ڈاکٹر محمد سلیم مغل — علم، اخلاق اور اخلاص کا استعارہ
ڈاکٹر فرہاد احمد فگار
ڈاکٹر محمد سلیم مغل سے پہلا تعارف اُس زمانے کا ہے جب وہ گورنمنٹ ماڈل سائنس کالج کنڈل شاہی میں بہ طور لیکچرر خدمات انجام دے رہے تھے۔ کیمیا اُن کا مضمون ہے اور وہاں وہ اکثر ڈاکٹر لیاقت علی صاحب کے ہم سفر ہوتے۔ انہی اسفار میں مجھے بھی مظفرآباد سے نیلم تک کئی بار ان کی رفاقت نصیب ہوئی۔ یہ سفر صرف راستوں کا سفر نہیں تھا بلکہ ایک سنجیدہ استاد، باوقار انسان اور ایک سلجھی ہوئی شخصیت کو قریب سے دیکھنے کا سفر بھی تھا۔ اُس مختصر مگر پُراثر رفاقت نے دل میں ان کے لیے ایک نرم گوشہ پیدا کر دیا۔ پھر وقت نے رخ بدلا، حالات نے کروٹ لی اور مغلیہ نسب سے تعلق رکھنے والا یہ ہمّت و محنت کا پیکر کنڈل شاہی سے انٹر کالج ٹھیریاں منتقل ہوا۔ یوں ایک نیا باب رقم ہوا۔
محمد سلیم مغل 15 جنوری 1988ء کو مظفرآباد کے خوب صورت اور پر فضا گاؤں کھن بانڈی میں پیدا ہوئے۔ایسا ماحول جس میں سادگی بھی ہے، خلوص بھی اور محنت کی خوش بو بھی۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ مڈل اسکول کھن بانڈی سے حاصل کی۔ بچپن سے ذہین توجہ دینے والے اور تجسس رکھنے والے طالب علم کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ میٹرک علی اکبر اعوان ماڈل ہائی اسکول چھتر دومیل سے امتیازی کارکردگی کے ساتھ مکمل کی۔ ایف ایس سی انھوں نے ماڈل سائنس کالج مظفرآباد سے کی۔ ان کا تعلیمی سفر مستقل مزاجی اور لگن کا آئینہ دار ہے۔ بی ایس سی انھوں نے پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد سے کی جہاں انھوں نے سائنس کے شعبے میں اپنی بنیادیں اور بھی مضبوط کیں۔
اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کا سفر شروع ہوتا ہے۔ 2013ء میں انھوں نے ایم ایس سی کیمسٹری یونی ورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر سے مکمل کی ۔ مابعد 2016ء میں اسی یونی ورسٹی سے ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ یہ مرحلے محض ڈگریاں نہیں بلکہ ان کی بے پناہ محنت، مسلسل جدوجہد اور علمی پیاس کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ان کا یہ سفر بالآخر انھیں پی ایچ ڈی کی چوٹی تک لے گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر بلال احمد خان کی زیرِ نگرانی انھوں نے 2025 میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ ان کا موضوع تھا:
"سرفیکٹنٹ کی مدد سے دھاتی آکسائیڈز اور اینسائیڈز (NSAIDs) کو نینو پیمانے پر محفوظ طریقے سے ڈیزائن کرنا تاکہ انھیں طب اور دوا سازی جیسے حیاتیاتی شعبوں میں موثر طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔”
یہ موضوع جدید سائنس میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے سے نینو ٹیکنالوجی، ادویات اور بائیومیڈیکل سائنس کے سنگم پر پیدا ہونے والے نئے امکانات کی راہیں کھلتی ہیں۔ اس تحقیق نے نہ صرف ان کی علمی اہلیت کا بھرپور اظہار کیا بلکہ مستقبل میں ان کے تحقیقی کردار کی بنیاد بھی مضبوط کی۔
ٹھیریاں کالج میں ان کے ساتھ قریب رہ کر مجھے ان کی شخصیت کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع ملا۔ اگر معمولی بشری کمزوریوں کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو ان کا وجود بلاشبہ ایک ہمہ گیر، زندہ دل اور محنتی انسان کا ہے۔ وہ خاموش طبع مگر تاثیر رکھنے والے، نرم گو مگر جرات مند اور سادہ مگر علم و وقار کے حامل شخص ہیں۔ تدریسی عمل ان کے لیے فرض سے بڑھ کر ایک مشن ہے۔ جب وہ پڑھاتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں ایک خاص چمک نظر آتی ہے۔علم بانٹنے کی، ذہن روشن کرنے کی اور اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی چمک۔ طلبہ اکثر کہتے ہیں کہ سلیم صاحب کے لیکچرز میں کیمسٹری محض ایک مضمون نہیں رہتی بلکہ ایک سمجھ میں آنے والی حقیقت بن جاتی ہے۔
انھیں کبھی کالج میں فارغ بیٹھے نہیں دیکھا۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی طالب علم کو سمجھا رہے ہوتے ہیں۔کبھی کتاب کے ذریعےسے ، کبھی سوالات کے ذریعے سے،کبھی مثالوں سے اور کبھی محبت بھری ڈانٹ کے ساتھ۔ ان کی گفتگو میں نرمی، ان کی حرکات میں وقار اور ان کی موجودگی میں ایک عجیب سی شرافت محسوس ہوتی ہے۔
سلیم مغل دوستوں میں فیاض، روّیوں میں سادہ، دل میں نرم اور پیشے میں دیانت دار ہیں۔ تیموری نسب ہونے کے باوجود اُن میں وہ نخوت یا غرور بال برابر بھی نہیں پایا جاتا جو بعض نسبی برتری کے دعوے داروں میں ہوتا ہے۔ روزانہ صبح سویرے کھن بانڈی سے عوامی سواری میں چھتر پہنچنا پھر وہاں سے کالج جانا یہ سب معمولات ان کے حوصلے، عزم اور ذمہ داری کے احساس کا بیان ہیں۔ یہ سفر آسان نہیں لیکن وہ اسے بہ حسنِ خوبی نبھاتے ہیں۔
سلیم صاحب کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی ہے کہ وہ چھٹی محض کسی ناگزیر مجبوری میں کرتے ہیں وگرنہ فرض شناسی ان کے خون میں بسی ہوئی ہے۔ شاید اسی لیے وہ طلبہ میں خاص مقبولیت رکھتے ہیں۔ ان کے پڑھانے کا انداز ایسا ہے کہ طالب علم صرف مضمون نہیں پڑھتے بلکہ سیکھتے ہیں، سمجھتے ہیں اور یاد رکھتے ہیں۔
میرا ایمان ہے کہ اس زمانے میں ایسے لوگ کم رہ گئے ہیں جو ڈگری کے ساتھ کردار بھی رکھتے ہوں اور ذمہ داری کے ساتھ دیانت بھی۔ ہمارے تعلیمی نظام کو ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے۔ کاش ہمارے قومی و تعلیمی قوانین میں ایسی گنجائش ہو کہ ڈاکٹر سلیم مغل جیسے صاحبانِ علم اور اصحابِ کردار افراد کو مرکزی اداروں میں کلیدی ذمہ داریاں ملیں تاکہ وہ اپنی قابلیت اور اخلاص سے نظامِ تعلیم کو بہتر سے بہترین بنانے میں کردار ادا کر سکیں۔
دعا ہے کہ شعبۂ تعلیم خصوصاً کالج سیکٹرڈاکٹر محمد سلیم مغل جیسے بااخلاق، باصلاحیت اور مخلص اساتذہ کی بدولت مزید روشن ہو۔ آنے والی نسلیں ان کے علم، سادگی، ان کی محنت اور ان کے کردار سے فیض یاب ہوں اور وہ یوں ہی تحقیق و تدریس کی راہوں میں ترقی کرتے ہوئے نئی منزلیں طے کرتے رہیں۔ ان جیسے لوگ ہماری تعلیمی دنیا کا سرمایہ ہیں اور یقیناً آنے والے وقت میں ان کا نام مزید قدروقیمت حاصل کرے گا۔

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |