قربانی ضرور کیجیے مگر ؟
تحریر: محمد ذیشان بٹ
ذوالحجہ کے مبارک اور بابرکت دن چل رہے ہیں۔ یہ وہ دن ہیں جن کے بارے میں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو ان دنوں کے نیک اعمال سب دنوں سے زیادہ محبوب ہیں۔ یہاں تک کہ ان دس دنوں کی فضیلت رمضان المبارک کے عام دنوں سے بھی بڑھ کر بیان کی گئی۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں ان کی اصل روح اور اہمیت سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ اکثر لوگوں کے نزدیک ذوالحجہ کا مطلب صرف جانور خریدنا، تصاویر لگانا اور گوشت محفوظ کرنا رہ گیا ہے، جبکہ اصل پیغام کہیں پیچھے رہ گیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی اطاعت، فرمانبرداری اور قربانی کی عملی تفسیر ہے۔ قربانی صرف ایک جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس، اپنی خواہشات اور اپنی انا کو اللہ کے حکم کے آگے قربان کرنے کا نام ہے۔ یہی اصل مضمون ہے، یہی اصل سبق ہے اور یہی وہ پیغام ہے جو آج ہم بھول چکے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام جب نوجوان تھے تو انہوں نے اپنی قوم کے باطل عقائد کے خلاف آواز بلند کی۔ پوری قوم بتوں کے سامنے جھکتی تھی مگر ابراہیم علیہ السلام نے اعلان کردیا کہ میرا رب صرف ایک اللہ ہے۔ آج اگر کوئی نوجوان دین کی بات کرے، نماز کی پابندی کرے یا سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرے تو فوراً اس پر فقرے کسے جاتے ہیں: “بڑا مولوی بن گیا ہے!” “ابھی سے اتنی دینداری کیوں؟”
مگر ابراہیم علیہ السلام نے لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہیں کی۔ بادشاہِ وقت نمرود کے سامنے بھی حق بات کہی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آگ تیار کردی گئی۔ ایسی آگ کہ پرندہ اوپر سے گزرتا تو جل جاتا، مگر جب اللہ کے فرمانبردار ابراہیم علیہ السلام کو اس آگ میں پھینکا گیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔”
یہ انعام کس کو ملا؟
فرمانبرداری کرنے والے کو۔
پھر ایک وقت آیا کہ بڑھاپے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اولاد عطا فرمائی۔ عام انسان تو بڑھاپے کی اولاد کو آنکھوں سے دور بھی نہیں ہونے دیتا مگر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہؓ اور ننھے بچے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو سنسان بیابان میں چھوڑ آؤ۔ نہ پانی، نہ سایہ، نہ کوئی آبادی۔
حضرت ہاجرہؓ نے پوچھا: “کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟”
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: “ہاں!”
تو جواب ملا: “پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔”
یہ ہوتا ہے ایمان، یہ ہوتا ہے یقین، یہ ہوتی ہے فرمانبرداری۔
پھر وہ وقت آیا جس کی یاد میں آج پوری امت قربانی کرتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کررہے ہیں۔ ذرا سوچیں! یہ بیٹا بڑھاپے کی اولاد تھا، آنکھوں کی ٹھنڈک تھا، مگر اللہ کے حکم کے سامنے محبتِ اولاد بھی قربان کردی۔
آج ہمارا حال یہ ہے کہ نماز کا وقت ہوجائے تو کہتے ہیں: “ابھی مصروف ہوں۔” فجر کی اذان ہو تو کہتے ہیں: “نیند بہت آرہی ہے۔”
مگر جانور خریدنے کے لیے پوری پوری منڈیاں گھوم لیتے ہیں۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی کیا خوب جواب دیا: “ابا جان! آپ کو جو حکم ملا ہے وہ کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے
باپ بھی اللہ کا فرمانبردار
بیٹا بھی اللہ کا فرمانبردار
بس یہی ادا اللہ کو پسند آگئی اور اللہ تعالیٰ نے جنت سے مینڈھا بھیج دیا اور اس سنت کو قیامت تک زندہ کردیا۔
مگر افسوس! آج ہم نے قربانی کو صرف رسم بنا لیا ہے۔ نئے کپڑے، مہنگے جانور، تصویریں، ویڈیوز، سوشل میڈیا کے اسٹیٹس… سب کچھ ہے، مگر اللہ کی اطاعت کم ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ قربانی تب قبول ہوگی جب انسان پہلے اللہ کا فرمانبردار بنے گا۔ جو شخص پانچ وقت نماز کے لیے اللہ کے بلانے پر حاضر نہیں ہوتا، جو روزانہ اذان سن کر بھی مسجد نہیں جاتا، جو اللہ کے واضح احکامات کو نظر انداز کرتا ہے، وہ صرف جانور ذبح کرکے یہ نہ سمجھے کہ اس نے قربانی کی روح پال لی ہے۔
قربانی فرمانبردار لوگوں کا کام ہے۔
ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی پوری زندگی اطاعت اور قربانی سے بھری ہوئی تھی۔ طائف میں پتھر کھائے، خون بہا، مگر بددعا نہ دی۔ فتح مکہ کے دن اختیار تھا کہ دشمنوں سے بدلہ لے لیتے مگر آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے معاف فرما دیا۔ یہی اللہ والوں کا طریقہ ہوتا ہے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں لے آئے۔ پوچھا گیا: “گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا؟” عرض کیا: “اللہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو۔”
حضرت عمر فاروقؓ راتوں کو لوگوں کے حالات معلوم کرنے نکلتے تھے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے اپنا مال دین کے لیے قربان کردیا۔ حضرت علیؓ نے ہر موقع پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا ساتھ دیا۔ یہ لوگ صرف جانور قربان نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی خواہشات بھی قربان کرتے تھے۔
آج ہم قربانی سے پہلے فریزر خریدنے کی فکر کرتے ہیں کہ گوشت محفوظ کیسے ہوگا، مگر کسی غریب کے گھر گوشت پہنچانے کی فکر کم ہوتی ہے۔ حالانکہ ایک خوبصورت بات یہ ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ گوشت ہمیشہ محفوظ رہے تو اسے ایسے لوگوں تک پہنچا دیں جنہوں نے قربانی نہیں کی۔ ان شاء اللہ وہ گوشت قیامت تک محفوظ رہے گا اور آپ کے لیے صدقۂ جاریہ بن جائے گا۔
اسی حوالے سے ہمارے شفیق استاد محترم حضرت مولانا ابو حفص طاہر کلیم صاحب اکثر فرمایا کرتے ہیں: “اللہ کا احسان ہے کہ اس نے جانور پر چھری چلانے کا حکم دیا، اگر اولاد قربان کرنے کا حکم آجاتا تو ہم سب کے پول کھل جاتے کہ کتنے لوگ واقعی اللہ کے فرمانبردار ہیں۔”
یہ جملہ سن کر انسان کانپ اٹھتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم واقعی اللہ کے فرمانبردار بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے دل کے اندر موجود حسد، بغض، کینہ، نفرت، تکبر اور ریاکاری پر چھری چلانی ہوگی۔ جب انسان اپنے نفس کو قابو کرلے گا تو پھر جانور پر چھری چلانا بھی آسان ہوجائے گا۔
ہمیں اپنی زندگی کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے طریقے کے مطابق گزارنا ہوگا۔ پیدائش سے لے کر موت تک، معاملات سے لے کر عبادات تک، اخلاق سے لے کر کاروبار تک، اگر ہم سنتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو اپنالیں تو پھر ہم واقعی اللہ کے فرمانبردار بن جائیں گے۔
اور جب انسان اللہ کا فرمانبردار بن جاتا ہے تو پھر اس کی چھوٹی سی قربانی بھی اللہ کے ہاں بڑی ہو جاتی ہے۔ اس لیے قربانی ضرور کیجیے…
مگر پہلے اللہ کے فرمانبردار بنیے۔
کیونکہ فرمانبرداری کے بغیر قربانی صرف گوشت کاٹنے کا عمل رہ جاتی ہے، جبکہ اطاعت کے ساتھ کی گئی قربانی انسان کو اللہ کا محبوب بندہ بنا دیتی ہے۔ اسی لیے تو میں حق بجانب ہوں یہ کہنے میں قربانی کیجے ضرور مگر پہلے اللہ کا فرمانبردار بنیے
ہمیشہ کی طرح صرف پڑھیے نہیں… مکمل سوچیے، پھر عمل کیجیے۔

محمد ذیشان بٹ جو کہ ایک ماہر تعلیم ، کالم نگار اور موٹیویشنل سپیکر ہیں ان کا تعلق راولپنڈی سے ہے ۔ تدریسی اور انتظامی زمہ داریاں ڈویژنل پبلک اسکول اور کالج میں ادا کرتے ہیں ۔ اس کے علاؤہ مختلف اخبارات کے لیے لکھتے ہیں نجی ٹی وی چینل کے پروگراموں میں بھی شامل ہوتے ہیں
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |