ایرانی بقا کا راستہ
ایران آج بھی جاپان سے بہتر پوزیشن میں ہے۔ جاپان نے دوسری جنگِ عظیم میں ایٹم بم سہنے کے بعد ہتھیار ڈالے تھے۔ ایران پر ابھی نہ ایٹم بم گرا ہے اور نہ ہی اسے مکمل شکست ہوئی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایران اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ سپر پاور امریکہ سے وہ براہِ راست ٹکر نہیں لے سکتا ہے۔
جدید دور میں جنگیں میدان میں نہیں، فیصلوں میں ہاری اور جیتی جاتی ہیں۔ ایران اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کا ایک غلط قدم اسے تباہی اور دوسرا ایک درست قدم اسے بقا دے سکتا ہے۔ تازہ امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا۔ مگر اس حکمتِ عملی نے امریکہ کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا ایران کو عرب دنیا سے دور کیا۔ کویت کے سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے پلانٹ اور ایک بجلی گھر پر حملہ اس کی بڑی مثال ہے۔ وہاں امریکی فوجیوں کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی تھی۔ اس حملے سے ایران کو تو کوئی فائدہ نہ ہوا، الٹا امریکہ کو یہ جواز مل گیا کہ وہ ایران کے پانی اور توانائی کے مراکز کو اپنا ہدف بنا سکتا ہے۔
یہاں ایک خطرناک پہلو اور ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاسداران کی صفوں میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹس موجود ہیں۔ یہی لوگ ایران سے ایسی غلطیاں کروا رہے ہیں جس سے جنگ طول پکڑ سکتی ہے۔ المیہ یہ ہے کی جنگ جتنی طویل ہو گی ایران اسی حساب سے کمزور ہوتا جائے گا۔ ایرانی پاسداران میں موجود خفیہ ایجنٹوں کا مقصد شاید یہی ہے کہ ایران کو جاپان کی طرح مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے۔ یہ اندرونی غدار ایران کو پتھر کے دور میں دھکیلنے پر تلے ہوئے ہیں۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی کی سب سے زیادہ ضرورت خود ایران کو ہے۔ امریکہ بھی ایران کو مکمل طور پر ختم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ایران خلیج میں امریکہ کے لیے "شمالی کوریا” کی حیثیت رکھتا تھا۔ جس طرح جاپان شمالی کوریا کے خوف سے امریکی اڈے برداشت کرتا ہے، اسی طرح عرب ممالک بھی ایران کے ڈر سے امریکہ کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ اسی بہانے امریکہ عربوں کے وسائل تک رسائی رکھتا تھا۔ موجودہ جنگ نے یہ پردہ بھی اٹھا دیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ایران بچے گا کیسے؟ بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ ایران فوراً مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔ ایرانی قیادت کو جذبات اور انا کو ایک طرف رکھ کر عالمی تقاضوں اور اپنی قومی سلامتی کو مدنظر رکھنا ہو گا۔ پاسداران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ملک ضد اور ہٹ دھرمی سے نہیں بچتے، بصیرت سے بچتے ہیں۔
لھذا ایران کو اب اپنے اندر جھانکنا ہو گا۔ ایرانی معیشت پہلے ہی پابندیوں سے تباہ ہو چکی یے۔ عوام مہنگائی اور بیروزگاری سے تنگ ہیں۔ ایک طویل جنگ ایرانی معاشرے کی بنیادیں ہلا دے گی۔ جب گھر کے اندر فاقے ہوں تو باہر کی جنگ لڑنا ممکن نہیں رہتا۔
علاقائی سطح پر بھی ایران کو دوست کم اور دشمن زیادہ مل رہے ہیں۔ عرب دنیا پہلے ہی ایران سے بدظن ہو چکی ہے۔ ایسے میں مزید محاذ کھولنا خودکشی کے مترادف ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں وقت پر فیصلہ کر لیتی ہیں وہ بچ جاتی ہیں۔ جو ضد پر اڑ جاتی ہیں وہ مٹ جاتی ہیں۔ ایران کے پاس اب بھی وقت ہے۔ اگر ایران نے ہوش کا مظاہرہ نہ کیا تو جنگ مزید پھیلے گی اور اس کا خمیازہ عام ایرانی عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ خطے میں پہلے ہی عدم استحکام ہے۔
ایران کی بقا اسی میں ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کی طرف جائے، سفارتکاری کو موقع دے اور اپنے اندر موجود غدار عناصر کی سرکوبی کرے، ورنہ ایران کا بھی وہی حال ہو سکتا ہے جو جاپان، عراق، لیبیا اور شام کا ہوا۔ اس وقت ایرانی بقا اور سلامتی، تاریخ سے سبق سیکھنے میں ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |