Tag: لیہ

  • مختصر جائزہ ، مقبول ذکی مقبول

    مختصر جائزہ ، مقبول ذکی مقبول

    فقیر میاں اِم٘داد حُسین سرائی لیکھی ( لیّہ )

    بلاشُبہ مقبول ذکی مقبول اِسمِ بَامُسمٰی شخصیت ہیں ۔ حقیقتاً صحرائے تھل وسیب منکیرہ ( بھکر ) میں اپنے پُر خلوص جذبوں ، علم و ادبی لگاوٹ سے علم و ادب کے دیپ جلائے ہوئے ہیں ۔ جو صحرائے تھل وسیب میں کنول کے پھول کی مانند ہیں ،
    بقولِ شاعر :

    یہ کہاں ضروری ہے ، چراغ ہو روشن
    اِک دیئے کا جلنا بھی موت ہے اندھیرے کی

    راقم آثم حقیر فقیر کا تعارف بھی مقبول ذکی مقبول سے ادبی محافل میں ہوا تھا یہ بات غالباً 2018ء کی ہے ، یوں سلسلہِ رفاقت جاری و ساری ہے ۔ مقبول ذکی مقبول کی پیدائش یکم جنوری 1977ء کنال کالونی کواٹر ضلع لیّہ شہر میں ہوئی تھی ۔ آپ کے والد اقبال حُسین ( مرحوم ) جو اِن دِنوں محکمہ کنال لیّہ میں ملازمت کرتے تھے ۔ آپ کو علم و ادب سے لگاؤ بچپن سے ہی ہے ۔ رثائی شاعری سے لگاوٹ و اُنسیت قابلِ داد ہے ۔ ادبی و علمی ذوق جنونی ایمانی حد تک ہے ۔ آپ 2005ء سے باقاعدہ طور پر شاعری میں طبع آزمائی فرمارہے ہیں ۔ ضلع بھکر کے کہنہ مُشق ُبزرگ شاعر اُستاذ نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی سے شاعری میں اصلاح لیتے ہیں ، ایک مرتبہ ان کے درِ اقدس پر شرفِ ُملاقات بھی مقبول ذکی مقبول کی وساطت سے ہوئی ۔
    مقبول ذکی سرائیکی ، اُردُو اور پنجابی زبان میں طبع آزمائی کرتے ہیں ۔ آپ کے کلام میں سادہ بیانی ، عمدہ منظر نگاری ، وارداتِ قلبی ، انتہائی متحرک پہلو ہیں صحت ، سچے خیالات ، بے پناہ عقیدت مندی کا اظہار واضح جھلکتا ہے ۔میدانِ نثر میں بھی اپنا لوہا منوا چکے ہیں ۔ غالباً 2018ء میں مقبول کے توسط سے زاہد اقبال بھیل کی بھیل سنگت کی طرف سے راقم آثم کی علمی الو ادبی و تاریخی خدمات کے ضمن میں دستار بندی کی گئی تھی ، ذکی سے وہ بڑی حسین یادگار لمبی نشست رہی ، پروگرام ہمارے فقیر خانے لیّہ والدِ بزرگوار محقق و مورخ تاریخ لیّہ و سندھ حکیم فقیر میاں الہٰی بخش سرائی لیکھی مغفور پر ہوا جس میں ، شاعر و ادیب پروفیسر عاصم بخاری ( میانوالی ) آپ کا پسرِ رشید ، پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین ، شمشاد سرائی ، شیخ اقبال حسین دانش ، نعمان اشتیاق ، احتشام عباس مہار ، اور دیگر دوستوں نے شمولیت کی تھی ۔ آپ ہمہ جہت شخصیت کے حامل ہیں ، آپ کی پہلی کتاب ٫٫ سجدہ ،، 21 مئی 2017ء میں 172 صحفات پر مبنی ، آرٹ لینڈ چوک اعظم ( لیّہ ) سے شائع کی تھی ۔ جو سرائیکی زبان میں رثائی ادب پر مشتمل ہے ۔جس میں ساری رثائی شاعری ہے ۔ آپ کی دوسری کتاب اُردو میں ٫٫ مُنتہائے فِکر ،، جو 7 اگست 2020ء میں آرٹ لینڈ چوک اعظم ( لیّہ ) سے شائع ہوئی ، اس کتاب میں نہایت شاندار اُردُو شاعری پڑھنے کو ملتی ہے ۔ اس کے علاوہ یکے بعد دیگرے بھی چند شاہکار زیورِ طبع سے آراستہ ہوئے جن کی تعداد گیارہ ہے ۔

    مختصر جائزہ ، مقبول ذکی مقبول


    ریحانہ بتول کی کتاب ٫٫ مقبول ذکی مقبول کی ادبی مقبولیت ،، ( مشاہیر کی نظر میں ) 370 صحفات پر مشتمل آپ پر نئی تالیف ۔ شائع ہو کر علمی و ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکی ہے ۔ راقم آثم ضمناً یہاں عرض کرتا ہے کہ ملک دوست محمد کھوکھر ( مرحوم ) کی کتاب ٫٫ تاریخِ ریاستِ منکیرہ ،، پڑھنے کو مُرشد سید حسن رضا کاظمی مغفور رح دری پاک جمن شاہ لیّہ والوں کو دی تھی ، جس پر آپ نے کافی نادر خواہش فرمائی تھی اور مصنّف کو ِملنے کی خواہش ظاہر کی ۔ یہ بات ہے غالباً 2017 ء کی ۔ راقم آثم فقیر نے ست بسم اللّٰہ کی اور سید حسن رضا کاظمی مغفور رح کی معیت میں جن میں سید عزادار حسین کاظمی ، کوٹلہ حاجی شاہ لیّہ ، چند احباب کے نام یاد نہیں حافظہ سے محو ہو گئے ، نوجوان گردیزی اور آپ کا ملازم صفدر حسین بڈا کاظمی چوک لیّہ والے بمعہ خیمے و دیگر سامان قلعہ منکیرہ پر پہنچ گئے ۔ رات وہی تاریخی قلعہ منکیرہ پر بسر کی قلعہ پر اولیاء اللّٰہ ، حضرت سید نور قلندر رح کا مقبرہ ہے اور آپ کی اُولاد وہاں آج بھی آباد ہے اُنہی کے فقیری مَچ پر رات بسری کی ، جو سید حسن رضا کاظمی کے عقیدت مندوں سے تھے ۔ صُبح ملک دوست محمد کھوکھر ( مرحوم ) کے گھر ملنے گئے آپ کافی ضعیف ہوچکے تھے لیکن کافی نیاز مندی و عقیدت سے پیش آئیں ، آپ کا چھوٹا بیٹا محمد اسحٰق ملا ،جو نوئے کی دہائی میں لیّہ ہمارے فقیر خانے والدِ بزرگوار پر رہتا رہا اور ٹیکنکل کالج میں پڑھتا رہا تھا ۔ بڑا بیٹا شاعر و ادیب اُستاذ اشفاق حسین شجر نہ مل سکا ، ملک دوست محمد کھوکھر جب 1988ء میں کتاب تاریخِ ریاستِ منکیرہ لکھ رہیے تھے تب میرے والد محقق ، مُورخ ، اِدیب ، نقاد ، بزرگوار فقیر میاں الہٰی بخش سرائی لیکھی مغفور رح کو ملنے آتے تھے تب بھی مُلاقاتیں رہتی تھیں ۔ دوست محمد کھوکھر ( مرحوم ) کے گھر سے ہم سب قلعہ منکیرہ پر قبلہء سید حسن رضا کاظمی مغفور جمن شاہ والوں کی گاڑی میں پاکستان کے تاریخی قلعہ منکیرہ پر جا پہنچے وہاں کافی گفتگو ہوئی شاہ جی کا خیال تھا کے ٫٫ من و سلوی ،، اسی قوم پر گرتا تھا یہی بنی اسرائیل ہے ۔ ملک دوست محمد کا خیال ان کے برعکس تھا ۔ قلعے منکیرہ میں ایک کنواں آج بھی موجود ہے کہاں جاتا ہے کہ درجن سے زائد کنویں قلعے منکیرے کے باہر اور اندر موجود تھے جو اب ختم ہو گئے ہیں ، قلعہ کی شروع داخلی جانب مشرقی جانب ایک مندر مہابیر کا کتبہ دروازہ پر آج بھی نصب ہے ، اور شمالی سَمت مسجد مہابت خان موجود ہے جس کے ایک مینار کو راجہ رنجیت سنگھ نے لوہے کے گولے سے شہید کیا تھا وہ گولہ کہا جاتا ہے کے تھانہ منکیرہ میں موجود ہے ۔ اب تو مسجد ضعیف ہونے کی وجہ سے اس کو شہید کردیا ہے اور بقولِ مقبول ذکی کہ اب وہاں نئی مسجد تعمیر کردی گئی ہے ، ویسے قلعہ میں چھوٹے ، بڑے کئی کنکریٹ کے پختہ گولے بکھرے پڑے ہیں راقم ایک ، دو گولہ وہاں سے تھل میوزیم کے لئے لے آیا چھوٹے گولے کا وزن پانچ کلو سے زائد ہے اور بڑے گولے کا وزن چھبیس ، 26 کلو سے زائد ہے جو راجہ رنجیت سنگھ نے منجنیق توپ سے مارے تھے ، جنوبی سمت نواب سر بلند خان کی چار دیواری میں قبر موجود ہے جس میں اور بھی چند قبور ہیں اور قلعہ کے بیرونی جانب قبرستان اور اسٹیڈیم ہے یہ قلعہ نواب سر بلند خان نے 1704ء کو بنوایا تھا ، پاکستان کے معروف قلعوں میں آج بھی اس کا نام آتا ہے ، کہا جاتا ہے کے انگریزوں نے اس مضبوط قلعے کی خوبصورتی کو ماند کیا قلعے منکیرے کہ بیرونی پتلی ، نانک شاہی اینٹیں اکھاڑ کر سڑکیں بنوا دی قلعے میں آج بھی وسیب کے مشہور درخت پیلوں (جال) اور کھگل موجود ہیں ، قلعے منکیرے کی مٹی کلر زدہ ہے ۔ مقبول ذکی مقبول کتاب ٫٫ یہ میرا بھکر ،، کا ایک شعر یاد آگیا ہے جو قلعہ منکیرہ کے متعلق ہے ، ملاحظہ فرمائیں

    قلعہ ایک جس میں آج بھی ہے
    تاریخی ہے شہر ترا مقبول ذکی

    آخر پر یہی دُعائے فقیر حقیر ہے کہ مالکِ کائنات بحقِ چہاردہ معصومین علیہ السّلام کے زوار مقبول ذکی مقبول کے رزقِ علم و حلم میں برکت و وسعت و عظمت و رفعتِ دوام عطاء فرمائے ! تاکہ یہ صحرائے تھل کا دیپ سدا ٹمٹماتا رہے آمین ثم آمین !

  • معروف شاعر و مصنّف مقبول ذکی مقبول کی لیّہ آمد

    معروف شاعر و مصنّف مقبول ذکی مقبول کی لیّہ آمد

    معروف شاعر و مصنّف مقبول ذکی مقبول کی لیّہ آمد

    ممتاز ادبی و صحافتی شخصیات سے ملاقاتیں

    لیّہ ( نامہ نگار ) معروف شاعر ، مصنّف اور ادیب مقبول ذکی مقبول نے ضلع لیّہ کا خصوصی دو رہ کیا ۔ اس موقع پر ان کی ملاقات شہر کی ممتاز ادبی و صحافتی شخصیات سے ہوئی ، جس میں تخلیق ، تحقیق اور ادب کے فروغ پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ۔

    ادبی نشست میں شہر کی معروف ادبی شخصیات پروفیسر ڈاکٹر گل عباس اعوان ، امان اللہ کاظم ، شمشاد حسین سرائی ، صابر جاذب ، قنمبر نقوی ، تنویر نجف ، امداد حسین سرائی کے ساتھ ساتھ معروف شاعر نجیب چوہدری بھی شریک ہوئے ، جن کا مزاحمتی اور روح پرور شعر آج بھی اہلِ قلم کی پہچان بن چکا ہے :

    "میں جھکا نہیں ، میں بکا نہیں
    میں چھپ چھپا کر چھپا نہیں
    جو ڈٹے ہوئے ہیں محاذ پر
    مجھے ان صفوں میں تلاش کر”

    معروف شاعر و مصنّف مقبول ذکی مقبول کی لیّہ آمد

    مقبول ذکی مقبول نے اس نشست میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیہ کا ادبی منظرنامہ قابلِ تحسین ہے ، جہاں تخلیق، مزاحمت اور زبان و ثقافت سے جُڑے رجحانات نمایاں طور پر موجود ہیں۔

    نشست میں سینئر صحافی منیر احمد کھوکھر (چیف بیورو "سنگِ بے آب”) اور ملک اسلم کھوکھر نے بھی شرکت کی اور ادبی و صحافتی ہم آہنگی پر اظہار خیال کیا۔ حاضرین نے اس موقع کو ایک نادر علمی و فکری لمحہ قرار دیا جو ادب کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہو گا۔

    مقامی ادبی حلقوں نے مقبول ذکی مقبول کی آمد کو ایک خوش آئند قدم قرار دیا اور توقع ظاہر کی کہ اس قسم کی ملاقاتیں ادبی فضا کو مزید تقویت دیں گی۔

  • مقبول ذکی مقبول کی ادبی پرواز

    مقبول ذکی مقبول کی ادبی پرواز

    مقبول ذکی مقبول کی ادبی پرواز

    مبصر : فقیر امداد حسین سرائی ، لیہ

    شعراءِ کرام کے بارے میں ایک معروف رائے قائم ہے کہ یہ معاشرے کے بہترین نباض ہوتے ہیں مغربی ادباء نے بھی اس بارے کافی شان دار آراء دی ہیں خوفِ طوالت کے کارن جنہیں قلم انداز کرتا ہوں تاریخ گواہ ہے کہ شعراء نے اپنے قلم کے علم سے کئی جابروں ، فرعونوں ، ظالموں ، فاسقوں ، لعینوں ، کو قلم کیا ہے حق و باطل کی جنگ تو ازل سے لےکر ابد تک جاری رہے گی مگر ِان شاء اللّٰہ ، نار کو نور مات دے کر رہتا ہے ۔ راقم آثم شاعر تو نہیں مگر شاعری کا انتہائی ذوق رکھتا ہے مگر طائرانہ جائزہ پیش خدمت ہے ۔
    سرائیکی ، پنجابی ، اُردو میں شاعری کرنے والے شاعر زوار مقبول حسین المعروف مقبول ذکی مقبول کی جو ضلع بھکر ، منکیرہ کے تاریخی قلعہ کے بالمُقابل ہی رہتے ہیں آپ کا پہلا اُردو شعری مجموعہ ٫٫ مُنتہائےِ فکر ،، جو 2020ء میں اُردو سُخن ڈاٹ ، آرٹ لینڈ چوک اعظم( لیہ) سے شائع ہوا ہے جس کے کل 200 صحفات ہیں جس کاانتساب شاعر نے اپنے والد گرامی اقبال حُسین مرحوم کے نام کیا ہے ۔اٹھارہ عمدہ اشعار کی صورت میں کیا گیا ہے ، شاعر ، مقبول اور ذکی جو دونوں ناموں کو تخلص کے طور پر اپنی شاعری میں برتتے ہیں ویسے تو کافی اشعار ہیں نمونہ کے طور پر چند اشعار ملاحظہ فرمائے ۔

    ہو بڑھ کے اس سے اور کیا ذکی کے پاس مومنو
    نبیؐ کی آلؑ کی وِلا ہے بس یہی میری متاع

    روح یہ مقبول جب تک ھے جہاں میں رب گواہ ہے
    ذکرِ حیدرؑ سے اسے بھی تو ملے گی جگمگاہٹ

    اسی طرح چند اشعار مزید دیکھئے ۔

    پرچم بُلند تر ہے ہوگا نہ سرنگوں یہ
    کہنا یزیدیوں سے اسلام بچ گیا ہے

    نوکِ سنان پر بھی ذکرِ خدا ہے جاری
    دیکھا جہاں نے حق کا پیغام بچ گیا ہے

    مقبول ذکی مقبول کی ادبی پرواز

    مزید برآں آپ کی دیگر تصنیفات میں پہلا سرائیکی شعری مجموعہ ٫٫ سجدہ ،، ہے جو 21 مئی ،2017ء کو سابق اسطور پبلیشر نے ہی شائع کیا تھا مقبول ذکی نے جسے اپنے دادا غلام حسن مغفور کے نام منسوب کیا ہے ، اس کے کُل صحفات اس کے 172 ہیں ، اس نسخہء عظیمہ کی تمام سرائیکی رثائی ادب ، شاعری محمدؐ و آلٌِ محمدؑ کے فضائل و مصائب پر کی گئی ہے ۔
    مقبول ذکی نثر کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوا چکے ہیں حال ہی میں جون 2023ء کو ملک کے معروف قلم کاروں کے یادگار نایاب انٹرویوز پر مبنی کتاب ٫٫ سُہنرے لوگ ،،
    ناشر : القلم رائٹرز فورم پاکستان لاہور سے چھپ چکی ہے جس کے کل صحفات 160، ہیں اس میں کل 27 ادباء، دانشواران کے نادر انٹرویوز ہیں ، جنہیں پڑھ کر قاری ورطہِ حیرت میں پڑ جاتا ہے، وہ اہم معلومات کا خزانہ ہیں ایک اور دوسری کتاب ٫٫ روشن چہرے ،، بھی جولائی 2023ء کو القلم رائٹرز فورم پاکستان ، لاہور نے شائع کی ہے ۔ اس کے صفحات 176 ہیں ۔ اور زیرِ طباعت
    مزید ٫٫ اعترافِ فن ،، ( تحقیق و تنقید)
    بھی اشاعت کے مراحل میں ہے گاہے بگاہے ملک کے رسائل و اخبارات میں آپ کی تحریریں شائع ہوتی رہتی ہیں آپ کی تاریخِ پیدائش یکم جنوری 1977ء ضلع لیہ کینال کالونی عید گاہ شہر کی ہے کیوں کہ آپ کے والد مغفور اقبال حسین کنال کالونی( لیہ) میں ملازمت کیا کرتے تھے ، آپ کی علم و ادب سے لگن کا جواب نہیں ہے راقم آثم بھی آپ کی علم و ادب سے بے پناہ وابستگی کو دل سے سراہتا ہے آپ کے کلام میں انتہائی فنی پختگی ، عمدہ منظر نگاری ، وارداتِ قلبی ، سادہ بیانی ، اور عقیدت مندی کی جھلک بدرجہ اُتم پائی جاتی ہے جو مختصراً ان اشعار میں قارئین ملاحظہ فرمائیں ۔

    ہاتفِ غیبی سے آئی تھی صدائے مرحبا
    یاحُسینؑ ابنِ علیؑ کیا کیا ہیں تیرے معجزات

    یہ قلم بھی آپٌ کے لکھتا ہی رہتا ھے سلام
    رب نے مُجھ کو ہے نوازا کیا بھلا میری ذات

    ٫٫ مُنتہائے فکر ،، کتاب سے شعر اس کے عنوان کے متعلق ملاحظہ فرمائیں ۔

    مُنتہائے فکر میں تحریر کر مقبول آج
    ہے دیا کیسے یہ مولاٌ نے پیامِ کربلا

    زکی کو دنیائے تحقیق میں ٫٫ سنہرے لوگ ،، اور ٫٫ روشن چہرے ،، ہمیشہ زندہ اور روشن رکھیں گے ۔ ان شاء اللّٰہ

    فقیر امداد حسین سرائی

    فقیر امداد حسین سرائی

     لیہ

  • امان اللّٰہ کاظم ایک نایاب گوہرِ سخن

    امان اللّٰہ کاظم ایک نایاب گوہرِ سخن

    امان اللّٰہ کاظم ایک نایاب گوہرِ سخن

    تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر پنجاب پاکستان

    امان اللّٰہ کاظم کا نامِ نامی کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ لیکن نئے قارئین کے لئے آپ بے بہا قابلیت اور شخصیت پر روشنی ڈالنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ امان اللّٰہ کاظم پیشہ ورانہ طور پر معلم ہیں تونسہ شریف کے رہنے والے ہیں ۔ آپ کا ٹرانسفر ضلع لیہ میں ہو گیا ۔ اس لئے آپ لیہ کے ہی ہو کر رہ گئے
    اب مستقل طور پر لیہ میں مقیم ہیں ۔ آپ اردو ، سرائیکی دونوں زبانوں میں شعر کہتے ہیں اور خوب کہتے ہیں دونوں زبانوں پر آپ کو پوری دسترس ہے ۔ آپ چار پشتوں سے علم و ادب کی خدمت کرتے چلے آرہے ہیں ۔ علم و ادب آپ کو ورثے میں ملا ہے ۔

    امان اللّٰہ کاظم ایک نایاب گوہرِ سخن
    استاد الشعراء سئیں امان اللّٰہ کاظم

    1995 ء میں آپ اپنے عہدہ معلمی سے ریٹائر ہوئے پھر آپ نے اپنے آپ کو ادب کی خدمت کے لئے وقف کر دیا ۔ امان اللّٰہ کاظم انتہائی خلیق ، شفیق اور محبت کرنے والے شخص ہیں اور ہر نئے ملنے والے کو پہلی ملاقات میں اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں ۔ آپ کی بہت سی کتابیں چھپ کر منظرِ عام پر آ چکی ہیں اور ادبی حلقوں میں پزیرائی حاصل کر چکی ہیں ۔ مثلاً اردو انہوں روایت سے ہٹ کر اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔ان کے نام اور مقام کا ہر سطح اور فورم پر اعتراف کیا گیا ہے۔انہوں نے معروف ناولوں اور دیگر عنوانات پر اپنے انداز میں کام کیا ہے

    شکیب اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہے
    ہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہو جاۓ

    مجموعہ کلام،، قندیلِ دل،،
    سرائیکی مجموعہ کلام ٫٫پپلیں ہنجھ نہ ماوے ،،
    کٹن بر ٫٫ سرائیکی اکھان،،
    اردو شرح فنِ شاعری ٫٫ آؤ شاعری سیکھیں ،،
    ٫٫رستہ رستہ اوجھڑ ،، سرائیکی مجموعہ کلام
    پیکرِ جلال و جمال ٫٫ ٹیپو سلطان ،، فاتح اندلس ٫٫
    طارق بن زیاد ،، کم سِن فاتح ٫٫ محمد بن قاسم ،،
    ابو سلمان سیف اللّٰہ ٫٫ حضرت خالد بن ولید ،،
    بطل حریت ٫٫ سلطان صلاح الدین ایوبی ،،
    منگولیا کا دجال ٫٫ چنگیز خان ،، ہلاکوخان ٫٫ خونخوار بھڑیا ،،
    خونابِ خم ٫٫ شرح دیوان مومن خان مومن ،،
    ماء الحسیات ٫٫ شرح دیوان خواجہ میر درد ،،
    تلخابہِ ء شیریں ٫٫
    شرح دیوان ساغر صدیقی ،،
    شرح ضربِ کلیم ٫٫ کلام اقبال ،،
    شرح بانگِ درا ٫٫ کلام اقبال ،،
    شرح بالِ جبریل ٫٫ کلام اقبال ،،
    شرح ارمغانِ حجاز ٫٫ کلام اقبال ،، وغیرہ وغیرہ ۔

    maqbool
    بھکر/ معروف استاد الشعراء سئیں امان اللّٰہ کاظم ( لیہ) کو مقبول ذکی مقبول اپنی کتاب سنہرے لوگ پیش کرتے ہوئے

    میرا آج کا موضوعِ بحث جناب امان اللّٰہ کاظم صاحب کا اردو مجموعہ کلام ٫٫ قندیلِ دل ،، ہے جو دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے ۔ زیرِ نظر کتاب میں نظمیں ، غزلیں ، قطعات اور بیت شامل ہیں ۔ آپ کی نظمیں انتہائی خوبصورت اور عقیدتوں کا احاطہ کیے ہوئے ہیں ۔ جن میں اللّٰہ تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے مودت بزرگوں سے عقیدت اور وطن عزیز سے محبت کی روشن دلیل ہیں ۔ چند نظموں کے علاوہ آپ کی تمام شاعری پرائمری سے میٹرک تک کے زمانے کی ہے ۔ آپ انقلابی اور لطیف جذبوں کے شاعر ہیں اور معاشرے کی محرومیوں کو قریب سے محسوس کرتے ہیں ۔ ادب کے اندر اپنی منفرد شان جان اور پہچان رکھتے ہیں ۔ راہ رومنزل ہی نہیں سالار ِ قافلہ ء ادب ہیں ۔ان کو شمار ان ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ادب کو بہت کچھ دیا۔ یہ بجا طور پر کہ سکتے ہیں کہ

    ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے

    امان اللّٰہ کاظم کا ایک قطعہ ملاحظہ فرمائیں

    ضمیر زندہ تو پھر گناہ و ثواب کی ہے تمیز باقی
    سوال کا ہے شعور باقی جواب کی ہے تمیز باقی
    ضمیر مردہ ، اور آدمیت کی روح مردہ
    نہ احترامِ خدا نہ ام الکتاب کی ہے تمیز باقی

    صنفِ سخن ہائیکو جاپان کی ایجاد ہے جسے صوفیاء کرام نے خوب سراہا ہے اور اِسے بیت کا بھی نام دیا ہے ۔ سندھی زبان کے صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی نے اِس صنف پر بہت زیادہ طبع آزمائی کی ہے اور جب سرائیکی شعراء نے اِس پر طبع آزمائی کی تو اِسے سرائیکو کا نام دیا ۔
    اڈھائی سے تین سطور پر یہ معصوم صنف اپنے اندر بڑی سے بڑی بات اور بڑا لطف رکھتی ہے ۔ امان اللّٰہ کاظم اِسے بیت کا نام دیا ہے اور اپنے خوبصورت خیالات کا اظہار شان دار انداز میں کیا ہے ۔
    ایک بیت ملاحظہ ہو
    زاغ زغن سب کھائیں ہیں ماس مگر مردار
    پاکیزہ ماحول کا اِن پر ہے آدھار
    رب کا شکر گزار ، جس کی یہ مخلوق ہے

    امان اللّٰہ کاظم نے غزل کے معیار کو اِس قدر ملحوظِ خاطر رکھا ہے کہ غزل کی روح کو زخمی نہیں ہونے دیا ۔ غزل کی خوشبو قاری کے دل و دماغ میں اتر کر اس کے دل و دماغ کو معطر کر دیتی ہے ۔ آخر میں امان اللّٰہ کاظم کی اِس غزل کے ساتھ قارئین سے اجازت چاہوں گا

    غزل

    ساقی اٹھا لے جام طبیعت اداس ہے
    رہنے دے تشنہ کام طبیعت اداس ہے

    میں اژدرِ خلوص گزیدہ ہوں دوستو
    ہوں خوں چکیدہ جام طبیعت اداس ہے

    ان کو گماں کہ تیرِ نظر کارگر ہوا
    اپنا خیال خام طبیعت اداس ہے

    چھیڑو کہ جھنجھنا اٹھیں تارِ ربابِ دل
    ٹوٹے سکوتِ شام طبیعت اداس ہے

    ناصح اِک شب مری بے کیف کٹ گئی
    جا وقت کے غلام طبیعت اداس ہے

    شاید طلسمِ رنگ و بو اب ٹوٹنے کو ہے
    لب پر ہے تیرا نام طبیعت اداس ہے

    دوگام چل سکے نہ کاظم خطا معاف
    یارانِ تیز گام طبیعت اداس ہے

  • صابر جاذب کی شاعری کا فکری جائزہ

    صابر جاذب کی شاعری کا فکری جائزہ

    صابر جاذب کی شاعری کا فکری جائزہ

    تحریر : مقبول ذکی مقبول                                بھکر پنجاب پاکستان

                                                    معاشرے میں رہن سہن کے لیے انسان تنہا زندگی نہیں گزار سکتا ۔ اسی لیے انسانوں کے ساتھ رہنے کا نظام بنایا گیا ہے جو صدیوں سے رائج ہے ۔ اس نظام کو خاندان یا گھرانہ کہا جاتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ خاندان کا آغاز و ارتقاء ایک ایسا مسلسل عمل ہے جس میں ہر فرد دوسرے کا سہارا بن جاتا ہے ۔ خاندان ایک ایسا ادارہ ہے جو انسانی رویے اور طرز عمل کی تشکیل کرتا ہے ۔ خاندان ہی وہ ادارہ ہے ۔ جس کے ذریعے معاشرتی تربیت ہوتی ہے اور خاندان ہی وہ ادارہ ہے جو فرد کو اپنے فرائض کا احساس دلاتا اور اسے فرق مراتب کا شعور بخشتا ہے اگر خاندان کا استحکام ختم ہوجائے تو انسانی طرز عمل معاشرتی فرائض کا شعور اور افراد معاشرہ کے مراتب کا تعین سب کچھ ختم ہوجائے ۔

    صابر جاذب کی شاعری کا فکری جائزہ

                                                    صابر جاذب ایسے ہی مستحکم علمی و ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کے پردادا احمد بخش بستی عظیم تحصیل کروڑ (لیہ) سے تعلق رکھتے تھے ۔ جو اپنے وقت کے بڑے فن کار تھے ۔ جن کی سریلی آواز اور جگت بازی کی وجہ سے انھیں دعوتوں پر خصوصی طور پر بلایا جاتا تھا ۔ صابر جاذب کے دادا امیر محمد بھٹی باقائدہ شاعر تو نہیں تھے مگر شاعری کا ذوق رکھتے تھے ۔ موقع کی مناسبت سے فی البدیہہ اشعار سنا دیتے تھے ۔ لیکن صابر جاذب کے والد گرامی شعیب جاذب ایک کہنہ مشق اور پختہ شاعر تھے ۔ وہ اتنا پختہ کار شاعر تھے کہ غیر منقوط ، فوق النقاط اور تحت النقاط جیسی مشکل ترین اصناف میں شعری مجموعے منصہ شہود پر لے آئے ۔ حالیہ کویت اور دیگر ممالک پر مشتمل ایک انٹر نیشنل بزم نے انھیں فوق النقاط اور تحت النقاط جیسی اصناف کا بانی قرار دیا ہے ۔ ان کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق کہ آئندہ جہاں پر بھی ان صنفوں پر کام کیا جائے گا تو بانی شعیب جاذب کا حوالہ لازمی دیا جائے گا ۔

                                                    صابر جاذب کا اصل نام صابر حسین اور قلمی نام صابر جاذب ہے جو ۱۵ فروری ۱۹۷۵ء کو لیہ شہر میں پیدا ہوئے ۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم ایم سی پرائمری سکول نمبر۲ سے حاصل کی ۔ انھوں نے میڑک کا امتحان گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول لیہ ۔ ایف ایس سی ، بی ۔ اے گورنمنٹ کالج لیہ سے پاس کیا ۔ بی ۔ ایڈ ور ایم ۔ اے کا امتحان بہاء الدین زکریا یونیورسٹی سے پاس کرنے کے بعد ۲۰۰۲ء میں ہی محکمہ تعلیم میں بہ طور مدرس بھرتی ہوگئے ۔ تال حال وہ بہ طور ہیڈ ٹیچر ملازمت سے وابستہ ہیں ۔ بہ طور مدرس ان کو دیکھا جائے تو پچھلے سال ۲۰۲۲ء میں انھیں محکمہ تعلیم کی جانب سے بیسٹ ٹیچر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے ۔

                                                    صابر جاذب کی شاعری میں نعتیہ رنگ ملاحظہ کیا جائے تو ذکر رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نعت اور سیرت کی صورت میں دنیا کی تقریباََ ہر زبان میں ہوتا رہا ، ہو رہا ہے اور قیامت تک ہوتا رہے گا ۔ یہ روح پرور سلسبیل ہے جو لمحۂ اول فرشتوں اور خود ذاتِ باری تعالیٰ کے وردِ زبان ہے ۔ ان گنت زمانے بیت گئے اُدھر لبیک الٰھُمّ لبیک کی اعترافی صدائیں بندِگان خدا کا حرزِ جاں ہیں ۔ صابر جاذب کی نعوت عقیدتوں کے موتی پروتی ہیں اور قلم ہے کہ بے قرار ہو کر صفحہ قرطاس پر پھول کھلاتا نظر آتا ہے ۔ ان کی نعت رسول کریمؐ سے محبت کے اظہار کا خوبصورت پیرایہ ہے ۔ اس لیے وہ لکھتے ہیں ۔

    نبیؐ کے چشمۂ رحمت نے دھو دیا صابرؔ
    بہت پڑی تھی گناہوں کی دھول آنکھوں میں

                                                    صابر جاذب کی شاعری ایک معتبر حوالہ رکھتی ہے ۔ ان کا شاعرانہ انداز اور لب ولہجہ اپنے ہم عصر شعرا ء سے منفرد نظر آتا ہے ۔ ان کی شاعری میں مزاحمتی و احتجاجی انداز کا اپنا رنگ ہے ۔ وہ مزاحمت کو طنز کے زہر میں ڈبو کر جب وہ پیش کرتے ہیں تو انسان تڑپ اٹھتا ہے ۔ ان کی شاعری دو بنیادی جذبوں ، رویوں اور تیوروں سے مل کر تیار ہوتی ہے وہ احتجاج مزاحمت اور رومان ہیں ۔ ان کی شاعری سے ایک رومانی ، ایک نوکلاسیکی ، ایک جدید اور ایک باغی شاعر کی تصویر بنتی ہے ۔

                                                    صابر جاذب ایسے معاشرے میں رہنے والا فرد ہے جس میں ظلم و زیادتی ، معاشرتی ناہمواریوں غربت و افلاس اور تنگی کا بازار گرم رہتا ہے ۔ اس معاشرے کا فرد ہوتے ہوئے زندگی کے ناگوار حقیقتوں درد مند دلوں ، جبر و ظلم ، معاشرتی ناہمواریوں نے ان کو انقلابی شاعر بنایا دیا ہے ۔ ان کا ایک انداز ملاحظہ کریں ۔

    ڈھونڈ کر ہر ایک خود سر دار پر لایا گیا
    ٹانک ڈالے دار پر شوریدہ سر جتنے بھی تھے

                                                    صابر جاذب کے کلام میں درد مندی کا عنصر بہت عیاں ہے ۔ وہ جس دور میں سانس لے رہا وہ نہایت ابتری کا دور ہے انسانی زندگی کی اقدار پامال ہو چکی ہیں ۔ انسانی خون ارزاں ہو چکا ہے ۔ اقتصادی ناہمواری نے لوگوں کو بد حال کر رکھا ہے ۔ ہر طرف ظلمت کا راج ہے ۔ تباہ حال معاشرہ میں ہمہ گیر انسانی تباہی نے ہر سوچنے والے کو متاثر کیا ہے تو ایسے میں ایک حساس اور باشعور شاعر کیسے متاثر ہوئے بغیر رہ سکتا ہے ۔ سماج میں موجود بے ترتیبی صابر جاذب کے شعری وژن کو متاثر کیے بغیر نہیں رہ پاتی ۔ زندگی سماج کے اندر ایک سیال حالت میں رہتی ہے ۔  سماج اور زندگی کا خالص تصور دو الگ الگ حالتیں بن جاتے ہیں ۔ سماج زندگی کو اپنی ہیئت میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے ۔ سماج کے پاس طاقت ہے ، زندگی خالص جذبوں کا بیرونی لبادہ کب تک اوڑھے رکھے ، اُسے سماج کی طاقت کے ہاتھوں شکست مل جاتی ہے ۔ صابر جاذب اس شکست ناروا کے حامی نہیں ۔ وہ اس شکست میں سماج کے غیر مرئی اور غیر متعین ہاتھوں کی نشان دہی کرتے ہیں ۔اس لیے وہ برملا کہتا ہے ۔

    دولت کی ہوس میں ہوئے ناموس گریزاں
    کب سے سرِ سردار پہ دستار نہیں ہے

                                                    صابر جاذب کی شاعری میں فلسفہ زندگی کا پہلو بھی نمایاں ہے فلسفہ زندگی تقریباً ہر بڑے شاعر کے ہاں یہ مضمون پایا جاتا ہے جس میں ہر ایک شاعر نے زندگی کے متعلق بیان فرمایا ہے ۔ کوئی شاعر زندگی کو مخص ایک لمحہ قرار دیتا ہے کوئی کہتا ہے کہ زندگی مسلسل غم کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ ایک شاعر جس انداز سے زندگی دیکھتا ہے ممکن ہے ایک عام آدمی کا انداز نظر وہ نہ ہو ، چند قدریں تمام انسانوں کی زندگی میں یکساں ہوتی ہیں جو فطری ہوتی ہیں جن میں غم ، دکھ ، خوشی وغیرہ ۔ ایک شاعر کے ہاں قدرتی بصارت ہوتی ہے جو کائنات میں چیزوں کو الگ زاویے سے دیکھتی ہے شاعر کائنات کی باریکیوں کو علامتی انداز میں پیش کرتا ہے ۔صابر جاذب کا فلسفیانہ رنگ دیکھیں ۔

    وقت کی سازش سہی خون کی بارش سہی
    کون ہوگا سرخرو ایک میں ہوں ایک تو

                                                    صابر جاذب نے غربت ، بے روزگاری عدم استحکام ، انسانی بے توقیری ، انسانی استحصال اور ان جیسے دیگر مسائل کو بہترین انداز میں پیش کرتے ہیں ۔ انھوں نے چابک دستی سے معاشرے کو در پیش تمام تر مسائل کو خوبصورت الفاظ کے پیکر میں اپنے قاری تک پہنچا کر اپنا فرض بھی ادا کیا اس بات کا اظہار وہ کچھ اس طرح سے کرتے ہیں ۔

    حالات کا سورج تو سرِ بام ہے تاباں
    سستائیں کہاں سایۂ دیوار نہیں ہے

                                                    صابر جاذب کو شعرو ادب سے لگاؤ تو بچپن سے تھا مگر کالج علمی و ادبی ماحول نے اس کو مزید حسن آفریں بنایا ۔اُن کے ادبی ذوق کی تشکیل و تعمیر میں جہاں پر کلاسیکی شعریات کا اہم حصّہ ہے ۔وہیں پر رومانوی رحجان کے اثرات بھی شدت سے پائے جاتے ہیں ۔ بلکہ اُن کے رومانی مزاج پر کلاسیکیت کی سخت گیری بے اثر ثابت ہوئی ۔

    کیسے تیروں کے احاطے سے نکل کر جاؤں
    کھا گئے ہیں ترے ابرو کے تناؤ مجھ کو

                                                    صابر جاذب کے ہاں غم جاناں کو اتنی اہمیت نہیں دی گئی جتنا غم دوراں کو دی گئی ہے ۔ وہ حسن وعشق کی بجائے بھوک افلاس کو بیان کرتے ہیں ۔ فکری اور جذباتی اضطراب بھی ہے نمایاں ہے ۔ ان کے ہاں غربت و افلاس کا نوحہ اس قدر شدت اختیار کر جاتا ہے کہ بسا اوقات ان کے لیجے سے کڑواہٹ جھلکتی ہے ۔ ان کے قریب غربت انسان کا بڑادکھ ہے جو اکثر زندگی کو بھی کھا جاتا ہے ۔ صابر جاذب کی شاعری میں احساس محرومی کے اعلیٰ درجے پردکھائی دیتی ہے ۔

    کشت غربت میں بہت ٹوٹ کے بادل برسا
    سیمگوں کھیت میں پھر درد ہیں پھلنے والے

                                                    انسانیت کا سب سے بڑا المیہ طبقاتی امتیاز ہے ۔صرف شجرنسب ، خاندان اور دولت کی بنیاد پر انسانوں کو چھوٹے اور بڑے کی اکائی میں تقسیم کرنا، انسانیت کے منافی ہے ۔ ادب زندگی کا عکاس ہوا کرتا ہے ۔ سو سماج اور سماجی اقدار کا پورا عکس کسی نہ کسی طور سے ادب کا موضوع بن جایا کرتے ہیں ۔ معاشرے میں بسنے والے افراد فکری اور نظری طور پر مختلف خیالات کے حامل ہوا کرتے ہیں ۔ ادب نہ صرف ان خیالات کا احاطہ کرتا ہے بل کہ ان نظریات کے اظہار و ترویج میں اپنا کردار ادا کرتا ہے ۔ صابر جاذب طبقاتی امیتاز کو یوں پیش کرتے ہیں ۔

    اس بات پر نظروں سے گرایا گیا صابرؔ
    نوکر نہںں، کوٹھی نہیں، کار نہیں ہے

                                                    صابر جاذب کی شاعری ایسی شاعری ہے جس میں زندگی صرف لذت کا نام نہیں بلکہ زندگی تلخیوں اور رکاوٹوں کا دوسرا نام ہے ۔ جس سے انسان مختلف تکالیف اور مشکلات کا ایک ایسا بھنور ہوتا ہے جس سے نکلنا کس قدر مشکل اور گراں کام سمجھا جاتا ہے ۔ ان کے احساس نے اپنے کرب کے ساتھ دوسروں کے کرب اور اپنی الجھنوں کے ساتھ دوسروں کی الجھنوں کو بھی دیکھا ۔ جاذب کے ہاں اس کی انفرادی اور اچھوتا بیان ملتا ہے ۔

    آ ہی نکلے کوئی شاید مجھے پرسہ دینے
    صفِ ماتم ہوں درِ دل پہ بچھاؤ مجھ کو

                                                    صابر جاذب کے خیال میں پاکستانی معاشرے میں فرد سیاسی سماجی سطح پر حکمرانوں ، سماجی ٹھیکداروں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے ۔ بے بسیوں ، بے کسیوں اور مجبوریوں کی تاریک رات ہے کہ کٹنے کا نام نہیں لیتی ۔ نتیجتاً فرد کا اپنی ذات سے اعتبار و اعتماد ختم ہو چکا ہے اور وہ اپنی انفردیت اور اعتماد ذات سے محروم ہو چکا ہے ۔ ایسے میں فرد سماجی معاملات سے بے گانہ ہو جاتا ہے اور ابن الوقتی کا رویہ جنم لیتاہے ۔ یہی رویہ آج ہمارے معاشرے کا خاصہ ہے ۔ معاشرے کے کرب زدہ ماحول کو صابر جاذب کچھ اس انداز میں پیش کرتے ہیں ۔

    اپنوں میں بھی اب جذبۂ ایثار نہیں ہے
    یہ غم ہے میرا کوئی غم خوار نہیں ہے

                                                    شاعری میں محبوب کے حسن و جمال کا موضوع بڑا اہم ہے ۔ غزل چونکہ معاملات مہر و محبت اور واردات عشق و عاشقی کی داستان ہے شعراء حضرات ہمیشہ سے حسن فطرت کے ساتھ ساتھ اپنے مجازی محبوب کی تعریف میں رطب اللسان رہے ہیں ۔شعراء نے واقعیت اور تخیل کی مدد سے اپنے محبوب کے حسن کی مدح سرائی اور قصیدہ خوانی کی ہے ان کے اشعار سے محبوب کی ایک خوبصورت تصویریں بنتی ہیں ۔ شعراء کے لئے محبوب کے مکھ میں سب سے زیادہ دلکشی ہے یہ مکھ حسن کا دریا ہے ۔ اس کی جھلک سے آفتاب شرمندہ و بے تاب ہے ۔اس کے بعد درجہ بدرجہ آنکھ ، اور اب ، خال اور قد غرض سراپائے جسم کی تعریف و توصیف بہت عمدہ پیرائے میں بیان کی جاتی ہے ۔ صابر جاذب کی خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے اپنے محبوب کی تعریف انفرادی انداز میں کی ہے ۔ ان کا انداز ملاحظہ کریں ۔

    حُسن اپنی سادگی سے آپ شرماتا رہا
    آئینے کو کیوں پسینہ مفت میں آتا رہا

                                                    صابر جاذب کا پیغام امن ، ترقی ، خوشحالی ، محبت اور سر بلندی کا پیغام ہے ۔ ان کی اُمیدیں نوجوان طبقے کے ساتھ ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نوجوان نسل قوم کا مستقبل ہے ، اگر یہ نسل تعلیم یافتہ ، باصلاحیت ، مہذب اور روشن دماغ ہوگی تو قوم کا مستقبل تابناک ہوگا بصورتِ دیگر قوم اندھیروں میں بھٹکتی رہے گی ۔ گویا قوم کا مستقبل نسلِ نو کے ساتھ وابستہ ہے ۔ ان کی آرزو ہے کہ نوجوانوں کے اندر احساس اور قوم کا درد پیدا ہو ۔ اس لیے وہ کہتے ہیں ۔

    کبھی کا ہوگیا جل بجھ کے راکھ پروانہ
    اب اس کا دیپ کے نیزے پہ سر تلاش نہ کر

                                                    صابر جاذب ایک ایسے شاعر کا نام ہے جو اپنی خوب صورت شاعری اور تنقیدی نگاری کی وجہ سے سوشل میڈیا کے بین الاقومی تنقیدی گروپس میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ ان کی شاعری احساسات و جذبات اور تہذیب کے بکھراؤ اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کشمکش اور دکھ کی امین ہے ، ان کا لہجہ ، ان کا اسلوب ، ان کا طرز ، ان کی فکر ، ان کا شعور ، اور ان کا تخیل ، صرف ہم عصروں میں سب سے انوکھا اور دل پزیر ہے ۔ ان کا جدت بھرا انداز ملاحظہ کریں ۔

    صحن میں جس نے اُگائے ہیں شجر شیشوں کے
    اس کی نسلیں بھی تو کھائیں گی ثمر شیشوں کے

                                                    المختصر صابر جاذب بنیادی طور پر ایک دردمند رومانی شاعر ہیں ۔ جذبوں کی شدت اور صداقت ، لہجے کی قوت اور تاثیر ، حسن و رومان کی فراوانی ، انقلاب اور شباب کا پر زور احوال ان کی شاعری کے امتیازی اوصاف سمجھے جاتے ہیں ۔ ان کے اسلوب میں ندرت ، شگفتگی ، منظر نگاری اور محبت کے جذبات کی فراوانی قاری کو مسحور کر دیتی ہے ۔ زبان و بیان پر ان کی دسترس کا ایک عالم معترف ہے ۔ ان کی شاعری میں صنائع بدائع کا حسن دھنک رنگ منظر نامہ پیش کرتا ہے ۔ حالات و واقعات کا لفظوں میں نقشہ کھینچ کر رکھ دینا ان کا خاصہ ہے ۔ اپنی شاعری سے انھوں نے اردو ادب کی ثروت میں جو اضافہ کیا وہ تاریخِ ادب کا ایک اہم باب ہے ۔

  • فقیر میاں امدادحسین لیکھی سرائی

    فقیر میاں امدادحسین لیکھی سرائی

    فقیر میاں امدادحسین لیکھی سرائی

    تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر پنجاب پاکستان

                    فقیرمیاں امداد حسین ولد حکیم میاں الٰہی بخش سرائی آپ ۱۹ ستمبر ۱۹۷۸ء بروز منگل بمطابق ۱۲ شوال ۱۳۹۸ ھجری لیہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ نے ابتدائی تعلیم بخاری پبلک اسکول جوگی موڑ سے حاصل کی جماعت چہارم میں نور السلام رحیمیہ پبلک سکول محلہ قاضیاں والا میں داخل ہوگئے ۔ جہاں سے انھوں نے پرائمری کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔۱۹۹۶ء میں میڑک کا امتحان گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول سے پاس کیا ۔نامسائد حالات کی وجہ سے مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکے ۔

                    میڑک کے بعد فقیر میاں امداد حسین سرائی ، دسمبر ۲۰۰۱ء فوج میں بھرتی ہوگئے لیکن پانچ ماہ بعد اپریل ۲۰۰۲ء میں محکمہ ریلوے سے ملازمت کے لیے سرکاری لیٹر جاری ہوا تو انھوں نے فوج کو خیر آباد کہہ کر پاکستان ریلوے میں ۱۳ ستمبر ۲۰۰۲ء بہ طور SMR بھرتی ہوگئے ۔ آج کل وہ بھکر ریلوے اسٹیشن پر ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں ۔

                     فقیر میاں امداد حسین سرائی کوعلمی و ادبی ذوق ورثے میں ملا ہے ۔ بچپن ہی سے اپنے والد بزرگوار طبیب حاذق حکیم میاں الٰہی بخش سرائی کے ساتھ ادبی محافل ، مشاعرے اور فقہی مجالس عزا میں جانے کی وجہ سے ذوق و شوق نقطہ عروج پر پہنچ گیا ۔ اوائل دنوں میں ۲۴ نومبر ۱۹۸۱ ء روز نامہ آفتاب ملتان اور۷ دسمبر ۱۹۸۱ ء روز نامہ جنگ لاہور میں والد بزرگوار کے ساتھ ان کی تصاویر شائع ہوئی تو ان کے اندر علمی و ادبی ذوق مزید پروان چڑھنے لگا ۔ جس کی وجہ سے وہ ڈاک ٹکٹیں ، کرنسی نوٹ ، سکے جمع کرنے لگے ۔ جب کافی سارا مواد جمع ہوگیا تو انھوں نے ان پر ایک بھرپور تحریر بعنوان ٫٫ڈاک ٹکٹوں کی دنیا،، لکھی جو جون ۲۰۰۰ء ماہنامہ بزمن ورلڈ لاہور میں شائع ہوئی ۔

    فقیر میاں امدادحسین لیکھی سرائی
    مقبول ذکی مقبول ۔میاں امداد حسین لیکھی سرائی اور گلفام حسین

                    فقیر میاں امداد حسین کے والد گرامی لیہ کی معروف علمی ا دبی شخصیت تھے ۔ انھوں نے اپنے ڈیرے پر ایک بہت بڑی لائبریری قائم کر رکھی تھی جس کا نام انھوں نے ’’سرائیکی کتب خانہ و تھل میوزئم‘‘  رکھا ہوا تھا ، جس سے تشنگان علم اپنی پیاس بجھانے کے لیے تشریف لاتے تھے ۔ جن میں ڈاکٹر مہر عبدالحق سمرا ، بیرسٹر تاج محمد لنگاہ ، نسیم لیہ ، ڈاکٹر خیال امرہووی ، غافل کرنالی ، عدیم صراطی ، فیاض قادری ، شعیب جاذب ، جعفر بلوچ ، واحد بخش بھٹی واحدی ، ملک عاشق حسین کھوکھر ، ملک یار محمد کلو ، اکرم میرانی ، زبیر شفیع غوری ، مہر اختر وہاب ، نواز صدیقی ، برکت اعوان ، عثمان خان گڑیانوی ، حکیم سید فدا حسین شاہ بخاری، ممتاز رسول خان ، مسرور بدیوانی ، مولا داد خان ، امان اللّٰہ کاظم ، ڈاکٹر لیاقت مگسی سندھ،مطلوب قریشی ، خادم حسین کھگہ ، یعقوب علی زدراری سندھ ، لائق زرداری ، حمید اصغر شاہین ، مہر نور محمد تھند ،امان اللّٰہ خان ، معروف رباعی خواںمیاں خادم حسین سرائی ، میاں غلام حسین سرائی ، میاں غلام اکبر سرائی ، فقیر غلام رضا ، پروفیسر ریاض حسین راہی ، منیر شوق، اسحاق انجم ، ذاکر مجید حسین راز اور ذکی تنہا ، جیسے شعراء و ادبا اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے آستانہ فقیر پر تشریف لاتے تھے ۔

                    علمی و ادبی شخصیات کی خدمت گزاری کا کام فقیر میاں امداد حسین کے ذمہ تھا، جن کی صحبت اور علمی گفتگو سے وہ فیضایاب ہوتے رہے۔نتیجہ یہ نکلا کہ وہ خود ان کی علمی گفتگو میں شرکت کرنے لگے ۔وقت کے ساتھ ساتھ ان کی علمی وسعت میں اضافہ ہوا ۔ اپنے والد بزرگوار طبیب حاذق حکیم میاں الٰہی بخش سرائی کے انتقال کے بعد ان کے ادبی ورثے کو سنبھالے ہوئے ہیں اور ان میں مزید وسعت دے رہے ہیں ۔

                    عصر حاضر میں فقیر میاں امداد حسین سوشل میڈیا کی اہمیت کو جانتے ہوئے۔ ایک یو ٹیوب چینل بنارکھا ہے ۔ جس میں لیہ کے آثار قدیمہ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرتے رہتے ہیں۔ جن میں ان کی اہمیت ، ان کی شکست و ریخت کے احوال شامل ہوتے ہیں۔ان کی منفرد کاوش یہ ہے کہ انھوں نے برصغیر کے نامور ماہر لسانیات ، ڈی لیٹ ،گوپی چند نارنگ سے ۲۰۲۱ء میں لیہ کی تاریخ پر کیشو فلم، کیشو ملتانی نے بعنوان ’’گوپی چند نارنگ اور ان سے وابستہ یادیں‘‘ دو تاریخی انٹرویو ریکارڈ کرائے۔

    پانی پت کے نامور وکیل پریم ویر ڈھینگڑا (سابقہ لیہ پنجاب)دو مرتبہ۲۰۱۸ء اور ۲۰۲۲ء میں پاکستان آئے تو وہ  اپنے آبائی شہر لیہ اورخصوصی طور پر میاں امداد سرائی کے پاس تشریف لے آئے ۔اسی طرح بھارت سے تعلق رکھنے والے دیگر احباب ارن میترا ، دلیپ ورما، پروفیسر مہندر پرتاپ چاند ،ایس کے جین، پروفیسر یو بی ھنس،۲۴ اکتوبر۲۰۱۰ء  میں آستانہ فقیر پر تشریف لا چکے ہیں، اور تا حال پروفیسر یو بی ھنس کے بیٹے شیش ھنس فقیر میاں امداد حسین  کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

                    فقیر میاں امداد حسین سرائی کی علمی و ادبی خدمات کے صلے میں ڈپٹی کمشنر لیہ اظفر ضیاء نے ان کو تعریفی سرٹیفکیٹ سے نواز ہے۔اس طرح ان کی ادبی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے بھیل ادبی سنگت کے چئیر مین زاہد اقبال بھیل نے حال ہی میں ان کی دستار بندی کی ہے۔

  • خادم حسین کھو کھر سے مصاحبہ

    خادم حسین کھو کھر سے مصاحبہ

    خادم حسین کھو کھر ، لیہ

    مصاحبہ نگار : مقبول ذکی مقبول ، بھکر پنجاب پاکستان
    لیہ کی دھرتی نے بہت سارے نام ور شعراء و ادباء پیدا کئے ہیں ۔ ڈاکٹر خیال امرووہی مرحوم ، نسیمِ لیہ مرحوم ، شعیب جاذب مرحوم ، پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین ، ڈاکٹر گل عباس ، اعوان ، امان اللّٰہ کاظم ، جسارت خیالی اور دیگر نے نا صرف لیہ کا نام روشن کیا بلکہ تاریخِ ادب لیہ کی جان بن گئے ہیں ۔ عصرِ حاضر میں ایک نیا اور جوبصورت نام خادم حسین کھو کھر کا ہے ۔ جو ایک خوش گوار ہوا کے جھونکے کی طرح وارد ہوا ہے ۔
    اپنے اشعار کے ذریعے نوجوان نسل کو راہِ راست پر لانے میں بھر پور کردار ادا کر رہا ہے ۔ ایسے شاعر شہر و قوم کا سرمایہ ہوا کرتے ہیں ۔ جن کے کلام سے معاشرہ خود کو سمجھنے سنوارنے اور بھائی چارہ جیسے کردار ادا کرنے لگ جائے تو سمجھو کہ شاعر اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا ہے ۔ ایسے شعراء کا کلام بھی زندہ رہتا ہے اور خود بھی زندہ رہتے ہیں ۔
    خادم حسین کھو کھر 4 اپریل 1977ء کو بستی سبانی چک نمبر 108 TDA لیہ میں الہیٰ بخش کھو کھر کے گھر پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم 1984ء سے اسکول بند والا سے شروع کی چھٹی کلاس کے بعد گورنمنٹ ہائی اسکول کوٹلہ حاجی شاہ (لیہ) سے میٹرک پاس کیا اور ایف اے ۔ بی اے پرائیوٹ طور پر پاس کیا آگے تعلیم کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکے اور محکمہ پنجاب پولیس میں ملازمت اختیار کر لی ۔ یاد رہے راقم الحروف کی پیدائش بھی لیہ کنال کالونی میں 1977ء کو ہوئی تھی ۔
    کتاب کا نام” سجِھ اُبھاریاونجے "مصنف خادم حسین کھو کھر صفحہ نمبر 23 پر صابر جاذب لکھتے ہیں ۔
    شائستہ مزاج شاعر خادم حسین کھو کھر کو قدروں کا احساس ہے ۔ وہ عوام کے درد و کرب سے آشنا ہے ۔ تب ہی تو انہوں نے زندگی کا امرت کشید کرکے وسیع و عریض کائنات کو شاعری کی روح بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ ان کا تخلیقی سفر تو ابھی شروع ہوا ہے ۔ آغاز ہی میں وہ سنگلاخ زمینوں میں پھول کھلانے اور دشت میں گل بوٹے اگانے کا ہنر جانتا ہے ۔ اس کی شاعری تمام تر لطافتوں سے آراستہ ہوتی ہے ۔ ان کا احساس پاکیزہ ، وہ بصیرت اور بصارت کے شاعر ہیں ۔ مجھے امید ہے وہ دن دور نہیں جب جادم حسین کھو کھر کو اور ان کی شاعری کو آفاقی عالمگیر سطح پر جانا جائے گا ۔

    خادم حسین کھو کھر سے مصاحبہ


    خادم حسین کھو کھر سے اکثر ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں ۔ چند روز قبل ہونے والی ملاقات میں جو علمی و ادبی حوالے سے سوالات و جوابات ہوئے ہیں وہ نذر قارئین ہیں
    سوال : آپ فقط سرائیکی میں اشعار کہتے ہیں یا اردو میں بھی کہتے ہیں ۔ ؟
    جواب : میں لسانیت کے اعتبار سے کسی زبان کو فوقیت دینے کا قائل نہیں ہوں ایک زبان کو فقط ایک زبان ہی سمجھتا ہوں لیکن دانشوروں کی اِس بات کے ساتھ Agree کرتے ہوئے کہ اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار انسان اپنی قومی اور مادری زبان میں صحیح کر تا ہے اور آسانی سے کر لیتا ہے تو اِس لئے زیادہ تر میرا کلام سرائیکی میں ہے یعنی میری مادری زبان میں ہے ۔ میں وقتآ فوقتاً اپنی قومی زبان اردو میں بھی شعر کہتا ہوں اور کہنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں ۔
    سوال : آپ کی شاعری کا خاص موضوع کیا ہے ۔ ؟
    جواب : حضرت غالب سے کسی نے ایک دن کہا کہ حضرت آپ اپنے فلاں شعر کی تشریح کر دیں تاکہ ہم
    کسی حتمی رائے تک پہنچ جائیں ۔
    یہ سن کر حضرت غالب نے کہا کہ تشریح سے شعر کا مفہوم محدود ہوجاتا ہے ۔ لہٰذا آپ اِس خدمت سے مجھے دور رکھیں میرے شعر کو محدود نہ کروائیں
    اسی طرح کسی ایک شاعر کے پاس کوئی ایک میدان نہیں ہوتا بلکہ شاعر ہمہ پہلو ہوتا ہے ۔
    بہر حال آپ کے سوال کی اہمیت دیکھتے ہوئے جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں
    جواباً میرا نمائدہ حوالہ بیٹی کے حقوق کی آواز ہے جو کہ میرے شعروں میں کثرت سے پائی جاتی ہے ۔
    سوال : آپ شاعری میں خود کو کیسا پاتے ہیں ۔؟
    جواب : یہ اپنے منہ سے میاں مٹھو بننے والی بات ہے ایسے کسی سوال کا جواب آپ جیسے فاضل احباب دے سکتے ہیں بہر حال احباب کی رائے سے آپ کو آگاہ کرتا ہوں دوچار دن قبل اور ایک مستند رائے میرے بارے میں
    سید مرتضیٰ افسوسؔ نے دی جوکہ ابھی تک ایف بی پر موجود ہے مذکورہ رائے میں مجھے شاہ جی نے ایک اچھا اور ہمہ پہلو شاعر مقرر کیا ہے ۔ میری کتاب "سجھ ابھاریا ونجے ” میں میری دھرتی کے عظیم دانشوروں نے شعرا کرام نے جس میں میرے استاد محترم منظور بھٹہ صاحب (تخلیق تے تخلیق کار کیا ہے)۔ڈاکٹر گل عباس اعوان صاحب (سرائیکی ثقافت دا امین )۔صابر جاذب (گلِ ادب خادم حسین کھوکھر) ۔ محمد سلیم اختر جونی
    (سرائیکی روایات کا علم بردار)
    اسی طرح میاں شمشاد حسین سرائی حاجی یاسین بھٹی صبغت اللّٰہ بزمی نے نمایاں طور پر ہمہ جہت نمائندہ شاعر کہا ہے ۔
    سوال : آج کل مشاعرہ کی روایت دم توڑتی دکھائی دیتی ہے ۔ آپ کیا کہیں گے ۔؟
    جواب : جی بالکل ایسا ہی ہے ۔”دم توڑتی کیا ؟دم توڑ چکی ہے ۔خصوصاً سرائیکی ماحول میں اِس معاملے میں زیادہ تر ہاتھ بزموں کی روایت کا ہے ۔
    بزموں نے ہم سے ایک اچھا مشاعرہ جو کہ وقت کی ضرورت ہے چھین لیا ہے ۔ ایک متشاعر نے ہم سے ایک اچھا شعر فہم انسان لوٹ لیا ہے ۔ مشاعرے کرانے کا موقع چھین لیا گیا ہے ۔ اِس بات کی آپ کے اور میرے آس پاس بہت ساری نشانیاں موجودہ ہیں ۔ اگر ہم غور کریں تو ! لیکن نام اٹھا کر ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھتا ۔
    سوال : لیہ کی ادبی محافل میں آپ نے کیا پایا ۔؟
    جواب : فنِ شعرو سخن کے ساتھ محبت اور نفرت کو برابر پایا ۔
    سوال : آپ کے حلقہء ادب میں کون کون لوگ ہیں ۔ ؟
    جواب : بہت سارے دور و نزدیک کے ادیب و شاعر شامل ہیں نام لینے بیٹھو ں تو ایک طویل فہرست کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔
    سوال : آپ کی کتاب
    "سِجھ اُبھاریاونجے”
    کتنے انعامات حاصل کر چکی ہے ۔؟
    جواب : اساتذہ اکرام کہتے ہیں کہ اصل اعزاز تو شعر فہم لوگوں کی داد ہوتی ہے جو کہ اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے شعر فہم لوگ مسلسل نواز تے رہتے ہیں اور آرہے ہیں ۔ مجھے اللّٰہ تعالیٰ نے بہت سے انعامات سے نوازا ہے ۔ مجھے آرٹس کونسل ملتان ( خبریں ) کی طرف سے سند اعزاز ۔ادبی تنظیم کار خیر پاکستان گوجرانوالہ سے گولڈ میڈل مع کیش ۔ کاروان بیدل جھنگ سے احمد تنویر ادبی ایوارڈ ۔بھیل انٹر نیشنل ادبی ایوارڈ ننکانہ صاحب سے ۔ الوکیل کتاب ایوارڈ مع سند امتیاز حاصل پور سے ۔ ایوارڈ براۓ بہترین تصنیف انٹر نیشنل رائٹرز فورم راولپنڈی سے اور اسی طرح بزم لطیف فتح پور بزم فروغ ادب وثقافت لیہ ۔ لیہ ادبی سوسائٹی لیہ سے سند امتیاز اور ایوارڈز سے نوازا گیا ہے ۔
    ہاں یاد آیا بزمِ اوج ادب بھکر نے بھی میری کتاب کو ایوارڈ کے لئے نامزد کر لیا ہے ۔
    سوال : کہا جاتا ہے کہ پولیس والا اور شاعر کا کوئی جوڑ نہیں ۔ اس پر کچھ کہنا پسند کریں گے ۔؟
    جواب : جی ضرور اس پر مختصر جواب دوں گا کہ پیشہ کا اور شعر گوئی کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ۔
    شعر گوئی کا تعلق موزوں اور غیر موزوں طبیعت سے ہوتا ہے ۔ضروری نہیں کہ ہر ایک پروفیسر شاعر موزوں طبیعت رکھتا ہو ۔ضروری نہیں ہر ایک انتظامیہ کا فرد غیر موزوں طبیعت ہو ۔ اِس طرح پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ان گنت لوگ شعر گو اور شعر فہم بھی ہیں ۔
    سوال : آپ کے شعبہ (پولیس) اور شوق( ادب ) میں بہت تفاوت ہے ۔
    جواب : اِس سوال کا جواب میں اس سے پہلے والے سوال میں جواب دے چکا ہوں ،
    پبلک کا یہ ایک وہم ہے کوئی فرق نہیں ہے ۔
    جواب : ایک شعر ہے جس کے مفہوم کو
    ہم نظریہ کے طور پر لے رہے ہیں
    کیا آپ اِس نظریہ کے قائل ہیں ؟
    خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
    سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے ۔
    جواب : جی بالکل میں اسی طرح اورں کے درد کو اپنا درد محسوس کرتا ہوں ہے ۔
    سوال : ملازمت میں کئی ایسے مشکل موڑ آ جاتے ہیں ۔ دوران ِ سروس پھر اس لمحے آپ کا طرز ِ عمل کیا ہوتا ہے ۔؟
    جواب : تحمل اور حوصلے کے ساتھ مشکلوں سے نمٹنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں
    سوال : ادبی میدان میں آپ کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ ؟
    جواب : امن و محبت کا رواج ,سماج میں اچھے سماج کی بہتری کیلئے سعیِ مسلسل ۔
    سوال : شاعری میں فکر کو جلا بخشنے کے لئے کیا کرنا چاہیے ۔؟
    جواب : احساس اور مشاہدہ کے لیے مطالعہ شاعری کے ساتھ قرآن مجید کا
    سوال : قنبر نقوی سے آپ کے رفاقت کا پوچھ سکتے ہیں ۔ ؟
    جواب : ذکی صاحب! ضرور قنبر نقوی صاحب میرے اچھے دوست اور ایک اچھے شاعر ہیں ۔
    ویسے میں سادات کی نسبت کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں ۔
    سوال : آپ خوش مزاج ہیں جب کہ آپ کے پیشے میں یہ چیز نہیں چلتی۔۔۔۔اس پر آپ کیسے مینیج کرتے ہیں ۔؟
    جواب : یہ بات صرف ڈیوٹی کے دوران وہ بھی مخصوص جرائم پیشہ کے ساتھ یعنی خوش مزاجی کو چھوڑنا پڑتا ہے ۔
    سوال : لیہ نے ادبی حوالے سے آپ کو کیا دیا ۔؟
    جواب : ادبی ماحول /اور ڈاکٹر خیال امروہوی شعیب جاذب اور منظور بھٹہ کی نسبت نے اُسلوبِ کلام کے ساتھ ایک صحیح ادبی ماحول دیا ۔
    سوال : آپ کی شاعری کا میدان ِ خاص کیا ہے ۔؟
    جواب : بیٹی کا تحفظ اور حقوق
    سوال : سرائیکی شاعری کا مستقبل آپ کے نزدیک کیا ہے ۔؟
    جواب : ایک اچھے مستقبل کی امید ہے
    سوال : لیہ میں کون سی سرائیکی صنف ِ شعر زیادہ برتی جا رہی ہے ۔؟
    جواب : ویسے تو لیہ میں سرائیکی کے
    اچھے اچھے شاعر موجود ہیں جو کہ ہر ایک صنفِ شعر پر طبعِ آزمائی کر رہے ہیں بلکہ اساتذہ کےاچھے اچھے شعر موجود ہیں
    الغرض میری نظر میں تو غزل ہے ۔

  • لیہ میں بچوں کےلئے تقریب کا انعقاد

    لیہ میں بچوں کےلئے تقریب کا انعقاد

    لیہ میں بچوں کےلئے تقریب کا انعقاد
    بھکر (نمائندہ خصوصی) گزشتہ دنوں گورنمنٹ پراٸمری اسکول لطیف ماڈل فارم میں بچوں کی نصابی و ہم نصابی سرگرميوں کے حوالے سے ایک پروقار تقریب منعقد ہوٸی ۔جس کی صدارت ضلع لیہ کے ڈسٹرکٹ ایجوکيشن آفیسر ڈاکٹر سید آغا حسن رضا نے فرمائی جبکہ مہمانان محتشم میں ڈپٹی ڈی او گل شیر اسسٹنٹ ایجوکيشن آفیسر محمد رمضان تھند اور ہاٹ ایف ایم کے آر جے ۔ حاجی محمد سلیم اختر جونی ۔تھے ۔

    لیہ میں بچوں کےلئے تقریب کا انعقاد

    اس کے ساتھ ساتھ مہمانان گرامی میں اسسٹنٹ ایجوکيشن آفیسر محمد ایاز ملغانی ۔ وسیم عالم ۔ خادم حسین کھوکھر شامل تھے ۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت مقبول سے ہوا ۔نظامت کے فراٸض ہیڈ ماسٹر صابر جاذب نے سرانجام دیئے ۔ جس میں جماعت ششم اور ہفتم کے درمیان قاٸد محمد علی جناح ۔ جماعت چہارم اور پنجم کے درمیان علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کی حالات زندگی پر کوٸز پروگرام منعقد ہوا ۔ اس علاوہ بچوں نے کلام اقبال پر خوب صورت انداز میں پرفارمنس پیش کی ۔ آخری پر مہمانان گرامی نے بچوں میں ٹرافی اور میڈل تقسیم کیے ۔

  • ایم بی راشد سے گفتگو

    ایم بی راشد سے گفتگو

    ایم بی راشد صاحب

    انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات ، لیہ

    انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر پنجاب پاکستان

    ایم بی راشد کا خاندانی نام محمد بخش ہے ۔ قلمی نام ایم بی راشد ہے ۔ 22 فروری 1982ء کو ماسٹر الہیٰ بخش کے گھر لیہ شہر میں پیدا ہوئے ۔ ماسٹر الہیٰ بخش کے چھ بیٹے اور چھ بیٹیاں ہیں ۔ ایم بی راشد کا نمبر تمام بہن بھائیوں میں سے دسواں نمبر پر ہے ۔
    تعلیم مڈل تک حاصل کی ہے ۔ اس کے بعد محنت مزدوری کو اپنا شعار بنالیا ۔ غریب گھر میں پیدا ہونے والا ایم بی راشد اس کی خداداد صلاحیت غریب ہونے کے باوجود نمایاں نظر آرہی ہے ۔ جس کا ثبوت دو سرائیکی شعری مجموعے ہیں ۔
    جن کے نام درج ذیل ہیں ۔
    "توں ہانویں” دستک پبلی کیشنز ملتان (اگست 2017)
    "اٹھواں رنگ” اردو سخن پاکستان چوک اعظم لیہ (2022ء)
    رکشہ چلانے سے اپنی زندگی کی گاڑی چلا رہا ہے ۔ اپنی بیوی اور بچوں کا پیٹ پالنے میں مصروف عمل نظر آتا ہے ۔
    ایسے ہی لوگ باہمت ہوتے ہیں ۔ جو اپنی منزل کو حاصل کر کے ہی دم لیتے ہیں ۔ ضلع لیہ میں ایک سرائیکی شاعر کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں ۔ کوئی بھی ادبی پروگرام ہو آپ کو ایم بی راشد سب سے پہلے نظر آئیں گے ۔ اس کی وجہ اس کے اندر کا شاعر ایک خاص مقام رکھتا ہے ۔ اس کے کلام میں سماج کے رنگ نظر آتے ہیں ۔
    بے انصافیاں ، محرومیاں ، ظلم و ستم کے خلاف آواز ، برائی کو ختم کرنے کا جذبہ ، حقوقِ انسانی کے لئے کڑک دار پیغام ، دل میں اتر جانے والا مستقبل کا خواب ، ماضی اور حال کا نوحہ ، غربت کی کہانی ، بھائی چارے کا درس اور جان جاناں کا رنگ تو ایک کمال انداز میں نظر آتا ہے ۔
    ایسے نوجوان حقیقی معنوں میں لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں ۔ ایم بی راشد سے ضلع بھر میں اور باہر بھی محبت کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں ۔ سادہ طبیعت سادگی میں نظر آنے والا ایم بی راشد سے چند روز پہلے ملاقات کرنے کا موقع نصیب ہوا ہے ۔ جو علمی و ادبی حوالے سے سوال و جواب ہوئے ہیں ۔ وہ نذر قارئین ہے ۔
    سوال: آپ کو شعری کا شوق کیسے ہوا اور اس میدان میں کیسے وارد ہوئے ۔؟
    جواب : ذکی صاحب! سب سے پہلے تو میں آپ کی محبت کا شکر گزار ہوں کہ آپ منکیرہ (بھکر) سے انٹرویو لینے کے لئے تشریف لائے ۔ آپ بغیر کسی لالچ کے اتنی دور سےتشریف لاۓ ۔ میرا حوصلہ بڑھا نے کے لئے بالکل پہلے کی طرح آپ میری ادبی حوالے سے عزت افزائی کرتے رہتے ہیں ۔ آپ فروغِ ادب کے لئے جو کچھ کر رہے ہیں ۔ اس کے لئے بہت ساری دعائیں ہیں ۔ آپ کے لئے
    مجھے بچپن سے ہی شوق تھا کہ پروگراموں میں گیت اور ڈوہڑے گاؤں لیکن کوئی خاص موقع نہ ملا ۔ جب سے رکشہ چلانے لگا ہوں اس دن سے شعری کی طرف توجہ زیادہ ہوئی ہے ۔ کیونکہ مختلف گلوکاروں کو سننے کا موقع ملا ۔ سب سے پہلے ڈوہڑے کہہ پھر گیت لکھنے شروع کر دیئے اور غزل ، نظم ، قطعہ ، سلسلہ چلتا گیا ۔
    سوال : آپ کی کتاب کا نام ہے ۔”اٹھواں رنگ” یہ نام کیسے رکھا گیا قارئین کو آگاہ کریں ۔ ؟
    جواب : جیسے قوس قزح کے سات رنگ اور چالیس رنگ مشہور ہیں ۔ ویسے تو اللّٰہ پاک کی کائنات میں بے شمار رنگ موجود ہیں ۔ لیکن زیادہ تر سات رنگ مشہور ہیں ۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ محبت اندھی ہوتی ہے ۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہوا ہے ۔ ایک ڈوہڑہ ہے میری کتاب میں وہ سنائے دیتا ہوں ۔ اسی ڈوہڑے سے نام رکھا گیا ہے ۔ ڈوہڑہ کچھ اس طرح سے ہے ۔

    ایویں لگدے پر ہن پریاں دے جڈاں تھیندے سنگ تیڈے بوجھن دا
    کائنات نے سوہنے ہر منظر گھدے اولھا منگ تیڈے بوجھن دا
    اے قوس قزح چن چوڈھیں دا ہے مست ملنگ تیڈے بوجھن دا
    کائنات ء راشد ست رنگ ہن ہے اٹھواں رنگ تیڈے بوجھن دا

    ایم بی راشد سے گفتگو

    سوال : آپ نے پہلا مشاعرہ کب اور کہاں پڑھا تھا ۔ ؟
    جواب : میں نے پہلی بار ڈاکٹر خیال امروہوی مرحوم کی رہائش گاہ پر ایک ادبی نشست میں گیا تھا ۔ ڈاکٹر صاحب نے میری بہت حوالہ افزائی کی ۔ یہ 2002ء کی بات ہے ۔ اس کے بعد میرا حوصلہ بڑھتا چلا گیا اور استاد سئیں شاکر کاشف صاحب کے پاس ہر مہینے کی نو تاریخ کو ادبی نشست ہوتی ہے ۔ اس میں باقاعدہ طور پر جانا شروع کر دیا ۔ بھر مشاعروں میں بھی اپنا کلام سناتا رہا ہوں ۔ ڈاکٹر خیال امروہوی مرحوم میرے محلہ دار تھے ۔ ان سے بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کو ملا ۔ اللّٰہ پاک ڈاکٹر خیال امروہوی مرحوم کے عالم برزخ کے منازل آسان فرمائے آمین ۔
    سوال : آپ کے گیت گلوکاروں نے گائے ہیں ۔ ان کے نام کیا ہیں ۔ ؟
    جواب : بہت سارے گلوکاروں نے گیت گائے ہیں ۔ اس حوالے سے بھی میری پہچان بنی ہے ۔ میں ان گلوکاروں کا شکر گزار ہوں ۔ جنہوں نے میرے کلام کو اپنی خوبصورت آواز کے ذریعے عوام تک پہنچایا ۔
    چند گلوکاروں کے نام آپ کو بتائے دیتا ہوں ۔
    مشتاق چھینہ ، باسط نعمی ، غضنفر سوکڑی ، مختار ساجن ، رشید دیوانہ اور سونا خان بلوچ شامل ہیں ۔
    سوال : گیت کیا ہے اور اس کی روح کیا ہے ۔؟
    جواب : گیت مختلف قسموں کے ہوتے ہیں ۔ ثقافتی ، علامتی ، معاشرتی ، رومانوی اور بھی اقسام ہیں ۔ مگر زیادہ تر رومانوی ہوتے ہیں ۔ جس میں محبوب کو تحائف وغیرہ دینے کا ذکر ہو کچھ محبوب کے نام کرنے کا ذکر ہو ۔ صنفِ ادب میں گیت ایک مشکل ترین صنف ہے ۔ اس کی روح تک پہنچنا آسان نہیں ہوتا مگر عشق ہوں تو منزلیں آسان ہو جاتی ہیں ۔
    سوال : آپ ایک سرائیکی شاعر ہیں ۔ کیا اردو اور پنجابی میں بھی اشعار کہتے ہیں ۔ ؟
    جواب : تین چار اردو غزلیں کہی تھیں ایک ملی نغمہ بھی لکھا تھا ۔ چند اشعار پنجابی زبان میں کہہ چکا ہوں ۔ میں اشعار کہتے ہوئے زیادہ خوشی اور لطف اپنی مادری زبان سرائیکی میں محسوس کرتا ہوں ۔
    سوال : آپ شاعری میں اصلاح کس سے لیتے ہیں ۔ ؟
    جواب : محترم سئیں شاکر کاشف صاحب سے (لیہ)
    سوال : ادب میں آپ آگے کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ ؟
    جواب : ادب میں بہت کچھ کرنے کی خواہش تو ہے ۔ مگر کیا کروں ۔ ؟ ایک مہنگائی دوسری غربت کچھ کرنے نہیں دیتی ۔ ایسے عالم میں اپنا اور بیوی بچوں کا پیٹ پالنا بھی بہت مشکل ہو گیا ہے ۔ اگر سرکاری سطح پر کتابیں شائع ہونا شروع ہو جائیں تو بہت سارے شعراء ادباء صاحب کتاب بن سکتے ہیں ۔ یا سرکاری لائبریریوں کے لیے غریب قلم کاروں سے سرکار کتابیں خرید کرنے لگ جائے تو یہ بھی حوصلہ افزائی ہوگی ۔
    سوال : کیا شاعر عشق کی بنیاد پر ہوتا ہے یا نہیں ۔؟
    جواب : شاعر پیدائشی طور پر ہوتا ہے ۔ عاشق بہت دیکھے ہیں مگر شاعر نہیں ۔ ڈگریوں کی بنیاد پر بھی نہیں ۔ ڈگریوں والے بھی بہت دیکھے ہیں ۔ مگر شاعر نہیں ۔ میں نے بھی عشق کیا تھا ۔ لیکن شاعر میں پہلے تھا ۔
    سوال : آپ کو بہت سارے اعزازات سے نوازا گیا ہے ۔ اس پر کچھ کہنا پسند کریں گے ۔؟
    جواب : بہت ساری ادبی تنظیموں نے ایوارڈز اسناد اور دیگر تحائف وغیرہ دیئے ہیں ۔ میں ان کا شکر گزار ہوں ۔ میرے ادبی کام کو سراہا گیا ہے ۔ حوصلہ افزائی پر دعا گو ہوں ۔
    سوال : آپ شاعر نہیں ہوتے تو کیا ہوتے ۔؟
    جواب : ہاں میں صحافی ضرور ہوتا صحافت کے ذریعے غریب لوگوں کی آواز بنتا ۔
    سوال : آپ کے حلقہ احباب میں کون کون ہیں ۔ ؟
    جواب : ماشاءاللہ میرے دوستوں کی بڑی طویل فہرست ہے ۔ نہایت ہی اچھے دوست ہیں ۔
    چند کے نام بتائیے دیتا ہوں ۔
    احمد اعجاز ، ڈاکٹر مزمل حسین ، خادم حسین کھوکھر ، صابر جاذب اور امداد حسین لیکھی فقیر ۔
    سوال : آپ آخر میں نوجوان لکھاریوں کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے ۔ ؟
    جواب : تعلیم تو ہر موڑ پر ساتھ دیتی ہے ۔ مگر اندر کے شاعر و ادیب کو پالش کرنے کے لئے مطالعہ بہت ضروری ہے ۔ اس سے اشعار و تحریر میں نکھار پیدا ہوتا ہے ۔ ہاں محبت کا ثبوت اچھا اور بااخلاق ہونا بے حد ضروری ہے ۔ جس کا صلہ دنیا میں بھی ملے گا اور آخرت میں بھی ملے گا ۔ میرا یہی پیغام سب کے لیے ہے ۔

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر، پنجاب، پاکستان

  • سئیں صادق حسنی  سے گفتگو

    سئیں صادق حسنی سے گفتگو

    سئیں صادق حسنی ،لیہ

    انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات ، لیہ

    انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر پنجاب پاکستان

    سئیں صادق حسنی ، لیہ کے معروف سرائیکی اور اردو شاعر ہیں ۔ تعارف کچھ اس طرح سے ہے کہ
    مصر میں آباد آج بھی ان کی ذات مٹاوا یعنی وہ مٹی جو پانی کےساتھ جڑی ہوئی ہو – کے لوگ مصر کے دوسرے بڑے شہر الاسکندریہ میں آباد ہیں اور عربی بولتے ہیں اورکچھ لوگ وہاں سے حجاز مقدس میں آباد ہوئے اور پھر وہاں سے ایک قافلہ محمد بن قاسم کے ساتھ سندھ میں پہنچ کر وہاں آباد ہوگئے اور کچھ لوگ وہاں سے گجرات( انڈیا) میں منتقل ہوئے اور ان کا خاندان مرشد دائرہ دین پناہ کے ساتھ ضلع مظفرگڑھ میں مقیم رہا آپ کے وصال کے بعد تحصیل و ضلع لیہ زیر سایہ حضرت سخی شاہ حبیب رح چک 149b TDA چاہ مٹاوا والا میں آباد ہیں 1964ء عیسوی میں شیر محمد مٹاوا کے گھر پیدا ہوئے ۔ تعلیم پرائمری اسکول بستی حضرت سخی شاہ حبیب اور لیہ گورنمٹ ہائی اسکول میں میٹرک پاس کیا پھر والد بہت بیمار ہوگئے تھے ۔ جس کی وجہ سےآگے تعلیم حاصل نہ کر سکے ان کے والد نے 1986ء میں اِن کی جلدی شادی کر دی ان کے ابو 1988ءمیں وفات پاگئے اللہ کریم ان کےوالدکےدرجادبلندکرےآمین اللّٰہ کریم نے اولاد جیسی نعمت سے نوازا 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں رونق صحن ہیں ۔
    گزشتہ دنوں ان سے ملاقات کرنے کی سعادت نصیب ہوئی جو علمی و ادبی حوالے سے گفتگو ہوئی وہ نذر قارئین ہے ۔
    سوال : آپ کو اشعار کہنے کا خیال کیسے آیا ۔؟
    جواب : میں بچپن سے جو گانا سنتا وہ مجھے یاد ہو جاتا اور میں اسے خوب گاتا رہتا ایک دن ہمارے گھر محترم عدیم سراتی مرحوم تشریف لائے جو اردو اور سرائیکی کے بہت بڑے شاعر تھے ۔ میرے والد کے دوست تھے ۔ میں نے پوچھا انکل آپ کیا کرتے ہیں ۔ اس نےکہا بچوں کو اسکول میں پڑھاتا ہوں اور شاعری بھی کرتا ہوں مجھے ایک غزل سنائی میں نے ان کی وہ غزل ترنم کے ساتھ گنگنائی تو وہ بڑے خوش ہوئے اور کہنے لگے یار تمہارے اندر شاعر اور موسیقار چھپا ہوا ہے بس پھر میں طبع آزمائی کرنےلگ گیا ۔ پھر نادر سرائیکی سنگت کا ممبر بن گیا ستاد محترم واصف حسین واصف قریشی کا شاگرد بن گیا ۔

    سئیں صادق حسنی سے گفتگو


    سوال : آپ کا شعری میدان کیا ہے ۔؟
    جواب : محمد و آل محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی مداح سرائی کرنا
    سوال : آپ کا شعری مجموعہ "جاگدیاں اکھیں” حال ہی میں آیا ہے اور بہت شہرت حاصل کررہا ہے آپ کیا کہیں گے ۔؟
    جواب : یہ میرے اللّٰہ پاک کا کرم ہے جو بندہء ناچیز کا پہلے بھی اردو اور سرائیکی کلام رسالوں اخباروں اور انتخاب کتاب بزمِ جانا میں چھپا لوگوں نے بہت پسند کیا اور کتاب "جاگدیاں اکھیں "کو ایوارڈز سے نوزا گیا ہے-
    اے جو کُچھ حسنی لکھ باہندے کرم سئیں دا عطا سئیں دی ۔
    سوال : آپ کے اشعار کار نکتہء نظر کیا ہے ۔؟
    جواب : میرے اشعار معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں جس میں مذہبی ثقافتی اور معاشرے کی اصلاح پر مبنی پیغام ہوتا ہے ۔
    سوال : آپ موسیقار اور طرزنگار بھی ہیں ۔ اس پر قارئین کو آگاہ کریں ۔؟
    جواب : ذکی صاحب کیونکہ بچپن سے ہی موسیقی سے لگاؤ تھا اور میرے والد محترم بھی ایک اعلیٰ نعت خوان تھے ۔ جس کی وجہ سے میں جو بھی شاعری کرتا گنگنا کر کرتا پھر میرے استاد محترم مرحوم بابا لعل خان صاحب سے میں نے موسیقی کی تعلیم حاصل کی ان کا آبائی تعلق انڈیا سے تھا ۔ وہ بہت نامور موسیقار اور طرز نگار تھے ۔ اسلئے اب جو بھی کلام میرے سامنے ہو اس کی طرز نگاری میں مجھے دقت پیش نہیں آتی ۔
    سوال : آپ کے نام سے ایک بزمِ ہے وہ کیسے وجود میں آئی اور اس کے منشور کیا کیا ہے ۔؟
    جواب : ادب کو فروغ دینے کے لیے اور ادب سے لگاؤ رکھنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے "بزمِ حسنی” کے نام سے ایک بزم بنائی، اس بزم کو سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے دنیا کے بہت سے ممالک میں پذیرائی ملی اور اس طرح ادب سے منسلک لوگوں کو ایک بہترین پلیٹ فارم ملا ۔
    سوال : آپ اپنے استاد واصف حسین واصف قریشی کے بارے میں کچھ کہنا پسند کریں گے ۔ ؟
    جواب : میرے استاد محترم پرخلوص سچے پیار کرنے والے عظیم انسان تھے اور کتب کثیرہ کے مصنف تھے ہمارے لیہ میں سرائیکی ادب کو روشناس کرانے والی عظیم شخصیت تھے ۔ میرا کریم اللّٰہ میرے استاد محترم کے عالم برزخ کے منازل آسان فرمائے آمین ۔
    سوال : سوشل میڈیا کا ادب کے حوالے سے کیا کردار ہے ۔؟
    جواب : ذکی صاحب سوشل میڈیا ایک بہت اچھا پلیٹ فارم ہے مگر افسوس کی بات ہےکہ آج کی نوجوان نسل نے ادب کا مذاق بنایا ہوا ہے کسی شاعر کی شاعری چرا کر اپنے نام لگا دیتے ہیں جو انتہائی قابل مذمت عمل ہے ۔ اگر انسان سچی لگن سے اپنی تخلیق کو اس پلیٹ فارم سے دنیا کو روشناس کرانے کا ذریعہ بنے تو اس سے بہتر پلیٹ فارم اور کوئی نہیں ہے ۔
    سوال : فنون ِ لطیفہ میں آپ کی زیادہ دلچسپی کس میں ہے ۔؟
    جواب : مقبول ذکی صاحب ! فنون لطیفہ کی اقسام تو کافی ساری ہیں مگر میرا موسیقی اور شاعری سے زیادہ تعلق ہے ۔
    سوال : سر سنگیت اور الفاظ کا آپس میں کیا رشتہ ہے ۔؟
    جواب : الفاظ احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں اور سنگیت ان احساسات کو روشناس کراتا ہے ان کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔
    سوال : ادب کو آپ نے کیسا پایا ۔؟
    جواب : ادب نے ہمیشہ انسان کو سنوارہ ہے ادب ہی آداب کی منازل طے کراتا ہے ۔ ادب ہمارے کلچر کا ورثہ ہے ۔
    سوال : لفظوں کا کھیل کیسا لگا ۔؟
    جواب : الفاظ ذہن کی تخلیق ہیں اور ذہن کے اندر یہ ایسے مچلتے ہیں جیسے خوشبو کا پھول سے تعلق ہے الفاظ ایسے ہی ذہن سے جڑے رہتے ہیں اور جب الہامی کیفیت ہوتی ہے تو شاعر کے اندر کے احساسات الفاظ بن کر لشکر کی مانند شاعر کی زبان سے جاری ہوتے ہیں ۔
    سوال : کیا ادب واقعی تسکین کا سامان فراہم کرتا ہے ۔؟
    جواب : آپ نے بجا فرمایا ہے ادب قلب کی تسکین اور روح کو پاک کو پاک کرتا ہے ۔
    سوال : آپ ادب کو کیسا لیتے ہیں ۔؟
    جواب : یہی ادب تو ہے جو آداب سکھاتا ہے آپ ایسی شاعری تخلیق کریں جس پرخود بھی عمل کرتے ہوں اور جو ہمیں اپنے دین کو بھولنےنہ دے جس میں اللّٰہ تعالیٰ اور ہمارے آخری نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے احکامات کو اپنا نےکا ذریعہ بنے شاعری کے اندر پیغام ہو فکر ہو سچائی ہو جو اپنی تہذیب کو اجاگر کرے اور جس میں آخرت کی فکر ہو ایسی شاعری سے پرہیز کریں جو ہماری موجودہ اور آنے والی نسل کو بگاڑ دے اللّٰہ کریم دشمن کی سازشوں سے محفوظ رکھے آمین
    سوال : اس فورم سے قارئین کو کیا پیغام دیں گے ۔؟
    جواب : دوستوں زندگی کا بھروسہ نہیں ایسےکام کر جاؤ جو اللّٰہ اور اس کا رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم راضی ہو جائے ۔ ہم بھولتے جارہے ہیں ہم نےکیا کرنا تھا اور کیا کر رہے ہیں ذرا اپنے اندر جھانک کر دیکھ لینا کیا ہم سہی سمت جارہے ہیں ۔ بس یہ التجاہے فنا ہی فنا ہے ۔

    maqbool

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر، پنجاب، پاکستان