آکسیجن پلگ کھینچنے کا حوصلہ
عظیم جرمن فلسفی آرتھر شوپن ہاور نے کہا تھا: "جس ہدف کو کوئی نشانہ نہ بنا سکے اسے نشانہ بنانا ‘صلاحیت’ ہے لیکن جو ہدف کسی کو دکھائی نہ دے اسے دیکھ لینا ‘ذہانت’ ہے”۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان باصلاحیت اور ذہین پیدا ہوتا ہے کیونکہ قدرت نے ہر فرد کے اندر کوئی نہ کوئی غیرمعمولی خوبی رکھی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ اسے پہچان لیتے ہیں اور کچھ اپنے ہی خوفوں میں گم ہو جاتے ہیں۔
ایک اطالوی کہاوت ہے: "غیرمعمولی کامیابی چاہتے ہو تو آکسیجن سلنڈر کی تار کھینچنے کی ہمت کرو”۔ آپ نے ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت کے وارڈز دیکھے ہوں گے۔ وہاں مریض آکسیجن سلنڈر کے سہارے سانس لے رہے ہوتے ہیں۔ جونہی کوئی عیادت کو جائے، گھر والے فوراً کہتے ہیں "دھیان سے، کہیں تار کو ہاتھ نہ لگ جائے”۔ تار کھینچ جانے کا خوف سب کو ہوتا ہے۔ سب یہی سمجھتے ہیں کہ تار نکل گئی تو مریض مر جائے گا۔
ٹھیک یہی حال ایک خوفزدہ انسان کا ہوتا ہے۔ ایسا بزدل آدمی بھی آکسیجن سلنڈر پر لگے مریض کی طرح ہوتا ہے، جسے زندگی میں کچھ نیا کرنا ‘موت’ لگتا ہے۔ جو شخص اپنے خوف، وسوسوں اور وہم کو چیلنج کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے وہ وسیع تر زندگی گزارنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ہمارا معاشرہ، حالات اور بعض اوقات اپنے ہی خیالات ہمارے دماغ میں یہ بات بٹھا دیتے ہیں کہ اگر تم نے رسک لیا، کوئی نیا قدم اٹھایا، تو تم ناکام ہو جاو’ گے، یا تمھاری عزت وغیرہ چلی جائے گی۔ کسی بڑی یا معمولی ناکامی کو ‘موت’ نہیں سمجھنا چاہئے۔ موت صرف موت ہوتی ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ موت کا ایک دن مقرر ہے، کیونکہ وہ صحتمند کو بھی آ لیتی ہے۔ حالانکہ اصل موت تو یہ ہے کہ ہم زندہ رہتے ہوئے بھی اپنے خوف کی قید میں سانس لیں۔ جو شخص اپنے خوف، وسوسوں اور وہم کو چیلنج کر لے، وہ اپنی اصل صلاحیت پہچان لیتا ہے۔ دنیا میں بڑی کامیابیاں انہی لوگوں کے حصے میں آتی ہیں جو اپنی ذہانت اور صلاحیت کو سرعت سے استعمال کرتے ہیں۔
یہ دنیا ہر انسان کے لیے صلاحیت آزمانے کا کھلا میدان ہے۔ مگر خوف ہمیں ذہنی طور پر غلام بنا دیتا ہے۔ کچھ لوگ دوسروں سے بات کرنے سے ڈرتے ہیں۔ کچھ اجنبیوں کا سامنا نہیں کر پاتے۔ کچھ محبت کا اظہار نہیں کر پاتے۔ کچھ سستی اور کاہلی کی وجہ سے کوئی نیا قدم نہیں اٹھاتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ کبھی نہیں جان پاتے کہ اگر وہ خوف سے چھٹکارا پا لیتے تو وہ زندگی میں کتنی بڑی کامیابیاں سمیٹ سکتے تھے۔
عجیب بات ہے کہ بہت سے لوگ نہایت باصلاحیت یا ذہین نہیں ہوتے، پھر بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ وجہ صرف ایک ہے کہ ان میں خوف کو جھٹکنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ کامیابی دراصل خوف کی لکیر عبور کرنے کا نام ہے۔ آکسیجن کے سلنڈر پر گھٹ گھٹ کر جینا، موت سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ بس ایک بار ہمت کر کے تار کھینچ دیں۔ زندگی آپ کے لیے نئے راستے کھول دے گی۔
کامیاب زندگی کے لیے میدانِ عمل میں آزاد سانس لینا پڑتی ہے تاکہ موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اگر کوئی بڑا مقصد پانا ہے تو آکسیجن کا پلگ کھینچنے کی ہمت کریں۔ جب زندگی کا کوئی بڑا ہدف طے ہو جائے تو زندگی آخری سانس سے بھی پلٹ آتی ہے۔ بڑا مقصد انسان کو اس وقت تک زندہ رکھتا ہے جب تک وہ پورا نہ ہو جائے۔
اس کے برعکس زندگی کا سامنا بہادری سے نہ کرو تو بعض اوقات زندگی ہی انسان کو کچل دیتی ہے، اس لیے آپکے دل و دماغ میں کوئی بھی خوف ہے تو اسے فورا جھٹک دیں، کیونکہ خوف کامیابی کی بنیادی رکاوٹ ہے۔ زندگی میں کچھ بھی کرنے کا ارادہ ہے تو کامیابی تبھی ملے گی جب آکسیجن سلنڈر کے پلگ کھینچنے کا حوصلہ پیدا کرو گے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |