لفظ اور محبت کا روشن مینار: شہباز گردیزی
آزاد کشمیر کے ادبی منظرنامے میں سید شہباز گردیزی ایک درخشاں نام مضبوط و معتبر حوالے اور ایک دل آویز شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ صرف شاعر نہیں اسلوب، روایت اور ایک تہذیب کا نام ہیں۔ اپنی شائستگی، انکساری، اخلاص اور وقار کے باعث وہ ہر محفل، ہر حلقے اور ہر دل میں اپنی جگہ بناتے ہیں۔ ان کے یومِ ولادت پر اٹھنے والی محبت کی لہر اور بے شمار خلوص بھری دعائیں خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ دلوں کی دنیا میں کتنے مضبوطی سے رچے بسے ہوئے ہیں۔
2014ء میں نیلم کے ایک مشاعرے میں ہونے والی پہلی ملاقات نے ایک ایسا قلبی رشتہ تشکیل دیا جس نے وقت کے ساتھ کم زور ہونے کی بہ جائے اور زیادہ استحکام اختیار کیا۔ شہباز گردیزی بھائی سے ملاقات ایک شخصیت سے ملنے کا نام نہیں بلکہ ایک دل آویز انسان، مہربان دوست، معتبر شاعر اور ایک روشن دماغ سے روبہ رو ہونے کا نام ہے۔ ان میں علم و ادب کا وقار بھی ہے اور انسان دوستی کی لطافت بھی۔
باغ کی ادبی فضا اُن کے دم سے زندہ ہے۔ طلوحِ ادب باغ میں ان کا کردار روحِ رواں کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی مشاعرے یا کسی ادبی فورم پر باغ کی نمائندگی جس مضبوطی اور سنجیدگی کے ساتھ دکھائی دیتی ہے وہ دراصل شہباز گردیزی بھائی ہی کی مرہونِ منت ہے۔ اہلِ قلم کی ایک پوری نسل ان سے رہنمائی لیتی ہے۔ وہ بڑے شاعر ہونے کے ساتھ بڑے دل والے انسان بھی ہیں۔
شہباز بھائی کی شاعری احساس، سچائی، درد، مزاحمت، امید اور تجربے کا وہ حسین امتزاج پیش کرتی ہے جو قاری کے دل تک اتر کر اسے دیر تک متاثر رکھتا ہے۔ ان کے اشعار انسانی تجربے کا عطر ہیں سچے اور دل میں اتر جانے والے:
اس ایک بات پہ اٹکی ہوئی ہے سانس مری
میں مر گیا تو مرے خواب کون دیکھے گا
ٹھیک ہے میں اس کوشش میں ناکام رہا
لیکن میں نے خوش رہنے کی کوشش کی
جب بھی میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی
سب نے مجھ کو چپ رکھنے کی کوشش کی
ہمارے پیٹ پچکے رہ گئے ہیں
ہماری بھوک پلتی جا رہی ہے
اور شہدائے کربلا کی شان میں کہا گیا یہ شعر ان کی فکری عظمت کا روشن ثبوت ہےجو لمحے کے فیصلے اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کی عظمت کو خوب صورت انداز میں بیان کرتا ہے:
جنگ کا فیصلہ ہو جاتا ہے اس اک پل میں
حر کوئی جب کسی لشکر سے نکل آتا ہے
ان کے فن کا ایک اور جان دار حوالہ نظم نگاری ہے ۔ ان کی نظم "سامبا کا رن” ملاحظہ کریں جو تاریخ، قربانی، جدوجہد اور امید کا بامعنی اور دل کش استعارہ ہے:
کبھی اسیر ، کبھی دربہ در ، کبھی خوں بار
ہمارے خون سے سامبا کا رن ہے مہکا ہوا
ہزار رام نگر ، رائے پور ہم پہ ڈھے
مگر یہ کارِ جنوں کم نہیں ہوا اپنا
ہزار بار یہ باغ ارم ہوا صحرا
ہزار بار یہ صحنِ چمن اجاڑا گیا
سو اس زمین پہ گزرے ہیں سانحات کئی
کئی بسیں تھیں ستوری سے آگے جا نہ سکیں
عجب ٹرین ہے ، وکرم کے چوک پر ہے کھڑی
اسی ٹرین سے پھوٹے گی لو آزادی کی
شہر سے نکلے ہوئے پھر سے لوٹ آئیں گے
عجب نہیں ہے کہ ہم پھر سے گھر بسائیں گے
یہ نظم ان کی فکری رفعت شعری گہرائی اور امید کے ابدی سفر کی واضح دلیل ہے۔
اسی طرح نظم "ہے دعا بس یہی” مزاحمت، آگہی اور عزم کا ایسا بلند آہنگ اظہار ہے جو روح کو جھنجھوڑ دیتا ہے:
ہر کوئی ظالموں کا طرف دار ہے
بعیتِ جبر پر شاہ کو اصرار ہے
لاکھ گزریں گے اب ہم پہ دشتِ الم
گردنیں ہوں گی تشنہ لبی میں قلم
ہم سے قائم رہے آگہی کا بھرم
اس مصیبت میں نہ لڑکھڑائیں قدم
بک چکے قریۂ جان کے بام و در
ہے دعا بس یہی
جسم کی شاخ پر سر سلامت رہیں
اپنے انکار پر
گھر سلامت رہیں
یہ نظم انکار کی قوت، آزادی کی آرزو اور شعور کے تحفّظ کا ایسا مرقع ہے جو کم ہی شاعروں کے ہاں ملتا ہے۔
شہباز بھائی کی نظم ہو یا کہ غزل ان میں انسان، معاشرے اور داخلی الجھنوں کی بھرپور تصویر نظر آتی ہے۔اس بات کی دلیل کے طور پر بہ ذیل غزل دیکھیں :
اور اب کیا کوئی تماشا ہو
جو یہاں واقعی تماشا ہو
کیا عجب دائروں کی بستی میں
جو ہوا پھر وہی تماشا ہو
کیا خبر موت ہو تماشائی
کیا پتہ موت ہی تماشا ہو
میں یہاں کس طرح سے رہتا ہوں
جس جگہ آدمی تماشا ہو
پھر تماشا ہوا تماشائی
اب تو اس پر کوئی تماشا ہو
بھر گیا دل مرا تماشوں سے
اب تو بس آخری تماشا ہو
ایسے عالم میں کیا کہوں شہباز
جب کہی، ان کہی تماشا ہو
یہ غزل انسانی تجربے کی گہرائی، عہد کی بے حسی اور سچائی کے المیے کا ایک بھرپور تخلیقی اظہار ہے۔
شہباز گردیزی بھائی کے یومِ ولادت پر دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں صحت، عزت، آسودگی، آسانیاں اور دونوں جہانوں کی روشنیاں عطا فرمائے۔ ان کے لفظ اسی طرح نسلوں کے دلوں کو روشن کرتے رہیں، ان کی شخصیت اسی طرح محبتیں بکھیرتی رہے، اور ان کا فن آنے والے زمانوں تک رہنمائی کا چراغ بنا رہے۔
شہباز بھائی کو جنم دن کی بے شمار، بے حساب اور دل کی گہرائیوں سے نکلی مبارک باد۔
اللہ پاک آپ کو ہمیشہ سلامت، شاد اور سربلند رکھے۔

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |