کوڑی راجے سچے لوگ تھے
تحریر: سید حبدار قائم
1960 کی دہائی میں ضلع اٹک کے گاوں غریبوال میں کوڑی راجے آتے تھے جن کی بغل میں تھیلا ہوتا تھا اس تھیلے میں تین چُھریاں ہوتی تھیں جن کی اوسطاً لمبائی ایک شہادت والی انگلی جتنی ہوتی تھی
اس دور میں یہ لوگ گاوں گاوں جاتے تھے اور ان سے مرد اور عورتیں مستقبل کا حساب کراتے تھے جو بالکل سچا ہوتا تھا
جس بندے نے حساب کرانا ہوتا تھا وہ اپنا نام بتاتا تھا تو کوڑی راجہ بغل والے تھیلے سے تین چُھریاں نکال کر زمین پر پھینکتا تھا اور اس بندے کے مستقبل کے متعلق سب کچھ سچ بتا دیتا تھا
میری ساس کا کہنا ہے کہ جب میری شادی ہوئی تو کوڑی راجہ ہمارے گاوں میں آیا تو میرے خاوند نے اُس سے پوچھا کہ ان کی کتنی اولاد ہو گی تو اس نے کہا تھا کہ دس بیٹیاں اور چھ بیٹے۔ اور یہ پیشن گوئی بالکل سچ ثابت ہوئی
میری اپنی والدہ نے ان سے حساب کرایا تو اس نے بتایا تھا کہ اپنے بیٹے سید کفایت حسین شاہ کا خیال رکھا کریں اور اس کریںنھ کے درخت کے نیچے اسے نہ جانے دیا کریں والدہ نے احتیاط بھی کی لیکن اس درخت کے نیچے ہمارا بھائی چلا گیا اور فوت ہو گیا
اسی طرح ایک بار میری پھوپھی جان کے متعلق اس کوڑی راجے سے حساب کرایا گیا تو کوڑی راجے نے چُھریاں زمین پر پھینکی اور توبہ توبہ کی اور کہا کہ اس بی بی پر بہت مشکل آنے والی ہے چند دن ہی گزرے تھے کہ پھوپھا کا آرمی میں حادثہ ہو گیا اور ہماری پھوپھی بیوہ ہو گئیں جن کی باقی زندگی بہت مشکل حالات میں گزر رہی ہے
یہ کوڑی راجے کون سا علم رکھتے تھے آج تک کسی کو معلوم نہیں ہے لیکن وہ جو بات بتاتے تھے وہ سچی ثابت ہوتی تھی وہ لوگوں سے پیسے بھی نہیں لیتے تھے اگر کوئی خوشی سے دیتا تو قبول کر لیتے تھے
پی ٹی سی ایل اٹک میں دوستوں سے یہ بات شیئر کی تو ان میں سے رشید صاحب نے کہا کہ انہیں ہم کنجیاں آلا بابا یا رملی بابا کہتے تھے اور وہ واقعتاً سچی بات بتاتے تھے
یہ لوگ بغیر کسی لالچ کے مستقبل کی خبریں دیتے تھے ان کی بتائی ہوئی پیشن گوئیاں درست ہوتی تھیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ لوگ کہاں غائب ہو گئے
اس دور میں ان کا کیا روپ ہے ؟
کیا ان سے اب بھی سچ پوچھا جا سکتا ہے یا نہیں؟
کیونکہ موجودہ دور میں حسابیوں نے دو نمبر دھندے شروع کیے ہوئے ہیں جن کا کام صرف پیسے بٹورنا ہوتا ہے اور سچ ان سے کوسوں دور ہے جادو ٹونا تعویز گنڈے جیسے غلیظ کاموں نے ہمارے معاشرے کو تباہ کر دیا ہے لوگوں کا یقین مشرکوں سے بھی بدتر ہو گیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان لوگوں کے دھندے اور اڈے بند کیے جائیں تاکہ معاشرہ اسلامی اقدار کا امین ہو
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |