کائنات خود نہیں بنی
کائنات کی وسعت انسان کو دو راستوں پر لے جاتی ہے۔ ایک انکار کا، اور دوسرا ایمان کا ہے۔ جو غور کرتا ہے وہ دوسرا راستہ چن لیتا ہے۔
سائنس کے مطابق ہماری کائنات کا مشاہداتی حصہ 93 ارب نوری سال پر پھیلا ہوا ہے۔ روشنی ایک سیکنڈ میں 3 لاکھ کلومیٹر سفر کرتی ہے۔ پھر بھی اربوں نوری سال کا فاصلہ طے کرنے کے لیے اسے اربوں سال لگتے ہیں۔ سٹیفن ہاکنگ نے کہا تھا کہ کائنات میں ایسے ستارے بھی ہیں کہ جب ان کی روشنی زمین تک پہنچے گی تو زمین ختم ہو چکی ہو گی۔
اس کائنات میں ہماری زمین کی حیثیت کیا ہے؟ سائنسدان اسے "پیل ڈاٹ” کہتے ہیں، یعنی خلا میں تیرتا ہوا نیلے رنگ کا ایک نقطہ۔ ہمارا سورج، جس کے گرد ہماری زندگی گھومتی ہے، زمین سے 109 گنا بڑا ہے۔ اس ایک سورج میں 13 لاکھ زمینیں سما سکتی ہیں، مگر اسے کائنات کے ترازو پر رکھیں تو سورج بھی ایک بہت معمولی ستارہ ہے۔
اب تک دریافت ہونے والے بلیک ہولز سورج سے 36 ارب گنا بڑے ہیں۔ اور سائنسدان کہتے ہیں کہ کائنات میں تقریباً 2 کھرب کہکشائیں ہیں۔ ہر کہکشاں میں اربوں ستارے ہیں جبکہ سیاروں کی تعداد کا شمار ممکن ہی نہیں۔
یہ کائنات "بگ بینگ” سے بنی اور تب سے اب تک پھیل رہی ہے۔ ہبل دوربین نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ پھیلاؤ روشنی کی رفتار سے ہو رہا ہے۔ سورج ہائیڈروجن اور ہیلیئم کا چمکتا ہوا گولہ ہے۔ زمین ایک بے نور سیارہ ہے جو سورج سے روشنی اور حرارت لیتی ہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے: یہ سب اتنے نظم و ضبط سے کیسے چل رہا ہے؟
پانی کا فارمولا ہمیشہ H2O رہتا ہے۔ گیند ہمیشہ گریوٹی کی وجہ سے نیچے آتی ہے۔ دن رات کا نظام، موسموں کی تبدیلی، ستاروں کے مدار۔ سائنسدان اسے "قوانین فطرت” کہتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر قانون کے پیچھے ایک قانون ساز ضرور ہے۔
قرآن پاک نے 1400 سال پہلے اللہ کو "رب العالمین” کہا۔ یعنی تمام جہانوں کا رب۔ آج جب سائنس "ملٹی یونیورس” کی بات کرتی ہے تو قرآن کا یہ تصور اور واضح ہو جاتا ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اتنی بڑی کائنات "خود بخود” بن گئی۔ مگر کیا کوئی عمارت بغیر معمار کے بن سکتی ہے؟ کیا کوئی کتاب بغیر مصنف کے لکھی جا سکتی ہے؟
قرآن کریم سورۃ القارعہ میں قیامت کا نقشہ یوں کھینچتا ہے: "القارعة ما القارعة”۔ اس دن ستارے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح ہوں گے۔ سائنس آج اسے "بگ کرنچ” کہتی ہے۔ نام بدل گئے، حقیقت وہی ہے۔
ایک بزرگ کا قول ہے کہ اللہ کا عرش اتنا عظیم ہے کہ اس کا ایک پایہ پوری کائنات پر محیط ہے۔ ہماری سوچ اسے سمجھ نہیں سکتی۔ وہ ذرے ذرے سے واقف ہے۔
لہٰذا کائنات کی ہر دریافت ہمیں اللہ کے قریب کرتی ہے۔ جتنا ہم سائنس پڑھیں گے، اتنا ہمارا یقین بڑھے گا کہ یہ سب "اتفاق” نہیں۔ اس کے پیچھے ایک لامحدود علم، لامحدود قدرت اور لامحدود حکمت ہے۔
Title Photo by Marek Pavlík

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |