Tag: جنگ

  • بیلنس آف پاور کا امریکی خواب

    بیلنس آف پاور کا امریکی خواب

    بیلنس آف پاور کا امریکی خواب

    Dubai Naama

    ایران پر امریکی بمباری کا مقصد تہران پر فوری فتح حاصل کرنا نہیں لگتا۔ امریکہ کی حکمت عملی برسوں سے یہی رہی ہے کہ ایران کو وقفے وقفے سے دبایا جائے، پھر خود ہی معاملہ تھما دیا جائے۔ یہ جنگ نہیں، ایک مسلسل "دباؤ کا کھیل” ہے جس کا مقصد خطے میں امریکہ کی موجودگی کو مستقل بنیاد فراہم کرنا ہے۔

    حالیہ عرصے میں پاکستان کے دفاعی معاہدے بھی اسی امریکی سوچ کے سائے میں آگے بڑھے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ ڈیفنس معاہدہ، لیبیا کی دو حکومتوں میں ثالثی، ترکی، قطر اور کویت کے ساتھ سیکیورٹی میکانزم، یہ سب امریکہ کی خاموش رضامندی سے ممکن ہوئے۔ امریکہ کی نظر میں ایران کے "انقلابی ماڈل” کے مقابلے میں پاکستان کا "پروفیشنل ملٹری ماڈل” زیادہ قابلِ بھروسہ ہے۔ واشنگٹن کو یقین ہے کہ پاکستان خلیجی ممالک کو ایک سیکیورٹی چھتری فراہم کر سکتا ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی فرق ہے۔ امریکہ پاکستان کے ماڈل کو اسرائیل کے متبادل کے طور پر نہیں دیکھ رہا۔ اس کی وجہ جغرافیائی سیاست ہے۔ پاکستان، ترکی اور مصر تینوں بڑے مسلم ممالک فوجی طاقت رکھتے ہیں، جبکہ سعودی عرب، کویت اور قطر معاشی طاقت ہیں۔ اسرائیل کو اندیشہ ہے کہ کل کو یہ اتحاد "گیم چینجر” بن کر اس کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔ اسی لیے تل ابیب اس نئے سنی اتحاد کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔

    امریکہ کی اصل چال خطے میں "پرو-اسرائیل بیلنس آف پاور” قائم کرنا ہے۔ اس کا خاکہ کچھ یوں ہے: امریکہ خلیجی ممالک سے اپنی ملٹری بیسز کم کر کے زور اردن اور اسرائیل پر لگانا چاہتا ہے۔ ترکی، اردن اور اسرائیل کا اتحاد پہلے سے موجود ہے۔ اب امریکہ شام اور لبنان کے ساتھ تعلقات معمول پر لا کر ایک مکمل "سیکیورٹی چین” بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ایران کو سائیڈ لائن کرنا اور اسرائیل کے حق میں توازن قائم رکھنا ہے۔

    بیلنس آف پاور کا امریکی خواب

    اسی لیے امریکہ کو پاکستان کے خلیجی معاہدوں سے کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کا ملٹری ماڈل ایران پر دباؤ بڑھائے گا، عرب ممالک کا امریکہ پر انحصار کم نہیں ہو گا، اور اسرائیل کو بھی براہِ راست خطرہ نہیں ہو گا۔

    پاکستان اس کھیل کا نیا کھلاڑی نہیں۔ ہم نے افغان جنگ میں امریکہ کے ساتھ رہ کر دیکھا، رجیم چینج کی پلے بک سمجھی، اور پھر بھی اپنا نیوکلیئر پروگرام مکمل کیا۔ پاکستان نے امریکہ کو آنکھ بند کرنے پر مجبور کیا۔ پاکستان سٹریٹجک ذہانت دور اندیشی پر مبنی تھی۔ پاکستان نے کامیابی سے امریکی حلقوں سے کہلوایا کہ: "پاکستانی ہمارے اپنے لوگ ہیں”۔لیکن جب بھارت کے ساتھ جنگ کا خطرہ بڑھا تو پاکستان نے واضح کر دیا کہ خطے کے استحکام پر حملہ ہوا تو نتائج سب بھگتیں گے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب امریکہ کو سمجھ آیا کہ پاکستان صرف اتحادی نہیں، ایک آزاد فیصلہ ساز ملک بھی ہے۔

    حالیہ ایران-امریکہ کشیدگی نے خلیجی ممالک کو ایک بار پھر یہ باور کرایا ہے کہ امریکی چھتری کے بغیر ایران ان کے لیے کتنا بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ امریکہ اس خوف کو اپنے حق میں استعمال کر رہا ہے۔ وہ ایک طرف ایران کو دکھا کر خلیجی ریاستوں کو اپنے قریب کر رہا ہے، دوسری طرف اسرائیل کو یقین دلا رہا ہے کہ اس کے مفادات محفوظ ہیں۔

    یعنی امریکہ سکے کے دونوں رخ اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے۔ ایران کو دبا کر خلیجی مفادات محفوظ کرے گا، اور ساتھ ہی پرو-اسرائیل پالیسی بھی جاری رکھے گا۔

    مشرق وسطی میں جیو-پولیٹیکل شفٹنگ کا اکنامک ماڈل چاہے چین کا ہو، لیکن سیکیورٹی کا کنٹرول ابھی امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ چین اور روس کو یہاں قبول نہیں کرے گا۔ یہ پاکستان کے لیے موقع بھی ہے اور آزمائش بھی۔ موقع یہ کہ خلیجی ممالک ہمیں ایک قابلِ بھروسہ سیکیورٹی پارٹنر سمجھتے ہیں۔ آزمائش یہ ہے کہ ہمیں بیلنس قائم رکھنا ہو گا۔ نہ ہم ایران کو مکمل دشمن بنا سکتے ہیں، نہ اسرائیل کی پالیسی کے اندھے حامی بن سکتے ہیں۔

    تاریخ گواہ ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف اسی وقت آئے گا جب طاقت کا توازن کسی ایک ملک یا اتحاد کے حق میں نہ ہو۔ اور اس توازن کو برقرار رکھنے میں پاکستان کا کردار کلیدی ہے۔ شرط صرف ایک ہے: ہم اپنی خارجہ پالیسی امریکہ کی مرضی سے نہیں، اپنے قومی مفاد سے طے کریں۔

  • ایران کیلیئے نو فلائی زون سے بچنے کی ضرورت 

    ایران کیلیئے نو فلائی زون سے بچنے کی ضرورت 

    ایران کیلیئے نو فلائی زون سے بچنے کی ضرورت 

    Dubai Naama

    تاریخ بار بار یہ سبق دہراتی ہے کہ جنگیں تہذیبیں مٹا دیتی ہیں، معیشتیں تباہ کر دیتی ہیں اور نسلوں کا مستقبل تاریک کر دیتی ہیں۔ آج ایران کے حوالے سے جو صورتحال بن رہی ہے وہ اسی سبق کا ایک اور دردناک باب بنتی جا رہی ہے۔ ایرانی پاسداران کو چایئے کہ وہ فوری طور پر جنگ کی بجائے مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔

    حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا کے کسی کونے سے ایران کے حق میں کوئی واضح آواز نہیں اٹھ رہی۔ وہ یورپی، امریکی اور کینیڈین سڑکیں جو کبھی جنگ مخالف مظاہروں سے گونجتی تھیں، آج خاموش ہیں۔ باشعور دنیا نے یہ محسوس کر لیا ہے کہ ایران کی موجودہ پالیسیاں نہ صرف پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ توانائی کے راستے، تجارت کے شاہراہیں اور سفارتی تعلقات سب جنگ کی زد میں آ چکے ہیں۔ آغاز میں جو امریکہ مخالف مظاہرے ہوئے اب وہ ایرانی خاموش ہو چکے ہیں۔ ایران کو یہ تبدیلی محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔

    اب دنیا اس فلم کا "ڈراپ سین” دیکھنا چاہتی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے وہی غلطی دہرا دی ہے جو ہٹلر نے روس پر حملہ کر کے کی تھی۔ طاقت کے گھمنڈ میں حقیقت سے آنکھیں بند نہیں کرنی چایئے۔ ایران نے اسرائیل کو چھوڑ کر خلیجی ممالک پر بار بار حملے کر کے انہیں ایران سے نفرت اور مخالفت میں کھڑا کر لیا ہے۔ امریکہ نے کسی ملک کو براہِ راست ایران کی مدد سے نہیں روکا، لیکن وہ ایران تک مدد پہنچنے کے ہر راستے کو بند کر رہا ہے۔ سفارتی تعلقات منقطع ہو رہے ہیں، اقتصادی ناکہ بندی سخت ہو رہی ہے اور فوجی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگلا مرحلہ ایران کے ہوائی اڈوں کی تباہی اور مکمل ایئر ایمبارگو ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد ایران ایک "نو فلائی زون” بن کر دوسرا عراق بن جائے گا۔ جہاں نہ تجارت ہو گی، نہ رابطے، نہ ترقی۔ 

    ایران کیلیئے نو فلائی زون سے بچنے کی ضرورت 

    یہ وہ انجام ہے جس سے بچانے کے لیے پاکستان نے ہر ممکن سفارتی کوشش کی۔ خطے میں امن کے لیے پاکستان ہمیشہ مذاکرات اور مکالمے کا حامی رہا ہے۔ مگر ایرانی پاسداران پر طاقت کا گھمنڈ اس قدر غالب ہے کہ وہ سیاسی قیادت کی مصلحت آمیز رائے کو بھی نظرانداز کر رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایران کی سیاسی حکومت بے بسی سے اپنے ہی ملک کو اندر سے بکھرتا دیکھ رہی ہے، مگر کوئی بڑا فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔

    ایرانی عوام اس کشیدگی کی سب سے بڑی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، بین الاقوامی تنہائی اور سماجی بے چینی نے عام شہری کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ عراق، لیبیا اور شام کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ وہاں بھی جنگ کو "امن” اور "عزت” کے نام پر مسلط کیا گیا، اور نتیجہ کھنڈرات، لاشیں اور ٹوٹے ہوئے خوابوں کی صورت میں نکلا۔

    اگر پاسداران واقعی ایرانی عوام سے مخلص ہیں تو انہیں اپنی سوچ اور حکمت عملی میں فوری تبدیلی لانا ہو گی۔ بندوق کے زور پر مسئلے حل نہیں ہوتے۔ جنگ ترقی کی رفتار کو نگل جاتی ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار اور ٹیکنالوجی وہ میدان ہیں جہاں قومیں آگے بڑھتی ہیں، نہ کہ بارود کے دھوئیں سے۔ ایرانی پاسداران کو سمجھنا چایئے کہ "جنگ” اور "پراکسیز” انقلاب نہیں لا سکتیں۔

    ایرانی قیادت کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر اتحاد پیدا کرے اور فوراً مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔ دنیا سے رابطے بحال کرے۔ خطے کے ممالک کے ساتھ اعتماد سازی کرے۔ پاکستان جیسا ہمسایہ ملک ہمیشہ پل کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    جنگ سے نہ کوئی فاتح بنتا ہے نہ کوئی مفتوح۔ جنگ سے صرف نسلیں برباد ہوتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ "جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں”۔ ایرانی قیادت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنے ملک کا مستقبل عراق، لیبیا اور شام جیسی غلط فہمیوں میں نہ دھکیلے۔ اس وقت ایران کو امن اور مکالمے کی اشد ضرورت ہے تاکہ قوم کو ایک باعزت مستقبل میسر آ سکے۔ فیصلہ ایران کی سیاسی قیادت اور پاسداران کے ہاتھ میں ہے۔ ایران تیزی سے "نو فلائی زون” کی طرف بڑھنا رہا، اسے اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔

  • ایرانی بقا کا راستہ

    ایرانی بقا کا راستہ

    ایرانی بقا کا راستہ

    Dubai Naama

    ایران آج بھی جاپان سے بہتر پوزیشن میں ہے۔ جاپان نے دوسری جنگِ عظیم میں ایٹم بم سہنے کے بعد ہتھیار ڈالے تھے۔ ایران پر ابھی نہ ایٹم بم گرا ہے اور نہ ہی اسے مکمل شکست ہوئی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایران اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ سپر پاور امریکہ سے وہ براہِ  راست ٹکر نہیں لے سکتا ہے۔ 

    جدید دور میں جنگیں میدان میں نہیں، فیصلوں میں ہاری اور جیتی جاتی ہیں۔ ایران اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کا ایک غلط قدم اسے تباہی اور دوسرا ایک درست قدم اسے بقا دے سکتا ہے۔ تازہ امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا۔ مگر اس حکمتِ عملی نے امریکہ کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا ایران کو عرب دنیا سے دور کیا۔ کویت کے سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے پلانٹ اور ایک بجلی گھر پر حملہ اس کی بڑی مثال ہے۔ وہاں امریکی فوجیوں کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی تھی۔ اس حملے سے ایران کو تو کوئی فائدہ نہ ہوا، الٹا امریکہ کو یہ جواز مل گیا کہ وہ ایران کے پانی اور توانائی کے مراکز کو اپنا ہدف بنا سکتا ہے۔

    یہاں ایک خطرناک پہلو اور ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاسداران کی صفوں میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹس موجود ہیں۔ یہی لوگ ایران سے ایسی غلطیاں کروا رہے ہیں جس سے جنگ طول پکڑ سکتی ہے۔ المیہ یہ ہے کی جنگ جتنی طویل ہو گی ایران اسی حساب سے کمزور ہوتا جائے گا۔ ایرانی پاسداران میں موجود خفیہ ایجنٹوں کا مقصد شاید یہی ہے کہ ایران کو جاپان کی طرح مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے۔ یہ اندرونی غدار ایران کو پتھر کے دور میں دھکیلنے پر تلے ہوئے ہیں۔

    ایرانی بقا کا راستہ

    جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی کی سب سے زیادہ ضرورت خود ایران کو ہے۔ امریکہ بھی ایران کو مکمل طور پر ختم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ایران خلیج میں امریکہ کے لیے "شمالی کوریا” کی حیثیت رکھتا تھا۔ جس طرح جاپان شمالی کوریا کے خوف سے امریکی اڈے برداشت کرتا ہے، اسی طرح عرب ممالک بھی ایران کے ڈر سے امریکہ کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ اسی بہانے امریکہ عربوں کے وسائل تک رسائی رکھتا تھا۔ موجودہ جنگ نے یہ پردہ بھی اٹھا دیا ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ ایران بچے گا کیسے؟ بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ ایران فوراً مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔ ایرانی قیادت کو جذبات اور انا کو ایک طرف رکھ کر عالمی تقاضوں اور اپنی قومی سلامتی کو مدنظر رکھنا ہو گا۔ پاسداران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ملک ضد اور ہٹ دھرمی سے نہیں بچتے، بصیرت سے بچتے ہیں۔

    لھذا ایران کو اب اپنے اندر جھانکنا ہو گا۔ ایرانی معیشت پہلے ہی پابندیوں سے تباہ ہو چکی یے۔ عوام مہنگائی اور بیروزگاری سے تنگ ہیں۔ ایک طویل جنگ ایرانی معاشرے کی بنیادیں ہلا دے گی۔ جب گھر کے اندر فاقے ہوں تو باہر کی جنگ لڑنا ممکن نہیں رہتا۔ 

    علاقائی سطح پر بھی ایران کو دوست کم اور دشمن زیادہ مل رہے ہیں۔ عرب دنیا پہلے ہی ایران سے بدظن ہو چکی ہے۔ ایسے میں مزید محاذ کھولنا خودکشی کے مترادف ہے۔ 

    تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں وقت پر فیصلہ کر لیتی ہیں وہ بچ جاتی ہیں۔ جو ضد پر اڑ جاتی ہیں وہ مٹ جاتی ہیں۔ ایران کے پاس اب بھی وقت ہے۔ اگر ایران نے ہوش کا مظاہرہ نہ کیا تو جنگ مزید پھیلے گی اور اس کا خمیازہ عام ایرانی عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ خطے میں پہلے ہی عدم استحکام ہے۔

    ایران کی بقا اسی میں ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کی طرف جائے، سفارتکاری کو موقع دے اور اپنے اندر موجود غدار عناصر کی سرکوبی کرے، ورنہ ایران کا بھی وہی حال ہو سکتا ہے جو جاپان، عراق، لیبیا اور شام کا ہوا۔ اس وقت ایرانی بقا اور سلامتی، تاریخ سے سبق سیکھنے میں ہے۔

  • پاکستان کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش

    پاکستان کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش

    پاکستان کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش  

    Dubai Naama

    مشرق وسطی کی سیاست میں آگ ایک بار پھر بھڑک اٹھی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی تازہ لہر 28 فروری کو ہونے والی جنگ سے بھی زیادہ خطرناک رخ اختیار کر چکی ہے۔ امریکہ نے ایران کے درجنوں مقامات پر کارپٹ بمبنگ کی، جس کے جواب میں ایران نے کھلی دھمکی دی کہ اگر اس کے حساس مراکز پر دوبارہ حملے ہوئے تو وہ پورے خطے کو "اندھیرے میں بدل دے گا”۔ اس اندھیرے سے مراد خلیجی عرب ممالک کے بجلی گھروں اور توانائی کے نظام کو نشانہ بنانا ہے۔

    یہ دھمکی محض بیان نہیں۔ زمینی حقائق بھی اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ سعودی عرب پر ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے حملے بڑھ گئے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا۔ حتیٰ کہ امیر قطر کے جنازے کے موقع پر بھی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اشتعال انگیز رویہ دیکھنے میں آیا، جبکہ امریکہ نے آیت اللہ خامنائی کی آخری رسومات کے دوران کسی فوجی کارروائی سے گریز کیا تھا۔ دوسری طرف ایران یمن میں حوثیوں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کر کے سعودی عرب کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہے۔

    یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ بظاہر یہ جنگ نظریات اور اثر و رسوخ کی لگتی ہے، مگر اصل کھیل آبنائے ہرمز کا کنٹرول اور گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس وصولی کا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ پہلے مرحلے کے حملے مکمل کر کے اگلے مرحلے کی تیاری میں ہے۔ صدر ٹرمپ کی 20 فیصد ٹیکس کی تجویز کو جب مغربی ممالک نے مسترد کر دیا تو یہ واضح ہو گیا کہ اب فیصلہ مذاکرات سے نہیں، طاقت سے ہو گا۔

    اب سوال یہ ہے کہ اس سارے کھیل میں پاکستان کا کیا کردار ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں ہی پاکستان کو بالواسطہ یا بلاواسطہ اس جنگ میں گھسیٹنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ موجود ہے، جس کی وجہ سے ہماری غیر جانبداری کا دائرہ روز بروز تنگ ہو رہا ہے۔ اگر خلیج میں کشیدگی بڑھی تو تیل کی قیمتوں، مہنگائی اور لاکھوں پاکستانی تارکین وطن کی ملازمتوں پر براہ راست اثر پڑے گا۔

    پاکستان کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش

    مگر دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ پاکستان اس آگ میں ایندھن بننے کے بجائے آگ بجھانے کا کردار ادا کرے۔ ہمیں فریق بننے کے بجائے پل بننا ہو گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلم دنیا میں جنگ چھڑی، سب سے زیادہ نقصان انہی ممالک کا ہوا جنہوں نے دوسروں کی جنگیں اپنے گھر میں لڑیں۔

    اس وقت پاکستان کو دو محاذوں پر کام کرنا ہو گا۔ پہلا مرحلہ یہ ہے کہ پاکستان فوری سفارتی کو متحرک کرے۔ اب او آئی سی، چین اور ترکی کے ساتھ مل کر جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ ہموار کیا جانا از حد ضروری ہو گیا ہے۔ پاسداران کے لیئے دوسرا اہم مرحلہ، اپنی سرحدوں اور معیشت کا تحفظ کرنا ہے۔ خلیجی جنگ کا مطلب صرف گولہ بارود نہیں، بلکہ پناہ گزینوں کا سیلاب، توانائی کا بحران اور فرقہ وارانہ کشیدگی بھی ہے۔

    مشرق وسطی پوری اسلامی دنیا کے لیے مقدس ہے۔ یہاں کی بے امنی کا اثر صرف خطے تک محدود نہیں رہتا۔ یہ پوری امت کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت اور 24 کروڑ عوام کا ملک ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم جذباتی نعروں میں بہہ کر کسی کی پراکسی نہ بنیں، بلکہ حکمت، توازن اور خودداری سے فیصلے کریں۔

    جو قوتیں پاکستان کو اس جنگ میں گھسیٹنا چاہتی ہیں، انہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان 40 سال کی دہشتگردی اور مہنگائی کے بعد مزید جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہماری ترجیح روٹی، امن اور ترقی ہے۔ اسی لیے پاکستان کو جنگ میں گھسیٹنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جانی چایئے۔

    Title Photo by Nothing Ahead

  • اتوار معاہدے کا ڈراپ سین اور امریکی بالادستی کا سوال

    اتوار معاہدے کا ڈراپ سین اور امریکی بالادستی کا سوال

    اتوار معاہدے کا ڈراپ سین اور امریکی بالادستی کا سوال

    تحریر: جوسف علی 

    اتوار کو قلم نہ چل سکا، دستخط نہ ہو سکے۔ میز پر رکھی "میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ” کی فائل مکمل تھی، مسودہ فائنل تھا، مگر سائن نہ کیئے جا سکے۔ بظاہر کہا گیا کہ ایران کے سپریم لیڈر نے حتمی منظوری کے لیے چند دن مزید مانگے ہیں۔ لیکن پردے کے پیچھے کہانی کچھ اور تھی۔ ایران کے قدم پیچھے ہٹنے کی اصل وجہ وہ دھماکہ تھا جو اتوار کی صبح بیروت کے آسمان پر گونجا۔ صہیونی اسرائیل نے لبنان پر ایک اور بم برسا کر امن کی میز لڑکھڑا دی۔

    شیڈول کے مطابق معاہدے پر دستخط 14 جون 2026، بروز اتوار ہونے تھے۔ لیکن اسی دن اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات داحیہ Dahiyeh میں ایک 5 منزلہ عمارت کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج کا بیانیہ تھا کہ یہ حملہ حزب اللہ کے "کمانڈ سینٹر” کے خلاف تھا، جہاں سے حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر 3 راکٹ اور ڈرون داغے تھے۔ لبنانی سول ڈیفنس نے 3 افراد کی شہادت اور 16 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ 13 جون کو بھی اسرائیل نے لبنان پر شدید بم گرائے تھے۔ 17 اپریل کے سیز فائر کے بعد سے اسرائیل تقریباً 3,500 فضائی حملے کر چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ امن کے راستے میں رکاوٹ ایران نہیں، وہ اسرائیل ہے جو ہر معاہدے کے بیچ بارود بچھا دیتا ہے۔

    ایران امریکہ کشیدگی میں اسرائیلی رکاوٹیں نئی نہیں۔ مگر اتوار کو جو بات ہوئی اس نے آگ پر تیل کا کام کیا۔ معاہدے سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک غضب ناک پوسٹ ڈال دی: "ڈیل نہ ہوئی تو وہ ہولناک متبادل آئے گا جو تاریخ نے کبھی نہیں دیکھا”۔ مذاکرات کی میز پر دھمکی رکھ دینا، سفارتکاری نہیں، بالادستی کا اعلان ہے۔ ٹرمپ کے الفاظ نے ثابت کر دیا کہ امریکہ ابھی تک "معاہدہ” نہیں، "اطاعت نامہ” چاہتا ہے۔

    اتوار معاہدے کا ڈراپ سین اور امریکی بالادستی کا سوال

    اصل گتھی کہیں اور اٹکی ہے۔ ایران وعدے کے مطابق اپنے 25 ارب ڈالر منجمد اثاثے بحال کروانا چاہتا ہے۔ وہ جوہری بم نہ بنانے کا وعدہ کرنے کو تیار ہے، لیکن امریکہ افزودہ یورینیم کو ایران سے باہر منتقل کرنے پر بضد ہے۔ ایک فریق عزت مانگ رہا ہے، دوسرا سرنڈر۔ اسی لیے معاہدے کی سیاہی خشک ہونے میں مزید 8 سے 10 دن لگ سکتے ہیں۔

    طے شدہ فریم ورک کے مطابق جنگ بندی 60 دن کے لیے ہو گی۔ اس دوران یورینیم کی افزودگی اور جوہری پروگرام پر تکنیکی بات چیت مکمل کی جائے گی۔ مگر ابھی مسودے میں رخنے باقی ہیں۔ تہران کا موقف واضح ہے: مسودے کے سیاسی، قانونی اور تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وہ جلدی میں فیصلہ نہیں کرے گا، کیونکہ ہر لفظ اس کے بقا کا فیصلہ بنے گا۔

    سچ یہ ہے کہ یہ موقع شاید آخری ہو۔ خطے میں جنگ کی آگ پہلے ہی لبنان تک پہنچ چکی ہے۔ اگر اتوار کا ڈراپ سین آئندہ اتوار بھی دہرایا گیا، تو پھر میز پر امن نہیں، ملبہ ہو گا۔ امریکہ کی بالادستی کا سوال صرف ایران کے لیے نہیں، پوری دنیا کے لیے امتحان بن چکا ہے۔ کیا دنیا طاقت کے ڈنڈے سے چلے گی، یا قانون اور برابری کی میز سے؟ جواب آنے والا ہے، اور وہ جواب صرف تہران واشنگٹن نہیں، بیروت کی شہید ماؤں کے آنسو بھی لکھیں گے۔

  • امن کی آشا دو انتہاؤں کے درمیان

    امن کی آشا دو انتہاؤں کے درمیان

    امن کی آشا دو انتہاؤں کے درمیان

    Dubai Naama

    بدقسمتی سے جنگ بندی کا خواب بکھرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ یہ اظہاریہ لکھتے ہوئے دلی دکھ ہو رہا ہے. گزشتہ تحریر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیڈ لائن سے صرف چند گھنٹے پہلے سیزفائر کی خبر دی تھی جو سچی ثابت ہوئی۔ اس پر دنیا بھر سے توصیفی ردعمل آیا تھا مگر اسلام آباد میں اظہاریہ کے شائع ہونے تک مذاکرات کی کامیابی کے بارے درپردہ حقائق انتہائی مایوس کن ہیں۔ اسرائیل نے حسب روایت سیزفائر کے فورا بعد لبنان اور ایران میں وہی جارحیت دوبارہ شروع کر دی ہے جسے کرنے میں وہ عادتا مجبور رہتا ہے۔ اسرائیل کا یہی معاندانہ رویہ 2025ء میں غزہ سیزفائر کے دوران سامنے آیا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ سیزفائر کے دوران اس نے غزہ پر حملے جاری رکھے تھے۔ اب ایک بار پھر اسرائیل مستقل جنگ بندی میں انگریزی محاورے "چھرا گھونپنا” (At Daggers Drawn) کے مصداق 10اپریل کو اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے بعد پہلی بار ہونے والے براہ راست مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے۔

    حالیہ خیلجی جنگ بندی کے پہلے ہی روز اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے 100 مختلف ٹھکانوں پر شدید حملے کر کے 89 بے گناہ اور معصوم مسلمان شہریوں کو قتل اور 700 سے زیادہ افراد کو زخمی کر دیا۔ ایک ہی دن میں اسرائیل کی اس وحشیانہ بمباری سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیئے ایران اور امریکہ کے فیصلے سے بلکل سہمت نہیں ہے۔ اس عارضی جنگ بندی میں اسرائیل کو پاکستان کی سفارت کاری بھی پسند نہیں آئی ہے، جس کی پوری دنیا میں تعریف و توصیف کی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ سابق اطالوی وزیراعظم پاو’لو جینٹیلونی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ایران امریکہ جنگ بندی پر پاکستان (یا وزیراعظم شہباز شریف) کو "نوبل انعام” ملنا چایئے۔

    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لبنان میں شہید اور زخمی ہونے والوں کی تعداد بلترتیب 250 اور 1100 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ اسرائیل کا ایسا جنگی جنون ہے جو ٹھنڈا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ ابھی کچھ دیر پہلے اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ، "ہم اپنے اہداف کو معاہدے یا جنگ دوبارہ شروع کر کے حاصل کریں گے۔” اس جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ (Yair Lapid) نے کیا جب اس نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے یہ بیان دیا کہ، "نیتن یاہو سیاسی اور حکمت عملی دونوں لحاظ سے ناکام رہے، وہ اپنے ہی طے کردہ اہداف میں سے ایک بھی ہدف حاصل نہ کر سکے۔” اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی اپوزیشن وزیراعظم نیتن یاہو سے بھی زیادہ جارحانہ مزاج رکھتی ہے اور اس نیتن یاہو سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ ایران کو افزودہ یورینیئم اور اس کی دفاعی صلاحیت مثلا میزائل اور ڈرون ٹکنالوجی سے محروم کیا جائے جس کا براہ راست مطلب یہ ہے کہ جب تک اسرائیل یہ اہداف حاصل نہیں کر لیتا ہے جہاں وہ ایران کی بقا اور سلامتی کے لیئے خطرہ بنا رہے گا، وہاں وہ حالیہ جنگ بندی میں روڑے اٹکانے سے بھی باز نہیں آئے گا۔

    امن کی آشا دو انتہاؤں کے درمیان

    پاسداران انقلاب نے بھی جنگ بندی کے پہلے ہی روز یہ دعوی کیا کہ انہوں نے جنوبی ایران میں غیر ملکی حملہ آور (اسرائیلی) ہرمیس 900 ڈرون مار گرایا۔ ایرانی پاسداران نے دھمکی دی کہ اب کسی بھی غیر ملکی طیارے کی ایران کی فضائی حدود میں داخلے کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا جس کے بعد فیصلہ کن ردعمل دیا جائے گا۔ ایران کے مطابق سیزفائر کا اطلاق لبنان پر بھی ہوتا ہے جبکہ اسرائیل نے ایران کے اس موقف کو رد کر کے لبنان پر بھی بھرپور حملے کیئے، اور پھر ایران پر بھی علامتی ڈرون پھینکا، جس کے بعد یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایران نے اسرائیل کی اس جارحیت کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا ہے حالانکہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق رائے کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری جہاز گزرنا شروع ہو گئے تھے اور یونان اور لائبیریا کے 2 جہاز گزرے بھی تھے۔ تاہم بعد میں ایران نے اعلان کیا کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں وہ آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک رہا ہے۔

    اسرائیل ایک قطعی متشدد ریاست ہے جو اپنے قیام کے بعد مسلسل یہ جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان 1948ء میں قیامِ اسرائیل کے بعد سے متعدد بڑی جنگیں ہوئیں ہیں، جن میں 1948، 1956، 1967 (چھ روزہ جنگ)، اور 1973 (یوم کپور جنگ) شامل ہیں۔ ان جنگوں میں اسرائیل نے عرب ممالک (مصر، شام، اردن) کو شکست دے کر فلسطین، غزہ، مغربی کنارہ، اور گولان کی پہاڑیاں چھین لیں، جس سے مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدل گیا، جبکہ موجودہ خلیجی جنگ ان تمام جنگوں میں سے سب سے زیادہ خطرناک تھی جس سے پوری دنیا ایٹمی جنگ کے کنارے پر پہنچ گئی تھی. اس پر سیزفائر کے ایک روز پہلے چین نے دنیا کو وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ، "اگر دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچانا ہے تو اسرائیل کو غیر مسلح کرنا ہو گا۔” اسرائیل اپنی جارحیت میں اس قدر آگے جا چکا ہے کہ وہ دنیا اور خطے میں قیام امن کے لیئے ایک "متواتر خطرہ” بن چکا ہے۔

    خدانخواستہ، سیزفائر کے عین دوران اسرائیل کی اس جارحیت سے اسلام آباد میں 10اپریل کو ہونے والے مذاکرات منعقد ہونے سے پہلے ہی مشکوک ہو گئے ہیں۔ بناء برین افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی کا امکان بہت کم ہے۔ حالانکہ کہ یہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد پہلے براہ راست مذاکرات ہیں۔ امریکہ میں پاکستان پالیسی انسٹیٹیوٹ یو ایس اے (PPI-USA) کے چیئرمین اور ڈونلڈ ٹرمپ کے سابقہ دور میں مشرق وسطی کے لیئے ان کے سیاسی مشیر پروفیسر ڈاکٹر غلام مجتبی نے یہ اظہاریہ لکھنے کے دوران ایک لنک بھیجا جس میں "برکس نیوز” (BRICS NEWS) کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی 10 نکاتی جنگ بندی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔

    اسرائیل کے اس متواتر اور تاریخی جارحانہ رویئے کو خطے میں مسلم اتحاد روک سکتا ہے، جس کی افسوس ہے کہ کوئی امید نظر نہیں آتی ہے، اور یا پھر امریکہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روک سکتے ہیں۔ یہ ایک طرف سمندر اور دوسری طرف کھائی والا معاملہ ہے۔ دکھی دل کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ مشرق وسطی کی حالیہ جنگ بندی بالخصوص اور دنیا بھر کا امن بالعموم دو انتہاؤں کے درمیان کھڑا ہے جسے انگریزی میں "Between The Devil and The Deep Sea” کہتے ہیں۔ خدا خیر کرے!

  • مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے!

    مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے!

    مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے!

    Dubai Naama

    ایرانی قوم اس خلیجی جنگ میں قابل فخر تاریخ رقم کر رہی ہے۔ ایران کی بہادری اور شجاعت نے اس کے مسلمان ہونے کا صحیح حق ادا کر دیا ہے۔ ایرانی حکومت انتہائی بلند حوصلے سے جنگ لڑ رہی ہے۔ جنگ کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کریں تو پتہ چلے گا کہ ایران میں رجیم چینج کرنے کا امریکی خواب مکمل طور پر چکنا چور ہو چکا ہے۔ کل تو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو کھری کھری سنا دیں، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ امریکی صدر کو اسرائیلی صدر نے جنگ کرنے کے لیئے مس گائیڈ کیا کیونکہ نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ہیش گوئی کی تھی کہ، "جونہی ایرانی سپریم لیڈر کو قتل کیا جائے گا لوگ رجیم چینج کے لیئے سڑکوں پر نکل آئیں گے۔” لیکن اب ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ ایران میں اسرائیل اور امریکہ کی مرضی کے مطاطق ایسی کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

    گزشتہ تین سالوں میں یکے بعد دیگرے ایران کی قیادت، پاسداران انقلاب، اعلی فوجی کمانڈروں اور ایٹمی سائنس دانوں سمیت 90 سے زیادہ چوٹی کے ایرانی رہنماوں کو راستے سے ہٹایا گیا لیکن ایران کی اسلامی حکومت نہ صرف قائم رہی بلکہ اس جنگ میں تو ایرانی عوام ایک انتہائی مضبوط اور منظم قوم بن کر ابھری ہے۔ ایران پر ایک ماہ سے مسلسل بارود اور آگ کی بارش برسائی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایرانی سکول کی 170 معصوم بچیوں تک کو قتل کیا، اس کے انفراسٹرکچر کو نیست و نابود کر دیا اور اس دوران 1500 سے زیادہ عام ایرانی شہریوں کو بھی شہید کیا لیکن ایران کے پائے استقلال میں ایک لمحہ کے لیئے بھی لغزش نہیں آئی ہے۔ ایرانی قوم کی عظمت، عزم و ہمت اور ثابت قدمی میں کوئی کمی نہیں آئی، ایرانی عوام اور سپاہ جنگی مشکلات کے سامنے لڑکھڑائے ہیں اور نہ ہی ان کے قدم ڈگمگائے ہیں۔ ایران نے اس دوران شروع سے جو حوصلہ باندھا تھا اور اپنے دفاع اور اصولوں سے پیچھے نہ ہٹنے کا جو عہد کیا تھا، وہ اس پر آج بھی قائم ہے۔

    حالیہ خلیجی جنگ کے کل کلاں جو بھی تاریخی نتائج سامنے آئیں گے وہ ایک طرف ہیں لیکن یہ جنگ جب بھی ختم ہو گی تو مورخ ایرانی قوم کی جنگی مہارت اور جواں مردی کو نظر انداز نہیں کر پائے گا۔ اسرائیل اور امریکہ دنیا کی دو انتہائی طاقتور ترین طاقتیں ہیں لیکن ایران اکیلا جنگ میں اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔ حتی کہ ایران کے اپنی بقا اور سلامتی کے اصولی موقف کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت نے یورپی اور نیٹو اتحاد کو بھی ریزہ ریزہ کر دیا ہے۔ اس جنگ میں نیٹو بری طرح تقسیم ہوا ہے۔ امریکہ کے لیئے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ یورپی نیٹو ممالک کے 32 میں سے 26 ملک ٹرمپ مخالف اور صرف 6 چھوٹے ملک امریکہ کے حمایتی رہ گئے ہیں۔

    مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے!

    مشرق وسطی کی سیاسی تاریخ کو مستقبل کا مورخ دو حصوں میں تقسیم کر کے لکھے گا ایک مشرق وسطی فروری 2026ء کی جنگ سے پہلے کا اور ایک جنگ کے بعد کا ہو گا۔ ایران کو خفیہ طور پر روس اور چین کی اخلاقی اور فوجی مدد ضرور حاصل ہے لیکن دراصل یہ ایرانی حمیت ہی ہے جس نے امریکہ کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے سامنے بند باندھ رکھا پے۔ ایران نے جونہی امریکہ کا پہلا سٹیلیتھ ایف 35 طیارہ روسی اور چینی جدید طرز کی ٹیکنالوجی سے لاک کر کے گرایا، اس کے بعد سے ایرانی فضاؤں میں ایف 35 طیارے نظر آنا بند ہو گئے ہیں۔ حالیہ خلیجی جنگ کے کچھ ایسے نمایاں پہلو بھی ہیں کہ جہاں امریکہ اور اسرائیل اپنی پوری جنگی مہارت اور قوت کے باوجود بے بس نظر آ رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل اب اپنے جنگی مقاصد کے حصول میں ناکامی کے بعد دنیا کی اہم ترین تیل کی گزرگاہ آبنائے حرمز اور تیل و گیس سے مالا مال ایرانی جزیرے خرج میں "بوٹ آن گراونڈ” کی تیاری کرتے نظر آ رہے ہیں۔ یہ جنگ کا ایک انتہائی خطرناک ترین مرحلہ ہے لیکن اس کا ایک اہم اور مسلم دنیا کے لیئے مثبت نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مسلم ممالک میں اتحاد کی ایک نئی قوت انگڑائی لے رہی ہے۔ یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے بیان جاری کیا ہے کہ ہماری انگلی ٹرگر پر ہے۔ یمن کا موقف ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بحیرۂ احمر کو اسلامی جمہوریہ ایران یا کسی بھی دوسرے مسلمان ملک کے خلاف وہ جارحانہ کارروائیوں کے لیئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ فلسطین میں غزہ کے مقام پر حماس اور لبنان میں حزب اللہ اسرائیل کی جارحیت کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس جنگ کے آغاز میں ایران پر عراق سے حملے ہوئے تھے اب وہی عراق ایران کے ساتھ مل کر امریکی اور اسرائیلی اڈوں پر حملہ آور ہے۔ قطر نے ایران کو اس پر حملے نہ کرنے کے بدلے میں چھ ارب ڈالر دینے کی پیش کش کی ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر شدید ایرانی حملوں کے باوجود ان دونوں اسلامی ملکوں نے واپس ایران پر ابھی تک کوئی حملہ نہیں کیا ہے۔

    حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ نے فرمایا تھا، "مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے۔” آج مغربی دنیا کی سپر طاقت امریکہ اسرائیل سے مل کر ایران پر پچھلے ایک ماہ سے آگ اور خون کا جو طوفان برسا رہا ہے، یہ نہ صرف اسلامی بلکہ تاریخ عالم میں بھی ایک بلکل منفرد انداز میں لکھا جائے گا۔

    اس وقت پوری اسلامی دنیا میں امریکہ سے دفاعی چھتری لینے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایران اپنا دفاع کرنے اور اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے میں ایک لمحے کے لیئے بھی غفلت کا شکار نہیں ہوا ہے۔ ایرانی حوصلے اور ہمت میں کمی آئی ہے اور نہ ہی وہ اپنے خلاف جارحیت کرنے کا جواب دینے سے گھبرایا ہے۔ حالیہ خلیجی جنگ اسرائیل اور امریکہ کا وہ "طوفان مغرب” ہے جو مسلم دنیا کو ایک مسلماں بننے اور یکجا ہونے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔ ایسا موقع اس سے پہلے بھی پیدا ہوا تھا جب 21 اگست 1969ء کو قبلہ اول بیت المقدس میں یہودیوں نے مسجد اقصی کو آگ لگائی تھی تو اس واقعہ کے صرف ایک ماہ بعد

    25 ستمبر 1969ء کو مراکش کے شہر رباط میں تنظیم تعاون اسلامی (OIC) کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔ اگرچہ اب آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس (او آئی سی) اتنی فعال نہیں رہی لیکن جنگ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمب نے اس جنگ کو مذہب سے جوڑنے کی کوشش کی اور مسجد اقصی کے بارے بھی کچھ غیر مناسب الفاظ استعمال کیئے تھے۔

    اب امریکہ اور اسرائیل طاقت کے نشے میں چور ہو کر جنگ کے عین دوران ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں کہ مسلمانوں میں لاشعوری طور پر اتحاد اور یکجہتی کا شدید احساس پیدا ہو رہا ہے۔ یہ احساس جہاں امریکہ کے لیئے اس کی انا اور سپریمیسی کا سوال ہے وہاں یہ ایران ہی نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیئے اپنی بقا کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اس جنگ کے جیتنے کے بعد امریکہ "گریٹر اسرائیل” اور "نیو ورلڈ آرڈر” کا اپنا پرانا جغرافیائی اور اقتصادی خواب پورا کرنا چاہتا ہے۔ اس جنگ کا جیت یا ہار کی صورت میں جو بھی نتیجہ نکلے گا وہ ایک الگ موضوع ہے لیکن اس جنگ میں اسلامی دنیا کے اندر مغربی یلغار کے طوفانی اثرات نے زندگی اور اتحاد کی ایک نئی امید پیدا کر دی ہے جس کا تعلق "مسلمان ہونے” سے ہے۔ کیا خبر کہ اس دفعہ علامہ اقبال کی یہ پیش گوئی سچ ثابت ہو جائے کہ، "مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے۔” علامہ محمد اقبال کی نظم "طلوعِ اِسلام” کے ان پہلے تین اشعار پر غور کریں: "دلیلِ صُبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی،

    اُفُق سے آفتاب اُبھرا، گیا دورِ گراں خوابی۔

    عُروُقِ مُردۂ مشرق میں خُونِ زندگی دوڑا،

    سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی۔

    مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے،

    تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی”۔ یوں اگر مسلمان اس جنگ کے بعد متحد ہو گئے، تو اسرائیل اور امریکہ یہ جنگ جیت کر بھی ہار جائیں گے۔

  • اسلام آباد مذاکرات کا اونٹ

    اسلام آباد مذاکرات کا اونٹ

    اسلام آباد مذاکرات کا اونٹ

    Dubai Naama

    ایک محاورہ ہے کہ، "جنگ میں سب سے پہلا قتل سچائی کا ہوتا ہے۔” یہ المیہ ہے کہ فروری کی خلیجی جنگ میں سچائی کا قتل کیا ہونا تھا، متحارب گروپس اسے جنگی حکمت عملی کے طور پر ہی اپنا رہے ہیں۔ اس جنگ میں اسرائیل اور امریکہ اتحادی ہیں اور دونوں مل کر ایران کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ امریکی صدر دن میں کئی مرتبہ اپنے ہی بیانات پر یو ٹرن لیتے ہیں۔ گو کہ اسرائیل امریکہ کی مرضی کے خلاف کوئی اہم جنگی فیصلہ نہیں کر سکتا ہے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پانچ روزہ جنگ بندی اعلان  کے بعد بھی اسرائیل جنگ جاری رکھتے ہوئے ایران پر پے در پے حملے کر رہا ہے۔ ایران بھی اسرائیل اور خلیجی ممالک پر جوابی حملے کر رہا ہے۔ ایک طرف ایران اسلام آباد میں مذاکرات کی حامی بھر چکا ہے اور دوسری طرف جنگ بندی کی اپنی من مرضی کی شرائط پر بھی اڑا ہوا ہے۔ 

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کی  وارننگ دیتے ہوئے 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن جاری کی تھی اور ساتھ میں یہ دھمکی دی تھی کہ ایران نے ہرمز نہ کھولا تو امریکہ اور اسرائیل ایران کی ایٹمی تنصیبات، گیس سپلائی، توانائی پلانٹس اور واٹر سپلائی جیسی سہولیات پر حملہ کریں گے۔ اس دھمکی پر ایران بھی پیچھے نہیں رہا اور اس نے بھی فورا 

    اسرائیل سمیت 6 خلیجی ممالک کی 12 نامزد تنصیبات کی فہرست جاری کر دی جن پر وہ جوابی حملہ کرے گا۔ اس میں سعودی عرب کا شقیق پاور پلانٹ (جنوبی گرڈ سٹیشن)، قطر کا الخرسعہ پاور پلانٹ، راس لفان سی پاور اینڈ واٹر پلانٹ (جو قطر کی لائف لائن ہے)، اردن کا سمراء پاور پلانٹ (جو اردن کی کل بجلی کا 40 فیصد پیدا کرتا ہے، بحرین کا الدُر پاور اینڈ واٹر پلانٹ (جس پر بحرین کے بنیادی پانی کا 60 فیصد انحصار ہے) اور

    کویت کا نارتھ الزور پاور پلانٹ شامل ہیں  جس پر اپنے شہریوں کی زندگی جاری رکھنے کے لیئے کویت 90 فیصد انحصار کرتا ہے۔  اسی طرح ایران نے امارات کے اہداف کو ہٹ کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ستم ظریفی دیکھیں کہ ایران کی جاری کردہ اس فہرست میں کوئی فوجی اڈہ شامل نہیں ہے۔ یہ 100 فیصد شہری انفراسٹرکچر ہے جس کا تعلق پانی اور بجلی سے ہے، جس پر عام شہری اپنی زندگیوں کو برقرار رکھتے ہیں۔

    اسلام آباد مذاکرات کا اونٹ

    یہ ایران کا ایسا جنگی انداز ہے کہ جس کے ذریعے ایران امریکہ اسرائیل (اور اس کے خلیجی اتحادیوں) کو ترکی بہ ترکی جواب دے رہا ہے۔ ایک خیر کی خبر جو "جنگی دھمکیوں” اور "بلیک میلنگ” کے درمیان ابھی تک قائم ہے، وہ صرف یہ ہے کہ تیاری کے باوجود سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایران پر تاحال کوئی جوابی حملہ نہیں کیا ہے۔ یہ اس جنگ کی واحد پرافزاء امید ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے جنگ بندی کے مذاکرات کامیاب ہونے کا زیادہ امکان ہے کیونکہ درون خانہ متاثرہ خلیجی ممالک بھی امریکہ پر جنگ بندی کا دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ دراصل اس جنگ کو شروع کرنے کا اسرائیل اور امریکہ کا ایک بنیادی مقصد ہی عرب اور مسلم ممالک کو تقسیم کر کے آپس میں لڑانا تھا جسے ان دونوں ممالک نے برداشت اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کر کے ابھی تک کامیاب نہیں ہونے دیا ہے۔ اگر یہ  مذاکرات ناکام ہوتے ہیں اور ٹرمپ اپنی دھمکی کے مطابق ایران کی فوجی اور سول سہولیات پر حملہ کرتا ہے اور جواب میں ایران بھی ان ممالک کی کسی ایٹمی تنصیب پر حملہ کرتا ہے (جس کی اس نے دھمکی بھی دی ہے) تو خطے میں ایٹم بم چلائے بغیر ہی ایٹمی تابکاری کے فوری اثرات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ 

    پاکستان کو مزاکرات کامیاب کرانے اور جنگ بندی کراوانے میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ ایران نے جنگ بندی کی چھ دھماکہ خیز شرائط ظاہر کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل تحریری ضمانت دیں کہ وہ دوبارہ کبھی ایران کے خلاف جنگ یا جارحیت نہیں کریں گے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک سے امریکی فوجی اڈے فوری طور پر بند کیے جائیں اور امریکی فوج خطے سے نکل جائے۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کو ہونے والے تمام جانی و مالی نقصان کا مکمل معاوضہ ادا کریں۔ خطے میں ایران کے حامی گروپوں کے خلاف جاری تمام فوجی کارروائیاں فوری طور پر روک دی جائیں۔عالمی سطح پر انتہائی اہم تجارتی راستے "آبنائے ہرمز” (Strait of Hormuz) پر ایران کی مرضی کا نیا قانونی نظام نافذ کیا جائے اور ایران کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے "معاندانہ میڈیا” (Hostile Media) کے اہم عناصر اور افراد کو ایران کے حوالے کیا جائے۔ کیا پاکستان کے چیف مارشل امریکہ کو کوئی ضمانت دے کر یہ کڑی ایرانی شرائط یا ان شرائط پر ایران سے گفت شنید کر کے کچھ کمی کروا کر، امریکہ کو انہیں قبول کرنے پر آمادہ کر لیں گے؟

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، عالمی میڈیا کے مطابق، ایرانی حکام سے مذاکرات کرنے کے لیئے، تادم تحریر اسلام آباد کے لیئے روانہ ہو چکے تھے۔ ایران نے صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشز اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف کے ساتھ اسلام آباد میں مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نائب صدر کو ایران سے مذاکرات کے لیئے نامزد کیا۔ مذاکرات سے پہلے یہ ایران کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ اسرائیل بظاہر حملے جاری رکھنے اور جنگ بندی نہ کرنے کا ڈرامہ کر رہا ہے مگر اس جنگ میں اسرائیل کی جتنی بربادی ہوئی اور جیسے اس کے پڑوسی مسلم خلیجی ممالک کے متحد ہونے کا امکان پیدا ہوا ہے، اسرائیل  بھی اس جنگ میں اندر سے خوفزدہ ہو گیا ہے۔ اسرائیل اچھی طرح جان چکا ہے کہ موجودہ جنگ سے یورپی یونین، نیٹو اور دنیا بھر کے ممالک میں اسرائیل اور امریکہ کے خلاف نفرت کی حد تک مخالفت بھی پیدا ہوئی ہے، کیونکہ ایک تو اسرائیل اور امریکہ نے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر ایران کے خلاف جنگ چھیڑی، دوسرا اس جنگ کے محض چند ہی ہفتوں میں تیل اور توانائی کی کمی سے دنیا بھر میں مہنگائی بڑھی ہے اور عالمی معیشت کے بیٹھنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ ایک قسم کا اکانومک ریسیشن (Economic Recession) ہے جس سے امریکہ کے لیئے آسان نہیں ہے کہ وہ یہ جنگ مزید جاری رکھنے کا الزام اپنے سر پر لے سکتا ہے۔ پھر یہ جنگ اسرائیل، امریکہ اور خلیجی ریاستوں کے لیئے انتہائی مہنگی ثابت ہو رہی ہے، جبکہ ایران کا جانی اور انفراسٹرکچر کا نقصان تو ہو رہا ہے لیکن اس کی پشت پر روس اور چین جیسی عالمی طاقتیں کھڑی ہیں۔ پاکستان بھی کسی صورت نہیں چاہتا ہے کہ ایران کی شکست اور وہاں اسرائیل امریکہ نواز حکومت  کی صورت میں ایران پر براجمان ہو جائیں، جس کے بعد اسرائیل اور پاکستان کے درمیان ایرانی "بفر سٹیٹ” (Buffer State) کی رکاوٹ بھی پاکستان کے ہاتھ سے جاتی رہے۔  

    گو کہ اصل جنگی صورتحال کی سچی خبر ڈھونڈھنا انتہائی مشکل ہو رہا ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کو 48 گھنٹے کا "الٹی میٹم” دیا اور اس کا وقت ختم ہونے سے پہلے وہ ایران سے مذاکرات کے لیئے تیار ہو گئے۔ یہ پاکستان سمیت ترکی، مصر اور عمان کی سفارت کاری کا کرشمہ ہے یا جو بھی ہے، امریکی صدر کے وعدوں اور بیانات پر اعتبار کرنا، بے وفا محبوبہ کی وعدہ خلافیوں جیسا ہے۔ اسرائیل امریکہ کی اس غیریقینی جنگی پالیسی کی وجہ سے سچی خبروں اور وعدوں کا تواتر سے قتل ہو رہا ہے۔ امریکی صدر بہت شاطر ہیں اور اپنے گزشتہ بیانات کے برعکس عمل کرنے پر فورا تل جاتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ میں ہر دن کوئی نیا شوشہ چھوڑنے سے  ہرگز نہیں گھبرا رہے ہیں۔ خصوصا، ٹرمپ نے ایسی جنگی حکمت عملی اپنا رکھی ہے کہ جس پر سو فیصد اعتماد کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف یے، جیسا کہ انہوں نے جنیوا میں جاری عین مذاکرات کے درمیان ایران پر حملہ کر دیا تھا۔ وقت سے پہلے اب بھی سو فیصد سچی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں کہ، مذاکرات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، لیکن میرے خیال میں امکان یہی ہے کہ اسلام آباد مذاکرات بوجوہ مستقل جنگ بندی کی نوید پر ہی ختم ہوں گے۔

  • بیک ڈور جنگ بندی

    بیک ڈور جنگ بندی

    بیک ڈور جنگ بندی

    Dubai Naama

    پنجہ یہود کمزور پڑ گیا ہے۔ اسرائیل نے جونہی تباہی کے مناظر ظاہر کیئے ڈونلڈ ٹرمپ نے پتلی گلی سے نکلنے کی کوشش شروع کر دی۔ جنگ کے دوران نیتن یاہو کی امریکی صدر پر مکمل گرفت تھی جو اب تقریبا ختم ہو چکی ہے۔ حالیہ خلیجی جنگ کے دوران ایک امریکی عہدے دار کا یہ دلچسپ تبصرہ سامنے آیا کہ، "اسرائیل کو ٹرمپ جیسے صدر کو استعمال کرنے کے لیئے 40 سال تک انتظار کرنا پڑا۔” اس  جنگ میں صدر ٹرمپ نیتن یاہو کے ہاتھوں بہت بری طرح استعمال ہوئے۔ امریکی صدر کو ایران کے خلاف غلط معلومات فراہم کی گئی تھیں جو ایران پر جنگ مسلط کرنے کے لیئے ناکافی تھیں۔ اس کے باوجود امریکی، صدر نے اسرائیلی صدر کی شہہ پر ایران پر دھاوا بولنے کی غلطی کی۔ کل جب اسرائیل نے اپنی تباہی کی وڈیوز جاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ  کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کرتے ہوئے دنیا بھر سے مدد کی اپیل کی تو جنگ کے نتائج واضح ہو گئے، اور پھر یہ خبر آئی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 5 دن کے لیئے سیزفائر کرنے کے لیئے راضی ہو گئے ہیں۔

    امریکی صدر کی آبنائے ہرمز کو ایران کے قبضے سے چھڑوانے کے لیئے یورپی اور عالمی اتحاد بنانے کی کوشش ناکام ہو گئی تھی۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہد کا بھرم رکھنے کے لیئے جاپان سے اپنا طاقتور ترین بحری بیڑا یو ایس ایس ٹری پولی اور پانچ ہزار امریکی میرین ایران کی طرف روانہ کیئے لیکن ہرمز سے ایران پر حملہ کرنے میں بوجوہ تاخیر کی جو اس خلیجی جنگ کو بند کرنے کی امید لے کر آئی ہے۔ ایران جنگ کے آغاز سے لے کر ابھی تک ایک لمحہ کے لیئے بھی مایوس یا کمزور نظر نہیں آیا۔ ایران ڈونلڈ ٹرمپ کی بار بار کی دھمکیوں اور بلیک میلنگ سے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہوا اور نہ ہی اپنے خلاف جارحیت کا جواب دینے سے پیچھے ہٹا۔

    ایران کی طرف سے معتدل مزاج علی لاریجانی کی جگہ خوفناک سخت گیر حسین دہقان کو سپریم سلامتی کونسل کا سربراہ مقرر کیا جانا امریکہ اور اسرائیل کے لیئے واضح پیغام تھا کہ ایران اپنی بقا کی جنگ پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کرے گا۔ ایران نے یہ تقرری جنگ کے ایک ایسے فیصلہ کن  مرحلے پر کی جب امریکہ آبنائے ہرمز پر بحری حملے کے بعد زمینی حملہ کرنے کی تیاری کر رہا تھا جس میں ایک منصوبہ یہ بھی تھا کہ ایران کی سپریم کونسل اور پاسداران انقلاب کی قیادت کو وینزویلا طرز کا آپریشن کر کے گرفتار کیا جائے اور اغواء کر لیا جائے۔ایران نے اس امریکی جنگی چال کو ناکام بنانے کے لیئے سپریم کونسل کا جارحانہ مزاج لیڈر حسین دہقان کو بنا دیا جس نے 1979ء کے اسلامی انقلاب میں اپنے زمانہ طالب علمی میں 54 امریکی سفارت کاروں کو 15ماہ تک یرغمال بنائے رکھا تھا۔ اس تقرری کے فوراً بعد ایران نے 4000 کلو میٹر دور ڈیگو گارشیا کے فوجی اڈے پر میزائل پھینک دیئے، اسرائیلی ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی، جس کے ساتھ ہی امریکہ نے ایران کو اپنا تیل عالمی منڈی میں فروخت کرنے کی اجازت دے دی، اور اس کے فورا بعد پانچ دن کے لیئے عارضی جنگ بندی کا اعلان بھی کر دیا۔

    عالمی نظام کی تبدیلی کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ اگر حالیہ خلیجی جنگ چند ماہ یا چند سالوں کے لیئے بند ہو جاتی ہے تو یہ خطے میں مستقل امن کا پیغام لے کر آئے گی۔ آبنائے ہرمز پر ایران نے فیس وصولی کا نظام متعارف کروا دیا ہے۔ اس سے ایران کا ریاستی نظم مزید مستحکم ہو جائے گا۔ دو بڑی طاقتوں کی شکست بذات خود مستقبل کے امن کی ضمانت ہے. ایران کی مستقل مزاجی نے عرب خلیجی ریاستوں کو بھی نئے دفاعی اتحاد بنانے کے بارے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس سے اسرائیل کا ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا خواب بھی، وقتی طور پر ہی سہی، ماند پڑ گیا ہے کیونکہ ایران نے اسرائیل پر اپنی بقا اور سلامتی کا مضبوط ٹھپہ گاڑ دیا ہے۔

    امریکہ نے پہلی دفعہ کھل کر بے بسی کا اظہار کیا اور گڑگڑا کر آبنائے ہرمز کھلوانے میں دوسروں سے مدد کی اپیل کی۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ سے ایک دن میں ایک ٹریلین ڈالر نکال لیئے گئے اور تاریخ میں پہلی بار امریکی ففتھ جنریشن اسٹیلتھ جنگی طیارہ "F35” کامیابی سے ٹریک، لاک اور ہٹ کیا گیا۔

    مشرق وسطیٰ کے 14 ممالک میں امریکی اڈوں پر ایرانی میزائل و خودکش ڈرونز کے کامیاب حملوں کا سلسلہ دن رات جاری رہا۔ ایران نے چار ہزار کلومیٹر دور امریکی و برطانوی مشترکہ اڈے پر بلیسٹک میزائل سے کامیاب حملہ  کر کے دنیا کے جنگی ماہرین کو حیران کر دیا۔ 

    بیک ڈور جنگ بندی

    ایرانی جوہری پروگرام کے 450 کلوگرام یورینیم سمیت میزائل و ڈرون کے زیرِ زمین شہر اب بھی محفوظ ہیں اور ایران کا عوامی ردعمل بتا رہا ہے کہ اسلامی حکومت مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ ایران کی قومی سلامتی کے امن پسند مشیر کی جگہ اب انتہائی سخت گیر اور ماضی میں اسرائیلی و امریکی اڈوں پر حملوں کا ماسٹر مائینڈ حسین دہقان نے قیادت سنبھال لی۔ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے قبضے میں ہے اور دنیا گواہی دے رہی ہے کہ امریکی فضائیہ اور بحریہ آبنائے ہرمز کھلوانے میں اور ایران کے اندر اہداف حاصل کرنے میں مکمل ناکام ہوئی ہے۔ایرانی حملوں میں اعتراف شدہ 14 امریکی فوجی اور 20 اسرائیلی فوجی مارے گئے جبکہ 260 سے زائد امریکی اور 3000 سے زائد اسرائیلی زخمی ہیں۔ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یمنی مزاحمت کا بحیرہ احمر میں باب المندب بند کرنے کا اعلان متوقع تھا جبکہ دوسری طرف اسرائیلیوں کی ایک بڑی تعداد سمندر کے ذریعے قبرص بھاگ گئی تھی اور بقیہ اسرائیلی رجیم چینج کیلئے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ 

    بلومبرگ کے مطابق 16 امریکی طیارے تباہ ہو چکے تھے اور خلیجی ممالک میں امریکی بینکوں، تکنیکی اداروں اور تیل و گیس کے پلانٹس پر مسلسل حملوں نے مغربی معیشت کو بڑا دھچکا دیا، جسکی وجہ سے تیل کی عالمی قیمتوں میں 26 فیصد اضافہ ہوا اور مزید اضافہ جاری ہے۔ نیٹو فوجی اتحاد اور پورے یورپ نے امریکہ کو سرخ جھنڈی دکھا دی جس سے امریکہ و نیٹو میں دراڑ پڑ گئی اور یورپی ممالک کے بعد سری لنکا جیسے کمزور ملک نے بھی امریکہ کو اڈے دینے سے انکار کر دیا۔ ٹرمپ سمیت امریکہ کی مقبولیت میں واضح کمی ہوئی اور امریکی انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر احتجاجاً استعفیٰ دینے کا سلسلہ جاری ہو گیا۔

    لبنانی مزاحمت کا اسرائیل پر ایک دن میں تاریخ میں سب سے زیادہ 55 حملے ریکارڑ ہوئے ہیں اور اطلاعات آئی ہیں کہ حملوں کی شدت میں مزید اضافہ ہونے والا تھا۔

    امریکی میڈیا نے اعتراف کیا کہ مشرق وسطیٰ میں 100 ارب سے زائد ڈالر مالیت کے ریڈار تباہ ہوئے ہیں اور قطر میں گیس تنصیبات پر حملوں سے امریکہ کو الگ سے سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ بحرین میں امریکی نیوی کا 5واں فلیٹ ہیڈکوارٹر تباہ ہو چکا تھا جبکہ امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس فورڈ میں ایرانی حملے (جسے امریکہ نے فوجی تھکاوٹ اور بغاوت کا نام دیا) کے بعد 30 گھنٹے سے زائد آگ لگی رہی جس میں تین فوجی زخمی ہوئے جو بعد میں مرمت کیلئے یونان روانہ کیا گیا اور یو ایس ایس ابراہیم لنکن ایرانی حملے کے بعد 1000 کلومیٹر پیچھے فرار ہونے پر مجبور ہوا۔

    جبکہ پولینڈ، اٹلی، فرانس اور نیٹو افواج نے عراق سے مکمل انخلا کر دیا تھا جبکہ پاکستان، روس اور چین سمیت پوری دنیا کی عوام نے کھل کر ایران کی حمایت کی۔

    ستر ہزار امریکی شہری اور فوجی مشرق وسطی سے فرار ہو کر امریکہ پہنچ گئے۔ ٹرمپ نے خلیجی ریاستوں سے ایران پر حملے کے عوض 5 ٹریلین ڈالر مانگ لیئے۔

    پوری دنیا میں شیعہ سنی اتحاد قائم ہوا ہے اور استکبار و استعمار کا دیرینہ "لڑاؤ اور حکومت کرو” (Divide and Rule) والا خواب چکنا چور ہو گیا ہے۔ مجبورا امریکہ کو چالیس سال کے بعد روسی و ایرانی تیل سے پابندیاں ہٹانی پڑی ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کے اربوں ڈالر کے معاشی و فوجی اثاثے اب تک تباہ ہو چکے ہیں جبکہ دوسری طرف بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے ایران کو 2 ملین ڈالر ٹول ٹیکس چائنیز کرنسی یوآن میں اب تک ادا کیا جا چکا ہے۔

    اس خلیجی جنگ کو جو روکنا چاہ رہے تھے یا اور جو کرانا چاہ رہے تھے وہ سب امریکی کیمپ کا حصہ تھے جبکہ ایران کے کیمپ میں موجود روس اور چین سمیت کوئی بھی صلح صفائی کی بات نہیں کر رہا تھا اور نہ ہی انہیں جنگ روکنے کی کوئی اتنی جلدی تھی۔ امریکہ یہ بات سمجھ گیا تھا کہ یہ محوری طاقتیں دہرا معیار اپنا کر کیا حاصل کرنا یا کسے گرانا چاہتی ہیں؟ اس وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد کی طرف دیکھا اور پھر مستقل  جنگ بندی کی بیک ڈور پالیسی کا آغاز کر دیا۔

    ۔

  • آبنائے ہرمز میں ڈوبتا ٹائیٹینک

    آبنائے ہرمز میں ڈوبتا ٹائیٹینک

    آبنائے ہرمز میں ڈوبتا ٹائیٹینک

    Dubai Naama

    پوری دنیا کی نظریں ایران کے کنٹرول میں موجود آبنائے ہرمز پر لگی ہوئی ہیں۔ 33 کلومیٹر کی اس تنگ آبی گزرگاہ کی بندش سے دنیا کی معیشت پر پڑنے والے اثرات اور نتائج کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف چند دنوں کی بندش کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں سو ڈالر فی بیرل سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ یہاں سے روزانہ دنیا کے استعمال کا 20 فیصد سے زیادہ تیل گزرتا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے حملوں اور خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات کے باعث تیل کی عالمی منڈی بے یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔ تازہ ترین تجارتی سیشن کے دوران عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 3 فیصد اضافے کے بعد 103 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسی طرح امریکی معیار کے خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی تقریباً 3 فیصد بڑھ کر 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ امریکہ میں بھی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق پیٹرول کی اوسط قومی قیمت 7 سینٹ اضافے کے بعد 3.79 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ خلیج میں جاری اس جنگ میں آتی شدت اور اس کے عالمی معیشت پر پڑتے اثرات کو دیکھ کر دنیا سوچ میں پڑ گئی ہے کہ آگے کیا ہو گا۔ عالمی سیاسی اور معاشی تجزیہ کار بھی حیران و ششدر ہیں کہ آخر اس جنگ کا نتیجہ کیا نکلے گا، جنگ کب بند ہو گی اور اس کے اثرات سے نکلنے میں کتنا وقت لگے گا۔

    ایران آبنائے ہرمز میں مزید بارودی سرنگیں بچھا رہا ہے اور وہ صرف انہی ممالک کے آئل ٹینکروں کو گزرنے کی اجازت دے رہا ہے جن سے اس کے اچھے تعلقات ہیں یا جن سے وہ اپنی پیشگی شرائط منوا لیتا ہے۔ ہرمز کی بندش کے بعد ابھی تک صرف پاکستان اور فرانس کو وہاں سے تیل بردار ٹینکرز گزارنے کی اجازت ملی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی اس جنگی چال سے کافی گھبراہٹ کا شکار نظر آ رہے ہیں کہ اس آبی گزرگاہ کو ایران کے قبضے سے کیسے چھڑایا جائے۔ اب امریکہ جنگ کی فتح اور شکست کا انحصار کافی حد تک آبنائے ہرمز کو ایرانی قبضے سے چھڑانے پر کر رہا ہے۔

    گزشتہ دنوں امریکی صدر نے اپنے یورپی اتحادیوں سے ہرمز کو ایران کے قبضے سے چھڑانے کے لیئے بحری جہاز بھیجنے کی درخواست کی تھی جس میں انہیں کافی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹرمپ ایران کی طرف سے اس نئی افتاد کی وجہ سے کافی جھنجھلاہٹ کا شکار نظر آئے اور یورپی اور نیٹو ممالک کے جواب کا انتظار کرنے سے پہلے ہی چین اور روس سے بھی التجا کر ڈالی کہ وہ ہرمز کو کھلوانے اور امریکہ کی مدد کرنے کے لیئے خلیج فارس کے پانیوں میں اپنے بحری لڑاکا بیڑے روانہ کریں، اور وہاں سے بھی انہیں منہ کی کھانی پڑی۔ امریکہ نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اسے پوری دنیا سے انکار سننا پڑے گا، اور ساتھ میں ذلت بھی اٹھانی پڑے گی۔ دنیا کی بڑی طاقتوں برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان، سپین، آسٹریلیا، کنیڈا، اٹلی، چین اور روس وغیرہ نے صاف انکار کر دیا، بلکہ امریکہ جو آج تک خود کو بلاشرکت غیرے سپر پاور سمجھتا آ رہا تھا کو ہر ایک نے "ہرگز نہیں” (Absolutely Not) کہہ کر رسوا کیا۔ امریکہ کو بڑے پیمانے پر ایسی رسوائی پہلی بار دیکھنا پڑی ہے۔

    آبنائے ہرمز میں ڈوبتا ٹائیٹینک

    امریکہ ایک عرصہ تک یورپین اتحادیوں کی پشت پناہی سے دنیا پر دھونس جماتا رہا مگر آج یکے بعد دیگرے انہوں نے نہ صرف  امریکہ سے منہ موڑ لیا ہے بلکہ اسے دنیا بھر کے سامنے ذلیل بھی کر رہے ہیں۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا، "آبنائے ہرمز کو کھلوانا آسان نہیں، اس کے لیئے ایران سے معاہدہ کرنا ہو گا۔” جرمنی نے ایران جنگ میں شمولیت سے صاف انکار کر دیا اور جرمن وزیر دفاع نے بیان جاری کیا کہ، "یہ ہماری جنگ ہے نہ ہی ہم نے اسے شروع کیا۔ امریکی دباو’ کے باوجود جرمنی اپنے بحری بیڑے مشرق وسطی نہیں بھیجے گا۔” فرانسیسی جنرل یاکوف لیف نے امریکہ کو ٹکا سا جواب دیا بلکہ جنگ میں ممکنہ امریکی شکست کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ، "امریکہ ہم سے مدد مانگتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہم اس کی ناکامیوں کی قیمت بھی ادا کریں۔ آج ٹرمپ کے اتحاد میں شامل ہونا ایسا ہے جیسے ٹائی ٹینک کے آئس برگ سے ٹکرانے کے اگلی شام اس پر ڈنر اور رقص کے ٹکٹ خریدنا۔”

    آبنائے ہرمز کا ایران سے  قبضہ چھڑانا ایران، اسرائیل امریکہ جنگ میں ایک اہم ترین موڑ یعنی "ٹریننگ پوائنٹ” (Turning Point) ہے جو یہ فیصلہ کرے گا کہ یہ جنگ کون جیتے گا۔یورپی دنیا اس جنگ میں واضح طور پر امریکہ کا ساتھ چھوڑ چکی ہے جس کے بعد  امریکی صدر اسے بدعائیں دیتے نظر آ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے نیٹو ممالک کو کہا، "تمہارے ساتھ بہت برا ہو گا۔”

    برطانیہ کے وزیراعظم نے تو ٹرمپ کو باقاعدہ بے عزت کیا تھا جس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا، "ہم یاد رکھیں گے۔” امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیئے بحری جنگی بیڑے مانگے تھے جس پر سب نے انکار کر دیا۔ امریکہ کے لیئے وقت بدل چکا ہے۔ یہ جنگ کا کمبل امریکی صدر ٹرمپ نے کسی سے مشاورت کیئے بغیر صرف نیتن یاہو کی شہہ میں آ کر خود پر اوڑھا تھا جو اب اس کے گلے پڑ گیا ہے۔

    اس جنگ کو امریکہ نے چھیڑا اس کا انجام بھی امریکہ ہی بھگتے گا۔ امریکی اڈے جو کبھی دنیا میں خوف کی علامت ہوتے تھے اب ایک ایک کر کے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ کوئی ملک اپنی سرزمین امریکہ کو دینے کے لیئے تیار نہیں ہے۔ اتحادی ممالک میں امریکی سفارت خانے بند ہو رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے صرف وہ گزر سکتا ہے جو جنگ مخالف ہو یعنی امریکہ اسرائیل مخالف ہو یا جسے ایران اجازت دے۔

    امریکہ نے اسرائیل کے بہکاوے میں آ کر بلاوجہ ایران پر جنگ مسلط کی اور اپنے سارے مخلص اتحادی  کھو دیئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بحری بیڑے نہ ملنے کی ناکامی کے بعد  مایوسی کے عالم، اور خود کو تسلی دینے کے لیئے ایک بیان میں کہا ہے، "جن کے آبنائے ہرمز میں جہاز پھنسے ہیں وہ خود نکالیں، امریکہ کے پاس تیل کی کوئی کمی نہیں ہے۔” ایسا لگتا ہے کہ امریکی سپریمیسی کا ٹائی ٹانک آہستہ آہستہ آبنائے ہرمز میں ڈوب رہا ہے۔