نے ہمارے لیے سب کے لیے بہت کچھ کیا ۔کالج کے ہر کام میں پرنسپل صاحب کے شانہ بہ شانہ کھڑے رہے۔ پھر پروفیسر طارق بخاری صاحب میرے پسندیدہ اساتذہ میں شامل ہیں ۔مطالعہ پاکستان کے لیکچرار ہیں۔ انھوں نے ہمیں بہت کم عرصہ پڑھایا لیکن بہت اچھا پڑھایا۔ پھر ڈاکٹر جواد رشید اعوان صاحب جو کمپیوٹر کے لیکچرار ہیں۔ جواد صاحب نے کمپیوٹر سائنسز میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔ ہمارے ساتھ بہت محنت کی۔بہت محنتی سر ہیں۔ پھر جماعت یاز دہم میں ہمارے اردو کے لیکچرار عاقب شہزاد تھے میرے پسندیدہ سر تھے ۔جنھوں نے ہمیں بہت کچھ سکھایا۔ان کے اس کالج سے جانے کے بعد سب افسردہ تھے۔لیکن ہمیں کیا معلوم تھا کہ سر عاقب کے جانے کے بعد اللہ پاک ہمیں ایسی شخصیت سے نوازے گا جو ہمارے لیے بہت ہی قابلِ عزت اور قابلِ احترام ہوں گے ۔ جنھوں نے آتے ہی کالج میں بہت سی تبدیلیاں کیں۔پہلی مرتبہ کالج کا پراسپیکٹس چھاپا اور کالج لوگو تیار کیا۔ساتھ ہی کالج میگزین پر بھی کام شروع کیا۔ انھوں نے ہمیں اردو میں وہ کچھ سکھایا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں سیکھا تھا اور وہ معروف شخصیت لیکچرر اردو ڈاکٹر فرہاد احمد فگار ہیں۔ آپ کئی کتب کے مصنف بھی ہیں۔فگار صاحب میرے پسندیدہ سر ہیں۔ میرے لیے میرے سب اساتذہ قابلِ فخر ہیں۔ اللہ پاک سب کو سدا خوش رکھے۔
    ہمارے کالج میں بہت اچھی پڑھائی ہوتی ہے۔ تمام اساتذہ بچوں کے ساتھ بہت محنت کرتے ہیں اور محبت سے پیش آتے ہیں۔ کالج میں بچوں کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ ان کی تفریح کا بھی خیال رکھتے ہیں۔

    میرا کالج: ٹھیریاں آزاد کشمیر


    ہمارے پرنسپل صاحب جو نہایت ہی محنتی اور عظیم انسان ہیں ۔جنھوں نے اس کالج کو بہتر بنانے کے لیے بہت جدوجہد کی ۔جنھوں نے خود بھی اس کالج سے ( جب یہ ہائی اسکول تھا ) سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ اب اسی کالج میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور بیماری کے باوجود اس کالج کی بہتری اور اس کی ترقی کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں۔ ہمارے کالج کی عمارتیں نہیں بنی ہوئی، بہت سے ملحقہ علاقے جیسے کہ بنیہ، نڑاں، چمن کوٹلی اور اردگرد کے تمام علاقوں سے بچے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔ کالج کی جو عمارت بنی ہوئی ہے اسے کالج کے اسٹاف ، گاؤں کے لوگوں اور کالج کے طلبہ نے مل کر اپنی مدد آپ تحت بنایا۔
    کسی بھی کالج کی عمارتیں خواہ کتنی ہی شان دار کیوں نہ ہوں اس کی کام یابی کا اپنا معیار ہوتا ہے کہ وہاں تدریس کا کیا حال ہے اور وہاں کا نظم و ضبط کیا ہے۔
    ان باتوں کا عمدہ معیار اساتذہ پر ہوتا ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ میرا کالج ان دونوں اعتبار سے مثالی ہے۔
    میرے کالج کا ماحول صاف، پرسکون اور سیکھنے کے لیے بہت موزوں ہے۔ اس کالج میں دور دور سے بچے پڑھنے کے لیے آتے ہیں۔ہمارے کالج میں ہر سال تقریری مقابلے، نعت خوانی، کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں۔
    مجھے اپنے کالج سے بہت محبت تھی اور ہمیشہ رہے گی۔ کیوں کہ اس نے مجھے علم ،ادب اور عزت دی ۔
    مجھے اس بات کا احساس ہے کہ میں نے اپنے کالج کا جو حال لکھا ہے وہ ایک عام آدمی کے لیے ضرور حیرت انگیز ہو سکتا ہےکیوں کہ گاؤں میں شہروں کی نسبت زیادہ سہولیات میسر نہیں ہوتی اور ہمارے کالج میں بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔گاؤں میں ہونے کی وجہ سے زیادہ سہولیات میسر نہیں لیکن امید ہے کہ کچھ ہی عرصے میں یہاں کے پرنسپل صاحب اور اساتذہ کرام کی کوششوں سے ہمارا کالج ضرور ترقی کرے گا۔ محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی ایک دن ضرور رنگ لاتی ہے۔
    میری دعا ہے کہ میرا کالج ترقی کرے اور یہاں سے نکلنے والے طلبہ ملک و ملت کا نام روشن کریں۔۔

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کی قرارداد

    اقوام متحدہ میں پاکستان کی قرارداد

    اقوام متحدہ میں پاکستان کی قرارداد

    ڈاکٹر رحمت  عزیز خان  چترالی

    بین الاقوامی تنازعات کا پرامن حل اقوام متحدہ کے قیام کا بنیادی مقصد تھا۔ 1945ء میں اقوام متحدہ کی بنیاد ہی اس اصول پر رکھی گئی تھی کہ دنیا کو ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے بجائے گفت و شنید، ثالثی، عدالتی فیصلے اور دیگر پُرامن ذرائع کے ذریعے تنازعات سے بچایا جائے۔ تاہم وقت کے ساتھ، یہ نظریہ کمزور ہوتا چلا گیا اور بڑی طاقتوں نے اقوام متحدہ کو اپنے مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ بنا لیا۔ مشرقِ وسطیٰ، افریقہ، جنوبی ایشیا اور مشرقی یورپ میں جاری تنازعات اور عالمی اداروں کی بے عملی اس کی واضح مثالیں ہیں۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں رواں ماہ پاکستان کو صدارت حاصل ہوئی جس کے تحت نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے "تنازعات کے پُرامن حل کے ذریعے بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ” کے موضوع پر ایک جامع بحث کا آغاز کیا۔ اس بحث کا نتیجہ پاکستان کی پیش کردہ ایک متفقہ قرارداد کی صورت میں نکلا، جو سلامتی کونسل کے تمام اراکین کی تائید سے منظور ہوئی۔

    یہ قرارداد اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 33 اور 36 کے عین مطابق ہے، جن میں بین الاقوامی اختلافات کو گفت و شنید، ثالثی، پنچایت، عدالتی فیصلے اور دیگر پرامن ذرائع سے حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ پاکستان کی اس قرارداد میں اسی اصول کو دوبارہ مؤثر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

    پاکستان کی قرارداد کا مکمل اتفاقِ رائے سے منظور ہونا عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کامیابی ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان نہ صرف عالمی امن و سلامتی کے لیے سنجیدہ ہے بلکہ وہ سفارتی محاذ پر اپنی اہمیت کو بھی منوا رہا ہے۔

    قرارداد کی منظوری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا مختلف جنگوں، جارحیتوں، اور نسل کشی جیسے واقعات کا شکار ہے۔ خصوصاً غزہ، یوکرین، سوڈان، اور کشمیر جیسے خطے عالمی بے حسی کی بدترین مثالیں بن چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے غزہ میں اسرائیلی مظالم پر تشویش اس قرارداد کے سیاق و سباق کو مزید تقویت دیتی ہے۔

    اگرچہ قرارداد کی منظوری ایک خوش آئند پیش رفت ہے، تاہم اقوام متحدہ کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ محض قراردادیں عالمی طاقتوں کے سامنے مؤثر ثابت نہیں ہوتیں جب تک ان کے ساتھ عملی اقدامات نہ ہوں۔ عراق، شام ، کشمیر اور فلسطین جیسے کئی خطوں میں قراردادیں موجود رہیں مگر عملدرآمد نہ ہو سکا۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کی قرارداد

    پاکستانی دفتر خارجہ کی یہ بات درست ہے کہ اس قرارداد کے ذریعے پُرامن حل کے طریقہ کار کو مزید مؤثر اور مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو بین الاقوامی ثالثی اداروں، عالمی عدالتِ انصاف اور غیر جانب دار ثالثی پلیٹ فارمز کو زیادہ فعال کردار دینا ہوگا۔

    پاکستان کی قرارداد میں جو خوبصورتی ہے وہ اس کا جامع اور کثیرالسمت ہونا ہے، لیکن اصل چیلنج اس کی عملی شکل میں نفاذ ہے۔

    سلامتی کونسل کی مستقل نشستیں رکھنے والے ممالک (ویٹو پاور) ہی اکثر ایسے تنازعات میں فریق ہوتے ہیں یا کسی فریق کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ ان کی موجودگی میں قرارداد کے نفاذ کی راہ میں کئی رکاوٹیں ہیں۔

    موجودہ عالمی نظام انصاف کے بجائے طاقت کی بنیاد پر استوار ہے۔ جب تک طاقت ور ممالک کو جواب دہ نہیں بنایا جاتا، تب تک پُرامن تنازعات کے حل کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

    صرف قرارداد کافی نہیں، اس پر عمل درآمد کے لیے ٹائم فریم، اسٹریٹیجک پلانب اور مانیٹرنگ میکنزم بھی لازمی ہیں۔

    عالمی ثالثی کونسل، عدالتی پلیٹ فارمز اور غیر جانب دار تنظیموں کو مزید اختیارات دے کر بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے مرکزی کردار دیا جائے۔

    پاکستان کو چاہیے کہ وہ دیگر ترقی پذیر ممالک، اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، اور عدمِ وابستہ تحریک (NAM) کے ذریعے اس قرارداد کو ایک عالمی تحریک کی شکل دے۔

    صرف قراردادیں نہیں بلکہ جارح ریاستوں پر سفارتی، تجارتی، اور عسکری پابندیاں عائد کرنے کی پالیسی اپنائی جائے۔

    پاکستان کو اپنی قرارداد کے پیغام کو عالمی میڈیا، تعلیمی اداروں، پالیسی تھنک ٹینکس اور عالمی کانفرنسوں میں عام کرنا چاہیے تاکہ اس کو ایک نظریاتی تحریک کا روپ دیا جا سکے۔

    پاکستان کی اقوام متحدہ میں منظور شدہ قرارداد ایک بڑی سفارتی اور اصولی کامیابی ہے، مگر اس کامیابی کو حقیقی ثمر آور بنانے کے لیے مؤثر، فعال اور مربوط حکمت عملی درکار ہے۔ اگر عالمی برادری نے اس قرارداد کو سنجیدگی سے نہ لیا تو طاقت، جبر اور ظلم کا دور مزید گہرا ہو جائے گا۔ ضرورت اس امر کی  ہے کہ عالمی امن کے لیے طاقتور اقوام پر اخلاقی دباؤ ڈالا جائے اور انصاف و برابری کے عالمی نظام کو بحال کیا جائے، تب ہی یہ قرارداد محض کاغذی اعلان نہیں بلکہ عالمی امن کا ضامن بن سکے گی۔

    Title Image by Anfaenger from Pixabay

  • جنرل عبدالقیوم ملک اور سرور منیر راؤ کے ساتھ ایک شام 

    جنرل عبدالقیوم ملک اور سرور منیر راؤ کے ساتھ ایک شام 

    جنرل عبدالقیوم ملک اور سرور منیر راؤ کے ساتھ ایک شام 

    تحریر: عبدالوحید خان، برمنگھم (یوکے) 

    برطانیہ میں اکثر و بیشتر وطن عزیز پاکستان سے مختلف شخصیات کا آنا جانا لگا رہتا ہے اور جب پاکستان سے کوئی اہم شخصیت برطانیہ آۓ تو دوست احباب کی کوشش ہوتی ہے کہ نہ صرف ان سے میل ملاقات ہو بلکہ باقاعدہ انکے اعزاز میں مختلف پروگرام اور تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے- 

    قائداعظم  ٹرسٹ برطانیہ کے چئیرمین، معروف سیاسی، سماجی و کاروباری شخصیت راجہ محمد اشتیاق کا دم غنیمت ہے کہ وہ نہ صرف قائداعظم ٹرسٹ کے پلیٹ فارم سے پاکستان کے حوالے سے اہم دنوں پر مختلف قسم کی تقریبات منعقد کرتے رہتے ہیں بلکہ پاکستان سے آنے والے معزز مہمانوں کے ساتھ مل بیٹھنے کے لۓ انکے اعزاز میں استقبالیہ تقریبات سجاتے ہیں جن میں دوست، احباب اور کمیونٹی کو بھی شامل کرتے ہیں گزشتہ روز برطانیہ کے نجی دورے پر آۓ ہوۓ سینٹ آف پاکستان کی سٹینڈنگ کمیٹ براۓ دفاعی پیداوار کے سابق چئیرمین، ایکس سروس مین سوسائٹی کے صدر، نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن کے وائس چئیرمین، سینیٹر (ریٹائرڈ) لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم ملک (ھلال امتیاز ملٹری)، ممتاز براڈ  کاسٹر، کالم نگار اور مصنف سرور منیر راؤ، مسلم لیگ نون کے ایم پی اے چوہدری عمران اکرم جٹ، اور مسلم لیگ قاف اسلام آباد کے رہنما ممتاز کاروباری شخصیت ملک کامران منیر کے اعزاز میں ایسی ہی دعوت استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا- تقریب کی صدارت ٹرسٹ کے چئیرمین راجہ محمد اشتیاق نے کی جبکہ پیر سلطان نیاز الحسن قادری، پیر طیب الرحمٰن قادری، علامہ محمود احمد عباسی، طاہر افضل گجر، عبدالوحید خان، اورنگزیب عالمگیر، نوید انجم باجوہ، چوہدری شہزاد کریم، بیرسٹر عمر بنیامین، سہیل منور، چوہدری لیاقت،  راجہ محمد حبیب، چوہدری یاسین گجر، محمد  حنیف چیف انسپکٹر ویسٹ مڈلینڈ پولیس، فرحان احمد شہزاد، ارسلان شوکت، راجہ ناصر محمود، سید عابد کاظمی، ایس ایم عرفان طاہر، اور راجہ سہیل خان سمیت کمیونٹی کی متعدد شخصیات نے شرکت کی- تقریب کا آغاز بیرسٹر عمر بنیامین نے تلاوت کلام پاک سے کیا جس کے بعد مختلف شخصیات نے اظہار خیال کیا- سینیٹر (ریٹائرڈ) لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم ملک نے اپنے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوۓ کہا کہ پاکستان دنیا کا ہر حوالے سے ایک اہم ملک ہے اور دفاعی طور پر خود انحصاری کی وجہ سے حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے پوری دنیا کو یہ باور کرا دیا ہے کہ پاکستان کسی بھی حوالے سے غیر اہم نہیں ہے اور نہ صرف پاکستان کی بہادر افواج ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے اور اپنے سے بڑے دشمن کو سبق سکھانے کے لۓ ہمہ وقت چوکس اور تیار ہیں بلکہ ہماری افواج کنونشنل وار میں بھی دنیا کو حیران کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس نے انڈیا کے رائزنگ کے بلند و بانگ دعوے، بڑی آبادی، بڑی مارکیٹ، بڑے ملک کے تاثر اور انکے گلوبل پاور ہونے کے خود ساختہ غبارے سے ہوا نکال دی ہے- 

    جنرل عبدالقیوم ملک اور سرور منیر راؤ کے ساتھ ایک شام

    مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے سینیٹر ریٹائرڈ جنرل عبدالقیوم ملک نے کہا کہ پاکستان کی شروع دن سے ایک ٹھوس پالیسی ہے کہ ہم ظلم کے مقابلے میں مظلوموں کے ساتھ ہیں اور فلسطین کے نہتے لوگوں پر جو ظلم کیا جا رہا ہے نیتن یاہو پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلنا چاہئیے اور فلسطینی عوام کو آزادی ملنی چاہئیے اور اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھی آزادی ملنی چاہئیے جس کے لۓ ان کی بے شمار قربانیاں ہیں انہوں نے تقریب کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا اور قائداعظم ٹرسٹ کو اپنی ہر ممکن مدد اور سرپرستی کی یقین دہانی کراتے ہوۓ مل کر پاکستان کے مثبت امیج کے لۓ کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا- انہوں نے موجودہ پاکستانی حکومت کی پالیسیوں کو سراہتے ہوۓ معاشی اور سفارتی محاذ پر کامیابیوں کا ذکر کیا اور اوورسیز پاکستانیوں کے وطن عزیز کے لۓ مثبت حوالے سے کام کی بھی تعریف کی- 

    ممتاز براڈ  کاسٹر، کالم نگار اور مصنف سرور منیر راؤ نے تقریب کے انعقاد پر ٹرسٹ کے چئیرمین راجہ محمد اشتیاق اور انکے رفقائے کار کا شکریہ ادا کرتے ہوۓ کہا کہ آپ جیسے اوورسیز پاکستانیز وطن سے دور رہتے ہوۓ بھی پاکستان کے بارے میں فکرمند ہوتے ہیں اور وہاں سے آنے والوں کو جس خوشدلی اور جزبے کیساتھ ملتے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے- سرور منیر راؤ نے کہا کہ پی ٹی وی کیساتھ وابستگی کے دوران وہ مختلف صدور اور وزراۓ اعظم کیساتھ پوری دنیا گھومے ہیں اور خوش قسمتی سے خانہ کعبہ کے اندر بھی جانے کی سعادت حاصل کی تو سوچا تھا کہ قدرت نے موقع دیا تو نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ کے حوالے سے کام کروں گا اور اب ایک دھائی سے زیادہ کی تحقیقی محنت کے بعد ”مدینہ منورہ: تاریخ کے آئینے میں“ شائع ہو گئی ہے جبکہ مکہ مکرمہ کے حوالے سے کتاب کی اشاعت کے لۓ کام جاری ہے- 

    انہوں نے اس موقع پر جنرل عبدالقیوم ملک اور علامہ محمود احمد عباسی کو اپنی کتاب ”مدینہ منورہ: تاریخ کے آئینے میں“ پیش کی اور کتاب پر ایک دہائی سے زیادہ اپنے تحقیقی کام کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے یہ کام نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ سے عشق اور عبادت سمجھ کر سرانجام دیا ہے تاکہ آخرت سنور سکے- 

    جنرل عبدالقیوم ملک اور سرور منیر راؤ کے ساتھ ایک شام

    سرور منیر راؤ نے کتاب کے مواد کے لۓ اپنی تحقیق اور حوالہ جات کے علاوہ تدوین اور اشاعت کے مراحل میں درپیش مختلف مشکلات، مسائل اور پھر مرحلہ وار انکے حل کی مختصر روداد بھی سنائی لیکن اس حوالے سے تشنگی رہی کیونکہ کئی سال پہلے جب انہوں نے اس کام کو شروع کیا تھا تو یہیں برمنگھم میں ان سے ایک نشست میں شہر نبی اور وہاں کے حوالے سے انکی تحقیقی اور علمی گفتگو روحانیت اور عشق رسول سے ایسی لبریز تھی کہ سننے والے کا ایمان تازہ ہو جاۓ- وقت کی کمی بھی تھی اور انہوں نے دوسرے دن مانچسٹر سے اٹلی بھی جانا تھا اس لۓ ان کے اس روحانی علمی و تحقیقی کام کے حوالے سے طویل نشست کی بہرحال کمی محسوس کی گئ-

    مسلم لیگ نون کے ایم پی اے چوہدری عمران اکرم جٹ نے کہا کہ نامساعد حالات میں حکومت سنبھالنے کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں درست سمت میں سفر جاری ہے اور معاشی، سفارتی اور دفاعی حوالے سے پاکستان نے ایسی خاطرخواہ کامیابیاں حاصل کی ہیں کہ پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر لگی ہوئی اور مختلف ممالک کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدے ہو رہے ہیں جبکہ پنجاب حکومت کا کام مریم نواز شریف کی قیادت میں پورے پنجاب میں ہر جگہ نظر آ رہا ہے-

     مسلم لیگ قائداعظم اسلام آباد کے رہنما ممتاز کاروباری شخصیت ملک کامران منیر نے قائداعظم ٹرسٹ کا شکریہ ادا کیا اور اوورسیز پاکستانیوں کی وطن عزیز کی تعمیر و ترقی کے لۓ خدمات کی تعریف کی اور کہا کہ اوورسیز پاکستانی نہ صرف ہر وقت وطن عزیز کے بارے میں سوچتے ہیں بلکہ اپنی رقوم زرمبادلہ کی شکل میں بھیج کر ملکی معیشت کا پہیا چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں-

    تقریب کے میزبان اور قائداعظم ٹرسٹ کے چئیرمین راجہ محمد اشتیاق نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمیشہ پاکستان اور پاکستانیت کی بات کی ہے اور ہمارے ٹرسٹ میں ملک کے تمام صوبوں سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ لوگ شامل ہیں جو ہر وقت پاکستانی پرچم کو سربلند رکھتے ہیں انہوں نے پاکستانی افواج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا کہ جس نے دشمن کو شکست دے کر پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند کر دئیے- انہوں نے تجویز پیش کی کہ اگر جنرل عبدالقیوم ملک ایکس سروس مین سوسائٹی یا نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے پلیٹ فارم سے قائداعظم ٹرسٹ کے ساتھ مل کر لاہور میں موجود جناح ہاؤس کو قائداعظم میوزیم کے لۓ حاصل کریں تو قائداعظم ٹرسٹ یوکے نہ صرف اس کی تعمیر و مرمت کی ذمہ داری لے گا بلکہ میوزیم کے لۓ دنیا بھر سے بانی پاکستان سے وابستہ اشیاء وہاں لے جا کر رکھیں گے- 

    جنرل عبدالقیوم ملک اور سرور منیر راؤ کے ساتھ ایک شام

    قبل ازیں عبدالوحید خان، چوہدری شہزاد کریم، بیرسٹر عمر بنیامین اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا اور مہمان شخصیات کی ملک کے مختلف شعبوں میں سرانجام دی جانے والی انکی خدمات کی تعریف کی- 

    آخر میں وطن عزیز کی تعمیر و ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لۓ اجتماعی طور پر خصوصی دعا کی گئ اور مہمان شخصیات کے ساتھ انفرادی اور اجتماعی تصویریں بنوائی گئیں (ختم شد)

  • پاک بھارت حالیہ جنگ اور کشیدگی

    پاک بھارت حالیہ جنگ اور کشیدگی

    پاک بھارت حالیہ جنگ اور کشیدگی 

    تحریر: عبدالوحید خان، برمنگھم (یوکے) 

    بھارت اور پاکستان کے مابین حالیہ کشیدگی جسے بھارت کے چھپن انچ کی چھاتی کے دعویدار تیسرے مرتبہ منتخب ہوۓ وزیراعظم نریندرا مودی جن پر انکے پہلی مرتبہ وزیراعظم بننے تک آر ایس ایس تنظیم سے تعلق کی وجہ سے کچھ سنگین جرائم کی بنا پر امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد تھی، اور غیر ذمہ دار اور شور و غوغا کی بنیاد پر اپنی جھوٹی باتوں کا پرچار کرتے بھارتی میڈیا نے باقاعدہ ایک جنگ میں بدلا جس نے بین الاقوامی سطح پر نہ صرف خود بھارت کے لۓ شرمندگی کا سامان کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر انکی جگ ہنسائی کا خوب موقع فراہم کیا جبکہ پاکستان کو ایک ذمہ دار ملک ثابت کیا اور پاکستان کی جیت کو بین الاقوامی سطح پر دنیا بھر کے میڈیا اور جنگ کے حوالے سے تبصره نگاروں نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک، پاکستانی ایک باوقار اور دلیر قوم اور افواج پاکستان جدید ٹیکنالوجی اور جدید اسلحے سے لیس ایسی پروفیشنل فوج ہے جو جزبہ ایمانی سے سرشار ہوکر وطن عزیز پاکستان کا دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیتوں سے مالا مال ہے- 

    22 اپریل کو پہلگام واقع کے بعد جس طرح بھارت نے بغیر کسی تحقیق، تفتیش اور ثبوت کے پاکستان پر نہ صرف الزام دھر دیا بلکہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات ایل او سی اور انٹرنیشنل بارڈر کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوۓ پاکستان پر باقاعدہ حملہ کیا اس نے پہلگام واقع کےبارے میں فالس فلیگ آپریشن کی باتوں کو مزید تقویت دی ہے کہ پاکستان کی طرف سے بین الاقوامی برادری سے غیر جانبدارانہ تحقيقات کی پیش کش کے باوجود بھارتی وزیراعظم نے سخت گیر رویہ اپناتے ہوۓ افہام و تفہیم یا تحقیق اور تفتیش کے بغیر ہی پاکستان پر نہ صرف الزامات کی بوچھاڑ کۓ رکھی بلکہ اپنے تئیں پاکستان کو سزا دینے کے لۓ باقاعدہ طور پر پاکستان پر جنگ بھی مسلط کر دی گئی اور تو اور حیران کن طور پر بین الاقوامی قوتوں نے جنگ کو روکنے کے لۓ عملی طور پر کوئی بارآور کوشش بھی نہیں کی اور ایسا لگتا تھا جیسے پاکستان کو سبق سکھانے کے لۓ باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی اور بھارت نے اپنے حملے کو آپریشن سندور کا نام دے کر پاکستان کے مختلف علاقوں پر میزائل حملہ کیا جس میں کئی بے گناہ چھوٹے معصوم بچے، گھریلو خواتین اور عام شہریوں اور مساجد کو نشانہ بنایا گیا اور بے گناہ لوگوں کو شہید کیا گیا-  

    بھارتی الزام تراشیوں، کھلم کھلا دھمکیوں اور پھر کھلی جارحیت اور اشتعال انگیزی کے باوجود پاکستان نے صبر و تحمل کا دامن نہیں چھوڑا اور ہر معاملے کو باقاعدہ بین الاقوامی قوانین اور مروجہ قواعد و ضوابط کے مطابق سرانجام دے کر دنیا پر یہ بھی واضح کر دیا کہ نہ صرف پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے بلکہ پاکستان کی مسلح افواج بہت پروفیشنل، ذمہ دار اور بہادر افواج ہیں جو وقت پڑنے پر رات کی تاریکی میں کۓ گۓ حملوں کا صبح صادق اور دن کے اجالے میں پوری شدت کے ساتھ جواب دینے کی جرات، صلاحيت اور حیثیت سے مالا مال ہیں اور اس مشکل وقت میں پوری قوم بھی اپنی بہادر افواج کے ساتھ شانہ بشانہ ہے اور کسی کو وطن عزیز کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے- 

    پاک بھارت حالیہ جنگ اور کشیدگی

    پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص میں جس طرح بھارت پر حملہ کرکے جوابی کاروائی کی اور بھارت کو شکست دی اس نے نہ صرف پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر ایک نئی شناخت اور پاکستانیوں کو سر اٹھا کر چلنے اور جینے کے لۓ ایک نۓ ولولے اور جوش و جزبے سے ہمکنار کیا ہے بلکہ اس کا اظہار انہوں نے اندرون و بیرون ملک یوم تشکر کی شاندار تقریبات منعقد کر کے اپنی خوشی ، تشکر، اور متاثرین سے بھرپور ہمدردری کا اظہارکر کے کیا ہے- 

    برطانیہ میں بھی یوم تشکر کی زبردست تقریبات کا انعقاد مختلف سطح پر کیا گیا- پاکستانی افواج کی شاندار جنگی حکمت عملی، دلیری، بہادری، جزبہ ایمانی سے سرشاری اور دفاع وطن کے عملی مظاہرے کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس نے روائتی جنگوں کو ہی نہ صرف تبدیل کرکے رکھ دیا ہے بلکہ وار فئیر میں نئی چیزیں متعارف ہو گئ ہیں اور ٹیکنالوجی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے- پاکستان میں تو باقاعدہ طور پر حکومتی سطح پر یوم تشکر منایا گیا ہے اور حکومت پاکستان نے پاکستان آرمی کے چیف جنرل سید عاصم منیر کو فوج کا سب سے بڑا عہدہ فیلڈ مارشل عطإ کر دیا گیا ہے جبکہ سفارتی محاذ پر بھی بارآور اور مثبت کوششیں جاری ہیں اور ایک وفد دنیا کے مختلف ممالک میں بھیجا جاۓ گا تاکہ پاکستان کا موقف پوری دنیا کو بہنچایا جا سکے اسی طرح کشمیر کمیٹی کا وفد بھی یہاں برطانیہ کا دورہ کر چکا ہے- 

    بھارت اور پاکستان کے مابین ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر ایک فلیش پوائنٹ کی صورت سامنے آیا ہے- مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے مظالم کا سلسلہ بھی جاری ہے اور یٰسین ملک سمیت کئی حریت رہنما اس وقت بھارت کی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں- جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ بہت سے مسائل کا آغاز ہوتا ہے اس لۓ جنگ بندی کے لۓ جو کوششیں کی گئیں ہیں یقیناً وہ بہت حوصلہ افزا ہیں لیکن دونوں ممالک کے مابین مستقل جنگ بندی کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق استصواب راۓ ملنا چاہئے اور انہیں بھارت کے مظالم سے نجات ملنی چاہئے جبکہ سندھ طاس معاہدہ جس کا گارنٹر ورلڈ بنک ہے پر بھارت کو اپنی ھٹ دھرمی چھوڑنی ہو گی اور پانی بند کرنے کی دھمکیوں سے اجتناب برتنا ہو گا ورنہ دونوں ممالک کے مابین مستقل اور دیرپا امن کا قیام ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو گا اور دو نیوکلر پاورز کے حامل ممالک کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی اقوام عالم کے لۓ بھی مستقل خطرہ ثابت ہو گی اس لۓ یو ایس اے اور یو کے سمیت ان تمام ممالک کو جنہوں نے جنگ بندی کے لۓ اپنا کردار ادا کیا ہے اس کشیدگی کے مستقل خاتمے اور دونوں ممالک کے مابین دیرپا اور مستقل قیامِ امن کے لۓ اپنا موثر اور بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ برصغیر پاک و ہند پر جنگ اور بدامنی کے بڑھتے بادل چھٹ سکیں اور نسل انسانی کی بقا اور فلاح و بہبود ممکن ہو سکے- (ختم شد)

    Title Image by Ben Kerckx from Pixabay

  • کشمیر کمیٹی وفد کا دورہ برطانیہ 

    کشمیر کمیٹی وفد کا دورہ برطانیہ 

    کشمیر کمیٹی وفد کا دورہ برطانیہ 

    تحریر: عبدالوحید خان، برمنگھم (یوکے) 

    قومی اسمبلی آف پاکستان کی کشمیر کمیٹی کے چئیرمین رانا محمد قاسم نون (ایم این اے، پی ایم ایل ن) اور کشمیر کمیٹی کے ممبران سینئر پارلیمنٹیرین ریاض فتیانہ (ایم این اے، پی ٹی آئی)، سید جاوید علی شاہ (ایم این اے، پیپلز پارٹی) اور ملک انور تاج (ایم این اے، پی ٹی آئی) پر مشتمل وفد ان دنوں برطانیہ کے سرکاری دورے پر ہے تاکہ خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے ظالمانہ اور غاصبانہ قبضے، تحریک آزادی کشمیر اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا سرکاری مٶقف بین الاقوامی سطح پر مٶثر انداز میں پیش کیا جا سکے- 

    اس دورے کو کامیاب بنانے کے لۓ چئیرمین کشمیر کمیٹی کے اوورسیز کوآرڈینیٹر کامران اشتیاق راجہ پہلے سے برطانیہ میں موجود تھے اور گزشتہ دنوں جب کمیٹی کا وفد لندن کے بعد برمنگھم پہنچا تو کمیٹی کے کوآرڈینیٹر کامران اشتیاق راجہ اور انکے والد قائداعظم ٹرسٹ یوکے کے چئیرمین راجہ محمد اشتیاق نے اپنی رہائش گاہ پر دوپہر کے وقت وفد کا والہانہ استقبال کیا اس موقع پر مقامی صحافی اور کمیونٹی کی سرکردہ شخصیات بھی موجود تھیں- 

    کشمیر کمیٹی کے وفد نے اپنی آمد کے کچھ دیر بعد برمنگھم سٹی کونسل کا دورہ کیا اور چند روز پہلے ہی بطور لارڈ میئر آف برمنگھم چارج سنبھالنے والے کشمیری نژاد پاکستانی کونسلر ظفر اقبال ایم بی ای سے ملاقات کی اور انہیں لارڈ مئیر بننے پر مبارکباد دی اس موقع پر پاکستان اور برطانیہ کے مابین دوطرفہ تعلقات، برطانوی بلدیاتی نظام، برطانیہ میں آباد پاکستانی کمیونٹی بالخصوص کشمیریوں کے کردار اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا- وفد نے لارڈمئیر کو شیلڈ اور سندھی اجرک کا تحفہ پیش کیا وفد نے اس موقع پر کونسل ہاٶس کا تفصیلی دورہ کیا اور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کۓ- 

    شام کے وقت پاکستان قونصلیٹ آفس برمنگھم میں قائم مقام قونصل جنرل بختاور میر کی طرف سے وفد کے اعزاز میں ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا تھا جس  میں کمیونٹی رہنماؤں، سول سوسائٹی کے اراکین، مقامی صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سرکردہ افراد نے شرکت کی- اس موقع پر پاکستان سے برطانیہ کے نجی دورے پر آۓ ہوۓ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے صدر افضل بٹ بھی موجود تھے- تقریب کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر پاکستانی موقف سے کمیونٹی کو آگاہی دینا اور آنے والے دنوں میں اس ایشو کے حوالے سے مؤثر رابطوں کو استوار کرنا تھا-

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کمیٹی کے چئیرمین رانا قاسم نون ، اراکین ریاض فتیانہ ، سید جاوید علی شاہ ، ملک انور تاج نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف، عالمی برادری کی ذمہ داریوں اور کشمیری عوام کی تحریک آزادی کشمیر کے لۓ بےشمار قربانیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ وفد نے پاکستان کی بھارت سے عظیم فتح کے بعد جنگ بندی اور مزاکرات کی بازگشت کے حوالے سے گفتگو کی اور مسئلہ کشمیر کے مزید نمایاں ہو جانے کے بعد اسے مٶثر طور پر مزید اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیا- قائم مقام قونصل جنرل محترمہ بختاور میر اور قائداعظم ٹرسٹ کے چئیرمین راجہ محمد اشتیاق نے بھی تقریب میں اظہار خیال کیا جبکہ وفد نے صحافیوں اور کیمونیٹی رہنماؤں کے مختلف سوالوں کے جوابات بھی دئیے- وفد نے افواج پاکستان کی شاندار کامیابی اور جنگ میں فتح حاصل کرنے پر اوورسیز پاکستانیوں کو مبارکباد پیش کی-

    کشمیر کمیٹی وفد کا دورہ برطانیہ

    وفد نے مزید کہا کہ مسلہ کشمیر برطانوی حکومت کا ایک نامکمل ایجنڈا ہے جس کی ذمہ داری برطانیہ پر بھی عائد ہوتی ہے اور اس کے لیے انہیں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ مسلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوے کشمیری قوم کو آزادی ملے۔

    قونصل جنرل محترمہ بختاور میر نے کشمیر کمیٹی کے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوے کہا کہ پاکستان کی فتح قوم کی فتح ہے اور پوری دنیا نے ہماری افواج کے جوانوں کی تعریف کی ہے جس سے اوورسیز پاکستانیوں سمیت پوری قوم کے حوصلے مزید بلند ہوۓ ہیں ۔ تقریب کے اختتام پر وفد نے قونصل جنرل بختاور میر کو خصوصی شیلڈ اور سندھی اجرک پیش کی جبکہ برمنگھم سٹی کونسل کے کونسلر وسیم ظفر اور قائداعظم ٹرسٹ کے چئیرمین راجہ محمد اشتیاق کو بھی اوورسیز میں پاکستان کی غیرسرکاری سفارت کاری پر سندھی اجرک پیش کی گئی۔ 

    بعد ازاں کشمیر کمیٹی کے وفد نے چئیرمین قائداعظم ٹرسٹ یوکے راجہ محمد اشتیاق کی رہائش گاہ پر رات کو پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کی متعدد شخصیات اور صحافی برادری سے ملاقات کی اور مسئلہ کشمیر کو ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک فلیش پوائنٹ کے طور پر سامنے آنے پر اس حوالے سے مختلف پہلوٶں پر گفتگو کی اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کی طرف سے اس ضمن میں سرانجام دی جانے والی خدمات اور جاری کوششوں کی تعریف کی- 

    وفد سے کشمیر انٹرنیشنل پیس فورم برطانیہ کے چئیرمین اور صدر ریاست آزادکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے مشیر بیرسٹر کرامت حسین، ممبر آف پارلیمنٹ بیرسٹر ایوب خان، یٰسین ملک رہائی کمیٹی کے لیگل ایڈوائزر بیرسٹر حفیظ صدر مڈلینڈ KPFI، صدر آزادکشمیر کے مشیر چوہدری خادم حسین،  صدر KPFI برمنگھم چوہدری عبدالغفور کھاڑک نے ملاقات کی اس موقع پر کشمیر کمیٹی کے چئیرمین کے اورسیز کوآرڈینیٹر راجہ کامران اشتیاق،  صدر پی ایف یو جے محمد افضل بٹ، قائداعظم ٹرسٹ کے جنرل سیکرٹری بیرسٹر عمر بنیامین، چویدری شہزاد کریم، چوہدری آفتاب و دیگر بھی موجود تھے- کشمیری رہنماٶں نے ایک میمورنڈم کمیٹی کو پیش کیا جس میں آزادکشمیر میں تمام سیاسی قیادت کے نمائندگان جو برطانیہ میں کام کر رہے ہیں کی طرف سے یسین ملک سمیت دیگر حریت رہنماؤں کی رہائی و مسلہ کشمیر پر مرتب کی گئی سفارشات پیش کی گئیں جن پر تمام قیادت کے دستخط تھے- کشمیر کمیٹی کے وفد نے اس کو خوب سراہا اور راجہ کامران اشتیاق کو مستقبل میں کو آرڈینیٹ کر نے کی ذمہ داری لگائی گئی- 

    کشمیر کمیٹی کا وفد مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لۓ مختلف  برطانوی ایم پیز اور تھنک ٹینک سے ملاقاتیں کرے گا- یہ وفد پورے انگلینڈ میں حالیہ واقعات کی روشنی میں بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی اجاگر کر رہا ہے جبکہ اس دورے کے دوران وفد نے برمنگھم میں پاکستانی کمیونٹی کی ممتاز شخصیات، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ بھی اہم ملاقاتیں کی ہیں اور جموں و کشمیر کے مسئلے پر پاکستانی موقف سے آگاہی دینے کے علاوہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف، عالمی برادری کی ذمہ داریوں اور کشمیری عوام کی قربانیوں پر روشنی ڈالی گئی اور اس ایشو کو مزید اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا- (ختم شد)