” تم جو چاہو کر سکتے ہو ” ایک اجمالی جائزہ
ادب اطفال :” عاصم بخاری کا شعری مجموعہ” تم جو چاہو کر سکتے ہو ” ایک اجمالی جائزہ
از۔۔۔۔
(پروفیسر محمد ارشد
حسان میانوالی)
عاصم بخاری میانوالی کا ایک ایسا روشن حوالہ ہے جس کے ذکر کے بغیر میانوالی کی ادبی تاریخ کا کوئی بھی باب رقم نہیں ہو سکتا ۔ میانوالی میں فردیات کی پہلی کتاب کا خالق بھی وہ ہے جن کے تعداد تا دم تحریر ہذا تین ہو چکی ہے ۔میانوالی میں پہلی افسانچہ نگاری کی کتاب شائع کرانے کا سہرا بھی ان کے سر ہے۔ نسائی ادب کو دیکھیں تو ظلم عورت پر میانوالی کی واحد شعری تصنیف ہے جس میں تمام نظمیں عورت کے موضوع پر لکھی گئ ہیں۔ ماحولیاتی شاعری کے باب میں پاکستان میں دوسرا اور میانوالی میں پہلے شعری مجموعے کے خالق ہونے کا اعزاز بھی ان کو حاصل ہے۔ اور ادب اطفال کے حوالے سے ” تم جو چاہو کر سکتے ہو” پہلی شعری تخلیق ہے جو بچوں میں ترغیب و تحریک پیدا کرنے کے لیے ان کی پینسٹھ نظموں کا مجموعہ ہے ۔
عاصم بخاری کے سر پر ہمیشہ کوئی نئی دھن سوار رہتی ہے اور ہر بار ہی وہ کوئی نئی سوغات اپنے پڑھنے والوں کو پیش کرتے رہتے ہیں۔ بچوں سے ان کی محبت کا عالم دیکھنے کے لائق ہے ۔ جن درسگاہوں میں انہوں نے پڑھایا ہے وہاں کے طلباء شاہد ہیں کہ وہ بچوں کو کتنا own کرتے تھے ۔ وہ فن ،مزاح اور بر محل اشعار کی پیشکش سے تعلیم و تعلم جیسے خشک کام کو فرحت بخش تجربہ بنا دیتے تھے۔ جو لوگ ان سے شناسا ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں ان کے طلباء ان سے کتنی محبت کرتے ہیں۔اپنے بچوں سے ان کی محبت و وارفتگی پر قاریہ اچھی بچی ہے اور ایک نظم مہوش بیٹی کے نام جیسی نظمیں شہادت دے رہی ہیں ۔ مہوش میری ڈائریکٹ سٹوڈنٹ ہے اور میں جانتا ہوں کہ عاصم صاحب کی تربیت اس کی شخصیت اور رویوں میں صاف جھلکتی ہے۔
امام غزالی کی ایھا الولد ،میر تقی میر کی فیض میر، غالب کا قادر نامہ ، ڈپٹی نذیر احمد کا مراہ العروس ،حالی کا مجالس النساء ، اقبال کی جاوید کے نام وغیرہ جیسی تخلیقات والدین کی اپنی اولاد کی اخلاقی تربیت کے لیے فکر مندی کو ظاہر کرتی ہیں۔
"تم جو چاہو کر سکتے ہو” کی تخلیق کے ساتھ عاصم بخاری نے خود کو ادب اطفال لکھنے والے محمد حسین آزاد ، علامہ اقبال ،تلوک چند محروم،اسماعیل میرٹھی ، صوفی غلام تبسم ،حامد اللہ افسر جیسے بڑے ناموں میں شامل کر لیا ہے۔ ان کی نظمیں اخلاق ، حب الوطنی ،ایثار محنت ،جفاکشی اور علم وہنر کی اہمیت جیسے موضوعات کو سادہ اور دلپذیر انداز میں پیش کرتی ہیں۔ عاصم ہماری تہذیبی شناخت کو کھوجتے ہوئے نونہالان وطن کو اپنی اصل کو پہچاننے کا شعور عطا کرتے ہیں۔وہ بار بار ان نظموں میں اپنے مشاہیر ،ہیروز اور قومی و ملی تہواروں سے واقفیت دلانے کی سعی بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان نظموں کو پڑھ کر یقیناً بچوں میں اخلاقی و نظریاتی اقدار پیدا ہونے کے وافر امکانات موجود ہیں۔
عاصم بخاری چوں مرگ آید میں مذکور تقریباً تمام عوارض میں مبتلا ہونے کے باوجود چٹان کی طرح ہر میدان میں نہ صرف ڈٹے رہے بلکہ تقریباً ہر میدان میں اپنی کامرانی کے جھنڈے گاڑے۔ اور ان نظموں میں وہ یہی خصائص اپنی پاکستانی نسل میں پیدا کرنے کے خواہاں نظر آتے ہیں ۔ بچوں کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے انہوں نے نہایت آسان مگر دلنشین پیرائے اظہار کو اپنایا ہے۔ اکثر نظموں کا انداز بیان اتنا سہل مگر مترنم ہے کہ ان کو کورس کی شکل میں گایا جائے تو زیادہ موثر طریقے سے بچوں میں جذبہ عمل بیدار کیا جا سکتا ہے۔
وقت پہ آئیں اچھے بچے سب کو بھائیں اچھے بچے محنت ہی کے بل بوتے پر نام کمائیں اچھے بچے
جب سکول سے آتی ہے سب کو ہاتھ ملاتی ہے
قاریہ اچھی بچی ہے
شوق سے منہ یہ دھوتی ہے نہ لڑتی نہ روتی ہے
قاریہ اچھی بچی ہے
خود ہی ہاتھ بڑھاتی ہے ناخن یہ کٹواتی ہے
قاریہ اچھی بچی ہے
وقت پہ آنا جانا ہے
ایسے کھانا کھانا ہے پوچھے کوئی رستہ تو سیدھا ہی بتلانا ہے
پیار سے بہنوں بھائیوں کو ہر نکتہ سمجھانا ہے
ان ساری نظموں میں میری سب سے پسندیدہ نظم مہوش بیٹی کے نام ہے۔ باپ بیٹی کے رشتے کے جذباتی اور نفیس ترین پہلو پر لکھی گئی اردو شاعری کی بہترین نظموں میں اس نظم کو شمار کیا جاسکتا ہے۔
میرا نور نظر مہوش
میرا لخت جگر مہوش مجھے گھر سونا لگتا ہے
نہ ہو اس میں اگر مہوش مری نظریں یہ کہتی ہیں بتا تو ہے کدھر مہوش
مری آہوں دعاؤں کا
ہے تو ہی اک ثمر مہوش
یہ تمام نظمیں نہایت آسان اور سبق آموز ہیں۔ ان کی اخلاقی اہمیت تو اپنی جگہ ہماری ثقافتی و تہذیبی تاریخ کے حوالے سے بھی ان میں کافی مواد موجود ہے ۔میری خواہش ہے کہ پرائمری کلاس کے بچوں کے لیے اس کتاب کو تمام تعلیمی اداروں میں شامل نصاب کیا جائے ۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |