پاکستان کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش
مشرق وسطی کی سیاست میں آگ ایک بار پھر بھڑک اٹھی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی تازہ لہر 28 فروری کو ہونے والی جنگ سے بھی زیادہ خطرناک رخ اختیار کر چکی ہے۔ امریکہ نے ایران کے درجنوں مقامات پر کارپٹ بمبنگ کی، جس کے جواب میں ایران نے کھلی دھمکی دی کہ اگر اس کے حساس مراکز پر دوبارہ حملے ہوئے تو وہ پورے خطے کو "اندھیرے میں بدل دے گا”۔ اس اندھیرے سے مراد خلیجی عرب ممالک کے بجلی گھروں اور توانائی کے نظام کو نشانہ بنانا ہے۔
یہ دھمکی محض بیان نہیں۔ زمینی حقائق بھی اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ سعودی عرب پر ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے حملے بڑھ گئے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا۔ حتیٰ کہ امیر قطر کے جنازے کے موقع پر بھی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اشتعال انگیز رویہ دیکھنے میں آیا، جبکہ امریکہ نے آیت اللہ خامنائی کی آخری رسومات کے دوران کسی فوجی کارروائی سے گریز کیا تھا۔ دوسری طرف ایران یمن میں حوثیوں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کر کے سعودی عرب کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہے۔
یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ بظاہر یہ جنگ نظریات اور اثر و رسوخ کی لگتی ہے، مگر اصل کھیل آبنائے ہرمز کا کنٹرول اور گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس وصولی کا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ پہلے مرحلے کے حملے مکمل کر کے اگلے مرحلے کی تیاری میں ہے۔ صدر ٹرمپ کی 20 فیصد ٹیکس کی تجویز کو جب مغربی ممالک نے مسترد کر دیا تو یہ واضح ہو گیا کہ اب فیصلہ مذاکرات سے نہیں، طاقت سے ہو گا۔
اب سوال یہ ہے کہ اس سارے کھیل میں پاکستان کا کیا کردار ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں ہی پاکستان کو بالواسطہ یا بلاواسطہ اس جنگ میں گھسیٹنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ موجود ہے، جس کی وجہ سے ہماری غیر جانبداری کا دائرہ روز بروز تنگ ہو رہا ہے۔ اگر خلیج میں کشیدگی بڑھی تو تیل کی قیمتوں، مہنگائی اور لاکھوں پاکستانی تارکین وطن کی ملازمتوں پر براہ راست اثر پڑے گا۔
مگر دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ پاکستان اس آگ میں ایندھن بننے کے بجائے آگ بجھانے کا کردار ادا کرے۔ ہمیں فریق بننے کے بجائے پل بننا ہو گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلم دنیا میں جنگ چھڑی، سب سے زیادہ نقصان انہی ممالک کا ہوا جنہوں نے دوسروں کی جنگیں اپنے گھر میں لڑیں۔
اس وقت پاکستان کو دو محاذوں پر کام کرنا ہو گا۔ پہلا مرحلہ یہ ہے کہ پاکستان فوری سفارتی کو متحرک کرے۔ اب او آئی سی، چین اور ترکی کے ساتھ مل کر جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ ہموار کیا جانا از حد ضروری ہو گیا ہے۔ پاسداران کے لیئے دوسرا اہم مرحلہ، اپنی سرحدوں اور معیشت کا تحفظ کرنا ہے۔ خلیجی جنگ کا مطلب صرف گولہ بارود نہیں، بلکہ پناہ گزینوں کا سیلاب، توانائی کا بحران اور فرقہ وارانہ کشیدگی بھی ہے۔
مشرق وسطی پوری اسلامی دنیا کے لیے مقدس ہے۔ یہاں کی بے امنی کا اثر صرف خطے تک محدود نہیں رہتا۔ یہ پوری امت کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت اور 24 کروڑ عوام کا ملک ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم جذباتی نعروں میں بہہ کر کسی کی پراکسی نہ بنیں، بلکہ حکمت، توازن اور خودداری سے فیصلے کریں۔
جو قوتیں پاکستان کو اس جنگ میں گھسیٹنا چاہتی ہیں، انہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان 40 سال کی دہشتگردی اور مہنگائی کے بعد مزید جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہماری ترجیح روٹی، امن اور ترقی ہے۔ اسی لیے پاکستان کو جنگ میں گھسیٹنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جانی چایئے۔
Title Photo by Nothing Ahead

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |