میری معلمہ ، میرا فخر
محمد اسداللہ نے خوب کہا تھا کہ:
رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
انسانی زندگی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک سوچ اور ایک خوب صورت احساس کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ وقت گزرتا رہتا ہے، حالات بدلتے رہتے ہیں، زندگی نئے موڑ لیتی رہتی ہے مگر کچھ چہرے، کچھ آوازیں اور کچھ رویے ہمیشہ دل کے نہاں خانوں میں محفوظ رہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی محبت، خلوص، شفقت اور کردار سے انسان کی زندگی پر ان مٹ نقوش مرتب کر جاتے ہیں۔ اَساتذہ کی شخصیات بھی انہی روشن کرداروں میں شامل ہوتی ہیں۔ ایک اچھا استاذ صرف کتابی علم منتقل نہیں کرتا بلکہ انسان کے اندر امید، حوصلہ، اعتماد اور شعور کی شمع روشن کرتا ہے۔ میری زندگی میں میڈم انجم اکبر بخاری بھی ایسی ہی ایک عظیم اور یادگار معلمہ ہیں جن پر مجھے ہمیشہ فخر رہے گا۔
2001-02ء کی بات ہے۔ میں جی۔سی۔ٹی پشاور چھوڑ کر واپس گھر آ چکا تھا۔ تعلیمی سفر سے میرا دل مکمل طور پر اچاٹ ہو چکا تھا۔ طبیعت میں بے زاری اور مستقبل کے حوالے سے عجیب سی بے یقینی موجود تھی۔ انہی دنوں مظفرآباد میں اورینٹل سائنس کالج نیا نیا قائم ہوا تھا۔ ادارے میں محترم پروفیسر بابر میر، محترم پروفیسر ڈاکٹر ندیم حیدر بخاری سمیت دیگر ممتاز اہلِ علم اور آزاد کشمیر کے نامی اساتذہ موجود تھے۔ اگرچہ میرا دل مزید تعلیم کی طرف مائل نہیں تھا مگر والد محترم کی خواہش اور حکم میرے لیے ہمیشہ اہم رہا اس لیے بادلِ نخواستہ میں نے اورینٹل سائنس کالج میں داخلہ لے لیا۔
اس زمانے میں کالج غازی چوک لوئر چھتر میں قائم تھا۔ صبح سات بجے سے شام چار بجے تک کلاسوں کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ ابتدا میں میرا دل وہاں بھی زیادہ نہ لگتا تھا لیکن جلد ہی اس ادارے کے اساتذہ کے اخلاق، شفقت اور محنت نے میرے اندر ایک نئی روح پھونک دی۔ حماد ہاشمی صاحب سے قائم ہونے والا تعلق آج بھی دل میں تازہ ہے جس پر کبھی تفصیل سے بات کروں گا۔ اس وقت جس شخصیت کا تذکرہ مقصود ہے وہ ہردل عزیز معلمہ پروفیسر انجم بخاری ہیں ۔
میڈم انجم اکبر بخاری اس وقت تدریس کے میدان میں نئی نئی وارد ہوئی تھیں۔ وہ سید صابر نقوی صاحب کے ساتھ انگریزی پڑھانے آیا کرتی تھیں۔ نوجوانی کی تازگی، شگفتہ مزاجی، اعتماد اور خوش اخلاقی ان کی شخصیت کا حصہ تھی۔ وہ نہایت خوش اسلوبی سے پڑھاتیں اور مشکل ترین اسباق کو بھی اس انداز سے پڑھاتیں کہ بہت آسانی سے طلبہ کی سمجھ میں آ جاتا۔ ان کی کلاس میں محض سبق نہیں ہوتا تھا بلکہ ایک خوش گوار اور دوستانہ ماحول بھی موجود ہوتا تھا۔ وہ طلبہ کو خوف اور دباؤ کی بہ جائے محبت اور حوصلے سے سیکھنے کی طرف راغب کرتی تھیں۔
ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کا رویہ تھا۔ وہ ہر طالب علم کے ساتھ شفقت اور احترام سے پیش آتیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ طلبہ ان سے بے حد محبت کرتے تھے۔ ان کے چہرے کی مسکراہٹ، شائستہ تکلم اور تدریس کا دل کش انداز آج بھی ذہن میں محفوظ ہے۔ وہ ان اساتذہ میں سے تھیں جن کے سامنے بیٹھ کر انسان صرف علم ہی نہیں بلکہ تہذیب اور اخلاق بھی سیکھتا ہے۔
وقت گزرتا گیا اور زندگی اپنے معمول کے مطابق آگے بڑھتی رہی۔ میں نے بھی کالج سے ناتا توڑ لیا۔ زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے 2014ء میں نمل سے ایم۔اے مکمل کیا اور بعد ازاں ایم۔فل کا کورس مکمل کرنے کے بعد واپس مظفرآباد آ گیا۔ یہاں ماڈل سائنس کالج میں جزوقتی لیکچرر کے طور پر تدریسی ذمے داریاں سنبھالنے کا موقع ملا۔ یہیں ایک مرتبہ پھر میڈم انجم اکبر بخاری سے ملاقات ہوئی۔ برسوں بعد جب انھیں دوبارہ دیکھا تو محسوس ہوا کہ وقت نے ان کی شخصیت کو مزید نکھار دیا ہے۔
اب وہ ایک تجربہ کار، باوقار اور نہایت محترم پروفیسر کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی تھیں۔ ان کے اندر وہی خلوص، وہی محبت، وہی خوش اخلاقی اور وہی شگفتگی موجود تھی جو طالب علمی کے زمانے میں دیکھی تھی۔ ان کی گفتگو میں اعتماد اور وقار نمایاں تھا جب کہ طلبہ کے ساتھ ان کا رویہ آج بھی اتنا ہی مشفقانہ تھا جتنا کئی برس ادھر رہا۔ وہ نہ صرف ایک بہترین استاد بلکہ ایک اعلا انسان بھی ہیں۔
میڈم انجم اکبر بخاری کا تعلق مظفرآباد کے ایک معزز اور تعلیم دوست خاندان سے ہے۔ ابتدائی تعلیم انھوں نے ہائیر سیکنڈری اسکول سہیلی سرکار سے حاصل کی۔ بعد ازاں فاطمہ جناح گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد سے انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن مکمل کی۔ اعلاتعلیم کے لیے جامعہ آزاد کشمیر کا انتخاب کیا جہاں سے انگریزی ادب میں ایم۔اے اور ایم۔فل کی اسناد حاصل کیں۔ وہ شروع ہی سے ایک ذہین، محنتی اور باصلاحیت طالبہ رہی ہیں اور یہی خوبیاں بعد میں ان کی تدریسی زندگی میں بھی نمایاں نظر آئیں۔
2004ء میں انھوں نے پبلک سروس کمیشن کا امتحان کامیابی سے پاس کیا اور مستقل طور پر محکمہ ہائر ایجوکیشن سے وابستہ ہو گئیں۔ یہ کامیابی ان کی قابلیت اور علمی بصیرت کا ثبوت تھی۔ انھوں نے گورنمنٹ ماڈل سائنس کالج،مظفرآباد میں اپنی خدمات کا بڑا حصہ گزارا جہاں وہ انگریزی کی ایک نہایت مقبول پروفیسر کے طور پر جانی گئیں۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج اٹھمقام، گورنمنٹ کالج ہٹیاں اور ہٹیاں دوپٹہ میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔
ہر ادارے میں ان کی موجودگی تعلیمی ماحول کے لیے ایک مثبت اضافہ ثابت ہوئی۔ وہ صرف اپنے مضمون تک محدود نہیں رہتیں بلکہ طلبہ کی ذہنی اور اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیتی ہیں۔ ان کے نزدیک استاذ کا منصب صرف نصاب مکمل کرنا نہیں بلکہ انسان سازی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شاگرد آج بھی ان کا ذکر بے حد احترام اور محبت سے کرتے ہیں۔
اگست 2025ء سے وہ کالج ٹیچرز ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں چیف انسٹرکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس منصب پر ان کا تقرر دراصل ان کے برسوں کے تجربے اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔ اب وہ نئی نسل کے اساتذہ کی تربیت میں مصروف ہیں اور اپنی بصیرت اور تجربے کی روشنی دوسروں تک منتقل کر رہی ہیں۔ ایسے لوگ درحقیقت تعلیمی اداروں کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔
11 مئی کو جب پندرہ روزہ ورکشاپ کے سلسلے میں میرا انتخاب ہوا اور وہاں میڈم انجم اکبر بخاری سے ملاقات ہوئی تو دل خوشی اور فخر کے جذبات سے بھر گیا۔ ایک شاگرد کے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی معلمہ کو اسی وقار، محبت اور خلوص کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے دیکھے۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وقت نے برسوں کا سفر طے ہی نہ کیا ہو۔
میڈم انجم اکبر بخاری کی شخصیت میں علم کے ساتھ ساتھ اخلاقی حسن بھی بدرجۂ اتم موجود ہے۔ وہ خوش لباس ہیں مگر ان کی اصل خوب صورتی ان کے کردار میں ہے۔ وہ خوش گفتار ہیں مگر ان کی اصل تاثیر ان کے لہجے کی محبت میں ہے۔ وہ باصلاحیت ہیں مگر ان کی اصل عظمت ان کی عاجزی اور انکساری میں ہے۔ یہی خوبیاں انھیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ معاشرے کی تعمیر میں اساتذہ کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور میڈم انجم اکبر بخاری جیسے اساتذہ اس کردار کو نہایت خوب صورتی سے نبھا رہے ہیں۔ وہ نئی نسل کے لیے امید، حوصلے اور روشنی کی علامت ہیں۔ ان کی تدریسی خدمات اور انسان دوستی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
بلاشبہ میڈم انجم اکبر بخاری صرف میری معلمہ ہی نہیں بلکہ میرا فخر ہیں۔ ان جیسی شخصیات زندگی میں بار بار نہیں ملتیں۔ وہ ان خوش نصیب اساتذہ میں شامل ہیں جن کے شاگرد نہ صرف ان سے علم حاصل کرتے ہیں بلکہ ان کی شخصیت سے متاثر ہو کر زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سیکھتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں ایمان اور صحت والی حیاتِ جاوداں عطا فرمائے گا کہ وہ اسی طرح علم کی شمعیں روشن کرتی رہیں اور آنے والی نسلیں ان کے فیض سے مستفید ہوتی رہیں۔ بردارم ڈاکٹر اسحاق وردگ کا یہ شعر میڈم کے نام کر کے اجازت چاہوں گا:
اَساتذہ نے مرا ہاتھ تھام رکھا ہے
اسی لیے تو میں پہنچا ہوں اپنی منزل پر
20 مئی 2026ء، بدھ

مضمون نگار فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد سے ہے۔اردو زبان و ادب میں پی ایچ ڈی ہیں۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط کے ایڈیٹر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |