شاعرہ و ادیبہ ریحانہ بتول کا تعارف
تحریر : رخسانہ لیلیٰ ، لیّہ
ریحانہ بتول کے بزرگوں کا تعلق تحصیل منکیرہ ( بھکر ) کے گاؤں ڈگر کوٹلی سے ہے ۔
منکیرہ سے مغرب کی جانب گاؤں بمے والا جو کہ بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔
گاؤں بمے والا سے جنوب کی جانب تین کلومیٹر کے فاصلے پر گاؤں ڈگر کوٹلی آباد ہے ۔ ریحانہ بتول کا پردادا لکھا خان اور پر دادی چنگی ڈگر کوٹلی میں آباد تھے ۔ لکھا خان کے چار بیٹے تھے اور دو بیٹیاں تھیں ۔ محمّد بخش ، احمد بخش ، محمود ، ( ریحانہ بتول کے دادا ) اور اللّٰہ بخش بیٹیاں بھکو مائی اور سہاگن مائی بھکو مائی اور سہاگن مائی کی شادی بھکر کے مشہور قصبہ بہل میں ہوئی تھی ۔
ریحانہ بتول کا دادا محمود ان کا اصل نام غلام سرور تھا اور محمود کے نام سے مشہور ہو گیا اور تمام قبیلے والے ان کو محمود کہتے تھے اور پھر محمود اُن کا نام محمود ہی ہو کر رہ گیا کبڈی بڑے شوق سے کھیلتے تھے ۔
محمود کی شادی خانہ آبادی 1939ء کو ڈگر کوٹلی میں ہوئی ایک سال بعد ان کی بیوی وفات پا گئی ۔ ان کے بزرگ کھیتی باڑی کیا کرتے تھے ۔ اُس وقت کوئی خاص وسائل یا خاص سہولیات کھیتی باڑی کی نہ ہوا کرتی تھی ۔
1940ء میں محمود اور ان کے کچھ قرابت دار اور کچھ رشتہ داروں نے کاروبار کے سلسلہ میں ڈیرہ اسماعیل خان کا رخ کیا ۔ منکیرہ کے گاؤں لِتَن سے ان کے چاچا ولی محمّد بھی ساتھ چلے گئے ۔ سبھی لوگوں نے کام تلاش کیا اور پیٹ کی دوزخ کو بجھانے لگے محمود نے وہاں جا کر فوجی چھاؤنی میں ملازمت اختیار کر لی ۔
محمود کے باقی بھائیوں نے 1941ء کو کاروبار کے سلسلہ میں لیّہ کا رخ کیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لیّہ کو اپنا مسکن بنا لیا ۔ محمود نے فوجی چھاؤنی ڈیرہ اسماعیل خان میں پانچ سال تک ملازمت کی اس کا دل نہ لگا پھر وہاں سے سب قرابت داروں اور رشتہ داروں کے ساتھ ملتان کا رخ کیا
۔ وہاں ملتان بھی ان کے بہت سے رشتہ دار رہا کرتے تھے ۔ ملتان پہنچ کر وہاں محنت مزدوری کو اپنا شعار بنایا اور چند سال بعد اپنے چاچا ولی محمّد کی بیٹی میراں مائی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے ۔
شادی کے چھ سال بعد محمود نے ملتان سے ہجرت کی لیّہ آ کر دونوں میاں بیوی نے شوگر مل میں ملازمت اختیار کر لی ۔
محمود کو اللّٰہ پاک نے اولاد جیسی نعمت سے بھرپور نوازا آٹھ بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں ۔ ان کے نام کچھ اس طرح سے ہیں ۔
بشیراں بی بی ، غلام حسین ، نزیراں مائی ، زبیدہ مائی ، شہر بانو ، نسرین فاطمہ ، شمشاد بی بی ، کالو خان ، محمّد افضل ، ممتاز بی بی اور رضیہ بی بی
غلام حسین ریحانہ بتول کے والد کی شادی مئی 1980ء میں ہوئی بھِرانواں مَائی کے ساتھ ( 1964ء ۔ 27 دسمبر 2010ء ) اب ذریعہ معاش کے حوالے سے بات کروں گی چند سال مزدوری کرتے رہے اس کے بعد 20 جولائی 1985ء میں ڈی سی آفس لیّہ میں ملازمت اختیار کر لی ۔ 31 جنوری 2012ء کو ریٹائرڈ منٹ لے لی ۔
غلام حسین محلہ منظور آباد لیّہ شہر میں اٹھارہ سال رہائش پذیر رہے ہیں ۔ وہاں سے نقل مکانی کی لیّہ شہر سے شمال کی جانب تین کلومیٹر کے فاصلے پر کوٹلہ حاجی شاہ میں سکونت اختیار کرلی ۔
غلام حسین کو اللّٰہ پاک نے اولاد جیسی نعمت سے بھی نوازا دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ۔ محمّد حسین المعروف پنو ، قمر عباس ، ریحانہ بتول ، فرزانہ بی بی اور شبانہ بی بی ۔
ریحانہ بتول کی پیدائش کوٹلہ حاجی شاہ میں 28 ستمبر 1990ء میں ہوئی ۔
ریحانہ بتول پرائمری تک تعلیم کوٹلہ حاجی شاہ میں حاصل کی ۔ چودہ سال تک غلام حسین وہاں کوٹلہ حاجی شاہ میں مقیم رہے اس کے بعد نقل مکانی کی محلہ غریب آباد لیّہ نزد پُل انگڑا میں رہائش پذیر ہوئے ۔
سات اگست 2008ء کو ریحانہ بتول کی شادی منکیرہ میں ہوئی مقبول ذکی مقبول کے ساتھ ۔
وہاں جا کے ریحانہ بتول نے ایک لائبریری دیکھی ۔
بقول ریحانہ بتول میں سمجھتی تھی اسکول اور کالج میں جو کتابیں پڑھی جاتی ہیں وہی ہوتی ہیں یہاں آ کر مجھے پتہ چلا کہ غیر نصابی کتابیں بھی ہوتی ہیں ۔
محلہ میں ایک خاتون نے ریحانہ بتول کو کہا آپ گھر میں بیٹھی بیٹھی اکیلی بور ہو جایا کرتی ہوں گی ۔ آپ ایسا کیا کریں میرے گھر آ جایا کریں وقت گزارنے کے لیے تو انہوں نے کہا میں بور نہیں ہوتی کیونکہ میں کتابیں پڑھتی رہتی ہوں اور اس طرح میرے علم میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
اس طرح ریحانہ بتول نے مکمل لائبریری کا مطالعہ کر ڈالا ۔
مقبول ذکی مقبول کی کتاب ٫٫ سجدہ ،، پر مختلف شعراء ادباء اور پروفیسر و ڈاکٹر صاحبان نے مضامین اور تبصرے لکھے اور منظوم بھی لکھا گیا تو وہ رسائل و جرائد اور اخبارات کی صورت میں اوج لائبریری میں پہنچے تو ریحانہ بتول نے ان کا مطالعہ کیا اور ایک نظم کتاب ٫٫ سجدہ ،، پر کہی وہ نظم کا مطلع ملاحظہ فرمائیں ۔
اے شاعری عطائے خُدا ذولجلال اے
حقیقت دیوچ یک کا لگ دا کمال اے
یہ ان کی پہلی نظم تھی جو نومبر 2018ء کو کہی گئی اور مختلف رسائل و جرائد اور اخبارات میں بھی شائع ہوئی ۔
ان کو اپنے ہی گھر میں ایک ادبی ماحول میسر آیا ۔ اس طرح ان کا بھی شوقِ مطالعہ کے ساتھ ساتھ ان کو اشعار کہنے کا اور نثر لکھنے کا شوق پیدا ہوا ۔
انہوں نے بہت سے اشعار کہے ہیں جو مقبول ذکی مقبول کو خراج تحسین پیش کیا ہے ۔
اس کے بعد مقبول ذکی مقبول کا انٹرویو لیا اور ان پر مضامین لکھے کُتب پر تبصرے لکھے اور ایک کتاب ٫٫ مقبول ذکی مقبول کی ادبی مقبولیت ،، ( مشاہیر کی نظر میں ) 29 اپریل 2025ء کو ترتیب دیا اس کو شائع کروایا ۔
ریحانہ بتول کی تحریریں جن رسائل و جرائد اور اخبارات کی زینت بنی ہیں ۔
ان میں
ہفت روزہ ٫٫ مارگلہ نیوز انٹرنیشنل ،، اسلام آباد
ہفت روزہ ٫٫ اخبارِ اکبر ،، رحیم یار خان
روز نامہ ٫٫ پاکستان پوائنٹ ،، بھکر
روزنامہ ٫٫ طالبِ نظر ،، کراچی
روزنامہ ٫٫ سسٹم ،، لاہور
روزنامہ ٫٫ بارڈر لائن ،، لاہور
روزنامہ ٫٫ اٹل فیصلہ ،، لاہور / گوجرانولہ
روزنامہ ٫٫ نوائے تھل ،، لیُہ
روزنامہ ٫٫ عوام کی عدالت ،، بھکر
روزنامہ ٫٫ خُوب رُو ،، ملتان
روزنامہ ٫٫ ڈیرہ نیوز ،، ڈیرہ اسماعیل خان
روزنامہ ٫٫ ویژن دُنیا ،، فیصلہ آباد اور
روزنامہ ٫٫ لیّہ ٹوڈے ،، لیّہ شامل ہے ۔ جنہوں نے ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی ہے ۔
ان کی تحریریں اور شاعری ویب سائٹ آئی اٹک پر بھی موجود ہے ۔
ادبی تنظیم ٫٫ بزمِ اوجِ ادب ،، میں بطور جنرل سیکرٹری کام بھی کر رہی ہے ۔
اللّٰہ تعالیٰ نے ریحانہ بتول کو اولاد جیسی نعمت سے بھی نوازا ہے ۔ ایک بیٹی اوج زہرا ( 8 اکتوبر 2012 ء ) کلاس نہم میں پڑھتی ہے ۔ بیٹا گلفام حسین ( 21 مئی 2015ء ) کلاس ہفتم میں پڑھتا ہے اور دو بیٹیاں تین بیٹے نو مولود جو اس دُنیا سے رخصت ہو گئے ہیں ۔
ادبی تنظیم ٫٫ ادبی سفر ،، انٹر نیشنل لاہور کی طرف سے یکم اگست 2025ء کو بُنیان مرصوص ادبی ایوارڈ 2025 ء ریحانہ بتول کو پیش کیا گیا ۔
پروفیسر عاصم بخاری ( میانوالی ) کتاب ٫٫ مقبول ذکی مقبول کی ادبی مقبولیت ،، ( مشاہیر کی نظر میں) بیک ٹائٹل پر ۔ ریحانہ بتول کی شخصیت اور فن پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔
"بھکر جیسے مضافاتی ضلع کو ادبی سرگرمیوں کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو مرکز سے دُور ، بہت دُور منکیرہ میں موجود مقبول ذکی کے ادبی کارنامے بھی حیرتوں میں ڈالنے والے ہیں لیکن مستزاد اس پر یہ کہ اُسی منکیرہ کی خواتین میں ریحانہ بتول جیسی پر عزم اور باہمت قلم کار ادیبہ بھی موجود ہیں ۔ جنہوں نے اپنی قلمی اور تحقیقی کارناموں کے ذریعے اپنا آپ منوایا ہے ۔ جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بھکر کی خواتین بھی فروغِ ادب میں مرد ادیبوں سے کسی طور پیچھے نہیں ، جو کہ بڑی خوش آئند اور بھکر کے لیے اعزاز کی بات ہے ۔”
سائرہ ارشاد قریشی ، مظفر آباد ، آزاد کشمیر کتاب ٫٫ مقبول ذکی مقبول کی ادبی مقبولیت ،، ( مشاہیر کی نظر میں ) ریحانہ بتول کا اہم کام کے عنوان سے صفحہ انیس پر لکھتی ہے ۔
ریحانہ بتول نے اُردو کے اس مقبول ادیب اور شاعر کی شخصیت اور فن پر کتاب لکھ کر اُردُو دُنیا پر احسان کیا ہے ۔ اس کتاب سے جہاں قارئین مقبول ذکی مقبول کے فن سے آشنا ہوں گے وہیں تحقیق کرنے والے کے لیے نئے در وا ہو سکیں گے ۔ ریحانہ بتول کی کتاب یقیناً اُردو کے تحقیقی ادب میں ایک گراں بہا اضافہ ثابت ہوگی ۔ اس کتاب کی اہمیت اور افادیت سب پر عیاں ہو جائے گی ۔ اس اہم کام کی تکمیل پر میں مؤلفہ ریحانہ بتول کو مبارکباد پیش کرتی ہوں اور ان کے قلم کی وسعت کے لیے دُعا گو ہوں ۔
Title Photo by Samer Daboul
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |