تاثرات

تحریر : جسارت خیالی ، لیہ

مقبول ذکی مقبول نئی نسل کے نمائندہ سرائیکی شعراء میں شمار ہوتے ہیں ، جو محمد ﷺ اور آل محمد علیھم السّلام کی محبت کو جزوِ ایمان سمجھ کر ان کی آفاقی تعلیمات کو اجاگر بھی کرتے ہیں ، جنہوں نے فاسق و فاجر اور ظالم قوتوں سے نہ صرف بغاوت کی بل کہ حالت سجدہ میں سر کٹا کر ارفع اخلاقی اقدار کو بھی بچایا ۔
اس لئے مقبول ذکی مقبول نے اپنے سرائیکی شعری مجموعہ کا نام سجدہ تجویز کیا ہے ۔ اس کے پہلے حصے میں حمدیہ کلام ہے ، جس میں مقبول ذکی مقبول نے صفات خداوندی کا صرف ذکر کیا ہے بلکہ فلسفہ وحدت الوجود میں نمایاں نظر آتا ہے یہ مقبول ذکی مقبول کے ایمان کامل کی دلیل ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللّٰہ کی حمد و ثناء کرتی نظر آتی ہے ۔ شعر دیکھئے

تتلی ، بھنورے ، خمرے ، جگنو ذکر کرن تین مالک دا
میں مقبول دی قسمت کوں وی پھلاں نال سجایا ہے

مقبول ذکی مقبول کے نزدیک قرآن عظیم حکمت و دانش کی کتاب ہی نہیں بلکہ بنی نوعِ انسان کے لئے مکمل ضابطہ حیات بھی ہے ، جس پر عمل کر کے دنیا اور آخرت سنواری جاسکتی ہے ، لیکن جو قرآن عظیم کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں ، وہ دنیا میں رسوا ہوتے ہیں ۔اس لئے مقبول ذکی مقبول کو بے حد دکھ ہے کہ عالم اسلام نے جب سے تعلیمات قرآن کو چھوڑا ہے ۔ تب سے داخلی و خارجی مسائل کی دلدل میں موت کی سسکیاں لیتا نظر آتا ہے ۔ موصوف نے اس شعر سے اپنے نقظہ نظر کو یوں بیان کیا ہے ۔

قرآں پاک دے ہر منکر تے
ڈتا عین زوال ہے مولا

دوسرے حصے میں نعتیہ اشعار ہیں ، جن میں عشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو آتی ہے ۔ مقبول ذکی مقبول کی یہ تمنا ہے کہ دامنِ مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پکڑے رہوں ، یعنی آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ سلم کے اسوہء حسنہ پر عمل کرتا رہوں ، جو رحمت اللعالمین اور محسن انسانیت ہیں ۔جن کی آمد مبارکہ پر وقت کے سفاک آمروں کے محلات کے درودیوار ہلنے لگ گئے تھے اور آتش کدے بجھ گئے تھے ۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف عالم گیر اخوت و محبت کا درس دیا بلکہ صدیوں سے حائل طبقاتی دیوار گر کر اعلیٰ اور ادنیٰ کا فرق مٹا دیا ۔ یو ں دنیا میں عدل و انصاف کا بول بالا ہوا ، کہ رہتی زندگی نے سکھ کا سانس لیا ۔ نمونے کے چند اشعار نذر قارئین ہیں ۔

عظمت نرالی تیڈی مدحت خدا کریندے
ثقلین دا توں وارث وکھری ہے شان آقا

کونین دا مالک ہے سردار مدینے دا
انسان دا وارث ہے سرکار مدینے دا

ڈوں جہاناں دا شاہ آیا مکے دے وچ
ہر بشر کوں سحر اوہا وکھری لگی

گل دی خوشبو گئی ہر گلی ہر نگر
سوہنی رحمت دی سوہنی ہوا ہے چلی

حضرت امام علی علیہ السلام کی ولادت باسعادت پر مقبول ذکی مقبول کے اشعار میں بے پایاں عقیدت و مودت کے غماز ہیں ۔ حضرت امام علی علیہ السلام ایسے عظیم انسان تھے ، جو انسانیت کی سر بلندی کے لئے تحمل سے مصائب و آلام سہتے رہے ۔ انہوں نے فکری نظام ، اتحاد انسانی اور عدل و انصاف کے احیاء کے لئے اپنا خاندان تک قربان کر دیا ۔ مقبول ذکی مقبول نے اپنے بے ساختہ احساسات کا اظہار یوں کیا ہے ۔

ڈیکھو ڈیکھو خوشی توں چمکدے پئے
ذرے ذرے وی اج پوری کائنات دے
کیتی چہرے علی مرتضیٰ تے نظر
مرحبا یا علی یا علی حق علی

جگ تے کل ایماں دا قدم آ گیائے
ہنڑ تاں باطل نہ بچسی ذراوی اتھاں
کعبے نواں بنڑایا خوشی توں ہے در
مرحبا یا علی یا علی حق علی

مقبول ذکی مقبول نے اپنے سلام میں بھی حضرت امام حسین علیہ السلام کے سرمدی کردار کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ، جو صبر و استقامت حریمت ، آزادی جرأت اظہار ، انسان دوستی ، کلمہء حق اور عدل و انصاف کے پیامبر تھے ، ان کے چند اشعار دیکھئے جو حضرت امام حسین علیہ السلام کے انقلابی مشن کی آئینہ داری کرتے ہیں ۔

یزیدی مٹ گئے سارے کوئی ناں تک وی چیندا نئیں
سکہ شبیر دا چلدائے حکومت وی سمندر ہے

نہ کہیں ایجھاں کیتا سجدہ کوئی ایجھاں نہ کر سگسی
اجاں توڑیں ہے سجدے وچ عبادت وی سمندر ہے

ابنِ علی تہاڈی شجاعت کوں ہے سلام
دین نبی بچایا امامت کوں ہے سلام

صبر و رضا دا پیکر نوک سناں تے چہڑھ گئیں
قرآن پڑھدا رہ گئیں تلاوت کوں کوں ہے سلام

آخر میں میری دعا ہے کہ مقبول ذکی مقبول اپنی ایمان افروز شاعری کے ذریعے عالم اسلام خاص طور پر اہل وطن کے ضمیر احساس کو جگاتے رہیں ، کیونکہ محمد اور آلِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے آفاقی نظریات پر عمل کر کے ہی ترقی و خوشحالی ، امن و محبت ممکن ہے ۔عدم صورت میں ذلالت و رسوائی مقدر رہے گی

جسارت خیالی

لیہ، پنجاب، پاکستان

سونیا بخاری

Next Post

بابِ کھوئیاں، نئے دور کا آغاز

منگل ستمبر 13 , 2022
قریباٌ نصف صدی پیچھے جاؤں تو تلہ گنگ کے انتہائی پسماندہ اپنی جنم دھرتی ’کھوئیاں‘ کو تمام بنیادی سہولیات سے محروم پاتا ہوں مگر آج گاؤں کے ان روشن دماغ سپوتوں
بابِ کھوئیاں، نئے دور کا آغاز